07/08/2026
📢 ایک مثبت تعلیمی تجویز — شفافیت، میرٹ اور تعلیمی بہتری کے فروغ کے لیے
محترم وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا، وزیرِ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا، سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، تمام بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے چیئرمین صاحبان اور متعلقہ تعلیمی حکام کی خدمت میں ایک مؤدبانہ اور تعمیری تجویز۔
حالیہ میٹرک کے نتائج کے بعد مختلف تعلیمی حلقوں میں پوزیشن ہولڈرز اور نمایاں نمبروں کے حوالے سے گفتگو جاری ہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ تحریر کسی طالب علم، استاد، تعلیمی ادارے یا کسی بھی بورڈ کے نتائج پر اعتراض کے طور پر پیش نہیں کی جا رہی۔ ہم تمام کامیاب طلبہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان کی محنت، لگن اور کامیابی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
تاہم، ہمارا مؤقف ہے کہ موجودہ دور میں شفافیت (Transparency)، میرٹ (Merit) اور تعلیمی احتساب (Academic Accountability) کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم اور مثبت قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔
ہماری مؤدبانہ تجویز:
تمام BISE Boards اپنے اپنے میٹرک کے پوزیشن ہولڈرز کے جوابی پرچوں (Answer Scripts) کو، طالب علم کا نام، رول نمبر، رابطہ معلومات اور دیگر ذاتی تفصیلات کو مکمل طور پر مخفی رکھتے ہوئے، PDF فارمیٹ میں اپنی سرکاری ویب سائٹس پر شائع کریں۔
اس اقدام کے متعدد مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں:
🔹 میرٹ پر اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
والدین، طلبہ اور تعلیمی ادارے براہِ راست یہ دیکھ سکیں گے کہ اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے جوابات میں وہ کون سی خصوصیات موجود تھیں جن کی بنیاد پر انہیں نمایاں نمبر دیے گئے۔
🔹 غلط فہمیوں اور شکوک و شبہات کا خاتمہ ہوگا۔
کسی بھی قسم کے سوالات یا تحفظات کا جواب قیاس آرائیوں یا غیر مصدقہ معلومات کے بجائے اصل تعلیمی شواہد کی بنیاد پر دیا جا سکے گا۔
🔹 یہ ایک مؤثر تعلیمی ذریعہ (Learning Resource) بنے گا۔
طلبہ یہ سمجھ سکیں گے کہ اعلیٰ معیار کے جوابات کیسے تحریر کیے جاتے ہیں، سوالات کو کس انداز میں حل کیا جاتا ہے، اور presentation، diagrams، reasoning اور relevant content کو مؤثر طریقے سے کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔
🔹 اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد میں بہتری آئے گی۔
صوبے بھر کے اساتذہ ان جوابی پرچوں کا مطالعہ کرکے اپنی تدریس، assessment techniques اور answer-writing strategies کو مزید بہتر بنا سکیں گے۔
🔹 تعلیمی معیار میں مجموعی بہتری آئے گی۔
پوزیشن ہولڈرز کے جوابات پورے تعلیمی نظام کے لیے ایک معیاری تعلیمی benchmark کی حیثیت اختیار کر لیں گے۔
ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ ہماری مکمل عزت، حوصلہ افزائی اور احترام کے مستحق ہیں۔ ان کے جوابی پرچوں کو عوامی سطح پر بطور تعلیمی مواد پیش کرنے کا مقصد ان کی کامیابی پر سوال اٹھانا نہیں بلکہ اسے دیگر طلبہ کے لیے سیکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ بنانا ہے۔
ہمارا مقصد کسی پر تنقید یا الزام نہیں؛
ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ:
"میرٹ نہ صرف قائم ہو بلکہ واضح طور پر نظر بھی آئے، سمجھ میں بھی آئے، اور آنے والی نسلوں کے لیے سیکھنے کا ذریعہ بھی بنے۔"
ہم خیبر پختونخوا حکومت، محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور تمام BISE Boards سے مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور ایک شفاف، قابلِ اعتماد اور evidence-based امتحانی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مناسب پالیسی وضع کی جائے۔
یہ اقدام صرف موجودہ پوزیشن ہولڈرز کے لیے نہیں ہوگا؛ بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے اعتماد، شفافیت اور تعلیمی معیار کی مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
ہم تمام کامیاب طلبہ، ان کے والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو ایک بار پھر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