26/02/2025
Quran Teacher
It all for Muslim information
26/02/2025
پہلی بار، اہل غزہ کے بغیر حج
مظلومان القدس کی ایک درد ناک داستان
ضیاء چترالی
دنیا کے کونے کونے سے خانہ خدا کے پروانے اور دیار حبیبؐ کے دیوانے حجاز مقدس پہنچ چکے ہیں۔ عرفہ کے میدان میں کھڑے زائرین آج حج کا رکن اعظم ادا کررہے ہیں۔ جن میں کالے گورے، مشرقی مغربی، عربی عجمی غرض ہر رنگ و نسل کے عازمین حج موجود ہیں، اگر اس بار کسی خطے کی حاضری نہیں ہے تو وہ غزہ ہے۔ ڈھائی ملین سے زاید حجاج میں نگاہیں غزہ والوں کو ڈھونڈ رہی ہیں۔ مگر کوئی غزی نظر نہیں آتا۔ واضح رہے کہ گزشتہ 14 سو برس کی اسلامی تاریخ میں سال 1433ھ (2012ء) حجاج کی زیادہ تعداد کے حوالے سے ریکارڈ ساز رہا ہے۔ اس سال 32 لاکھ سے زاید رجسٹرڈ عازمین نے حج ادا کیا تھا۔ سعودی ریاست کے بانی ملک عبد العزیز کے دور میں (1372ھ) میں حجاج کی تعداد صرف ڈھائی لاکھ تک محدود ہوتی تھی۔ پھر 55 برس قبل یعنی 1390ھ میں تاریخ میں پہلی بار یہ تعداد ایک ملین تک پہنچ چکی۔ پھر اس میں نہایت تیز رفتاری سے اضافہ ہوتا رہا اور اگلے صرف 9 سال بعد یعنی 1399ھ میں حجاج کرام کی تعداد دو ملین ہوگئی۔ ہر سال حج میں اہل غزہ کی بھرپور حاضری ہوتی رہی ہے۔ مگر اس سال غزہ سے اپنے طور پر کوئی ایک فرد بھی حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے حجاز مقدس کا سفر نہ کرسکا۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق حج کا موسم آتے ہی غزہ کی پٹی میں فلسطینی مسلمانوں کے دکھ اور بھی بڑھ گئے کیونکہ غزہ کے مسلمان اسرائیلی ریاست کی طرف سے مسلط کی گئی ننگی جارحیت کی وجہ سے فریضہ حج کی ادائی سے محروم ہیں۔ ان کی زبانوں پر ’’لبیک انا مظلومون، لبیک انا مقہورون اور لبیک انا متعبون‘‘ جیسے الفاظ ہیں۔ غزہ کے مسلمان اس سال حج اس لیے نہیں کرسکتے کہ ان پر اسرائیلی دشمن کی طرف سے نسل کشی کی جنگ مسلط ہے اور غزہ کی تمام راہ داریوں پر دشمن کا قبضہ ہے۔ اہل غزہ چاروں طرف سے محصور آگ کی اس بھٹی سے باہر نہیں نکل سکتے۔ 9 مہینے قبل اسرائیل نے ایک تباہ کن جنگ اور نسل کشی کی مہم شروع کی، جسے پوری دنیا نے براہ راست دیکھا، جس کے نتیجے میں سوا لاکھ سے زیادہ فلسطینی شہید، زخمی اور لاپتا ہو چکے ہیں۔ غزہ کی پٹی کا پورا علاقہ ملبے کے کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
زندگی بھر کا سفر:
باسٹھ سالہ ام طارق ابو العطاء اور ان کے شوہر اس سال حج کرنے والے تھے، لیکن نسل کشی کی جنگ ان کے اور خدا کے گھر کے درمیان رکاوٹ بن گئی۔ حاجہ ام طارق نے آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے ہمیشہ خدا کے گھر کی زیارت کا خواب دیکھا ہے۔ میں اس لمحے تک دن گن رہی تھی، لیکن مجرم دشمن کی طرف سےشروع کی گئی جنگ ایک رکاوٹ بن گئی اور اس نے ہمیں عمر بھر کے سفر سے محروم کردیا۔ مرکز اطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قابض دشمن نے انہیں نہ صرف خدا کے مقدس گھر جانے سے منع کیا بلکہ اسے اپنے بڑے بیٹے طارق کے خاندان سے ملنے سے بھی محروم کردیا جو یکم مارچ کو اپنی بیوی اور بچوں سمیت اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں جام شہادت نوش کر گیا۔
مایوسی کی تلخی:
"محمود السبوع" کے لکھے ہوئے درد بھرے الفاظ ان کے اندر ایک گہرے زخم کی عکاسی کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ "خدا کے گھر کے حجاج کے قافلے تو نہیں چلتے، البتہ ہم آئے روز اپنے بھائی، بہنوں، بزرگوں اور بچوں کی سفید کفنوں میں لاشوں کے قافلے دفن کرتے ہیں۔ ہم سفید احرام تو نہیں پہن سکتے، مگر ہمارے لوگ روزانہ کی بنیاد پر سفید کفنوں میں دفنائے جاتے ہیں۔ ہم ان کو حج مبارک نہیں کہہ سکتے، مگر انہیں شہادت کی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ مسلمان تلبیہ پڑھتے ہوئے خانہ خدا کا حج کریں گے اور شہدائے غزہ کی روحیں مایوسی کی تلخی کی شکایت کرتے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف کریں گی‘‘۔
