Seerat-un-Nabi ﷺ

Seerat-un-Nabi ﷺ

Share

سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ
ایک سادہ سی کوشش
قرآن و سنت کی روشنی میں
نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ

17/02/2026

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد مسلمانوں کو ایک ظاہری قوت ضرور حاصل ہو گئی تھی، مگر اس سے قریش کی دشمنی کم نہیں ہوئی بلکہ اور بڑھ گئی۔ انہیں محسوس ہونے لگا کہ اگر اس دعوت کو ابھی نہ روکا گیا تو یہ ان کے پورے معاشرے پر غالب آ جائے گی۔ اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب صرف انفرادی ظلم کافی نہیں، بلکہ ایک اجتماعی دباؤ ڈالا جائے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی جھکنے پر مجبور ہو جائیں۔
چنانچہ قریش کے سرداروں نے آپس میں مشورہ کر کے ایک ظالمانہ معاہدہ تیار کیا۔ اس معاہدے میں طے کیا گیا کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب کے ساتھ مکمل سماجی اور معاشی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ نہ ان سے کوئی خرید و فروخت کرے گا، نہ ان سے نکاح کرے گا، نہ ان سے میل جول رکھے گا، نہ انہیں کوئی مدد دی جائے گی۔ یہ تحریری معاہدہ لکھ کر کعبہ کے اندر لٹکا دیا گیا تاکہ سب لوگ اس پر قائم رہیں۔
اس فیصلے کا مقصد صرف یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا کر دیا جائے اور آپ کے خاندان کو اس قدر تکلیف دی جائے کہ وہ خود آپ کو دعوت چھوڑنے پر مجبور کر دیں۔ چنانچہ بنو ہاشم اور بنو مطلب، چاہے مسلمان تھے یا نہیں، سب نے قبائلی غیرت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور ایک گھاٹی میں محصور ہو گئے۔ یہ جگہ شعب ابی طالب کے نام سے معروف ہوئی۔
یہ محاصرہ چند دنوں کا نہیں بلکہ کئی سال جاری رہا۔ اس دوران کھانے پینے کی اشیاء تک پہنچنا مشکل ہو گیا۔ فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ بچوں کے رونے کی آوازیں گھاٹی سے باہر تک سنائی دیتیں۔ درختوں کے پتے کھا کر گزارا کیا جاتا۔ کبھی کبھار کوئی نرم دل شخص چھپ کر کچھ سامان پہنچا دیتا تو وہی سب کے لیے غنیمت ہوتا۔ مگر اس شدید تنگی کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی ثابت قدم رہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پورے عرصے میں نہایت صبر کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ نہ آپ ﷺ نے بددعا کی، نہ انتقام کی بات کی۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ یہ سب آزمائش ہے اور آزمائش کے بعد آسانی آتی ہے۔ صحابہ بھی اسی یقین کے ساتھ تکلیف برداشت کرتے رہے۔ ان کے چہروں پر بھوک کے آثار ہوتے، مگر دل مطمئن ہوتے۔
ادھر مکہ کے اندر بھی کچھ ایسے لوگ تھے جو اس ظلم پر دل ہی دل میں شرمندہ تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ زیادتی ہے، مگر قبائلی دباؤ کے باعث کھل کر مخالفت نہیں کر سکتے تھے۔ وقت گزرتا گیا اور آخرکار چند بااثر افراد نے طے کیا کہ اس معاہدے کو ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے آپس میں بات کی، اتفاق کیا، اور پھر کعبہ میں جا کر اعلان کیا کہ یہ ظالمانہ تحریر ختم کی جائے۔
جب معاہدہ کھولا گیا تو دیکھا گیا کہ دیمک اس کاغذ کو کھا چکی ہے اور صرف اللہ کا نام باقی رہ گیا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔ یوں یہ بائیکاٹ ختم ہوا اور بنو ہاشم گھاٹی سے باہر آ گئے۔ مگر یہ چند سال مسلمانوں کے لیے سخت ترین آزمائش کا زمانہ ثابت ہوئے تھے۔
یہ آزمائش ختم ہوئی تو فوراً راحت نہ آئی، بلکہ آزمائشوں کا ایک اور باب کھلنے والا تھا۔ جلد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو ایسے صدمات پہنچنے والے تھے جو انسانی اعتبار سے بہت بڑے تھے۔ مگر یہ سب اللہ کی حکمت کے تحت ہو رہا تھا، کیونکہ جس مشن کو آپ ﷺ نے پورا کرنا تھا، اس کے لیے ہر مرحلہ ایک تیاری تھا۔
یہ زمانہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حق کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ سچ بولنے والوں کو آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے، مگر اگر یقین مضبوط ہو تو مشکل سے مشکل مرحلہ بھی گزر جاتا ہے۔ شعب ابی طالب کی گھاٹی میں فاقوں اور تکلیفوں کے باوجود ایمان کی شمع بجھ نہ سکی، بلکہ اور روشن ہو گئی۔
درود شریف کے بارے میں سوال:
کیا آج ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درودِ پاک پڑھ کر ان صبر آزما دنوں کو یاد کیا جب آپ اور آپ کے ساتھیوں نے بھوک اور تنگی برداشت کر کے بھی حق کا راستہ نہ چھوڑا؟





12/02/2026

قسط نمبر 13
مکہ کی گلیاں اب پہلے جیسی نہ رہی تھیں۔ بظاہر بازار ویسے ہی لگتے، قافلے ویسے ہی آتے جاتے، مگر دلوں کے اندر ایک کشمکش شدت اختیار کر چکی تھی۔ اسلام کا پیغام دبانے کی ہر کوشش کے باوجود پھیل رہا تھا، اور قریش کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ طنز اور مذاق کا مرحلہ گزر چکا تھا، اب ظلم کھل کر سامنے آ رہا تھا۔
سب سے زیادہ نشانہ وہ لوگ بنے جو کمزور تھے، جن کا کوئی قبیلہ مضبوط نہ تھا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو تپتی ریت پر لٹا دیا جاتا، سینے پر بھاری پتھر رکھا جاتا، اور کہا جاتا کہ اپنے رب کا انکار کرو۔ مگر ان کے لبوں سے صرف ایک ہی صدا نکلتی: احد، احد۔ ایک، ایک۔ یہ صدا مکہ کی فضاؤں میں گونجتی اور ظلم کے ایوانوں کو چیرتی ہوئی آسمان تک پہنچتی۔
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ، ان کے والد یاسر رضی اللہ عنہ اور والدہ سمیہ رضی اللہ عنہا کو بھی سخت اذیتیں دی گئیں۔ سمیہ رضی اللہ عنہا وہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے اسلام کے لیے جان قربان کی۔ نیزہ ان کے جسم کو چیر گیا، مگر ایمان نہ ٹوٹا۔ یوں اسلام کو پہلی شہیدہ مل گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب دیکھتے تو دل خون کے آنسو روتا، مگر زبان سے یہی فرماتے: صبر کرو، اے یاسر کے گھر والو، تمہارا وعدہ جنت ہے۔
یہ جملہ محض تسلی نہ تھا، بلکہ مستقبل کی بشارت تھا۔ دنیا کی تکلیف عارضی تھی، مگر آخرت کی کامیابی دائمی تھی۔
ادھر قریش کے سردار جمع ہو کر نئی نئی تدبیریں سوچتے۔ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنے کی مہم چلائی جاتی، کبھی قرآن کو جادو کہا جاتا، کبھی لوگوں کو ڈرایا جاتا کہ یہ شخص تمہارے باپ دادا کے دین کو بدل دے گا۔ مگر قرآن کی آیات جب سنائی جاتیں تو دلوں میں اتر جاتیں۔ جو انصاف پسند تھے، وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے۔
انہی دنوں ایک بڑا واقعہ پیش آیا۔ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ، جو قریش کے بہادر اور بااثر افراد میں شمار ہوتے تھے، اسلام لے آئے۔ ہوا یوں کہ ابو جہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت الفاظ کہے اور تکلیف پہنچائی۔ جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو ان کے اندر غیرت جاگ اٹھی۔ وہ سیدھے ابو جہل کے پاس گئے اور اس کے سر پر کمان دے ماری، پھر اعلان کیا کہ میں بھی محمد کے دین پر ہوں، اگر ہمت ہے تو مجھ سے مقابلہ کرو۔
یہ اعلان معمولی نہ تھا۔ قریش کے لیے یہ ایک دھچکا تھا۔ اب اسلام صرف کمزوروں کا سہارا نہ رہا تھا، بلکہ طاقتور لوگ بھی اس میں شامل ہونے لگے تھے۔
چند ہی عرصے بعد ایک اور ہلچل مچی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، جو اسلام کے سخت مخالف تھے، ایک دن تلوار لے کر نکلے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں۔ مگر راستے میں انہیں معلوم ہوا کہ ان کی اپنی بہن اور بہنوئی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ غصے میں وہ ان کے گھر پہنچے، مگر جب قرآن کی آیات سنیں تو دل بدل گیا۔ وہی تلوار جو قتل کے ارادے سے نکلی تھی، اب حق کے دفاع کے لیے اٹھنے والی تھی۔ وہ سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور اسلام قبول کر لیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا اسلام کے لیے ایک نئی طاقت بن گیا۔ اب مسلمان پہلی بار اعلانیہ طور پر کعبہ میں نماز پڑھنے نکلے۔ قریش نے دیکھا کہ یہ جماعت دبنے والی نہیں۔
مگر اس سب کے باوجود ظلم رکا نہیں۔ مخالفت بڑھتی جا رہی تھی۔ قریش سمجھ چکے تھے کہ یہ تحریک وقتی نہیں، بلکہ جڑ پکڑ چکی ہے۔ وہ کسی بڑے اقدام کی تیاری میں تھے۔
یہ وہ مرحلہ تھا جہاں ایمان اور آزمائش ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ کچھ لوگ ظلم کے نیچے دبے ہوئے تھے، کچھ نئے حوصلے کے ساتھ شامل ہو رہے تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں ثابت قدم تھے۔ نہ غصہ، نہ بدلہ، نہ مایوسی—صرف صبر، حکمت اور اللہ پر کامل بھروسا۔
مکہ کی سرزمین گواہ تھی کہ ایک چھوٹی سی جماعت، جو کل تک کمزور سمجھی جاتی تھی، اب تاریخ کا دھارا موڑنے کی تیاری کر رہی تھی۔
درود شریف کے بارے میں سوال:
کیا آج ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درودِ پاک پڑھ کر ان عظیم صحابہ کو یاد کیا جنہوں نے ایمان کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا؟





07/02/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Madina Marriage Bureau Lahore, Kamran Khan, M Sami Ahmad, Fazal Kskar Fazal Kakar, Hamza Khan, Bakhtobar Shah, Ghufran Yousazai, Fazal Safi, Ahsan Khan, Happy Gift Gifting, Kareem Shah, Ihsan Ullah, Abdulqader Abdulqader, Asad Ullah, Irfanullah Yosafzai, Abdullah Tunio, Humbrix Meta, Ahsan Shah, Ume Hani, Siraj Sirajulsaliheen, Shohag Hassan, HM Voice, Samina Waqas, Fozia Mushtaq Fozia Mushtaq, Atiqullah Muhammadi, Pari Zad, Rehaam Baig, Rimsha Ashhar, Mirha Bakers, Qalba Saleem, Firdous Ismail Nasir, Mano Rajput, Gamati Gamati, Aima Dil, S M Muzaffar Qureshi, Salma Arshad, Naina Naina, Sanjana Sanjai, Mishi Khan, Huda Noor, Shahbaz Khushi Muhammad, Adeeba Home Baker, Effah Yasir, Parveen Ishaq, Noreen Zia, Farahh Clive, Glam Hustle , Syed Ayesha Ali, Ziaullah Awan Seo, Ahmed Ali

