Al Noor Online QURAN Academy International

Al Noor Online QURAN Academy International We are Providing online Quran tutors at your home through kype . Supervision. Hazrt Khawaja NOOR Ahmed Khan Razzaqi. Chairman! Qari Abdul Manan Noori

*(وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا) ان کے والد نیک انسان تھے* _______________________(وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْ...
10/04/2026

*(وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا) ان کے والد نیک انسان تھے*
_______________________
(وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنزٌ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنزَهُمَا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ ۚ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ۚ ذَٰلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا) (الكهف - الآية 82)

یہ آیت کریمہ سورہ کہف کی ہے جسے ہر جمعہ کو پڑھنا مسنون اور باعث اجر و ثواب ہے. اس سورت ميں اللہ تعالى نے عبرت و نصیحت کی بہت ساری باتیں بیان فرمائی ہیں. زیر نظر آیت کریمہ کا پس منظر یہ ہے کہ کسی شہر میں دو یتیم بچے رہتے تھے ان کے والد کا انتقال ہو چکا تھا، ان کے گھر کی ایک دیوار کے نیچے ان کا خزانہ دفن کیا ہوا تھا اور وه دیوار کمزور ہونے کے سبب گرنے والی تھی جس کے نتیجے میں خزانے کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ تھا لیکن چونکہ ان کے والد نیک و صالح انسان تھے اس لیے اللہ نے ان کے باپ کی نیکی و دینداری کے بدلے خزانے کی حفاظت کا بندوبست فرما دیا اور اس کے لئےاپنے بندے خضر علیہ السلام کو بھیجا جنهوں نے بلا معاوضہ گرنے والی کمزور دیوار کو درست کر دیا.

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر انسان نیک و دیندار ہو تو اللہ تعالی اس کی آل اولاد کی حفاظت فرماتا ہے اور اس کی دینداری اور عبادت گزاری کی برکت سے اس کے بچے دنیا و آخرت دونوں میں مستفید ہوتے ہیں چنانچہ آخرت ميں باپ کی سفارش سے اللہ تعالی اس کے بچوں کے درجات بلند فرمائے گا تاکہ جنت ميں وہ اس کی آنکهوں کی ٹھنڈک بن سکیں جیسا کہ قرآن و سنت سے ثابت ہے.

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یہاں باپ کی دینداری و پرہیزگاری کی وجہ سے اللہ تعالی نے بچوں کی حفاظت فرمائی ورنہ اس آیت ميں خود بچوں کی کسی نیکی اور اچھائی کا تذکرہ نہیں کیا گیا. ( تفسیر ابن کثیر سورة الكهف )

اس بات کی مزید تائید اور وضاحت اللہ تعالی کے اس فرمان سے ہوتی ہے : (وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا.)
ترجمہ : لوگوں کو اس بات کا خیال کر کے ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بے بس اولاد چھوڑتے تو مرتے وقت انہیں اپنے بچّوں کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے ۔ پس چاہیے کہ وہ خدا کا خوف کریں اور راستی کی بات کریں ۔ ( النساء - الآية 9 )

(وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا) اس آیت کے متعلق مفسرین کرام نے ایک اور نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ باپ ان بچوں کا حقیقی باپ نہیں تھا بلکہ اس باپ کا سلسلہ ساتویں پشت ميں جا کر ملتا تھا. ( تفسیر ابن کثیر سورة الكهف )

اس سے معلوم ہوا کہ اگر باپ دیندار و پرہیزگار ہو تو اس کی برکت سے صرف ایک نسل نہیں بلکہ کئی نسلیں اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں.

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں : سعید بن المسيب رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : میں تمہاری خاطر زیادہ نمازیں پڑھتا ہوں تاکہ میرے ذریعے اللہ تمہاری حفاظت فرمائے. پھر انهوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی(وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا).

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا : کسی مؤمن کا جب انتقال ہوتا ہے تو اس کے مرنے کے بعد اللہ تعالی اس کی اولاد اور اس کی اولاد کی اولاد کی حفاظت فرماتا ہے.

محمد بن المنکدر فرماتے ہیں : اللہ تعالی نیک آدمی کی بدولت اس کی اولاد اور اس کی اولاد کی اولاد کی حفاظت فرماتا ہے نیز اس کے اردگرد کے مکانات بھی اس کی نیکی و دینداری کی وجہ سے محفوظ رہتے ہیں. جب بھی بندہ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں مشغول رہے گا تو اس حال میں اللہ اس کی حفاظت فرمائے گا. "جامع العلوم والحكم" (ص 187)

ابن ابی شیبہ کی روایت ہے : عیسی بن مریم علیہما السلام نے فرمایا : مؤمن کی اولاد کے لئے خوشخبری ہو. کیا ہی خوش قسمتی ہے کہ مؤمن کی موت کے بعد اس کی اولاد کی حفاظت ہوتی ہے. پھر انهوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا). (ابن أبي شيبة (35374)

