Pak vs japan
ابن محمد یار
اے آئی اساتذہ کی جگہ نہیں لے گا۔ لیکن جو اساتذہ اے آئی سیکھیں گے وہ دوسرے اساتذہ کی جگہ ضرور لے لیں گے۔
Welcome to the official page of Govt High School Tarkhan Wala – where modern education paves the way for a bright future! 🌟📚
Our Mission:
We are committed to providing quality education that empowers students with knowledge, skills, and values to excel in life. What We Offer:
✅ Dedicated & experienced teachers 👨🏫👩🏫
✅ Modern teaching methods 📖💡
✅ Encouraging a culture of discipline & respect 🎓✨
اے آئی ابھی 2 سال کا بچہ ہے اور یہ اتنا کچھ کر رہا ہے۔ ذرا تصور کریں جب اسکی عمر 10 سال ہو جائے گے تو یہ کیا کچھ نہیں کرے گا
24/05/2026
یہاں پر کس کو پروا ہے پاکستان کی۔
خود غرضیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ہم
24/05/2026
پاکستان اور جاپان کا تعلیمی موازنہ: اصل سوال یہ نہیں کہ جاپان آگے کیوں ہے، اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان پیچھے کیوں رہ گیا؟
جاپان اور پاکستان کے تعلیمی نظام کا فرق صرف عمارتوں، کتابوں، نصاب، شرحِ خواندگی یا جدید آلات کا فرق نہیں۔ اصل فرق سوچ کا ہے، مقصد کا ہے، تربیت کا ہے اور قومی ترجیحات کا ہے۔ جاپان نے تعلیم کو قوم بنانے کا ذریعہ بنایا، جبکہ پاکستان میں تعلیم زیادہ تر امتحان، سند، نوکری اور رٹے کا راستہ بن کر رہ گئی۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس نے ایک قوم کو تحقیق، صنعت، نظم، جدت اور عالمی وقار تک پہنچایا، جبکہ دوسری قوم آج بھی بچوں کو معیاری تعلیم، اچھا استاد، بہتر ماحول اور عملی سوچ دینے کی جدوجہد میں پھنسی ہوئی ہے۔
جاپان میں بچہ سکول صرف کتاب پڑھنے نہیں جاتا، بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ سیکھنے جاتا ہے۔ وہاں اسے وقت کی پابندی، صفائی، اجتماعی ذمہ داری، استاد کا احترام، دوسروں کے حقوق، مل کر کام کرنا، مسئلہ حل کرنا اور اپنی غلطی سے سیکھنا سکھایا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کے بہت سے سکولوں میں بچہ صبح سے دوپہر تک سبق یاد کرتا ہے، پھر شام کو ٹیوشن جاتا ہے، رات کو رٹا لگاتا ہے، امتحان دیتا ہے اور نمبر لے کر خود کو کامیاب یا ناکام سمجھنے لگتا ہے۔ یعنی ہم نے تعلیم کو ذہنی بیداری کے بجائے یادداشت کا مقابلہ بنا دیا ہے۔ سبحان اللہ، بچے کا دماغ بھی کبھی کبھی حافظہ کارڈ سمجھ لیا جاتا ہے۔
جاپان کی اصل طاقت یہ نہیں کہ وہاں عمارتیں خوب صورت ہیں یا ٹیکنالوجی زیادہ ہے۔ اصل طاقت یہ ہے کہ وہاں تعلیمی نظام بچے کے اندر کردار، اعتماد، ذمہ داری، نظم و ضبط اور تخلیقی سوچ پیدا کرتا ہے۔ وہاں علم کو زندگی سے جوڑا جاتا ہے۔ بچہ یہ نہیں سیکھتا کہ کتاب میں کیا لکھا ہے، بلکہ یہ سیکھتا ہے کہ اس علم کو حقیقی زندگی میں کیسے استعمال کرنا ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے اکثر سوال یہ ہوتا ہے کہ سبق یاد ہے یا نہیں، جبکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ بچہ سمجھا کیا ہے، سوچا کیا ہے، سوال کیا ہے، اور اس علم سے کون سا مسئلہ حل کر سکتا ہے۔
پاکستان کے تعلیمی نظام کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ یہاں تعلیم اور تعلیمی اداکاری میں فرق مٹتا جا رہا ہے۔ سکول موجود ہے مگر سیکھنے کا ماحول نہیں، کتابیں موجود ہیں مگر مطالعے کی عادت نہیں، امتحان موجود ہیں مگر فہم نہیں، ڈگریاں موجود ہیں مگر مہارت نہیں، تقریریں موجود ہیں مگر تحقیق نہیں۔ ہم اکثر نظام کو چلتا ہوا دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں، مگر یہ نہیں دیکھتے کہ اس نظام سے نکلنے والا طالب علم سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور تخلیق کرنے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔
پاکستان میں تخلیقی سوچ کا قتل بہت خاموشی سے ہوتا ہے۔ چھوٹا بچہ فطری طور پر سوال کرتا ہے، چیزوں کو کھول کر دیکھتا ہے، نئے طریقے سوچتا ہے، غلطی سے سیکھتا ہے اور حیرت کے ساتھ دنیا کو سمجھنا چاہتا ہے۔ پھر ہمارا تعلیمی ماحول اسے آہستہ آہستہ سکھاتا ہے کہ خاموش رہو، زیادہ سوال نہ کرو، کتاب سے باہر مت سوچو، استاد سے بحث نہ کرو، گائیڈ والی زبان لکھو، اور امتحان میں وہی جواب دو جو سب دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک زندہ، متجسس اور تخلیقی ذہن آہستہ آہستہ محتاط، ڈرا ہوا اور نقل کرنے والا ذہن بن جاتا ہے۔
جاپان میں غلطی کو سیکھنے کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ پاکستان میں غلطی کو اکثر شرمندگی بنا دیا جاتا ہے۔ جہاں بچہ غلطی سے ڈرے گا، وہاں وہ نیا تجربہ نہیں کرے گا۔ جہاں سوال کو بدتمیزی سمجھا جائے گا، وہاں تحقیق پیدا نہیں ہوگی۔ جہاں مختلف سوچ کو خطرہ سمجھا جائے گا، وہاں جدت کیسے آئے گی؟ قومیں صرف ذہین بچوں سے نہیں بنتیں، قومیں ایسے ماحول سے بنتی ہیں جہاں ذہانت کو سوال کرنے، تلاش کرنے اور تخلیق کرنے کی آزادی ملے۔
پاکستان میں زبان کا مسئلہ بھی تعلیم کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ بچہ گھر میں ایک زبان بولتا ہے، سکول میں دوسری زبان سے واسطہ پڑتا ہے، آگے چل کر کامیابی کو تیسری زبان سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس طرح بچہ علم سے پہلے زبان کی دیوار سے ٹکراتا ہے۔ زبان سیکھنا مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے زبان کو علم کا ذریعہ بنانے کے بجائے طبقاتی برتری کا نشان بنا دیا ہے۔ جاپان میں بچہ پہلے اپنی زبان میں مضبوط بنیاد بناتا ہے، پھر دنیا کی زبانیں سیکھتا ہے۔ پاکستان میں بچہ اکثر سمجھنے سے پہلے ترجمہ کرنے لگتا ہے، اور جب ذہن ہر وقت ترجمے میں الجھا رہے تو گہری سوچ کیسے پیدا ہو؟