06/02/2026

قسط نمبر 12
اعلانِ دعوت کے بعد مکہ کی فضا بدل چکی تھی۔ اب یہ بات صرف چند گھروں یا دارِ ارقم کی چار دیواری تک محدود نہ رہی تھی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام کھلے عام سنایا جا چکا تھا، اور قریش اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ یہ دعوت وقتی نہیں، نہ ہی کوئی ذاتی اختلاف ہے، بلکہ یہ ان کے پورے مذہبی، سماجی اور معاشی نظام کو چیلنج کر رہی ہے۔
ابتدا میں قریش نے اس دعوت کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ وہ سمجھتے تھے کہ شاید یہ چند دن کا جوش ہے، خود ہی ختم ہو جائے گا۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ روز بروز نئے لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں، خاص طور پر وہ نوجوان اور معزز خاندانوں کے افراد جن پر انہیں فخر تھا، تو ان کی تشویش بڑھنے لگی۔ اب طنز اور تمسخر کا دور شروع ہوا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں بھی جاتے، لوگ طرح طرح کے جملے کستے۔ کبھی آپ کو شاعر کہا جاتا، کبھی کاہن، کبھی جادوگر۔ مگر یہ الزامات خود ان کی بے بسی کا ثبوت تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ شاعر ہیں، نہ کاہن، نہ جھوٹے۔ مسئلہ صرف یہ تھا کہ سچ ان کے مفادات کے خلاف تھا۔
مسلمانوں پر دباؤ بڑھنے لگا۔ جو کمزور تھے، ان پر ظلم شروع ہو گیا۔ غلاموں اور بے سہارا لوگوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ انہیں دھوپ میں لٹایا جاتا، بھوکا رکھا جاتا، مارا پیٹا جاتا، مگر ان کے منہ سے ایک ہی آواز نکلتی: اللہ ایک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب دیکھتے تو دل دکھتا، مگر حکم یہی تھا کہ صبر کیا جائے۔ ابھی مقابلے کی اجازت نہیں تھی۔
ان حالات میں قریش نے ایک اور راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کر کے کوئی سمجھوتا کر لیا جائے۔ چنانچہ وہ مختلف وفود کی صورت میں آپ ﷺ کے پاس آئے۔ کسی نے مال کی پیشکش کی، کسی نے سرداری کی، کسی نے بادشاہت کی۔ کہا کہ اگر تم یہ دعوت چھوڑ دو تو ہم تمہیں مکہ کا سب سے بڑا سردار بنا دیں گے، تمہیں دولت کی کوئی کمی نہ ہوگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام پیشکشوں کو ایک ہی جواب دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند بھی رکھ دیں، تب بھی میں اس کام کو نہیں چھوڑوں گا جب تک اللہ اسے غالب نہ کر دے یا میں اسی راستے میں جان نہ دے دوں۔ یہ الفاظ محض جوش نہ تھے، یہ یقین کی آواز تھی۔
قریش کو اب سمجھ آ گئی کہ یہ دعوت رکنے والی نہیں۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ وہ جانتے تھے کہ ابو طالب کی حمایت کے بغیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچانا آسان نہیں۔ ابو طالب سے کہا گیا کہ یا تو اپنے بھتیجے کو روک لو، یا پھر ہماری دشمنی کے لیے تیار ہو جاؤ۔
ابو طالب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور ساری بات بتائی۔ یہ لمحہ نہایت نازک تھا۔ خاندان کا دباؤ، قبیلے کا خوف، اور دوسری طرف رب کا حکم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر لہجہ پختہ تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے میں چاند بھی رکھ دیں، تب بھی میں اس دعوت کو نہیں چھوڑوں گا۔ یہ سن کر ابو طالب نے بھی فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے بھتیجے کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔
یوں مکہ میں کشمکش مزید واضح ہو گئی۔ ایک طرف حق تھا، جس کے پاس نہ طاقت تھی نہ مال، مگر یقین بے مثال تھا۔ دوسری طرف باطل تھا، جس کے پاس قوت بھی تھی، دولت بھی، مگر دل خالی تھے۔ آنے والے دنوں میں یہ کشمکش اور سخت ہونے والی تھی، مگر اس مرحلے پر یہ بات طے ہو چکی تھی کہ اسلام کو دبایا نہیں جا سکے گا۔
یہ وہ وقت تھا جب ایمان صرف زبان کا اقرار نہیں رہا تھا، بلکہ ایک امتحان بن چکا تھا۔ جو اسلام قبول کرتا، وہ جانتا تھا کہ اب اسے تکلیف، تنہائی اور قربانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مگر اس کے باوجود لوگ آ رہے تھے، کیونکہ سچ کی روشنی اندھیروں سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔
درود شریف کے بارے میں سوال:
کیا آج ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درودِ پاک پڑھ کر ان مظلوم مگر ثابت قدم مسلمانوں کو یاد کیا جنہوں نے ایمان کی قیمت چکائی؟





