14/06/2026
یہ خوبصورت راستے صرف مٹی اور پتھروں سے نہیں بنے، بلکہ ان پر چلتے ہوئے گزرے لمحوں، ہنسیوں اور یادوں کی خوشبو بھی بسی ہوئی ہے۔ آج جب انہی راستوں سے دوبارہ گزرتے ہیں تو ماضی کی بے شمار تصویریں آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہیں۔
کبھی دوستوں کے ساتھ بے فکری میں چلتے قدم یاد آتے ہیں، کبھی وہ شامیں جب خوابوں اور امیدوں کی باتیں ہوا میں بکھر جاتی تھیں۔ وقت تو گزر گیا، لوگ بھی اپنے اپنے راستوں پر نکل گئے، مگر یہ راستے آج بھی خاموشی سے ان یادوں کی گواہی دے رہے ہیں۔
زندگی میں کچھ جگہیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف جگہیں نہیں رہتیں، وہ ہمارے جذبات، ہماری کہانیوں اور ہماری یادوں کا حصہ بن جاتی ہیں۔ یہ راستے بھی انہی میں سے ہیں، جو ہر بار دیکھنے پر دل میں ایک میٹھی سی اداسی اور خوبصورت سی مسکراہٹ چھوڑ جاتے ہیں۔
کاش وقت ایک لمحے کے لیے رک جائے، اور ہم پھر سے انہی یادگار دنوں میں لوٹ جائیں، جہاں زندگی سادہ تھی، دوست ساتھ تھے، اور خوشیاں ہر قدم پر ہمارا انتظار کرتی تھیں۔
Hostel Road Punjab University ❣️
14/06/2026
بوائز ہوسٹل نمبر 16.
(موجودہ گرلز ہاسٹل نمبر 11,
اقصٰی ہال)
یہ 2011 کی بات ہے۔ ہم پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کے طالب علم تھے اور ہاسٹل نمبر 16 کے گراؤنڈ فلور پر واقع کمرہ نمبر 124 میں رہ رہے تھے.
بوائز ہاسٹل نمبر 16 صرف ایک عمارت یا رہائش گاہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا عہد تھا جہاں دوستیوں نے جنم لیا، خوابوں نے پرواز کی، شخصیتوں نے نکھرنا سیکھا اور زندگی نے اپنے کئی رنگ دکھائے۔ کمرہ نمبر 124 کی علمی نشستوں سے لے کر پی سی ڈھابے کی سادہ مگر یادگار محفلوں تک، ہر لمحہ آج بھی حافظے کے کسی روشن گوشے میں محفوظ ہے۔
آج جب ایک دہائی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ اصل دولت نہ وہ ڈگریاں تھیں، نہ امتحانات اور نہ ہی وہ عمارتیں؛ اصل سرمایہ وہ لوگ تھے جن کے ساتھ یہ سفر طے ہوا۔ کچھ دوست آج سرکاری عہدوں پر ہیں، کچھ تدریس سے وابستہ ہیں، کچھ وکالت اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر جب کبھی ملاقات ہوتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے وقت وہیں ٹھہر گیا ہو اور ہم پھر ہاسٹل نمبر 16 کے کمرہ نمبر 124 میں بیٹھے مستقبل کے خواب بُن رہے ہوں۔
شاید زندگی کا حسن بھی یہی ہے کہ وقت گزر جاتا ہے، مقامات بدل جاتے ہیں، عمارتوں کے نام تبدیل ہو جاتے ہیں، مگر مخلص دوستوں کے ساتھ گزارے ہوئے دن کبھی پرانے نہیں ہوتے۔
ہاسٹل نمبر 16 لاء کالج کے طلبہ کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
پھر 13 مئی 2012 میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے پورے کیمپس کی فضا کو سوگوار کر دیا۔ اویس عقیل، جو نہایت دین دار، شریف النفس اور خوش اخلاق نوجوان تھے، ایک المناک سانحے کا شکار ہو گئے۔ اُن کی جدائی نے دوستوں، ساتھیوں اور اساتذہ، سب کو غمزدہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ اُن کی کامل مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
