07/10/2025
GPS Wanda Kalan
Education
07/10/2025
16/09/2025
سب ڈویژن ایجوکیشن آفیسر حبیب اللہ خان نے گورنمنٹ پرائمری سکول کلن کا سرپرائز وزٹ کیا۔تمام اساتذہ کرام اپنے اپنے کلاسوں میں مصروف کار پائے گئے ۔ایس ڈی ای او صاحب نے تمام اساتذہ کرام کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بہترین ٹیچنگ پر خراج تحسین پیش کیا ۔
31/08/2025
ہر بچہ ایک انمول خزانہ ہے، اسے ضائع نہ ہونے دیں، سنوار دیں۔
28/07/2025
*بچوں کو جگانے کے آداب*
1⃣ بچوں کو جگانے کے لیے ، اُن کے اوپر سے بستر ہر گز نہیں کھینچنا چاہیے ، نہ انھیں بار بار کہنا چاہیے کہ: اٹھو اٹھو ؛ اور نہ اُنھیں کوسنے دینے چاہییں
2⃣ انھیں رات کو جلدی سُلانے کی کوشش کریں اور یہ ذہن دیں کہ: بیٹا! صبح آپ نے جلدی اٹھنا ہے
میں آپ کو جب صبح اٹھاؤں تو پہلی آواز پر ہی اٹھ جانا ۔
بیٹا! آپ نے زندگی بھر کے لیے یہ عادت بنانی ہے کہ پہلی آواز اور الارم کی پہلی ٹون پر بیدار ہو جانا ہے
یہ عادت آپ کو کبھی سُست نہیں پڑنے دے گی ، اور حادثے کی صورت میں آپ کی معاون ثابت ہوگی
3⃣ بچہ جب آپ کی پہلی آواز پر بیدار ہوجائے تو اُسے شاباش دیں اور اس کی تعریف کریں ؛ اگر بیدار نہ ہو تو اُسے جھڑکیں نہیں ، بلکہ اچھے انداز سے اس کا جذبہ بیدار کریں
4⃣ بچے کو جلدی اٹھنے کا عادی بنانے کے لیے ، جلدی سونے کی عادت ڈالیں
وہ صبح جلدی اسی صورت میں بیدار ہوگا جب رات کو جلدی سوئے گا ۔
5⃣بچوں کو جلدی سُلانے کے لیے ڈرائیں دھمکائیں نہیں ، بلکہ خود جلدی سوجائیں ، بچے بھی سوجائیں گے
اگر آپ موبائل سے لگے رہے تو بچے بروقت نہیں سوئیں گے ۔
6⃣ بچوں کو دیسی غذائیں ( گھی ، مکھن ، چُوری ، حلوہ ، کھجور ، گُڑ کے چاول وغیرہ ) کھلایا کریں ، تاکہ انھیں پرسکون نیند آئے اور طاقت ور بنیں۔
بچوں کو ہر وقت خوش رکھنے کی کوشش اکثر والدین کی طرف سے محبت کا ایک فطری اظہار ہوتی ہے، لیکن یہی کوشش اگر حد سے بڑھ جائے تو بچوں کی جذباتی لچک کو متاثر کر سکتی ہے۔ زندگی صرف خوشیوں کا نام نہیں، بلکہ دکھ، ناکامی، مایوسی، غصہ اور اداسی بھی انسانی زندگی کا حصہ ہیں۔ جب بچے ان جذبات کا سامنا کئے بغیر صرف خوشی کے ایک محفوظ خ*ل میں پرورش پاتے ہیں، تو وہ اندرونی طور پر کمزور رہ جاتے ہیں اور حقیقی دنیا کے مسائل سے نمٹنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق، بچوں کی جذباتی مضبوطی اسی وقت فروغ پاتی ہے جب انہیں ہر قسم کے جذبات کو محسوس کرنے، ان کا اظہار کرنے اور ان سے سیکھنے کا موقع دیا جائے۔ ڈاکٹر سوزان ڈیوڈ، جو ہارورڈ یونیورسٹی میں جذباتی ذہانت پر تحقیق کر چکی ہیں، کہتی ہیں: "اگر ہم بچوں کو صرف خوش دیکھنے کی کوشش میں ان کی منفی جذبات کو دبانے کی ترغیب دیتے ہیں، تو ہم ان سے وہ مواقع چھین لیتے ہیں جن سے وہ اندر سے مضبوط بن سکتے ہیں۔"