04/02/2026

قسط نمبر 11
خاموشی کے دن پورے ہو چکے تھے۔ وہ بیج جو دلوں میں بویا
جا چکا تھا، اب زمین کے اوپر ظاہر ہونے کا وقت آ گیا تھا۔ وحی کا رخ بدل چکا تھا اور حکم آ چکا تھا کہ اب پیغام کو چھپایا نہ جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ یہ مرحلہ آسان نہ ہوگا، مگر حق کا اعلان اب ناگزیر تھا۔
ایک دن آپ ﷺ صفا پہاڑی پر تشریف لے گئے۔ مکہ کے لوگ جانتے تھے کہ صفا سے پکار لگائی جائے تو کوئی بڑا معاملہ ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بلند آواز سے قریش کے مختلف قبیلوں کو نام لے لے کر پکارا۔ لوگ جمع ہونے لگے۔ جو نہ آ سکے، انہوں نے کسی کو بھیج دیا کہ خبر لے آئے۔ جب مجمع اکٹھا ہو گیا تو آپ ﷺ نے وہ سوال کیا جو دلوں کو جھنجھوڑ دینے والا تھا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے، تو کیا تم میری بات مان لو گے؟
سب نے بیک زبان ہو کر کہا:
ہاں، ہم نے آپ کو کبھی جھوٹا نہیں پایا۔
یہی وہ لمحہ تھا جہاں سچائی کی گواہی خود دشمنوں کی زبان سے نکل گئی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک سخت عذاب سے خبردار کرنے آیا ہوں۔ اللہ ایک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی عبادت کرو اور اسی کے سامنے جواب دہ ہو۔
مجمع میں خاموشی چھا گئی۔ بات دلوں پر پڑ رہی تھی۔ مگر اسی خاموشی کو سب سے پہلے جس آواز نے توڑا، وہ ابو لہب کی تھی۔ اس نے تلخ لہجے میں کہا:
تبّاً لک، کیا تم نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا؟
یہ وہ لمحہ تھا جب مخالفت نے پہلی مرتبہ کھل کر سر اٹھایا۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ آیات نازل ہوئیں جن میں ابو لہب کی ہلاکت کا اعلان کر دیا گیا۔ یوں حق اور باطل کے درمیان لکیر کھینچ دی گئی۔
اس اعلان کے بعد مکہ میں بات پھیلنے لگی۔ وہ پیغام جو کل تک گھروں کے اندر تھا، اب گلیوں میں تھا۔ قریش کے سرداروں نے آپس میں مشورے شروع کر دیے۔ انہیں خطرہ محسوس ہونے لگا کہ یہ دعوت ان کے دین، ان کے اقتدار اور ان کی سرداری کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باوجود دعوت کا سلسلہ جاری رکھا۔ کبھی انفرادی ملاقات، کبھی چھوٹے حلقے، کبھی کھلے عام گفتگو۔ آپ ﷺ بتوں کی بے بسی بیان کرتے، اللہ کی قدرت یاد دلاتے، قیامت کے دن کی جواب دہی کا تصور سامنے رکھتے۔ کچھ دل نرم پڑنے لگے اور کچھ سخت تر ہو گئے۔
مسلمانوں کی تعداد ابھی کم تھی، مگر ان پر دباؤ بڑھنے لگا تھا۔ طنز، تمسخر، الزام تراشی—یہ سب شروع ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں کو صبر کی تلقین کرتے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ایمان کو آزمائش کے ترازو میں رکھا جا رہا تھا۔
یہ اعلان محض ایک تقریر نہ تھا، یہ مکہ کے نظام کو چیلنج تھا۔ قریش اب خاموش نہ رہنے والے تھے۔ آنے والے دنوں میں مخالفت کھل کر سامنے آنے والی تھی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عزم واضح تھا۔ آپ ﷺ پیچھے ہٹنے والے نہ تھے، کیونکہ یہ پیغام انسانوں کا نہیں، رب کا تھا۔
درود شریف کے بارے میں سوال:
کیا آج ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درودِ پاک پڑھ کر اس جرات مندانہ اعلانِ حق کو یاد کیا؟





02/02/2026

قسط نمبر 10
مکہ کی فضا بظاہر پرسکون تھی، مگر اس سکون کے نیچے ایک گہری ہلچل جنم لے چکی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی کے ساتھ دلوں کو بدل رہے تھے۔ نہ منبر تھا، نہ اعلان، نہ ہجوم—بس ایک سچا پیغام اور ایک سچا پیغام رساں۔ لوگ فرداً فرداً آتے، سنتے، سوچتے اور پھر فیصلہ کرتے۔ یہ فیصلہ آسان نہ تھا، کیونکہ اس کے بعد زندگی پہلے جیسی نہیں رہنی تھی۔
انہی دنوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دارِ ارقم کو دعوت اور تعلیم کا مرکز بنایا۔ یہ جگہ صفا پہاڑی کے قریب تھی، نگاہوں سے اوجھل، مگر ایمان کی روشنی سے بھرپور۔ یہاں آنے والے چہروں پر خوف بھی ہوتا تھا اور امید بھی۔ دروازہ بند ہوتا، مگر دل کھل جاتے۔ رسول اللہ ﷺ انہیں قرآن سناتے، اللہ کی وحدانیت سمجھاتے، پچھلی امتوں کے حالات بتاتے، جنت کی بشارت اور جہنم کی وعید سناتے۔ آیات اترتی تھیں اور سیدھا دلوں میں اتر جاتی تھیں۔
یہ وہ وقت تھا جب ایمان صرف زبان کا اقرار نہ تھا بلکہ ایک مکمل تبدیلی کا اعلان تھا۔ جو ایمان لاتا، وہ جانتا تھا کہ اسے قریش کی مخالفت، خاندان کی ناراضی اور سماجی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مگر اس کے باوجود دل کھنچے چلے آتے تھے۔ سچ کی کشش ایسی تھی کہ روکنا ممکن نہ تھا۔
مکہ کے سردار اس خاموش تحریک سے ابھی پوری طرح واقف نہ تھے، مگر انہیں یہ ضرور محسوس ہونے لگا تھا کہ کچھ بدل رہا ہے۔ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو برسوں سے جانتے تھے۔ سچ بولنے والا، امانت دار، جھگڑوں میں منصف—اب وہی شخص ان کے معبودوں کو باطل قرار دے رہا تھا۔ یہ بات ان کے غرور کو چبھنے لگی۔
دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو صبر، برداشت اور حکمت کی تعلیم دے رہے تھے۔ ابھی ٹکراؤ کا وقت نہ تھا۔ ابھی دل مضبوط کرنے کا مرحلہ تھا۔ ایمان کو اتنا گہرا کرنا تھا کہ آنے والے طوفان اسے اکھاڑ نہ سکیں۔ اسی لیے تعلیم مسلسل تھی، ملاقاتیں باقاعدہ تھیں، اور جماعت آہستہ آہستہ منظم ہو رہی تھی۔
انہی دنوں قرآن کی آیات مسلمانوں کے دلوں کو دنیا کی حقیقت سمجھا رہی تھیں۔ مال، منصب اور طاقت کی حقیقت کھول کر بیان کی جا رہی تھی۔ انسان کو اس کے انجام سے آگاہ کیا جا رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ خود بھی ان آیات کے پہلے مخاطب تھے اور پہلے عامل بھی۔ جو بات کہتے، سب سے پہلے خود اس پر عمل کرتے۔
یہ وہ مرحلہ تھا جہاں تعداد کم تھی، مگر یقین بے پناہ تھا۔ نہ تلوار تھی، نہ قوت، مگر ایمان ایسا تھا جو آنے والے وقت میں بڑے بڑے تخت ہلا دینے والا تھا۔ مکہ کی گلیاں ابھی اسی طرح آباد تھیں، مگر تاریخ کا رخ خاموشی سے موڑ دیا گیا تھا۔
یہ خاموش دعوت زیادہ دن خاموش نہ رہنے والی تھی۔ قریش کے کانوں تک بات پہنچنے والی تھی، سوال اٹھنے والے تھے، اعتراض آنے والے تھے۔ مگر اس وقت دارِ ارقم کی چار دیواری کے اندر جو چراغ جل چکے تھے، انہیں کوئی ہوا بجھا نہ سکتی تھی۔
درود شریف کے بارے میں سوال:
کیا آج ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درودِ پاک پڑھ کر ان ابتدائی دنوں کی خاموش قربانیوں کو یاد کیا؟





