10/04/2026
*(وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا) ان کے والد نیک انسان تھے*
_______________________
(وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنزٌ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنزَهُمَا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ ۚ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ۚ ذَٰلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا) (الكهف - الآية 82)
یہ آیت کریمہ سورہ کہف کی ہے جسے ہر جمعہ کو پڑھنا مسنون اور باعث اجر و ثواب ہے. اس سورت ميں اللہ تعالى نے عبرت و نصیحت کی بہت ساری باتیں بیان فرمائی ہیں. زیر نظر آیت کریمہ کا پس منظر یہ ہے کہ کسی شہر میں دو یتیم بچے رہتے تھے ان کے والد کا انتقال ہو چکا تھا، ان کے گھر کی ایک دیوار کے نیچے ان کا خزانہ دفن کیا ہوا تھا اور وه دیوار کمزور ہونے کے سبب گرنے والی تھی جس کے نتیجے میں خزانے کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ تھا لیکن چونکہ ان کے والد نیک و صالح انسان تھے اس لیے اللہ نے ان کے باپ کی نیکی و دینداری کے بدلے خزانے کی حفاظت کا بندوبست فرما دیا اور اس کے لئےاپنے بندے خضر علیہ السلام کو بھیجا جنهوں نے بلا معاوضہ گرنے والی کمزور دیوار کو درست کر دیا.
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر انسان نیک و دیندار ہو تو اللہ تعالی اس کی آل اولاد کی حفاظت فرماتا ہے اور اس کی دینداری اور عبادت گزاری کی برکت سے اس کے بچے دنیا و آخرت دونوں میں مستفید ہوتے ہیں چنانچہ آخرت ميں باپ کی سفارش سے اللہ تعالی اس کے بچوں کے درجات بلند فرمائے گا تاکہ جنت ميں وہ اس کی آنکهوں کی ٹھنڈک بن سکیں جیسا کہ قرآن و سنت سے ثابت ہے.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یہاں باپ کی دینداری و پرہیزگاری کی وجہ سے اللہ تعالی نے بچوں کی حفاظت فرمائی ورنہ اس آیت ميں خود بچوں کی کسی نیکی اور اچھائی کا تذکرہ نہیں کیا گیا. ( تفسیر ابن کثیر سورة الكهف )
اس بات کی مزید تائید اور وضاحت اللہ تعالی کے اس فرمان سے ہوتی ہے : (وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا.)
ترجمہ : لوگوں کو اس بات کا خیال کر کے ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بے بس اولاد چھوڑتے تو مرتے وقت انہیں اپنے بچّوں کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے ۔ پس چاہیے کہ وہ خدا کا خوف کریں اور راستی کی بات کریں ۔ ( النساء - الآية 9 )
(وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا) اس آیت کے متعلق مفسرین کرام نے ایک اور نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ باپ ان بچوں کا حقیقی باپ نہیں تھا بلکہ اس باپ کا سلسلہ ساتویں پشت ميں جا کر ملتا تھا. ( تفسیر ابن کثیر سورة الكهف )
اس سے معلوم ہوا کہ اگر باپ دیندار و پرہیزگار ہو تو اس کی برکت سے صرف ایک نسل نہیں بلکہ کئی نسلیں اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں.
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں : سعید بن المسيب رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : میں تمہاری خاطر زیادہ نمازیں پڑھتا ہوں تاکہ میرے ذریعے اللہ تمہاری حفاظت فرمائے. پھر انهوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی(وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا).
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا : کسی مؤمن کا جب انتقال ہوتا ہے تو اس کے مرنے کے بعد اللہ تعالی اس کی اولاد اور اس کی اولاد کی اولاد کی حفاظت فرماتا ہے.
محمد بن المنکدر فرماتے ہیں : اللہ تعالی نیک آدمی کی بدولت اس کی اولاد اور اس کی اولاد کی اولاد کی حفاظت فرماتا ہے نیز اس کے اردگرد کے مکانات بھی اس کی نیکی و دینداری کی وجہ سے محفوظ رہتے ہیں. جب بھی بندہ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں مشغول رہے گا تو اس حال میں اللہ اس کی حفاظت فرمائے گا. "جامع العلوم والحكم" (ص 187)
ابن ابی شیبہ کی روایت ہے : عیسی بن مریم علیہما السلام نے فرمایا : مؤمن کی اولاد کے لئے خوشخبری ہو. کیا ہی خوش قسمتی ہے کہ مؤمن کی موت کے بعد اس کی اولاد کی حفاظت ہوتی ہے. پھر انهوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا). (ابن أبي شيبة (35374)
یقینا ہر باپ اپنی اولاد کے تئیں فکر مند ہوتا ہے اور ان کی خوشحال زندگی اور تابناک مستقبل کے لئے مسلسل جدوجہد کرتا ہے، طرح طرح کی تکلیفیں جھیلتا اور برداشت کرتا ہے چنانچہ انهیں اچھی سے اچھی تعلیم دلاتا ہے اور بہتر سے بہتر ہنر اور فن سکھاتا ہے نیز ان کے لئے ہر ممکن اسباب و ذرائع سے مال و دولت اکٹھا کرتا ہے ...... بلاشبہ ایک خوشحال زندگی کے لئے اور روشن مستقبل کی ضمانت کے لئے ان مادی اسباب و وسائل کا اپنانا ضروری ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ جو اس سے اہم وسیلہ اور پائیدار عمل ہے جسے ہمیں انجام دینا چاہیے اور جس کی طرف لوگ توجہ نہیں دیتے وہ یہ ہے کہ انسان خود نیک و دیندار بنے، تقوی و پرہیزگاری کی دولت جمع کرنے کی فکر کرے، اللہ کے خوف و خشیت سے اپنے دل کو معمور کرے، حلال کمائے اور اپنی اولاد کو حلال کھلائے ، لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئے، معاملات ميں سچائی و امانت داری اور خیر خواہی کو پیش نظر رکھے اور اللہ کے مقرر کردہ حدود و احکامات کی حفاظت کرے اللہ تعالی ضرور اس کی اور اس کی اولاد کی حفاظت فرمائے گا اور انهیں کبھی بھی ضائع و برباد نہیں کرے گا.
یہی نہیں بلکہ موت کے وقت ہی اللہ تعالی فرشتوں کے ذریعے ایسے نیک و صالح بندے کو خوشخبری سناتا ہے کہ تم اپنے پیچھے جو کچھ آل اولاد اور زمین و جائداد وغيرہ چهوڑ کر جا رہے ہو اس کے بارے میں کوئی فکر اور کوئی غم کرنے کی ضرورت نہيں ہم خود اس کے محافظ اور نگہبان ہیں چنانچہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے : (إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُون (فصلت - الآية 30)
ترجمہ : ( واقعی ) جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے ( یہ کہتے ہوئے ) آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو ( بلکہ ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعدہ دیئے گئے ہو ۔
خلاصہ کلام (وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا) یہ آیت کریمہ ہر باپ کے لئے ایک پیغام ہے کہ اگر اسے اپنی اولاد کے لئے دین و دنیا کی بھلائی، خوشحال زندگی اور محفوظ مستقبل کی جستجو اور تلاش ہے تو نیکیاں جمع کرے اور نیک بنے کیونکہ اللہ تعالی بندے کی نیکیاں ضائع نہیں فرماتا اور وصیت نبوى ہے (احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ)(ترمذى 2516) تم الله کی حفاظت کرو اللہ تعالی تمہاری حفاظت فرمائے گا.
اللہ تعالی ہم سب کو نیک و صالح بنائے اور ہماری آل اولاد کی حفاظت فرمائے.