25/03/2025
جس دیش کے ماٶں ,بهنوں کو اگیار اٹها کر لے جاٸیں💔✌️
فیض احمد فیض۔
کراچی پریس کلب کو زرداری لیگ ,فیڈرل هوم منسٹر محسن نقوی اور پراونشل منسٹر ,ضیاء لنجار صاحب نے اپنے آقاٸوں کے احکام پر ماضی کے تسلسل کو بحال رکهتے هعۓ اور مارشل عکاسی کا مظاهره کرتے هوۓ مظلوم اقوام کے لیۓ شمشان گھاٹ اور مقتل گاه بنا کے رکها هے ,جب بھی کوٸی مظلوم اپنے درد کو کم کرنے اور اپنے آواز کو بلند کرنے وهاں جاتا هے,تو ریاستی بربریت اس پر قهر نازل کرتی هے ,خواتينوں,بزرگوں اور بچوں کی عزت اور آبرو کا جنازه نکالا جاتا هے ,نتیجے میں ان کا درد بڑه اور آواز دبایا جاتا هے,مقتدر حلقوں کو اس بات کی وضاحت کرنی پڑے گی اگر آپ فیڈریشن ایسے چلانا چاهتے هو تو پرامن احتجاج ,پریس کلب اور مواصلاتی نظام ختم کرو,کے مظلوم کبھی بهی اپنا آواز بننے کے لیۓ آپ کے انصاف اور عدالت کے منتظر نهیں رهے گیں۔
هم پهر بهی کهتے هیں کے اپنے عدالتوں,سیاست ,وفاقیت اور ریاست کو عزت دو,آج آپ کا ملک اسی وجه سے دنیا میں ننگا هو چکا هے,کے ملکی آٸین اور قانون صرف کاغذ کا تکڑا بن چکا هے ,خود آپ هی اپنے کانسٹیٹیوشن سے لاتعلق هو چکے هو,ظاهری بات هے کے همیشه پرامن مظاهرین کے آواز سننے اور ان کے مساٸل حل کرنے کے بجاۓ آپ ان پر جبر اور بربریت کا جدید اور طاقتور طریقا استعمال کرتے هو نتیجے میں BLA اور SRA جيسے خونخوار آرمیز جنم لیتیں هیں,یے تنظیمیں آپ کے قهر اور جبر کی وجه سے بنیں هیں نه کے ان کی ذاتی مفادات اور شوق سے,اور یے دنیا کا دستور بهی هے کے تشدد همیشه جوابی تشدد کو جنم دیتا هے ۔اب چاروں صوبوں میں آگ جل رهی هے,لوگ آپ سے اپنے جینا کا حق مانگ رهیں هیں,اگر آپنے ابهی بهی قبلا درست نهیں کیا تو اس ملک کو چاروں حصوں میں تقسیم هونے سے دنیا کی کوٸی بهی طاقت نهیں روک پاٸیگی۔
اب سنده ,بلوچستان اور کی پی کی کے اقوام کے وساٸل ,کلچر,تهذیب و تمدن,سیاسی,سماجی اور مذهبی روایات,قومی تشخص ,برابری,صوباٸی خودمختیاری,اظهار آزادی,زبان اور سرحدیں آپ نے ان سے چهینلیے هیں, جو فیڈرلزم اور ملیٹرنٹ انٹریسٹ کے زیر قبض هیں ۔اب صرف جسم رها هے وه بھی آب کے اصلحوں اور ڈنڈوں کے جبر کے ساۓ میں هے ,همارے صبر اور بردبارے کو سلام کرو کے اتنے هوتے هوۓ پهر بهی هم آپ کے جهنڈے کے سایے تلے ایک اور ساتھ هیں اگر آپ اس عمل کے مینٹیننسی چاهتے هیں تو هم کو اس ملک میں قومیں کے حقوق کا احترام کرتے هوۓ ,همیں مکمل آزادی دو ,صوباٸی حقوق میں مداخلت مت کرو ,هم وفاق سے کچھ نهیں مانگتے اور وفاق کو بهی اپنے حدود میں ,رهتے پراونشل انٹریسٹ میں کوٸی توقع مت رکهنی چاهیۓ پهر هم کبهی بهی اس عمل کے بهاٸیوار نهیں هونگے جو ملک کے خلاف هو۔
:کل کراچی پریس کلب کے آگے ماهرنگ بلوچ کی رهاٸی کے لیے بلوچ یکجهتی کامیٹی کا پرامن احتجاج تها,اسلامی جمهوریه پاکستان میں رمضان کے بابرکت مهینے کے دوران افطاری کے وقت روزیدار بلوچ یکجھتی کامیٹی کے سربراهان اور اراکین پر ریاست نے اپنے طاقت اور قوت کا مظاهرا کرتے هے,ان پر لاٹهی چارج کی ,ماٶں ,بهنوں اور بزرگوں کو گسیٹا گیا,ان پر تشدد کرتے هوے ان کے کپڑے پهاڑے گۓ,سروں سے دوپٹے کهینچے گٸے پهر ان کو زخمی اور بے حال حالت میں گرفتار کیا گیا ,هم اس عمل کی مذمت جتنی بھی کریں کم هے,اور ان کے رهاٸی کے لیۓ فلفور مانگزده هیں۔