The House of Wisdom School and College Serai Naurang

The House of Wisdom School and College Serai Naurang This Page is about the House of Wisdom High School Serai Naurang, a unique educational institute in the area. It has been established on 11th January 2012.

07/08/2026

📢 ایک مثبت تعلیمی تجویز — شفافیت، میرٹ اور تعلیمی بہتری کے فروغ کے لیے

محترم وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا، وزیرِ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا، سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، تمام بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے چیئرمین صاحبان اور متعلقہ تعلیمی حکام کی خدمت میں ایک مؤدبانہ اور تعمیری تجویز۔

حالیہ میٹرک کے نتائج کے بعد مختلف تعلیمی حلقوں میں پوزیشن ہولڈرز اور نمایاں نمبروں کے حوالے سے گفتگو جاری ہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ تحریر کسی طالب علم، استاد، تعلیمی ادارے یا کسی بھی بورڈ کے نتائج پر اعتراض کے طور پر پیش نہیں کی جا رہی۔ ہم تمام کامیاب طلبہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان کی محنت، لگن اور کامیابی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

تاہم، ہمارا مؤقف ہے کہ موجودہ دور میں شفافیت (Transparency)، میرٹ (Merit) اور تعلیمی احتساب (Academic Accountability) کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم اور مثبت قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔

ہماری مؤدبانہ تجویز:

تمام BISE Boards اپنے اپنے میٹرک کے پوزیشن ہولڈرز کے جوابی پرچوں (Answer Scripts) کو، طالب علم کا نام، رول نمبر، رابطہ معلومات اور دیگر ذاتی تفصیلات کو مکمل طور پر مخفی رکھتے ہوئے، PDF فارمیٹ میں اپنی سرکاری ویب سائٹس پر شائع کریں۔

اس اقدام کے متعدد مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں:

🔹 میرٹ پر اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
والدین، طلبہ اور تعلیمی ادارے براہِ راست یہ دیکھ سکیں گے کہ اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے جوابات میں وہ کون سی خصوصیات موجود تھیں جن کی بنیاد پر انہیں نمایاں نمبر دیے گئے۔

🔹 غلط فہمیوں اور شکوک و شبہات کا خاتمہ ہوگا۔
کسی بھی قسم کے سوالات یا تحفظات کا جواب قیاس آرائیوں یا غیر مصدقہ معلومات کے بجائے اصل تعلیمی شواہد کی بنیاد پر دیا جا سکے گا۔

🔹 یہ ایک مؤثر تعلیمی ذریعہ (Learning Resource) بنے گا۔
طلبہ یہ سمجھ سکیں گے کہ اعلیٰ معیار کے جوابات کیسے تحریر کیے جاتے ہیں، سوالات کو کس انداز میں حل کیا جاتا ہے، اور presentation، diagrams، reasoning اور relevant content کو مؤثر طریقے سے کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔

🔹 اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد میں بہتری آئے گی۔
صوبے بھر کے اساتذہ ان جوابی پرچوں کا مطالعہ کرکے اپنی تدریس، assessment techniques اور answer-writing strategies کو مزید بہتر بنا سکیں گے۔

🔹 تعلیمی معیار میں مجموعی بہتری آئے گی۔
پوزیشن ہولڈرز کے جوابات پورے تعلیمی نظام کے لیے ایک معیاری تعلیمی benchmark کی حیثیت اختیار کر لیں گے۔

ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ ہماری مکمل عزت، حوصلہ افزائی اور احترام کے مستحق ہیں۔ ان کے جوابی پرچوں کو عوامی سطح پر بطور تعلیمی مواد پیش کرنے کا مقصد ان کی کامیابی پر سوال اٹھانا نہیں بلکہ اسے دیگر طلبہ کے لیے سیکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ بنانا ہے۔

ہمارا مقصد کسی پر تنقید یا الزام نہیں؛

ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ:

"میرٹ نہ صرف قائم ہو بلکہ واضح طور پر نظر بھی آئے، سمجھ میں بھی آئے، اور آنے والی نسلوں کے لیے سیکھنے کا ذریعہ بھی بنے۔"

ہم خیبر پختونخوا حکومت، محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور تمام BISE Boards سے مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور ایک شفاف، قابلِ اعتماد اور evidence-based امتحانی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مناسب پالیسی وضع کی جائے۔

یہ اقدام صرف موجودہ پوزیشن ہولڈرز کے لیے نہیں ہوگا؛ بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے اعتماد، شفافیت اور تعلیمی معیار کی مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

ہم تمام کامیاب طلبہ، ان کے والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو ایک بار پھر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔



















07/08/2026

100 فیصد اور بہترین رزلٹ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور تمام طلبہ، اساتذہ اور والدین کو بہت بہت مبارک ہو۔

06/08/2026

Required

06/05/2026

محترم والدین کرام،
السلام علیکم

ادارے کا بنیادی مقصد معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ہم ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ والدین کو زیادہ سے زیادہ سہولت دی جائے۔ آپ کی ہر پریشانی ہمارے لیے باعثِ تشویش ہے اور ہم اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں بعض والدین کی جانب سے یہ شکایت سامنے آئی ہے کہ ہمارے ادارے کی چھٹی دیگر اسکولوں کے مقابلے میں کچھ تاخیر سے ہوتی ہے۔ اس حوالے سے گزارش ہے کہ اگر مکمل طور پر سرکاری اوقاتِ کار کو مدنظر رکھا جائے تو اپریل سے 30 ستمبر تک ٹائمنگ عموماً صبح 7:30 سے دوپہر 1:30 تک ہوتی ہے۔ تاہم چونکہ ہمارے ہاں پرائمری کے بچے بھی زیرِ تعلیم ہیں، اس لیے ہم حتی الامکان کوشش کرتے ہیں کہ چھٹی 1:30 کے بجائے 1:00 یا 12:45 تک کر دی جائے، جیسا کہ بعض دیگر ادارے بھی کر رہے ہیں۔

مزید برآں، موجودہ صورتحال میں حکومت کی جانب سے ہفتہ وار دو اضافی چھٹیوں (جمعہ اور ہفتہ) کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے باعث تعلیمی سرگرمیاں صرف چار دن (پیر تا جمعرات) تک محدود ہو گئی ہیں، جبکہ تین دن (جمعہ، ہفتہ، اتوار) تعطیل ہوتی ہے۔ اس صورتِ حال میں نصاب کی بروقت تکمیل کے لیے تدریسی اوقات اور پیریڈز کے دورانیے کو متوازن رکھنا نہایت ضروری ہو جاتا ہے۔

اسی تناظر میں ہمیں یہ عرض کرنا بھی مناسب لگتا ہے کہ والدین دیگر اداروں سے بھی معلومات حاصل کریں اور اس امر کا جائزہ لیں کہ وہاں چار تدریسی دنوں میں تعلیمی نظام کو کس طرح منظم کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ موجودہ موسم بھی اس قدر شدید نہیں ہے کہ تدریسی عمل کو جاری رکھنا مشکل ہو۔ اگر سرکاری سطح پر اوقات کار دوپہر 3 بجے تک مقرر کیے جا سکتے ہیں تو کم از کم ڈیڑھ بجے یا 2 بجے تک تدریس جاری رکھنا ایک معقول ضرورت ہے تاکہ بچوں کا نصاب بروقت مکمل ہو سکے۔

بہرحال، ادارہ اگلے ہفتے سے ٹائمنگ پر نظرثانی کرنے جا رہا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ہم اپنی طرف سے چھٹی کا وقت مزید پہلے کر بھی دیں تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ دیگر ادارے بھی اسی پر عمل کریں گے، اور یوں مسئلہ برقرار رہ سکتا ہے۔