31/01/2026

قسط نمبر 9
اب وحی رکنے والی نہ تھی۔ آسمان کا دروازہ کھل چکا تھا اور
زمین پر ایک ایسی ذمہ داری رکھ دی گئی تھی جس کا بوجھ پہاڑ بھی نہ اٹھا سکیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جان چکے تھے کہ اب زندگی پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ خلوت کے دن ختم ہو چکے تھے، مگر ابتدا ابھی بھی خاموشی کے ساتھ ہونی تھی۔
سب سے پہلے جس دائرے کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا وہ آپ ﷺ کا اپنا گھر تھا۔ سب سے پہلا ایمان لانے والا دل وہی تھا جو برسوں سے آپ کے ساتھ وفا میں کھڑا تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ایک لمحے کے توقف کے بغیر تصدیق کی۔ نہ سوال، نہ تردد، نہ دلیل کی طلب۔ یہ وہ یقین تھا جو برسوں کے کردار، سچائی اور امانت کا نتیجہ تھا۔ یوں ایک عورت تاریخِ اسلام کی سب سے پہلی مؤمنہ بن گئی۔
پھر وہ گھر تھا جہاں خاموشی میں حق کے چراغ جلنے لگے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کم عمری کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے۔ انہوں نے جو سنا، اس پر دل نے گواہی دی اور وہ ایمان لے آئے۔ اسی طرح حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، جنہیں رسول اللہ ﷺ بیٹے کی طرح چاہتے تھے، بلا جھجک اس راستے پر آ گئے۔
لیکن ان سب کے بعد ایک نام ایسا تھا جس کا اسلام قبول کرنا مستقبل کے لیے ایک مضبوط ستون بننے والا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی دوست تھے، مزاج میں نرمی، عقل میں پختگی اور معاشرے میں اعتبار رکھتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں اللہ کے پیغام کی خبر دی تو انہوں نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا۔ نہ سوال کیا، نہ شک کیا۔ فوراً ایمان لے آئے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ صدیق کہلائے۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا محض ایک فرد کا ایمان لانا نہ تھا۔ وہ جہاں جاتے، اعتماد ساتھ لے جاتے تھے۔ ان کی زبان سے نکلا ہوا پیغام دلوں پر اثر کرتا تھا۔ انہی کی دعوت پر چند ہی دنوں میں وہ لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے جو بعد میں ستونِ اسلام بنے۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ۔ یہ سب وہ نام تھے جنہوں نے آنے والے طوفانوں میں دین کو تھامے رکھا۔
یہ سب کچھ مکہ کی گلیوں میں اعلانیہ نہ تھا۔ یہ ایک خاموش انقلاب تھا جو دلوں میں اتر رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو تنہائی میں بلاتے، بات کرتے، اللہ کی وحدانیت سمجھاتے، جنت و جہنم کی حقیقت بتاتے۔ کوئی شور نہ تھا، کوئی اعلان نہ تھا، مگر حق آہستہ آہستہ اپنے لیے جگہ بنا رہا تھا۔
مکہ کی فضا بظاہر ویسی ہی تھی، بت خانہ آباد تھا، بازار گرم تھے، مگر اندر ہی اندر ایک نیا دور جنم لے رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ جانتے تھے کہ یہ خاموشی ہمیشہ قائم نہیں رہے گی۔ ایک وقت آئے گا جب یہی پیغام ٹکراؤ کا سبب بنے گا، مخالفت ہوگی، ظلم ہوگا، مگر ابھی حکم یہی تھا کہ بیج زمین میں رکھا جائے، جڑیں مضبوط کی جائیں۔
یہ وہ مرحلہ تھا جہاں ایمان افراد میں اتر رہا تھا، جماعت بن رہی تھی، اور ایک ایسی امت کی بنیاد رکھی جا رہی تھی جو دنیا کی تقدیر بدلنے والی تھی، اگرچہ اس وقت مکہ کے سردار اس سے بے خبر تھے۔
درود شریف کے بارے میں سوال:
کیا آج ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درودِ پاک پڑھ کر ان اولین قربانیوں کو یاد کیا جن سے اسلام کی بنیاد رکھی گئی؟





