17/02/2026
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد مسلمانوں کو ایک ظاہری قوت ضرور حاصل ہو گئی تھی، مگر اس سے قریش کی دشمنی کم نہیں ہوئی بلکہ اور بڑھ گئی۔ انہیں محسوس ہونے لگا کہ اگر اس دعوت کو ابھی نہ روکا گیا تو یہ ان کے پورے معاشرے پر غالب آ جائے گی۔ اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب صرف انفرادی ظلم کافی نہیں، بلکہ ایک اجتماعی دباؤ ڈالا جائے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی جھکنے پر مجبور ہو جائیں۔
چنانچہ قریش کے سرداروں نے آپس میں مشورہ کر کے ایک ظالمانہ معاہدہ تیار کیا۔ اس معاہدے میں طے کیا گیا کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب کے ساتھ مکمل سماجی اور معاشی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ نہ ان سے کوئی خرید و فروخت کرے گا، نہ ان سے نکاح کرے گا، نہ ان سے میل جول رکھے گا، نہ انہیں کوئی مدد دی جائے گی۔ یہ تحریری معاہدہ لکھ کر کعبہ کے اندر لٹکا دیا گیا تاکہ سب لوگ اس پر قائم رہیں۔
اس فیصلے کا مقصد صرف یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا کر دیا جائے اور آپ کے خاندان کو اس قدر تکلیف دی جائے کہ وہ خود آپ کو دعوت چھوڑنے پر مجبور کر دیں۔ چنانچہ بنو ہاشم اور بنو مطلب، چاہے مسلمان تھے یا نہیں، سب نے قبائلی غیرت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور ایک گھاٹی میں محصور ہو گئے۔ یہ جگہ شعب ابی طالب کے نام سے معروف ہوئی۔
یہ محاصرہ چند دنوں کا نہیں بلکہ کئی سال جاری رہا۔ اس دوران کھانے پینے کی اشیاء تک پہنچنا مشکل ہو گیا۔ فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ بچوں کے رونے کی آوازیں گھاٹی سے باہر تک سنائی دیتیں۔ درختوں کے پتے کھا کر گزارا کیا جاتا۔ کبھی کبھار کوئی نرم دل شخص چھپ کر کچھ سامان پہنچا دیتا تو وہی سب کے لیے غنیمت ہوتا۔ مگر اس شدید تنگی کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی ثابت قدم رہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پورے عرصے میں نہایت صبر کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ نہ آپ ﷺ نے بددعا کی، نہ انتقام کی بات کی۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ یہ سب آزمائش ہے اور آزمائش کے بعد آسانی آتی ہے۔ صحابہ بھی اسی یقین کے ساتھ تکلیف برداشت کرتے رہے۔ ان کے چہروں پر بھوک کے آثار ہوتے، مگر دل مطمئن ہوتے۔
ادھر مکہ کے اندر بھی کچھ ایسے لوگ تھے جو اس ظلم پر دل ہی دل میں شرمندہ تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ زیادتی ہے، مگر قبائلی دباؤ کے باعث کھل کر مخالفت نہیں کر سکتے تھے۔ وقت گزرتا گیا اور آخرکار چند بااثر افراد نے طے کیا کہ اس معاہدے کو ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے آپس میں بات کی، اتفاق کیا، اور پھر کعبہ میں جا کر اعلان کیا کہ یہ ظالمانہ تحریر ختم کی جائے۔
جب معاہدہ کھولا گیا تو دیکھا گیا کہ دیمک اس کاغذ کو کھا چکی ہے اور صرف اللہ کا نام باقی رہ گیا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔ یوں یہ بائیکاٹ ختم ہوا اور بنو ہاشم گھاٹی سے باہر آ گئے۔ مگر یہ چند سال مسلمانوں کے لیے سخت ترین آزمائش کا زمانہ ثابت ہوئے تھے۔
یہ آزمائش ختم ہوئی تو فوراً راحت نہ آئی، بلکہ آزمائشوں کا ایک اور باب کھلنے والا تھا۔ جلد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو ایسے صدمات پہنچنے والے تھے جو انسانی اعتبار سے بہت بڑے تھے۔ مگر یہ سب اللہ کی حکمت کے تحت ہو رہا تھا، کیونکہ جس مشن کو آپ ﷺ نے پورا کرنا تھا، اس کے لیے ہر مرحلہ ایک تیاری تھا۔
یہ زمانہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حق کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ سچ بولنے والوں کو آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے، مگر اگر یقین مضبوط ہو تو مشکل سے مشکل مرحلہ بھی گزر جاتا ہے۔ شعب ابی طالب کی گھاٹی میں فاقوں اور تکلیفوں کے باوجود ایمان کی شمع بجھ نہ سکی، بلکہ اور روشن ہو گئی۔
درود شریف کے بارے میں سوال:
کیا آج ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درودِ پاک پڑھ کر ان صبر آزما دنوں کو یاد کیا جب آپ اور آپ کے ساتھیوں نے بھوک اور تنگی برداشت کر کے بھی حق کا راستہ نہ چھوڑا؟
12/02/2026
07/02/2026
06/02/2026
04/02/2026
02/02/2026
31/01/2026
30/01/2026
29/01/2026
28/01/2026
27/01/2026
26/01/2026