19/08/2026
عمران خان کی سیاست، بالخصوص اگست 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد سے لے کر اب تک کا دورانیہ، ان کی صبر، استقامت اور سیاسی بصیرت کا ایک ایسا باب ہے جس نے پاکستانی سیاست کے روایتی رخ کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
1. صبر (بغیر کسی ڈیل کے قید کا سامنا)
سیاسی فلسفے میں صبر سے مراد صرف خاموشی سے وقت گزارنا نہیں، بلکہ کڑے وقت میں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنا ہے۔
* سہولیات اور ڈیلز کو ٹھکرانا: پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ مقتدر حلقوں سے تصادم کے بعد زیادہ تر سیاست دانوں نے یا تو ملک چھوڑ دیا یا کسی نہ کسی سمجھوتے (ڈیل) کے تحت ریلیف حاصل کیا۔ عمران خان کا اڈیالہ جیل کی سخت تنہائی میں رہنے کے باوجود کسی بھی خفیہ سودے بازی سے انکار کرنا ان کے صبر کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
* نفساتی دباؤ کا مقابلہ: درجنوں مقدمات، نااہلیوں، اور قیدِ تنہائی کے باوجود انہوں نے اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور عوامی سطح پر کبھی مایوسی کا اظہار نہیں کیا، جو ان کے اندرونی صوفیانہ رجحان اور توکل کی عکاسی کرتا ہے۔
*
*
*
*
*
*
*
*
*
*
*
*
*
*
*
*
*
*
*
*