30/01/2026

قسط نمبر 8
کچھ دن گزر چکے تھے۔ غارِ حرا کی وہ رات، وہ آواز، وہ بوجھل
لمحے—سب دل میں نقش ہو چکے تھے، مگر آسمان خاموش تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ایک عجیب سی کیفیت تھی۔ وحی کی لذت بھی یاد تھی اور اس کے رک جانے کا درد بھی۔ ہر دن، ہر قدم پر دل یہی چاہتا کہ وہی آواز دوبارہ سنائی دے، وہی نورانی لمحہ پھر لوٹ آئے۔
آپ ﷺ اکثر مکہ کی گلیوں سے نکل کر کھلے میدانوں کی طرف چلے جاتے۔ نگاہیں کبھی آسمان کی طرف اٹھتیں، کبھی زمین پر ٹھہر جاتیں۔ خاموشی گہری تھی، مگر دل کے اندر ایک ہلچل تھی۔ یہ انتظار عام انتظار نہ تھا، یہ رب سے ہم کلامی کے دوبارہ آغاز کا انتظار تھا۔
پھر ایک دن، جب آپ ﷺ مکہ کے اطراف میں تھے، اچانک فضا بدل گئی۔ سکوت ٹوٹا۔ وہی آواز—جسے دل پہچان چکا تھا—فضا میں گونج اٹھی۔ رسول اللہ ﷺ ٹھٹھک گئے۔ قدم رک گئے۔ نگاہ آسمان کی طرف اٹھی تو دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
آسمان اور زمین کے درمیان، ایک عظیم منظر تھا۔ وہی فرشتہ، حضرت جبرائیل علیہ السلام، ایک کرسی پر جلوہ گر تھے۔ نہ یہ خواب تھا، نہ خیال—یہ حقیقت تھی، پوری ہیبت کے ساتھ۔ منظر اتنا پرجلال تھا کہ جسم پر لرزہ طاری ہو گیا۔ دل نے گواہی دی: اب خاموشی ختم ہونے والی ہے۔
آپ ﷺ فوراً گھر کی طرف لوٹے۔ چہرے پر خوف بھی تھا اور عظمت کا احساس بھی۔ زبان سے بے اختیار نکلا:
مجھے اوڑھا دو، مجھے اوڑھا دو۔
چادر اوڑھائی گئی، سانسیں سنبھلنے لگیں، مگر اسی لمحے آسمان کا پیغام اترنے لگا۔ وہ الفاظ جو اب سکوت نہیں بلکہ قیام کا اعلان تھے:
يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ
قُمْ فَأَنْذِرْ
وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ
وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ
یہ صرف آیات نہ تھیں، یہ ایک زندگی بھر کے سفر کا حکم تھا۔ اب خلوت کا زمانہ ختم ہو چکا تھا۔ اب اٹھنے کا وقت تھا، خبردار کرنے کا وقت تھا، حق کو بلند کرنے اور باطل سے ٹکرانے کا وقت تھا۔
اسی لمحے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف عبادت گزار نہ رہے، بلکہ انسانیت کے لیے پیغام بن گئے۔ خاموش تیاری ختم ہوئی، اب عمل، صبر اور قربانی کا دور شروع ہو چکا تھا۔ مکہ کی فضا وہی تھی، مگر تاریخ کا رخ بدل چکا تھا۔
درود شریف کے بارے میں سوال:
کیا آج ہم نے اس نبی پر درودِ پاک پڑھا جس نے رب کا پیغام اٹھانے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی؟





29/01/2026

قسط نمبر 7
غارِ حرا سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ہیبت طاری تھی۔ جسم مبارک کانپ رہا تھا اور دل اس عظیم تجربے کے بوجھ سے لرزاں تھا۔ آپ سیدھے گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ مجھے اوڑھا دو، مجھے اوڑھا دو۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فوراً آپ کو چادر اوڑھائی یہاں تک کہ وہ کیفیت کچھ کم ہوئی اور طبیعت سنبھل گئی۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا واقعہ تفصیل سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سنایا اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا خوف محسوس ہوا۔ اس موقع پر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جو الفاظ کہے، وہ ان کے ایمان، فہم اور اللہ پر کامل یقین کا واضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے فرمایا:
ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، ناداروں کی مدد کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے معاملے میں پیش آنے والی مشکلات میں لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقہ بن نوفل عمر رسیدہ تھے، عبرانی زبان جانتے تھے اور تورات و انجیل کا علم رکھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے بھی وہی واقعہ بیان فرمایا جو غارِ حرا میں پیش آیا تھا۔
ورقہ بن نوفل نے یہ سن کر کہا کہ یہ تو وہی ناموسِ اکبر ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ پھر انہوں نے کہا کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے فرمایا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا: جی ہاں، جو شخص بھی اس پیغام کے ساتھ آیا جس کے ساتھ آپ آئے ہیں، اس سے دشمنی کی گئی۔ اگر میں اس دن تک زندہ رہا تو میں پوری قوت کے ساتھ آپ کی مدد کروں گا۔
یہ گفتگو اس بات کی واضح دلیل تھی کہ اہلِ کتاب کے اہلِ علم اس حقیقت کو پہچانتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ نبی ہیں جن کی خبر پچھلی کتابوں میں دی جا چکی تھی۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد ورقہ بن نوفل کا انتقال ہو گیا اور وحی کا سلسلہ کچھ مدت کے لیے رک گیا۔ اس وقفے کو فترۃ الوحی کہا جاتا ہے۔
اس وقفے کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شوق، انتظار اور دل کی بے چینی بڑھتی گئی۔ آپ کو وحی کی لذت اور اس کے بوجھ دونوں کا احساس ہو چکا تھا۔ دل اللہ کی طرف پوری طرح متوجہ ہو چکا تھا اور اب زندگی کا مقصد بالکل واضح ہو گیا تھا، اگرچہ عملی دعوت کا آغاز ابھی ہونا باقی تھا۔
یہ وہ مرحلہ تھا جہاں نبوت دل میں پوری طرح راسخ ہو چکی تھی، گھر کی طرف سے کامل تائید مل چکی تھی، اور آسمانی گواہی بھی سامنے آ چکی تھی۔ اب اگلا مرحلہ وحی کے دوبارہ نزول اور علانیہ دعوت کی تیاری کا تھا۔
درود شریف کے بارے میں سوال:
کیا آج ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دل سے درودِ پاک پڑھا؟