استاد کے معاملے میں بھی دونوں ملکوں کا فرق بہت واضح ہے۔ جاپان میں استاد صرف ملازم نہیں، قوم کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تربیت، عزت، نگرانی اور پیشہ ورانہ ترقی پر توجہ دی جاتی ہے۔ پاکستان میں بہت سے باصلاحیت اور مخلص اساتذہ موجود ہیں، مگر نظام انہیں وہ مقام، تربیت، وسائل اور آزادی نہیں دیتا جس کے وہ حق دار ہیں۔ کہیں استاد کم تنخواہ سے پریشان ہے، کہیں تربیت کمزور ہے، کہیں سیاسی اثرات ہیں، کہیں احتساب نہیں، اور کہیں پورا ماحول ہی استاد کو محض نصاب ختم کرنے والی مشین بنا دیتا ہے۔ استاد اگر خود مسلسل سیکھنے والا، سوال کرنے والا اور تحقیق سے جڑا ہوا نہیں ہوگا تو وہ بچوں میں یہ صلاحیتیں کیسے پیدا کرے گا؟
پاکستان کے امتحانی نظام نے بھی تعلیم کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ہمارا امتحان اکثر یادداشت کو ناپتا ہے، فہم کو نہیں۔ بچہ جانتا ہے کہ اچھے نمبر لینے کے لیے محفوظ جواب لکھنا ہے، کتابی زبان استعمال کرنی ہے، گائیڈ کی لائنیں یاد کرنی ہیں اور کوئی نیا زاویہ نہیں لانا۔ اس طرح امتحان ذہانت کو نہیں بلکہ مطابقت کو انعام دیتا ہے۔ جو بچہ زیادہ اچھا رٹتا ہے وہ کامیاب کہلاتا ہے، اور جو بچہ مختلف سوچتا ہے وہ اکثر مشکل بچہ سمجھا جاتا ہے۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ہمارے ہاں موجد، محقق اور اصل فکر رکھنے والے لوگ کم کیوں ہیں۔ بھائی، جب بچپن سے ہی مختلف سوچ کو کاٹ دیا جائے تو بعد میں تخلیق کہاں سے آئے گی؟
جاپان کا نظم و ضبط صرف سختی کا نتیجہ نہیں، بلکہ اجتماعی شعور کا نتیجہ ہے۔ وہاں بچہ سمجھتا ہے کہ اگر میں وقت پر نہیں آیا تو دوسروں کا نقصان ہوگا، اگر میں صفائی نہیں رکھوں گا تو معاشرے کو تکلیف ہوگی، اگر میں ذمہ داری نہیں نبھاؤں گا تو نظام کمزور ہوگا۔ پاکستان میں بدقسمتی سے بچہ اکثر یہ منظر دیکھتا ہے کہ استاد دیر سے آ رہا ہے، دفتر دیر سے کھل رہا ہے، نتیجہ دیر سے آ رہا ہے، وعدے پورے نہیں ہو رہے، منصوبے ادھورے ہیں، قانون کمزور ہے، اور پھر ہم اسی بچے سے توقع کرتے ہیں کہ وہ مثالی نظم و ضبط دکھائے۔ بچے معاشرے کی نقل ہوتے ہیں، الگ سیارے سے نہیں آتے۔
تعلیم اور معیشت کا تعلق بھی پاکستان میں کمزور ہے۔ جاپان میں تعلیم صنعت، تحقیق، قومی ضرورت اور عملی مہارت سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان میں بہت سے نوجوان سالوں کی تعلیم کے بعد یہ محسوس کرتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے پڑھا، عملی زندگی میں اس کی ضرورت بہت کم ہے۔ ڈگری موجود ہے مگر مہارت نہیں، سند موجود ہے مگر اعتماد نہیں، معلومات موجود ہیں مگر مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت نہیں۔ یہ ایک بڑا قومی نقصان ہے۔ ہمیں ایسے نوجوان نہیں چاہییں جو صرف نوکری مانگیں، ہمیں ایسے نوجوان چاہییں جو مسئلہ سمجھیں، حل نکالیں، کام پیدا کریں، نئی راہیں بنائیں اور معاشرے کو آگے لے جائیں۔