اس بار پہلی دفعہ دنیا بھر سے آئے ضیوف الرحمان غزہ کی پٹی کے اپنے مظلوم بھائی بہنوں کے بغیر میدان عرفات میں کھڑے ہوں گے۔ محمود الغزاوی نے اپنے درد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’فلسطینی پہلی بار غزہ کے حاجیوں کے بغیر مکہ آ رہے ہیں‘‘۔ غزہ کے لوگوں کو حج سے محروم کرنے سے عمر ابو العبد کو بھی سخت تکلیف پہنچی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ غزہ کے باشندوں نے گزشتہ سال حج کے لیے سفر کیا تھا اور اس سال جارحیت کی وجہ سے اس سے محروم ہو گئے ہیں۔ لیکن عمر نے ایک پوسٹ میں اپنے آپ کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ "یہ سچ ہے کہ ہمارے دل ٹوٹ چکے ہیں۔ ہماری روحیں پیاسی ہیں۔ انہیں کعبہ کو دیکھنے اور اس کے سامنے ایک طویل سجدہ کرنے کے علاوہ کوئی چیز مجبور نہیں کرتی۔ لیکن ہماری تسلی یہ ہے کہ ہم جس صبر اور مصیبت میں ہیں۔ یہ سب سے زیادہ ثواب والی عبادتوں میں سے ایک ہے"۔ انہیں امید ہے کہ خدا غزہ والوں کو حج اور عمرہ کرنے کا اجر عطا فرمائے گا۔ غزہ کے مظلوموں کو امید ہے کہ فلسطینی کاز اور نصب العین دنیا کے کونے کونے سے جمع ہونے والے زائرین کے ذہنوں میں موجود ہوگا۔ ایک شاندار منظر میں جو قوم کے اتحاد کی نمائندگی کرتا ہے، لیکن غزہ کے لوگوں کو فریضہ حج سے زبردستی غائب کیا گیا۔ وہ اپنی سرزمین پر ثابت قدمی اور استقامت کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ حجاج انہیں دعائوں میں نہیں بھولیں گے۔
قربانی کی یادیں:
اس سال کی محرومی صرف غزہ کی پٹی کے لوگوں کے لیے حج کی ادائی تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ اسرائیلی قابض افواج نے قربانی کے جانوروں کو محصور پٹی میں داخل کرنے سے روک دیا ہے۔ اس طرح اہل غزہ عید الاضحی پر قربانی کی سنت ادا کرنے سے بھی محروم ہیں۔ ام انس نے فیس بک کے ذریعے حجاج کرام کو پیغام بھیجا کہ "کعبہ میں حاضری کا شرف حاصل کرنے والے ہماری طرف سے اسے سلام پیش کریں۔ پھر ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیؐ کے روضہ اطہر پر جائیں تو بہترین دعائیں اور سلام پیش کریں، رسول ہاشمیؐ کو بتائیں کہ ہاشم کا غزہ فنا ہوگیا، سوڈان فنا ہو چکا، حکمران ظالم ہیں، غزہ کے عوام ثابت قدم ہیں، فلسطین کے لوگ اپنے عہد کے پابند ہیں اور ان کا خون مسجد اقصیٰ کی حمایت میں بہہ رہا ہے‘‘۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ "حجاج کرام! جب آپ نبی کریمؐ کے روضے پر جائیں تو غزہ میں ہماری بہنوں کے رونے اور ہمارے بچوں کی بھوک اور شہادت کی خبر دینا"۔ ایک اپیل میں "محمد عبد اللہ" حجاج کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "غزہ کے عازمین اس سال حج کے موسم سے محروم ہیں۔ اے دنیا کے عازمین! فلسطینیوں کی فتح اور نصرت کے لیے ضرور دعائیں کرنا۔ ان کی ثابت قدمی کے لیے رب سے دعا کرنا اور ان کی مشکلات کم کرنے کے لیے مالک الملک سے ضرور دعا کرنا‘‘۔ اسی طرح نعیم ابو زید نے حجاج کرام سے کہا کہ "اہل غزہ کا سلام کعبہ تک پہنچائیں، کیونکہ خدا کی قسم! وہ صرف اس لیے نہیں آسکے کہ انہیں ذبح کیا جا رہا ہے"۔ اہل غزہ کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے علاوہ اسلام کے پانچویں رکن کو ادا کرنے اور عرفات کی پاکیزہ زمین پر کھڑے ہونے سے محروم رکھا گیا۔ ان کا دن رات خون بہایا جاتا ہے اور قتل عام کیا جاتا ہے۔
03/12/2023
صل الله عليه وسلم ۔۔
03/12/2023
I have reached 5.5K followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Lahore
16/02/2024