28/01/2026

قسط نمبر 6
ان دنوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہائی کو پسند کرنے لگے تھے۔ آپ مکہ کے شور و غل، بت پرستی، اخلاقی بگاڑ اور دنیاوی ہنگاموں سے دور ہو کر غارِ حرا میں جا کر عبادت، غور و فکر اور تدبر فرماتے تھے۔ کئی کئی دن وہاں قیام فرماتے، پھر گھر واپس آتے، ضروری سامان لیتے اور دوبارہ غارِ حرا تشریف لے جاتے۔ یہ خلوت محض تنہائی نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف مکمل رجوع اور ایک عظیم ذمہ داری کی عملی تیاری تھی۔
اسی زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب دکھائے جانے لگے۔ آپ جو خواب دیکھتے، وہ صبح کی روشنی کی طرح واضح ہو کر پورے ہو جاتے۔ یہ خواب دراصل وحی کے آغاز کی تمہید تھے تاکہ دل اس کیفیت سے مانوس ہو جائے جو جلد بیداری کی حالت میں نازل ہونے والی تھی۔
پھر وہ مبارک لمحہ آ پہنچا جس نے انسانی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ رمضان المبارک کی ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں مشغولِ عبادت تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے لگایا اور زور سے بھینچا، یہاں تک کہ آپ پر شدید کیفیت طاری ہو گئی، پھر فرمایا:
اِقْرَأْ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا أَنَا بِقَارِئٍ
میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دوبارہ آپ کو سینے سے لگایا، سختی سے بھینچا، پھر چھوڑ کر فرمایا:
اِقْرَأْ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا۔
تیسری مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو سینے سے لگایا، پھر چھوڑ کر وہ عظیم الفاظ سنائے جو قیامت تک ہدایت کا سرچشمہ بن گئے:
اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ
اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ
الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ
عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
یہ وہ لمحہ تھا جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنا دیا گیا۔ وحی کا یہ بوجھ اتنا عظیم تھا کہ انسانی جسم فطری طور پر اس کی ہیبت سے لرز اٹھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کانپتے ہوئے غارِ حرا سے نکلے، دل خوف اور عظمت کے احساس سے بھرا ہوا تھا، اور آپ سیدھے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔
یہیں سے نبوت کا وہ عظیم سفر شروع ہوا جس نے جہالت کو علم سے، ظلم کو عدل سے، اور شرک کو توحید سے بدل دینا تھا۔
درود شریف کے بارے میں سوال:
کیا آج ہم نے اس عظیم نبی پر درود شریف پڑھ کر اس نعمتِ وحی کا شکر ادا کیا؟





27/01/2026

قسط نمبر 5
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی، امانت اور حسنِ معاملہ مکہ میں اس حد تک معروف ہو چکا تھا کہ لوگ اپنے جھگڑوں میں بھی آپ کی رائے کو معتبر سمجھتے تھے۔ اسی زمانے میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے اخلاق، دیانت اور وقار کو قریب سے دیکھا تو نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ یہ نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پچیس برس اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس برس میں ہوا۔ یہ ازدواجی زندگی سکون، اعتماد اور باہمی احترام پر قائم تھی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ہر مرحلے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا، اور یہی رفاقت آگے چل کر اسلام کی تاریخ میں بنیادی حیثیت اختیار کرنے والی تھی۔
اس نکاح کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی وقار اور سادگی کی مثال بن گئی۔ تجارت کا دائرہ محدود ہوتا گیا اور غور و فکر کی عادت بڑھتی گئی۔ مکہ کے معاشرے میں بت پرستی، اخلاقی بگاڑ اور ناانصافی عام تھی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب سے الگ تھلگ رہتے تھے۔ آپ نہ بتوں کے لیے قربانی دیتے، نہ جاہلی میلوں میں شریک ہوتے، نہ کسی غلط رسم کا حصہ بنتے۔ دل میں ایک اضطراب تھا اور حق کی تلاش تھی۔
اسی دوران ایک بڑا واقعہ پیش آیا جب قریش نے خانۂ کعبہ کی ازسرِنو تعمیر کا فیصلہ کیا۔ تعمیر کے دوران حجرِ اسود رکھنے کا مرحلہ آیا تو قبائل میں اختلاف شدید ہو گیا۔ ہر قبیلہ یہ اعزاز اپنے لیے چاہتا تھا اور بات لڑائی تک پہنچنے لگی۔ آخر یہ طے پایا کہ حرم میں سب سے پہلے داخل ہونے والے شخص کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔ اتفاق سے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ لوگوں نے خوشی سے کہا کہ یہ امین ہیں، ہم ان کے فیصلے پر راضی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت حکمت کے ساتھ چادر بچھائی، حجرِ اسود اس پر رکھا اور تمام قبائل کے سرداروں سے کہا کہ وہ چادر کے کنارے پکڑیں۔ یوں سب نے مل کر حجرِ اسود کو اس کی جگہ تک پہنچایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے اسے نصب فرمایا۔ اس فیصلے نے خونریزی کو روکا اور سب قبائل مطمئن ہو گئے۔ یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل تھا کہ نبوت سے پہلے بھی آپ کی دانائی اور عدل پسندی سب پر ظاہر تھی۔
ان دنوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہائی کو پسند کرنے لگے۔ آپ مکہ کے شور و غل سے دور غارِ حرا میں جا کر عبادت اور غور و فکر کرتے۔ کئی کئی دن وہاں قیام فرماتے، پھر گھر واپس آتے، سامان لیتے اور دوبارہ چلے جاتے۔ یہ خلوت دراصل اس عظیم ذمہ داری کی تیاری تھی جس کا وقت قریب آ رہا تھا۔ دل میں اللہ کی طرف رجوع بڑھتا جا رہا تھا اور دنیا کی بے معنی مصروفیات سے دل ہٹتا جا رہا تھا۔
یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سیرت ایک نئے دور میں داخل ہونے والی تھی۔ مکہ کی زندگی، اخلاقی آمادگی، گھریلو سکون اور فکری خلوت سب مل کر اس لمحے کی تمہید بن رہے تھے جب وحی کا آغاز ہونا تھا۔
اگر آپ کو سیرتِ رسول ﷺ کا یہ سلسلہ مفید اور پسند آ رہا ہے تو براہِ کرم لائک کیجیے، فالو کیجیے اور دوسروں تک شیئر کیجیے۔
اور یہ بتائیے، کیا آج آپ نے نبی کریم ﷺ پر درودِ پاک پڑھا ہے؟

26/01/2026

قسط نمبر 4
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو طالب کی کفالت میں جوانی کی طرف بڑھنے لگے۔ مکہ کے حالات، معاشرت اور قبائلی نظام کو آپ بچپن ہی سے قریب سے دیکھ رہے تھے۔ چونکہ ابو طالب مالی لحاظ سے خوش حال نہ تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کم عمری ہی میں محنت کو اختیار فرمایا۔ آپ نے بکریاں چرائیں۔ یہ کام عرب میں معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ انبیاء کی سنت رہا ہے۔ اس عمل نے آپ کے اندر صبر، بردباری، ذمہ داری اور تنہائی میں غور و فکر کی عادت کو مضبوط کیا۔ بعد میں آپ خود فرمایا کرتے تھے کہ میں نے بھی بکریاں چرائی ہیں۔
جوانی کے ابتدائی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کی طرف قدم بڑھایا۔ ابو طالب شام کی طرف تجارتی قافلہ لے جانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ روانہ ہوئے۔ یہی وہ سفر تھا جس میں بصریٰ کے قریب ایک عیسائی راہب، جسے بحیرا کہا جاتا تھا، نے قافلے کو دیکھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں غیر معمولی علامات محسوس کیں۔ اس نے بادل کا سایہ کرنا، درخت کا جھکنا اور آپ کے چہرے پر خاص نور دیکھا۔ اس نے قافلے والوں سے سوالات کیے اور ابو طالب کو مشورہ دیا کہ اس بچے کو یہیں سے واپس لے جائیں، کیونکہ یہ وہی نبی ہیں جن کی نشانیاں ہماری کتابوں میں بیان ہوئی ہیں، اور یہود سے خطرہ ہو سکتا ہے۔ ابو طالب نے اس مشورے کو سنجیدگی سے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ واپس لے آئے۔
مکہ واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت اور امانت داری میں غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ لوگ آپ کو الصادق اور الامین کہنے لگے۔ آپ نہ جھوٹ بولتے تھے، نہ خیانت کرتے تھے، نہ کسی کا حق مارتے تھے۔ اسی امانت اور سچائی کی وجہ سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو اپنا مال تجارت دے کر شام بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے غلام میسرہ بھی ساتھ تھے۔ اس سفر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت، حسنِ معاملہ اور برکتیں نمایاں ہوئیں۔ تجارت میں پہلے سے زیادہ نفع ہوا اور میسرہ نے سفر کے دوران ایسے حالات دیکھے جن سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو یقین ہو گیا کہ یہ عام انسان نہیں ہیں۔
اسی زمانے میں مکہ کے معاشرے میں ایک اور اہم واقعہ پیش آیا۔ ایک یمنی تاجر کے ساتھ ظلم ہوا اور اس کا مال روک لیا گیا۔ مکہ کے چند باکردار لوگوں نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس معاہدے میں شریک ہوئے جو حلف الفضول کے نام سے معروف ہوا۔ اس معاہدے کا مقصد یہ تھا کہ مکہ میں کسی مظلوم پر ظلم نہیں ہونے دیا جائے گا، چاہے وہ مقامی ہو یا مسافر۔ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بعد بھی فرمایا کرتے تھے کہ اگر آج بھی ایسے معاہدے کی طرف بلایا جاؤں تو میں ضرور قبول کروں گا۔
یہ تمام واقعات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو واضح کرتے ہیں۔ نبوت سے پہلے بھی آپ پاکیزہ کردار، عدل پسندی، امانت اور اخلاق کی بلندی میں ممتاز تھے۔ آپ نے جاہلیت کی رسومات، بت پرستی، شراب نوشی اور فحاشی سے ہمیشہ کنارہ کشی اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خاموشی سے اس عظیم منصب کے لیے تیار فرما رہے تھے جو آگے چل کر آپ کے سپرد ہونا تھا۔
اگر آپ کو سیرتِ رسول ﷺ کا یہ سلسلہ مفید اور پسند آ رہا ہے تو براہِ کرم لائک کیجیے، فالو کیجیے اور دوسروں تک شیئر کیجیے۔
اور یہ بتائیے، کیا آج آپ نے نبی کریم ﷺ پر درودِ پاک پڑھا ہے؟

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Lahore