مطالعے کی کمزوری بھی پاکستان کے فکری بحران کی اہم وجہ ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے بچے صرف امتحان کے لیے پڑھتے ہیں۔ امتحان ختم، کتاب ختم۔ جبکہ اصل تعلیم نصاب سے باہر شروع ہوتی ہے۔ جو قوم مطالعہ نہیں کرتی، وہ دوسروں کے خیالات استعمال کرتی رہتی ہے۔ وہ نئی فکر، نئی سمت، نئی تہذیب اور نئی تحقیق پیدا نہیں کر سکتی۔ جاپان جیسے معاشروں میں مطالعہ عادت ہے، صرف امتحانی ضرورت نہیں۔ پاکستان کو بھی کتاب، سوال، مکالمہ، تحقیق اور غور و فکر کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
پاکستان کا اصل بحران صرف تعلیمی نہیں، فکری بحران ہے۔ ہم بچوں کو اکثر یہ سکھاتے ہیں کہ کیا سوچنا ہے، مگر یہ نہیں سکھاتے کہ کیسے سوچنا ہے۔ ہم جواب یاد کرواتے ہیں، سوال پیدا نہیں کرتے۔ ہم نصاب مکمل کرواتے ہیں، ذہن مکمل نہیں بناتے۔ ہم نمبر لیتے ہیں، مگر شعور نہیں بناتے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے بچے پڑھ لکھ کر بھی آزادانہ سوچ، دلیل، تحقیق، برداشت، تجزیہ اور فیصلہ سازی میں کمزور رہ جاتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اصلاح کہاں سے شروع ہو؟ سب سے پہلے ابتدائی تعلیم کو قومی ترجیح نہیں بلکہ قومی ایمرجنسی سمجھنا ہوگا۔ اگر بچہ پہلی پانچ جماعتوں میں پڑھنا، سمجھنا، لکھنا، سوال کرنا، گنتی، اخلاق، اعتماد اور بنیادی سوچ نہیں سیکھتا تو آگے کی ساری عمارت کمزور بنیاد پر کھڑی ہوگی۔ ہمیں ابتدائی تعلیم کو سب سے مضبوط بنانا ہوگا، کیونکہ قوم کی فکری عمارت کی بنیاد وہیں رکھی جاتی ہے۔
دوسرا بڑا قدم امتحانی نظام کی اصلاح ہے۔ امتحان کو صرف یادداشت کا پیمانہ نہیں رہنا چاہیے۔ اس میں فہم، تجزیہ، تخلیق، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، عملی اطلاق، گفتگو، تحقیق اور اخلاقی سمجھ کو بھی جگہ ملنی چاہیے۔ جب تک امتحان نہیں بدلے گا، تدریس نہیں بدلے گی۔ جب تک تدریس نہیں بدلے گی، ذہن نہیں بدلے گا۔ اور جب تک ذہن نہیں بدلے گا، قوم کا مستقبل نہیں بدلے گا۔
تیسرا قدم استاد کو مرکز میں لانا ہے۔ استاد کو صرف نصاب ختم کرنے والا فرد نہیں بلکہ رہنما، مربی، محقق اور کردار ساز بنانا ہوگا۔ اس کے لیے استاد کی تربیت، عزت، معاشی تحفظ، نگرانی، جدید تدریسی طریقوں اور مسلسل سیکھنے کے مواقع ضروری ہیں۔ دنیا کے مضبوط تعلیمی نظام استاد پر کھڑے ہیں۔ اگر استاد کمزور ہے تو نصاب، عمارت، آلات اور دعوے سب کمزور ہیں۔
چوتھا قدم سرکاری سکولوں کو مضبوط کرنا ہے۔ جب تک عام بچے کو معیاری تعلیم نہیں ملے گی، قوم طبقوں میں تقسیم رہے گی۔ ایک طرف مہنگے سکولوں کے بچے عالمی مواقع حاصل کریں گے، دوسری طرف کمزور سکولوں کے بچے زندگی کی دوڑ شروع ہونے سے پہلے ہی پیچھے رہ جائیں گے۔ یہ صرف تعلیمی مسئلہ نہیں، یہ سماجی ناانصافی ہے۔ پاکستان کو ایسا نظام چاہیے جہاں غریب کا بچہ بھی بہترین تعلیم، اچھا استاد، محفوظ ماحول اور ترقی کا برابر موقع حاصل کر سکے۔