اس سلسلے میں ایک بہتر اور مؤثر تجویز یہ ہے کہ والدین آپس میں رابطہ قائم کر کے ایک چھوٹا سا گروپ تشکیل دیں، چونکہ آپ روزانہ اسکول کے باہر ایک دوسرے سے ملتے بھی ہیں۔ اس اجتماعی پلیٹ فارم کے ذریعے مختلف اداروں سے بات چیت کر کے ایک متفقہ اور متوازن ٹائمنگ طے کروائی جا سکتی ہے—ایسی ٹائمنگ جو نہ بہت زیادہ طویل ہو اور نہ ہی غیر ضروری طور پر مختصر، بلکہ تعلیمی تقاضوں کے مطابق ہو۔

ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ادارے کی جانب سے کسی قسم کی من مانی مقصود نہیں، بلکہ ہمیشہ ایک ایسا نظام قائم کرنا پیشِ نظر ہے جس میں طلبہ، والدین اور ادارے—سب کے مفادات کا خیال رکھا جائے۔

اس ضمن میں یہ بھی یاد دلانا مناسب ہے کہ 2018-2019 میں انتظامیہ نے علاقے کے تمام اسکولوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی، جس سے والدین، طلبہ اور اداروں—سب کو فائدہ ہوا تھا، تاہم بدقسمتی سے یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔

آئندہ اگر والدین اس نوعیت کا کوئی مشترکہ قدم اٹھاتے ہیں تو ادارہ ہر ممکن تعاون کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ باہمی مشاورت اور تعاون سے ایک بہتر اور متوازن حل ضرور نکل آئے گا۔

آپ کے تعاون اور اعتماد کا بے حد شکریہ۔

📢 **اہم اطلاع برائے داخلہ**تمام عوام الناس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ادارۂ ہذا میں داخلہ فارم جمع کروانے کی **آخری تاریخ 1...
12/04/2026

📢 **اہم اطلاع برائے داخلہ**

تمام عوام الناس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ادارۂ ہذا میں داخلہ فارم جمع کروانے کی **آخری تاریخ 16 اپریل 2026** ہے۔

📝 **انٹری ٹیسٹ:** 19 اپریل 2026

📥 **ماڈل انٹری ٹیسٹ** درج ذیل لنک سے ڈاؤن لوڈ کیے جا سکتے ہیں:
how.org.pk/home/download

لہٰذا تمام خواہشمند طلبہ و والدین سے گزارش ہے کہ مقررہ تاریخ سے پہلے اپنے داخلہ فارم جمع کرا دیں۔
⛔ اس کے بعد کسی بھی کلاس میں **داخلہ نہیں کیا جائے گا۔**

School Management System(SMS) is an application, which works well for an institution from registering a student to issuing school leaving certificate.

30/03/2026

📢 **اہم اطلاع برائے داخلہ لینے کے خواہشمند طلبہ و والدین**
🔗 **ماڈل ٹیسٹ حاصل کرنے کے لیے لنک پر کلک کریں:**
https://how.org.pk/Home/Download
ادارہ ہذا کی ویب سائٹ پر **داخلہ کے لیے ماڈل ٹیسٹ** اپ لوڈ کر دیے گئے ہیں تاکہ طلبہ داخلہ امتحان کی بہتر تیاری کر سکیں۔ تمام خواہشمند طلبہ اور معزز والدین سے گزارش ہے کہ ویب سائٹ وزٹ کریں، ماڈل ٹیسٹ ڈاؤن لوڈ کریں اور طلبہ کو حل کروائیں تاکہ وہ امتحان کے طریقہ کار سے آگاہ ہو سکیں۔
مزید معلومات کے لیے ادارے کے آفیشل پیج اور ویب سائٹ سے منسلک رہیں۔ 📚

Address

Lakki Marwat
28350

Opening Hours

Monday 08:30 - 14:00
Tuesday 08:30 - 14:00
Wednesday 08:30 - 14:00
Thursday 08:30 - 14:00
Friday 08:30 - 12:30
Saturday 08:30 - 14:00

Telephone

+923339622178

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The House of Wisdom School and College Serai Naurang posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to The House of Wisdom School and College Serai Naurang:

Shortcuts

Share

Category