20/03/2025
کچھ دن پہلے میں نے ایک آیت سنی، اور جیسے ہی غور کیا، مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے اس ایک آیت میں جدید سائیکالوجی کی بڑی بڑی تھیوریز سمو دی گئی ہیں.
میرے دماغ میں Loss Aversion Theory کا اک دھندلا سا عکس گھومنے لگا، جو کہتی ہے کہ انسان نقصان کے غم میں الجھ کر اپنی صلاحیتیں کھو دیتا ہے۔ پھر Hubris Syndrome، جو بتاتی ہے کہ ضرورت سے زیادہ خوشی دماغی توازن بگاڑ دیتی ہے۔
تب احساس ہوا کہ ہم کتنے بیوقوف ہیں! ذہنی سکون کے لیے انگریزی کتابیں پڑھ لیتے ہیں، How to manage stress جیسے موضوعات پر تحقیق کرتے ہیں، لیکن قرآن کے اصل حل کو مشکل سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔
حالانکہ اللہ پہلے ہی فرما چکا:
"تاکہ جو چیز تم سے چھن جائے اس پر غم نہ کرو، اور جو عطا ہو اس پر غرور نہ کرو" (الحدید 57:23)
💡 سوچیں! اگر ہم Motivational books سے سیکھتے ہیں کہ:
✅ Overthinking سے بچو
✅ Toxic positivity سے دور رہو
✅ شکرگزاری اپناؤ
تو جب قرآن میں ہم یہی حکمتیں سیکھیں گے پلس یہ سمجھیں گے کہ ہمارے رب کا حکم ہے تو ہمیں اپنے جذبات Stable کرنے میں آسانی بھی رہے گی اور ذہنی سکون بھی
آج آپ نے اس آیت:
ألا بِذِكرِ اللَّهِ تَطمَئِنُّ القُلُوبُ کے مفہوم کو ایک نئے زاویے سے سمجھا ہوگا؟
ویسے بھی جو کسی چیز کو بناتاہے، وہ اس کے بارے بہتر جانتاہے کہ جب اُس چیز میں کوئی مسئلہ آۓ گا تو اُسے ٹھیک کیسے کرنا ہے
خِیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ
کہ خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلِّم
آج بھی اگر ہم قرآن کی طرف پلٹ آئیں، تو نہ صرف ہمارے دلوں کو سکون ملے گا بلکہ دنیا بھی ہماری ہوگی اور آخرت بھی!
26/08/2024
13/06/2023
25/05/2015
18/05/2015
18/05/2015