پانچواں قدم زبان کی واضح اور دانشمندانہ پالیسی ہے۔ ابتدائی سطح پر بچے کو اس زبان میں تعلیم ملنی چاہیے جس میں وہ واقعی سمجھ سکے۔ اس کے ساتھ مضبوط اردو، پھر منظم انداز میں دوسری زبانوں کی تعلیم دی جائے۔ زبان کو رکاوٹ نہیں، پل بنایا جائے۔ بچے کی سوچ کو قربان کر کے زبان سکھانا دانشمندی نہیں۔ پہلے بچے کو سمجھنا سکھائیں، پھر اسے دنیا کی زبانوں سے جوڑیں۔
چھٹا قدم سکول کو زندگی سے جوڑنا ہے۔ بچے کو صرف کتابی علم نہیں بلکہ زندگی کی مہارتیں بھی سکھائی جائیں۔ وہ صحت، صفائی، مالی سمجھ، گفتگو، ٹیم ورک، اخلاق، شہری ذمہ داری، مسئلہ حل کرنا، تحقیق، جدید آلات کا درست استعمال اور عملی کام کرنا سیکھے۔ جب تعلیم زندگی سے کٹ جائے تو وہ بوجھ بن جاتی ہے، اور جب تعلیم زندگی سے جڑ جائے تو وہ طاقت بن جاتی ہے۔
پاکستان کو جاپان کی اندھی نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہر ملک کی اپنی تاریخ، ثقافت، زبان، معاشی حالات اور سماجی حقیقت ہوتی ہے۔ مگر پاکستان جاپان سے اصول سیکھ سکتا ہے: نظم، استاد کی عزت، معیاری سرکاری تعلیم، مادری زبان میں مضبوط بنیاد، عملی تعلیم، تحقیق، اجتماعی ذمہ داری، کردار سازی، وقت کی پابندی اور علم کو زندگی سے جوڑنا۔ یہی اصول کسی بھی قوم کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کے بچے کم ذہین نہیں۔ مسئلہ بچوں کا نہیں، نظام کا ہے۔ ہمارے بچے ذہین ہیں، محنتی ہیں، سوال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تخلیق کر سکتے ہیں، دنیا کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ مگر انہیں ایسا ماحول چاہیے جو ان کی سوچ کو دبائے نہیں، جگائے۔ ایسا استاد چاہیے جو انہیں ڈرائے نہیں، رہنمائی دے۔ ایسا نصاب چاہیے جو انہیں رٹو طوطا نہ بنائے، سوچنے والا انسان بنائے۔ ایسا امتحان چاہیے جو ان کی سمجھ کو پرکھے، صرف یادداشت کو نہیں۔
پاکستان کے پاس نوجوان آبادی ہے، ذہانت ہے، جذبہ ہے، ثقافتی طاقت ہے، دینی و اخلاقی بنیاد ہے، جدید دور کے مواقع ہیں، اور دنیا سے جڑنے کے امکانات ہیں۔ کمی صرف درست سمت، مستقل مزاجی، سنجیدہ پالیسی اور قوم گیر تعلیمی شعور کی ہے۔ اگر ہم تعلیم کو واقعی قوم سازی کا ذریعہ بنا لیں تو پاکستان صرف جاپان سے سیکھ نہیں سکتا، بلکہ اپنی تہذیبی بنیادوں اور جدید علم کے امتزاج سے ایک بہتر، منفرد اور باوقار تعلیمی نمونہ بھی پیش کر سکتا ہے۔
آخر میں فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔ کیا ہم اپنے بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے کے لیے تیار کر رہے ہیں یا مستقبل بنانے کے لیے؟ کیا ہم انہیں صرف نوکری ڈھونڈنے والا بنانا چاہتے ہیں یا مسئلہ حل کرنے والا؟ کیا ہم انہیں صرف کتاب کا جواب یاد کرانا چاہتے ہیں یا زندگی کے سوالات کا سامنا کرنا سکھانا چاہتے ہیں؟ قومیں رٹے سے نہیں بنتیں، سوچ سے بنتی ہیں۔ عمارتوں سے نہیں بنتیں، کردار سے بنتی ہیں۔ دعووں سے نہیں بنتیں، مستقل تعلیمی عمل سے بنتی ہیں۔