بعد ازاں 2013 میں یونیورسٹی انتظامیہ نے بعض انتظامی وجوہات اور طالبات کے لیے ہاسٹل سہولیات میں اضافے کے پیشِ نظر بوائز ہاسٹل نمبر 16 کو گرلز ہاسٹل نمبر 11 میں تبدیل کر دیا۔ یوں ہم مختلف ہاسٹلز، خصوصاً ہوسٹل نمبر 14 اور نمبر 9، میں منتقل ہو گئے۔
ہم آٹھ دس دوستوں کا ایک زندہ دل، پُرجوش اور خوابوں سے بھرپور گروپ تھا۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے فراغت کے بعد ہم لاء کالج میں ایل ایل بی کر رہے تھے اور ساتھ ہی CSS اور PMS کے خواب آنکھوں میں سجائے دن رات محنت میں مصروف رہتے تھے۔
وہ عجیب خوبصورت زمانہ تھا۔ خواب بڑے تھے، وسائل محدود تھے مگر حوصلے بے پناہ تھے۔ رات گئے تک جاری رہنے والی علمی و فکری نشستیں، آئین و قانون پر بحثیں، امتحانات کی تیاریاں، مستقبل کے منصوبے، چائے کے بے شمار کپ، دوستوں کی محفلیں اور بے ساختہ قہقہے — سب کچھ آج بھی یادوں کے دریچے سے جھانکتا ہے۔
پنجاب یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے بہت سے دوست انہی دنوں زندگی کا حصہ بنے۔ وقت گزرتا گیا مگر دوستی کے یہ رشتے کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوتے گئے۔ آج ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود ہمارا بیشتر حلقۂ احباب بدستور ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔
جب بھی ماضی کی گلیوں میں لوٹ کر جاتا ہوں تو ہاسٹل نمبر 16 کا کمرہ نمبر 124 اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ یاد آتا ہے۔ کچھ چہرے، کچھ آوازیں، کچھ خواب اور کچھ لمحے وقت کے دھندلکوں میں گم نہیں ہوئے۔ وہ آج بھی دل کے کسی گوشے میں اسی طرح آباد ہیں جیسے کل کی بات ہو۔
وقت گزر جاتا ہے، لوگ آگے بڑھ جاتے ہیں، عمارتوں کے نام بدل جاتے ہیں، راستے بدل جاتے ہیں، مگر کچھ یادیں اپنی تازگی کبھی کم نہیہونےدیتیں۔ وہ انسان کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں اور زندگی کے ہر موڑ پر مسکراہٹ بن کر لوٹ آتی ہیں۔
یہ ہاسٹل بھی میری زندگی کی انہی انمول یادوں میں سے ایک ہے، جسے وقت ماند نہیں کر سکا۔
#ہاسٹل نمبر 16 کی یادوں کا ذکر ہو اور "پی سی" والا واقعہ یاد نہ آئے، ایسا ممکن نہیں۔
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں ابھی پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل میں شفٹ نہیں ہوا تھا۔ میرا قیام اسلام پورہ سیکرٹریٹ کے قریب ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں تھا۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے فراغت کے بعد میرے چند دوست پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں ایل ایل بی کر رہے تھے اور ہاسٹل نمبر 16 میں رہائش پذیر تھے۔
2011 میں ایک دن اُنہوں نے مجھے لنچ پر مدعو کیا۔
میں خاصی تیاری کے ساتھ ہاسٹل پہنچا۔ دوستوں سے ملاقات ہوئی، گپ شپ اور جوس وغیرہ سے تواضع ہوئی۔ پھر کھانے کا وقت آیا تو ہمارے ہر دلعزیز دوست، عمر ڈوگر صاحب، جو ضلع قصور کے گاؤں سردار پور ڈوگراں (سابقہ نام: چوہا جھرمٹ) سے تعلق رکھتے ہیں اور آج کل گورنمنٹ ڈگری کالج قصور میں جغرافیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، نے اعلان کیا:
"یار! آج خان آیا ہوا ہے، آج میس کا کھانا نہیں کھائیں گے۔ آج سب دوستوں کو پی سی میں لنچ کرواتے ہیں۔" سب دوستوں نے ہاں میں ہاں ملائی۔
"پی سی" کا نام سنتے ہی میرے ذہن میں لاہور کے پرل کانٹینینٹل ہوٹل کا تصور ابھرا۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا:
"واہ! آج تو بڑی شاہانہ دعوت ہونے جا رہی ہے۔"
کچھ دیر بعد سب دوست چلنے لگے۔ کسی نے ٹراؤزر شرٹ پہن رکھی تھی، کوئی شارٹس میں تھا اور کوئی شلوار قمیص میں ملبوس تھا۔ میں نے حیران ہو کر کہا:
"یار! کم از کم کپڑے تو تبدیل کر لو، پی سی ایسے جانا مناسب نہیں لگتا۔"
جواب میں زور دار قہقہے بلند ہوئے۔
"خان صاحب! ہم تو روز جاتے ہیں، ہمارے لیے تو یہ معمول کی بات ہے۔"
یہ سن کر میری حیرت مزید بڑھ گئی۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ تم میں سے کسی ایک کو بھی پی سی والے اندر داخل نہیں ہونے دیں گے۔
چند منٹ بعد قافلہ موٹر سائیکلوں پر روانہ ہوا۔ میں راستے بھر پرتعیش ماحول، چمکتی لابیوں، نفیس میزوں اور شاہانہ ضیافت کا تصور کرتا رہا۔ لیکن تقریباً پانچ منٹ بعد ہم ایک ڈھابے نما جگہ پر جا رکے۔
لوہے کی میزیں تھیں، کُچھ طلباء میزوں کے ساتھ کھڑے ہو کر کھانا کھا رہے تھے اور کُچھ میزوں کے اوپر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے، روٹی کے لیے قطاریں لگی ہوئی تھیں، پانی کے ٹینک کے گرد رش تھا اور ہر طرف طلبہ کا ہجوم نظر آ رہا تھا۔
میں ابھی حیرت سے منظر دیکھ ہی رہا تھا کہ دوستوں نے مسکراتے ہوئے کہا:
"خان صاحب! خوش آمدید... یہی ہے ہمارا پی سی!"
اُس لمحے پہلی بار معلوم ہوا کہ پنجاب یونیورسٹی میں "پی سی" کا مطلب پرل کانٹینینٹل نہیں بلکہ مشہورِ زمانہ PC ڈھابہ ہے۔
آج بھی جب ہاسٹل دور کے دوست یاد آتے ہیں تو "پی سی" کی وہ پہلی دعوت بے اختیار لبوں پر مسکراہٹ لے آتی ہے۔
وقت گزر گیا، مقامات بدل گئے، ڈھابا اپنی جگہیں بدلتا رہا، (PC ڈھابہ PC کالونی سے بوائز ہوسٹل 9 سے 11 کے درمیان اور پھر اسپورٹس گراؤنڈ، اسٹیڈیم کے ساتھ،) مگر دوستوں کے ساتھ بیتے وہ لمحے آج بھی ویسے ہی زندہ ہیں۔
بعض اوقات زندگی کی سب سے قیمتی یادیں کسی فائیو اسٹار ہوٹل سے نہیں، بلکہ دوستوں کے ساتھ کسی سادہ سے ڈھابے پر بننے والی محفلوں سے وابستہ ہوتی ہیں۔
آخری محبت جامعہ پنجاب ❤️
12/06/2026
Pu admissions for Ms,Mphil,PhD MSc
12/06/2026
“You will never attain virtuous conduct until you give from what you love.”
Q3 (Al-Imran): Verse 92
جمعہ مبارک ❣️
10/06/2026
حساب عمر کا اتنا سا گوشوارہ ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارہ ہے
Night View Hostel Road
Punjab University ❣️
09/06/2026
پھر کھو نہ جائیں ہم کہیں دنیا کی بھیڑ میں
پی یو لائف ہاسٹل روڈ 💖
07/06/2026
*لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ*
اور اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور دوں گا
Good Morning
06/06/2026
تمہارے بعد چمن میں جب آنا پڑتا ہے
ہر ایک یاد سے دامن بچانا پڑتا ہے
PU these days ❤️🫰
05/06/2026
جب کوئی پیارمیں ہارا ہوگا ٹوٹا اک ستارا ہوگا
شرک میں معافی ملنے لگی تو تم سے عشق دوبارہ ہوگا
جامعہ پنجاب اور خوبصورت رات 🩷🥀