یقینا ہر باپ اپنی اولاد کے تئیں فکر مند ہوتا ہے اور ان کی خوشحال زندگی اور تابناک مستقبل کے لئے مسلسل جدوجہد کرتا ہے، طرح طرح کی تکلیفیں جھیلتا اور برداشت کرتا ہے چنانچہ انهیں اچھی سے اچھی تعلیم دلاتا ہے اور بہتر سے بہتر ہنر اور فن سکھاتا ہے نیز ان کے لئے ہر ممکن اسباب و ذرائع سے مال و دولت اکٹھا کرتا ہے ...... بلاشبہ ایک خوشحال زندگی کے لئے اور روشن مستقبل کی ضمانت کے لئے ان مادی اسباب و وسائل کا اپنانا ضروری ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ جو اس سے اہم وسیلہ اور پائیدار عمل ہے جسے ہمیں انجام دینا چاہیے اور جس کی طرف لوگ توجہ نہیں دیتے وہ یہ ہے کہ انسان خود نیک و دیندار بنے، تقوی و پرہیزگاری کی دولت جمع کرنے کی فکر کرے، اللہ کے خوف و خشیت سے اپنے دل کو معمور کرے، حلال کمائے اور اپنی اولاد کو حلال کھلائے ، لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئے، معاملات ميں سچائی و امانت داری اور خیر خواہی کو پیش نظر رکھے اور اللہ کے مقرر کردہ حدود و احکامات کی حفاظت کرے اللہ تعالی ضرور اس کی اور اس کی اولاد کی حفاظت فرمائے گا اور انهیں کبھی بھی ضائع و برباد نہیں کرے گا.

یہی نہیں بلکہ موت کے وقت ہی اللہ تعالی فرشتوں کے ذریعے ایسے نیک و صالح بندے کو خوشخبری سناتا ہے کہ تم اپنے پیچھے جو کچھ آل اولاد اور زمین و جائداد وغيرہ چهوڑ کر جا رہے ہو اس کے بارے میں کوئی فکر اور کوئی غم کرنے کی ضرورت نہيں ہم خود اس کے محافظ اور نگہبان ہیں چنانچہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے : (إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُون (فصلت - الآية 30)

ترجمہ : ( واقعی ) جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے ( یہ کہتے ہوئے ) آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو ( بلکہ ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعدہ دیئے گئے ہو ۔

خلاصہ کلام (وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا) یہ آیت کریمہ ہر باپ کے لئے ایک پیغام ہے کہ اگر اسے اپنی اولاد کے لئے دین و دنیا کی بھلائی، خوشحال زندگی اور محفوظ مستقبل کی جستجو اور تلاش ہے تو نیکیاں جمع کرے اور نیک بنے کیونکہ اللہ تعالی بندے کی نیکیاں ضائع نہیں فرماتا اور وصیت نبوى ہے (احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ)(ترمذى 2516) تم الله کی حفاظت کرو اللہ تعالی تمہاری حفاظت فرمائے گا.

اللہ تعالی ہم سب کو نیک و صالح بنائے اور ہماری آل اولاد کی حفاظت فرمائے.

31/03/2026
عید الفطر کی سنتیں ۔پڑھیں سمجھیں اور شیئر کریں ۔
19/03/2026

عید الفطر کی سنتیں ۔
پڑھیں سمجھیں اور شیئر کریں ۔

محبتِ رسول ﷺ کی تاثیر: ایک بڑھیا کے اشعار اور عمر رضی اللّٰه عنه کے آنسو ۔۔۔فقیهِ مدینه حضرت زید بن أسلم التابعي رضی ال...
15/03/2026

محبتِ رسول ﷺ کی تاثیر: ایک بڑھیا کے اشعار اور عمر رضی اللّٰه عنه کے آنسو ۔۔۔

فقیهِ مدینه حضرت زید بن أسلم التابعي رضی اللّٰه عنه (م ۱۳۵ھ) فرماتے ہیں:
أمیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰه عنه (م ۲۳ھ) ایک رات (مدینة المنورة میں) پہرہ دیتے ہوئے نکلے ، اُنہوں نے ایک گھر میں چراغ جلتا ہوا دیکھا تو اس کے قریب گئے ، وہاں ایک بوڑھی عورت اُون کات رہی تھی ، اور ساتھ ساتھ یہ اشعار پڑھ رہی تھی:

عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَاةُ الْأَبْرَارْ
صَلَّى عَلَيْكَ الْمُصْطَفَوْنَ الْأَخْيَارْ

قَدْ كُنْتَ قَوَّامًا بَكِيَّ الْأَسْحَارْ
يَا لَيْتَ شِعْرِي وَالْمَنَايَا أَطْوَارْ

هَلْ تَجْمَعُنِي وَحَبِيبِي الدَّارْ

ترجمه:
" نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰه علیه وآله وسلم پر نیک لوگوں کی طرف سے درود ہو ، برگزیدہ اور نیک لوگوں نے آپ علیه السلام پر درود بھیجا ہے ، آپ علیه السلام راتوں کو قیام کرنے والے اور سحر کے وقت رونے والے تھے ،
کاش! مجھے معلوم ہو کہ جب موت کی گھڑیاں آئیں گی ، کیا وہ رب عزوجل جنت میں مجھے اور میرے محبوب کو جمع کرے گا ؟ "

(وہ اپنے محبوب سے مراد نبی کریم علیه السلام کو لے رہی تھی )

یہ سن کر حضرت عمر رضی الله عنه بیٹھ گئے اور رونے لگے وہ روتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے اُس عورت کے دروازے پر دستک دی ، عورت نے پوچھا: کون ہے ؟ اُنہوں نے فرمایا: عمر بن خطاب (رضی اللّٰه عنه) ، تو اُس عورت نے کہا: میرا عمر سے کیا کام؟ اور عمر اِس وقت کیوں آیا ہے؟

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰه عنه نے فرمایا: دروازہ کھولو! الله تم پر رحم کرے ، تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا ، اُس نے دروازہ کھولا اور حضرت عمر رضی اللّٰه عنه اندر داخل ہوئے اور فرمایا:
جو کلمات تم ابھی کہہ رہی تھی وہ دوبارہ سناؤ ، چنانچہ اُس نے وہ اشعار دوبارہ پڑھ کر سنائے ، جب وہ آخر تک پہنچی تو حضرت عمر رضی الله عنه نے فرمایا:

" میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ تم مجھے بھی اپنے اور اپنے محبوب (نبی ﷺ) کے ساتھ شامل ہونے کی دعا میں شریک کر لو "

تو اُس عورت نے کہا:
" اور عمر کو بھی، اے بہت بخشنے والے الله! اّسے بھی معاف فرما "

یہ سن کر حضرت عمر رضی الله عنه خوش ہوئے اور واپس چلے گئے ۔۔۔

[ کتاب الزھد و الرقائق - إبن المبارک (م ۱۸۱ھ) - ص: ۳٦٢ ، الرقم: ۱۰۲٤ ، ط: العلمیة بیروت ]
[ الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ - القاصي عیاض (م ۵٤٤ھ) - ص: ٤٩٧ ، الرقم: ۱۲۱۷ ، ط: جائزۃ دبئي ]

وَاجْبُرْنِي" کا کیا مطلب ہے؟"جب ہم نماز میں دو سجدوں کے درمیان بیٹھتے ہیں تو ایک دعا پڑھتے ہیںاللّهُمّاغْفِرْلِي، وَارْ...
14/03/2026

وَاجْبُرْنِي" کا کیا مطلب ہے؟"
جب ہم نماز میں دو سجدوں کے درمیان بیٹھتے ہیں تو ایک دعا پڑھتے ہیں
اللّهُمّاغْفِرْلِي، وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي، وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَارْفَعْنِي
ترجمه
اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما،، مجھے عافیت عطا فرما، مجھے ہدایت دے , مجھے رزق دے اور میری کمیوں کو پورا فرما۔مجھے سربلندی عطا کر
حدیث
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ دو
سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھتے تھے۔
سنن ابی داؤد (850)
)284( جامع ترمذی(
اس دعا میں ایک لفظ آتا ہے "وَاجْبُرْنِي"۔
عربی میں جبر کا مطلب ہوتا ہے ٹوٹے ہوئے کو جوڑ دینا بکھرے ہوئے کو سمیٹ دینا اور زخم پر ایسا مرہم رکھ
دینا جو درد کو ٹھنڈک دے۔.. سوچیں
جب کہیں گہرا زخم لگ جائے، خون بہہ رہا ہو، درد... برداشت سے باہر ہو
اور کوئی آ کر اس زخم پر نرمی سے ٹھنڈا مرہم رکھ دے تو اس عمل کو جبر کہتے ہیں۔
جب بنده دو سجدوں کے درمیان عاجزی سے بیٹھ کر
کھتا ہے
"" وَاجْبُرْنِي"
تو وہ دراصل اللہ سے یہ مانگ رہا ہوتا ہے
اے اللہ! میرے دل کی ٹوٹ پھوٹ جوڑ دے
میرے دکھوں پر مرہم رکھ دے
میری کمیوں کو پورا کر دے
اور میرے بکھرے ہوئے حال کو سنوار دے۔
انسان کے دل کے زخم ہوں، روح کی تھکن ہو، یا زندگی کی ٹوٹ پھوٹ
ان سب کا مرہم نماز میں ہی موجود ہے۔

Address

Lala Musa
10156

Telephone

+923066198849

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Noor Online QURAN Academy International posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Al Noor Online QURAN Academy International:

Shortcuts

Share

Category