AI Batch 6
ابنِ محمد یار
ماہرِ مصنوعی ذہانت، محققِ جدید تعلیم، اور تربیتی رہنما
پیگ لائن:
تعلیم وہ روشنی ہے جو قوم کو نقل سے نکال کر تخلیق، شعور اور قیادت تک لے جاتی ہے۔
22/05/2026
گرمیوں کی یہ 90 دن کی تعطیلات محض آرام، سوشل میڈیا، غیر ضروری مصروفیات یا مسلسل موبائل استعمال کرنے کے لیے نہیں ہوتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی تین ماہ بہت سے افراد کی زندگی کا رخ متعین کر دیتے ہیں۔ دنیا میں کامیاب ہونے والے اکثر لوگ عام دنوں میں نہیں، بلکہ اُن اوقات میں آگے بڑھتے ہیں جب باقی لوگ اپنا وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم تعلیم کو صرف ڈگری تک محدود سمجھتے ہیں، جبکہ عملی زندگی میں کامیابی اُن افراد کو حاصل ہوتی ہے جن کے پاس صحت، مہارتیں، نظم و ضبط، مؤثر ابلاغ، اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ اگر کوئی طالبعلم یا استاد صرف یہ عزم کر لے کہ اگلے 90 دن وہ اپنی زندگی کو سنجیدگی سے گزارے گا، تو یہ تین ماہ اُس کے آنے والے کئی برسوں پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔
سب سے پہلے صحت کو بہتر بنانا ضروری ہے، کیونکہ کمزور جسم کبھی مضبوط مستقبل کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ روزانہ کم از کم 45 منٹ واک، ہلکی ورزش، دوڑ، یا کسی جسمانی سرگرمی کے لیے مختص کریں۔ فجر کے بعد بیدار رہنے کی عادت اپنائیں، زیادہ پانی پئیں، غیر ضروری کولڈ ڈرنکس اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کریں، اور اپنی نیند کو متوازن بنائیں۔ انسان کی سوچ، توجہ، یادداشت اور کام کرنے کی صلاحیت اُس کی نیند اور خوراک سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے نوجوان رات گئے تک موبائل استعمال کرتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ اُن کا ذہن درست انداز میں کام نہیں کرتا۔ ذہن کوئی جادوئی مشین نہیں؛ اسے بھی آرام، مناسب خوراک اور نظم و ضبط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی نوجوان صرف ان 90 دنوں میں اپنی نیند، خوراک اور جسمانی معمولات کو بہتر بنا لے تو اُس کی توانائی اور اعتماد میں نمایاں فرق پیدا ہو سکتا ہے۔
اس کے بعد مہارتوں کی اہمیت سامنے آتی ہے، اور یہی وہ میدان ہے جہاں مستقبل کی تعمیر یا تباہی کا فیصلہ ہوتا ہے۔ صرف کتابی علم اب اچھی زندگی کی ضمانت نہیں رہا۔ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ Artificial Intelligence، Graphic Designing، Video Editing، Content Creation، Freelancing، Digital Marketing، Web Development، Communication Skills، اور Online Business جیسے شعبے آج کے دور کی حقیقی طاقت بن چکے ہیں۔ اگر ان 90 دنوں میں روزانہ صرف 2 سے 3 گھنٹے مستقل مزاجی کے ساتھ کسی ایک مہارت پر صرف کیے جائیں تو ایک فرد اپنی پہلی آمدنی حاصل کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ مسئلہ مواقع کی کمی نہیں، بلکہ مستقل مزاجی کی کمی ہے۔ چند دن جوش و جذبہ، پھر سستی، پھر موبائل، اور پھر وقت کا ضیاع۔ کامیابی اُن لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو روزانہ تھوڑا تھوڑا کام جاری رکھتے ہیں، چاہے نتائج فوری طور پر ظاہر نہ ہوں۔
معاشی اعتبار سے بھی یہ تین ماہ غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ آج بہت سے نوجوان صرف اس وجہ سے پریشان ہیں کہ اُن کے پاس کوئی عملی مہارت موجود نہیں۔ اگر ایک طالبعلم گرمیوں کی تعطیلات میں صرف ایک ڈیجیٹل مہارت سیکھ لے اور اُس پر چھوٹے منصوبوں پر کام شروع کر دے، تو آنے والے چند مہینوں میں وہ Fiverr، Upwork، Facebook، یا اپنی ذاتی ویب سائٹ کے ذریعے آمدنی حاصل کرنا شروع کر سکتا ہے۔ چھوٹے پیمانے پر آغاز کرنا باعثِ شرمندگی نہیں، بلکہ ہمیشہ خالی ہاتھ رہ جانا اصل مسئلہ ہے۔ بہت سے لوگ صرف اس لیے بڑی مالی کامیابی حاصل نہیں کر پاتے کیونکہ وہ سیکھنے کے مرحلے میں مستقل مزاجی برقرار نہیں رکھتے۔ کامیابی اکثر غیر معمولی ذہانت رکھنے والوں کو نہیں، بلکہ مسلسل محنت کرنے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔
شخصیت سازی بھی ان 90 دنوں کا ایک اہم پہلو ہونا چاہیے۔ مؤثر گفتگو کرنا سیکھیں، کتابوں کا مطالعہ کریں، لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کریں، اپنی سوچ کو وسعت دیں، اور وقت کی قدر کرنا سیکھیں۔ ایک انسان کی شخصیت صرف اُس کے لباس سے نہیں بنتی، بلکہ اُس کے خیالات، رویے، نظم و ضبط، گفتگو اور عادات سے تشکیل پاتی ہے۔ روزانہ ایک صفحہ لکھنے کی عادت اپنائیں، اپنی غلطیوں کو نوٹ کریں، اور ہر رات یہ جائزہ لیں کہ آیا آپ آج کل سے بہتر ہوئے یا نہیں۔ یہی مسلسل چھوٹی تبدیلیاں بعد میں بڑی کامیابیوں کی بنیاد بنتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ 90 دن یا تو انسان کو پہلے سے زیادہ کمزور، سست اور وقت ضائع کرنے والا بنا دیں گے، یا پھر یہی 90 دن اُسے دوسروں سے مختلف، مضبوط، پُراعتماد اور معاشی طور پر مستحکم بنا سکتے ہیں۔ فیصلہ وقت نہیں کرتا، بلکہ انسان کی ترجیحات کرتی ہیں۔ دنیا میں اکثر لوگ زندگی بدلنے کے لیے “صحیح وقت” کا انتظار کرتے رہتے ہیں، جبکہ دانشمند لوگ عام دنوں کو ہی صحیح وقت بنا لیتے ہیں۔ یہی فرق بعد میں کامیاب اور پریشان لوگوں کے درمیان دیوار بنتا ہے۔
تمہیں جو ملا ہے وہ قسمت نہیں ہے
تمہارے فیصلوں کا نتیجہ ہے
21/05/2026
ہم سے دو سال بعد آزاد ہونے والا ملک
21/05/2026
سلام آباد کی فیصل مسجد کے باہر ہر صبح ایک کم عمر لڑکا بیٹھا ہوتا تھا۔ اس کا نام سلیم تھا۔ ہاتھ میں پرانا ڈبہ، برش اور کالے رنگ کی پالش۔
وہ پورا دن لوگوں کے جوتے چمکاتا۔ ایک جوڑے کے صرف 20 روپے ملتے۔ اگر دن اچھا گزر جاتا تو 300 سے 400 روپے بن جاتے اور انہی سے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ گھر میں صرف اس کی امی اور چھوٹی بہن ماریہ تھی۔ والد ایک حادثے میں اس وقت انتقال کر گئے تھے جب سلیم صرف دس سال کا تھا۔
لوگ آتے، “جلدی کرو بچے” کہتے اور جوتے آگے بڑھا دیتے۔ کسی نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ تمہارا حال کیسا ہے۔ سلیم خاموشی سے اپنا کام کرتا رہتا۔
رات کو جب مسجد کے باہر کی روشنیاں مدھم پڑ جاتیں تو وہ پارک کی بینچ پر بیٹھ کر پرانی کتابیں پڑھتا۔ یہ کتابیں اسے ایک استاد نے دی تھیں جو روز اس سے جوتے پالش کرواتا تھا۔ استاد اکثر کہتا تھا:
“ہاتھ میلے ہوں تو کوئی بات نہیں، دماغ روشن رکھو۔”
دن جوتوں کی پالش میں گزرتا اور رات کتابوں کے ساتھ۔ لوگ مذاق بھی اڑاتے تھے۔
“جوتے پالش کرنے والا بھی کبھی ڈاکٹر یا بڑا آدمی بن سکتا ہے؟”
سلیم کچھ نہیں کہتا تھا۔ بس اپنی بہن کی کاپی پر لکھا نام دیکھتا اور دل میں ایک وعدہ دہراتا کہ ماریہ کو ڈاکٹر بنانا ہے۔
اٹھارہ سال کی عمر میں اس نے ایف ایس سی میں 98 فیصد نمبر حاصل کیے۔ اسے اسکالرشپ ملی اور یونیورسٹی میں داخلہ ہو گیا۔ فیس کے لیے اس کے پاس دو سال کی جمع پونجی یعنی ایک لاکھ اسی ہزار روپے تھے۔
امی نے روتے ہوئے کہا: “بیٹا یہ پیسے خرچ نہ کرو، گھر مشکل سے چل رہا ہے۔”
سلیم نے مسکرا کر جواب دیا: “اگر میں نہ پڑھا تو ماریہ بھی میری طرح جوتے پالش کرے گی۔”
یونیورسٹی میں بھی اس کی جدوجہد جاری رہی۔ دن لیب میں گزرتا اور رات پڑھائی میں۔ ہفتے کے دن وہ اپنے دوستوں کو اکاؤنٹنگ پڑھاتا تاکہ کچھ اضافی پیسے کما سکے۔
گریجویشن کے بعد اس نے تین لیپ ٹاپ اور ایک کرائے کے کمرے سے چھوٹی سی آئی ٹی کمپنی شروع کی۔ پہلا سال ناکامیوں سے بھرا تھا۔ قرض بڑھ گیا، پیسے ختم ہو گئے لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔
پانچ سال بعد اس کی بنائی ہوئی ایپ پورے پاکستان میں مقبول ہو گئی۔ آج وہی سلیم 29 سال کا ہے، اسلام آباد میں اس کا اپنا دفتر ہے اور 200 سے زیادہ لوگ اس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
اور ماریہ اب پمز ہسپتال میں ڈاکٹر ہے۔
آج بھی جب سلیم فیصل مسجد کے سامنے سے گزرتا ہے تو رک جاتا ہے۔ وہاں اگر کوئی بچہ جوتے پالش کرتا نظر آئے تو وہ اس کے پاس بیٹھتا ہے، اپنا کارڈ دیتا ہے اور کہتا ہے:
“جوتے چمکانے سے زیادہ ضروری خواب چمکانا ہے۔ جب بھی ضرورت ہو، میرے پاس آ جانا۔”
لوگ کہتے ہیں سلیم ارب پتی ہے۔
سلیم کہتا ہے: “میں آج بھی وہی لڑکا ہوں، بس اب میرے خواب بھی میرے ساتھ چمکتے ہیں۔”@
Copy
ایہہ کچّا گھر اُستاد دا اے ، ایہہ جُھگّی ھِک مزدور دی اے ۔!
ایہہ بنگلہ اے پٹواری دا ، ایہہ کوٹھی تھانے دار دی اے ۔!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Lalian