والدین کی نیت بے شک نیک ہوتی ہے، مگر جب بچہ روتا ہے، ناراض ہوتا ہے یا کسی تکلیف میں ہوتا ہے تو اکثر اسے فوراً خوش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ فوری ردعمل بچے کو یہ پیغام دیتا ہے کہ منفی جذبات ناقابلِ قبول ہیں۔ نتیجتاً، بچہ اپنے جذبات کو دباتا ہے یا ان کے اظہار سے گھبرانے لگتا ہے، اور وقت کے ساتھ وہ جذباتی طور پر غیر متوازن ہو سکتا ہے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ بچوں کو جذبات کی شناخت اور اظہار کا شعور دیا جائے۔ اگر بچہ اداس ہے تو اسے گلے لگائیں، اس کا دکھ سنیں، اور بتائیں کہ اداسی ایک فطری احساس ہے۔ اسی طرح اگر وہ کسی چیز پر غصہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی کسی حد کی حفاظت کر رہا ہے۔ بچوں کو یہ سمجھانا کہ ہر احساس کی ایک جگہ اور مقصد ہوتا ہے، انہیں جذباتی طور پر طاقتور بناتا ہے۔
والدین کا اصل کردار صرف خوشی دینا نہیں بلکہ بچوں کو زندگی کے ہر رنگ کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ جب بچہ سیکھتا ہے کہ وہ روتے ہوئے بھی پیارا ہے، غصہ ہوتے ہوئے بھی سنا جا رہا ہے، اور مایوسی کے عالم میں بھی قبول کیا جا رہا ہے، تو وہ ایک متوازن، ہمدرد، اور مضبوط انسان کے طور پر پروان چڑھتا ہے۔
بچوں کی جذباتی لچک کا مطلب یہی ہے کہ وہ ہر حالت میں خود کو سنبھال سکیں، زندگی کے اتار چڑھاؤ کو سمجھ سکیں، اور ہر جذباتی کیفیت کو بغیر ڈرے محسوس کر سکیں۔
محبت اور اعتماد کی بنیاد پر دی گئی رہنمائی، بچے کے اندر کا ضمیر جگا دیتی ہے
– تب وہ خود سے اچھا بننے کی کوشش کرتا ہے۔
بچوں کو صرف "کیا غلط ہے" نہ بتائیں، بلکہ "کیا بہتر ہے" دکھائیں۔
بچوں کو انا پرستی سے بچانا ایک حساس اور مستقل توجہ طلب کام ہے۔ انا پرستی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں بچہ اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتا ہے، اور دوسروں کے جذبات یا ضروریات کی پروا نہیں کرتا۔ اگر بچپن سے اس کی تربیت صحیح نہ کی جائے تو یہ عادت بڑے ہو کر بچے کے تعلقات، رویئے اور کردار کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔
اس کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ جب بچے کی ہر بات مانی جائے، خواہ وہ غلط ہو یا درست، جب اسے ہر وقت یہ احساس دلایا جائے کہ وہ سب سے خاص ہے، یا اس کے مقابلے میں دوسرے بچے کمتر ہیں، تو وہ آہستہ آہستہ ایک جھوٹی برتری کے احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ والدین نادانستہ طور پر اپنے لاڈ پیار میں ایسی فضا پیدا کر دیتے ہیں جہاں بچہ خود کو مرکز سمجھنے لگتا ہے۔
اس کے برعکس اگر بچے کو یہ سکھایا جائے کہ سب انسان برابر ہیں، ہر کسی کے جذبات کی قدر کرنا ضروری ہے، اور غلطی کو تسلیم کرنا کمزوری نہیں بلکہ حوصلے کی علامت ہے، تو اس کا دل نرم اور عاجزی سے بھرپور بنے گا۔ بچوں کے درمیان جب انصاف کے ساتھ سلوک کیا جائے اور انہیں دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا سکھایا جائے، تو وہ مقابلے کی دوڑ میں دوسروں کو نیچا دکھانے کی بجائے خود بہتر بننے کی کوشش کریں گے۔
انا پرستی سے بچانے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ والدین خود اپنی زندگی میں عاجزی کا نمونہ بنیں۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔ اگر والدین ہر بات میں اپنی برتری جتائیں، دوسروں کو حقیر سمجھیں یا معذرت کرنے سے گریز کریں، تو بچہ بھی وہی رویہ اپنائے گا۔ لیکن اگر وہ دیکھے کہ ماں باپ دوسروں کی بات سنتے ہیں، اپنی غلطی مان لیتے ہیں اور ہر ایک کی عزت کرتے ہیں، تو وہ بھی یہی سیکھے گا۔
بچوں کو چھوٹی عمر سے خدمت، شکر گزاری اور صبر جیسے جذبات کی تربیت دینا بہت ضروری ہے۔ انہیں یہ سمجھایا جائے کہ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا، دوسروں کی مدد کرنا اور سب کے لئے خیر کا سوچنا ایک بڑا انسان بننے کی علامت ہے۔ یہ تربیت ان کے دل سے تکبر اور برتری کے احساس کو ختم کرتی ہے اور انہیں دوسروں کے لئے نرم دل، مہربان اور ہمدرد بناتی ہے۔
خاندان کی بنیاد محبت، احترام اور اعتماد پر رکھی جاتی ہے۔ والدین کا رشتہ نہ صرف بچوں کے لئے ایک عملی نمونہ ہوتا ہے بلکہ ان کی شخصیت کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر گھر میں ماں باپ ایک دوسرے کا احترام کریں تو بچے بھی ادب اور تہذیب سیکھتے ہیں۔ لیکن جب ماں اولاد کے سامنے باپ کی بےعزتی کرتی ہے، تو یہ صرف ایک انسان کی تذلیل نہیں بلکہ ایک نسل کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔
باپ وہ ہستی ہے جو خاموشی سے اپنی اولاد کے لئے قربانیاں دیتا ہے، دن رات محنت کرکے ان کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتا ہے۔ وہ اکثر اپنی خواہشات کو قربان کر دیتا ہے تاکہ بچوں کو کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو۔ اگر ایسی محنت اور خلوص کو بچے تباہ کن الفاظ میں بے توقیر ہوتا دیکھیں، تو ان کے دل سے نہ صرف باپ کا احترام نکل جاتا ہے، بلکہ وہ زندگی میں رشتوں کی قدر کرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔
اولاد کے سامنے باپ کی بےعزتی کرنا دراصل ان کے ذہن و دل میں نفرت، الجھن اور بےاعتمادی پیدا کرتا ہے۔ بچے سیکھتے ہیں کہ اختلافات کا حل جھگڑے، طعنوں یا تضحیک میں ہے، اور پھر یہی رویہ وہ معاشرے میں، اسکول میں یا اپنے مستقبل کے رشتوں میں دہراتے ہیں۔
یاد رکھیں، آپس میں اختلافات فطری بات ہے، لیکن ان کا اظہار تہذیب اور تنہائی ہونا چاہیئے ۔ بچوں کے سامنے نرم لہجہ، باہمی عزت اور اتفاق دکھانا انہیں مثبت رویوں کا عادی بناتا ہے۔ اگر ماں باپ ایک دوسرے کا احترام کریں، تو بچے بھی سیکھتے ہیں کہ ہر رشتہ عزت چاہتا ہے، ہر رشتہ سمجھوتے سے چلتا ہے۔
ہمارے لئے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ماں باپ دونوں ایک ہی ٹیم کے کھلاڑی ہیں۔ ان میں سے ایک کی تضحیک صرف اس ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے خاندانی نظام کی کمزوری بن جاتی ہے۔ باپ کی قدر کیجئے، اس کی موجودگی کو سراہیں، اور اپنی اولاد کو سکھائیں کہ احترام وہ روشنی ہے جو زندگی کے ہر اندھیرے کو روشن کر سکتی ہے۔
جس بچے کو سوال کرنے پر سزا ملی ہو، وہ جواب دینے سے بھی ڈرنے لگتا ہے
– تربیت کا مقصد صرف اطاعت نہیں، شعور پیدا کرنا ہے۔
والدین کا اپنے بچوں کو عبادات اور دینی شعور کی طرف مائل کرنا بہت اہم ہے جو محبت، سمجھداری اور صبر سے طے پاتا ہے۔ دین کو سختی سے نہیں، نرمی اور حکمت سے بچوں کے دلوں میں اتارا جا سکتا ہے۔ بچے فطرتاً نیکی کی طرف مائل ہوتے ہیں، مگر ماحول اور رویئے ان کی سمت کو طے کرتے ہیں۔ اگر گھر میں نماز کو ایک خوبصورت عمل کی طرح پیش کیا جائے، قرآن کی تلاوت کو ایک سکون بھرا لمحہ بنایا جائے، اور اسلامی اخلاق کو عملی طور پر کر کے دکھایا جائے تو بچے لاشعوری طور پر دین کو اپنا لیتے ہیں۔
بچوں کے سامنے دین کو صرف فرض یا بوجھ کے طور پر پیش کرنا انہیں اس سے دور کر سکتا ہے۔ ان کے سوالات کو دبانے کی بجائے، ان کی بات سننا، ان کی سطح پر اتر کر دین کو آسان اور دلچسپ انداز میں سمجھانا بہت ضروری ہے۔ اسلامی کہانیاں، قصص الانبیاء عملی مثالیں، محبت بھرے رویئے اور دعاؤں کے ذریعے اللہ سے تعلق پیدا کرنا بچوں کے دل میں ایمان کی روشنی جگاتا ہے۔ بچوں کے لئے گھر کا ماحول ایسا ہونا چاہیئے جہاں وہ دین سے محبت محسوس کریں، نہ کہ خوف یا بیزاری۔ ان کے چھوٹے چھوٹے دینی عمل کو سراہنا اور حوصلہ افزائی کرنا ان کے اعتماد کو بڑھاتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود عبادات میں دلچسپی لیں، روز مرہ باتوں میں اللہ اور رسول ﷺ کا ذکر کریں، شکرگزاری، صبر، سچائی اور عدل جیسے اسلامی اصولوں کو اپنی زندگی میں اپنائیں تو بچے خودبخود ان صفات کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ دینی تربیت دینے میں وقت لگتا ہے، لیکن یہ وہ بیج ہے جو محبت سے بویا جائے تو زندگی بھر پھل دیتا ہے۔ جب بچے دیکھتے ہیں کہ دین صرف مسجد یا مدرسے تک محدود نہیں بلکہ زندگی کا ہر پہلو ہے، تو ان کے اندر ایک فطری کشش پیدا ہوتی ہے۔ یہی کشش ان کے دلوں میں اللہ کی محبت اور بندگی کی بنیاد رکھتی ہے، جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Lakki Marwat
Opening Hours
| Monday | 07:30 - 12:35 |
| Tuesday | 07:30 - 12:35 |
| Wednesday | 07:30 - 12:35 |
| Thursday | 07:30 - 12:35 |
| Friday | 07:30 - 11:00 |
| Saturday | 07:30 - 12:35 |