20/01/2018
*غیرت کا جنازہ*
چلیں ہم امریکا سے شروع کرتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے موجودہ صدر ہیں۔ انھوں نے صدر منتخب ہونے سے پہلے ایک امریکی ٹی- وی کو انٹرویو دیا اور اپنی بیٹی کے حسن پر تبصرہ کرتے ہوئے بولے " اگر یہ میری بیٹی نہ ہوتی تو میں ضرور اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتا " اور ساری محفل گویا زعفران بن گئی۔
امریکا اس وقت " *ریپ زدہ* " ممالک میں سر فہرست ہے۔ نیشنل وائلنس کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں ہر چھ میں سے ایک عورت اور ہر تینتیس میں سے ایک مرد جنسی زیادتی کا شکار ہے اور یہ درج ہونے والے مقدموں کا سولہ فیصد ہے۔ جنوبی افریقا کو دنیا میں " *ریپ کا دار الحکومت* " کہا جاتا ہے۔ صرف 2012 میں 65،000 سے زیادہ جنسی تشدد کی واقعات پیش آئے۔ میڈیکل ریسرچ کونسل کی تحقیقات کے مطابق دنیا میں بچوں کے ساتھ زیادتی کا سب سے زیادہ اوسط جنوبی افریقا میں ہی ہے ۔ آپ جنت نظیر اور دنیا کی ہر عیاشی سے مالا مال سوئیڈن کو لے لیں جہاں ہر چوتھی خاتون یا لڑکی " ریپ شدہ " ہے۔ صرف 2009 میں 15،700 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور یہ تعداد 2008 کے مقابلے میں آٹھ فیصد زیادہ ہے۔ پچھلے دس سالوں میں سوئیڈن میں جنسی تشدد کے واقعات میں 58 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
آپ *نام نہاد اور سیکولر ریاست* کا راگ الاپنے والے بھارت کی بات کرلیں جہاں ہر بائیس منٹ پر ایک عورت جنسی تشدد کا نشانہ بنائی جاتی ہے اور کبھی اپنے بھائی، باپ یا رشتے داروں کے ہاتھوں ہی یہ کارنامہ سر انجام پاتا ہے۔ نیشنل کرائم رپورٹ بیورو کی رپورٹ کے مطابق صرف 2012 میں 24،923 خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی جن میں سے 24،470 کو ان کے اپنے ہی رشتے داروں یا پڑوسیوں نے نشانہ بنایا۔ یاد رہے بھارت دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں مردوں کو تعداد خواتین سے زیادہ ہے کیونکہ روزانہ سینکڑوں بچیاں دوران حمل یا پیدائش کے فوراً بعد مار دی جاتی ہیں۔ برطانیہ اور جرمنی جنسی زیادتیوں کے حوالے سے سخت پریشان ہیں کیونکہ برطانیہ کی ہی وزارت انصاف کے مطابق 2013 میں 85000 خواتین کی عصمتیں زبردستی پامال کی گئیں۔ برطانیہ میں ہر پانچویں عورت اپنی عزت سے ہاتھ دھو چکی ہے اس معاشرے میں خواتین کی کتنی " *عزت* " ہے؟ اس کے لیے آپ یو آن ریڈلے کی کتاب " *ان دی ہینڈز آف طالبان* " پڑھ لیں۔ فرانس میں صرف 10 فیصد شکایتوں کے مطابق ایک سال میں 75000 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیو