29/04/2026
یہ کوئی عام گلی نہیں…یہ تین بھائیوں کے ایک ہی گھر کے تین الگ راستے ہیں۔
ایک وقت تھا جب یہ سب ایک ساتھ بیٹھتے تھے،
ایک ہی دروازے سے آتے جاتے تھے…
ہنسی بھی ایک تھی، اور دکھ بھی ایک۔
پھر نہ جانے کیا ہوا…
دلوں میں دیواریں بن گئیں،
اور ان دیواروں نے راستوں کو بھی تقسیم کر دیا۔
آج حالت یہ ہے کہ
ان تنگ راستوں سے ایک جنازہ بھی نہیں گزر سکتا…
سوچو… جب ماں یا باپ کا جنازہ اٹھے گا،
تو کون سے راستے سے جائے گا؟
یا پھر… کیا دل اتنے تنگ ہو چکے ہیں
کہ کندھے بھی الگ الگ ہو جائیں گے؟
یہ صرف اینٹوں کی دیواریں نہیں…
یہ ٹوٹے رشتوں کی کہانی ہے۔
اللہ ہمیں جوڑے رکھے…
کیونکہ گھر دیواروں سے نہیں،
دلوں سے بنتے ہیں۔ ❤️"
24/04/2026
میرا گھر۔ میری چھت۔ میرا سولر۔ میرے اپنے پیسوں سے۔
سورج اللہ کا ہے تو پھر مجھے اپنے ہی گھر پر سولر لگانے کے لیے نیپرا سے اجازت کیوں لینی چاہیے؟
اور اگر اجازت لوں بھی، تو اس کی فیس کیوں ادا کروں؟
یہ صرف ایک تکنیکی یا ریگولیٹری مسئلہ نہیں یہ حق اور ذاتی آزادی کا سوال ہے۔
آج ایک عام شہری کو اپنی بجلی خود پیدا کرنے میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ کل شاید سانس لینے پر بھی کوئی قانون ہو۔
پاکستان ایک ایسی سمت میں جا رہا ہے جہاں شہریوں کے بنیادی حقوق پر پابندیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔
یہ صرف انرجی پالیسی کا مسئلہ نہیں یہ ایک سوچ کا مسئلہ ہے۔
لوگ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں، وسائل محدود ہیں، اور اس کے باوجود ان پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا:
کیا ہم اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں گے؟
یہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کا معاملہ نہیں یہ عوام کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔
اگر ہم آج خاموش رہے، تو کل شاید بولنے کا حق بھی نہ رہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سوچیں، سمجھیں، اور اپنی آواز بلند کریں دلیل، وقار اور شعور کے ساتھ۔
14/04/2026
🚨 کیا ایران ایک نئی عالمی طاقت بن رہا ہے؟ 🌍
6 اپریل 2026 کو شائع ہونے والے نیویارک ٹائمز کے ایک مضمون نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سیاسی ماہر رابرٹ پیپ کے مطابق، جاری امریکہ-اسرائیل تنازعہ عالمی طاقت کے توازن کو تیزی سے بدل رہا ہے — اور ایران کو ممکنہ طور پر چوتھی بڑی عالمی طاقت کے طور پر سامنے لا رہا ہے، امریکہ، روس اور چین کے ساتھ۔
📊 یہ تبدیلی کیوں آ رہی ہے؟
🔹 دباؤ کے باوجود مضبوطی
شدید عالمی دباؤ کے باوجود ایران نے غیر معمولی مزاحمت اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔
🔹 اہم جغرافیائی حیثیت
ایران مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور اہم تجارتی راستوں کے سنگم پر واقع ہے، جو اسے عالمی سطح پر خاص اہمیت دیتا ہے۔
🔹 بڑھتے ہوئے اتحاد
ایران کے علاقائی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تعلقات روایتی اتحادوں کو بدل رہے ہیں اور نئے طاقت کے توازن کو جنم دے رہے ہیں۔
🔹 غیر روایتی طاقت کا استعمال
ایران نے روایتی طریقوں کے بجائے منفرد حکمت عملیوں کے ذریعے اپنی طاقت کو منوایا ہے، جو جدید دور کی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
💡 اہم سوال:
کیا دنیا ایک نئے ملٹی پولر (کئی طاقتوں والے) نظام کی طرف بڑھ رہی ہے؟
چاہے آپ متفق ہوں یا نہ ہوں، ایک بات واضح ہے — عالمی طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اور آنے والا وقت دنیا کی قیادت اور اثر و رسوخ کو نئے انداز میں تشکیل دے سکتا ہے۔
👉 آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا ایران واقعی ایک بڑی عالمی طاقت بن رہا ہے یا یہ صرف ایک تجزیہ ہے؟
31/03/2026
"وہ واحد ملک جس نے انسانیت کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کیے، اسے ان کا مالک ہونے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔"
یہ بیان مُجتبیٰ خامنہ ای کی طرف سے سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر شدید بحث کو جنم دے رہا ہے۔
تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ 1945 میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران دنیا نے ایٹمی ہتھیاروں کی تباہ کن طاقت کو اس وقت دیکھا جب ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے۔
یہ واقعات ہمیشہ کے لیے انسانیت کی جنگ کے بارے میں سوچ کو بدل کر رکھ گئے۔
آج جو سوال اٹھایا جا رہا ہے وہ صرف سیاست سے بڑا ہے:
ایٹمی ہتھیار کس کے پاس ہونے چاہئیں — اور کس کے پاس نہیں؟
اگر واقعی عالمی امن ہمارا مقصد ہے تو شاید بحث اس بات پر نہیں ہونی چاہیے کہ طاقت کس کے پاس ہے بلکہ اس پر ہونی چاہیے کہ کیا ایسے ہتھیاروں کا وجود ہی ہونا چاہیے؟
ایٹمی دفاع (Deterrence) اور مکمل خاتمے (Disarmament) کے درمیان بحث جاری ہے، مگر ایک حقیقت واضح ہے:
⚠️ انسانیت ایک اور ایٹمی سانحہ برداشت نہیں کر سکتی۔
ہماری دنیا کا مستقبل مذاکرات، ذمہ داری اور امن کو طاقت پر ترجیح دینے کے حوصلے پر منحصر ہے۔
💬 آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا دنیا کو مکمل طور پر ایٹمی ہتھیار ختم کر دینے چاہئیں؟
04/08/2025
جب محمد فاتح چھوٹے تھے ان کی والدہ انہیں فجر کے وقت قسطنطنیہ کی دیواریں دکھانے لے جاتیں اور کہتیں: اے محمد! تم ہی وہ ہو جو ان دیواروں کو فتح کرے گا کیونکہ تمہارا نام محمد ہے جیسا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا
صلاح الدین ایوبی جب بچپن میں تھے ان کے والد نے انہیں لڑکوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو درمیان سے پکڑ کر اونچا اٹھایا کیونکہ ان کے والد قدآور تھے پھر والد نے ہاتھ چھوڑ دیا اور بچہ زمین پر گِر گیا۔ والد نے بچے کے چہرے پر درد دیکھا اور پوچھا: گرنے سے تکلیف ہوئی؟ صلاح الدین نے کہا: ہاں! والد نے کہا: تو پھر چیخے کیوں نہیں؟ اس پر صلاح الدین نے جواب دیا: ا.قصیٰ کو آزاد کروانے والا چیختا نہیں!
صفیہ بنت عبدالمطلب کو اپنے بیٹے زبیر کے گھوڑے سے گرنے کی کوئی پرواہ نہ تھی…
عربوں کے دل خو.ف سے نہیں کانپتے تھے جب وہ اپنے بچوں کو مہینوں اور سالوں کے لیے صحرا میں بھیجتے تھے…
بیٹے کا تنہا راتوں کو مکہ کی وادیوں میں بکریاں چرانا باپ کے لیے تکلیف دہ نہ تھا…
جوانوں کا تجارت، شکار، پہاڑوں پر چڑھنا اور حمزہ بن عبدالمطلب جیسے شیروں کا شکار کرنا بھی ان کی ماں کو ڈرا کر نہ مار.تا تھا…
اسی لیے جب اسلام آیا تو روحانی طاقت بدنی طاقت سے ملی اور خالد بن ولید، زبیر، سعد، مثنیٰ اور قعقاع جیسے مرد پیدا ہوئے، جنہوں نے کسرٰی و قیصر کی سلطنتیں فت.ح کیں!
اب ۱۴ سے ۲۰
سال کی عمر کے نوجوانوں کو "نوجوان" یا "مراهق" کہا جاتا ہے۔
مراهقت: ایک جدید مغربی اصطلاح ہے جس کا مقصد نوجوانوں سے اعتماد چھیننا اور ان کی غلطیوں کے لیے عذر پیدا کرنا ہے۔ ذرا دیکھیں ہمارے اسلامی تاریخ کے نوجوانوں کو ۔۔۔۔۔
عبد الرحمن الناصر (اکیس سال): ان کا دور اندلس کا سنہری دور تھا، انہوں نے ہر ف.ساد ختم کر کے علم و ترقی کو عروج دیا، یہاں تک کہ یورپ کے حکمران بھی تعلقات کے خواہش مند ہوگئے۔
محمد الفاتح (بائیس سال): قسطنطنیہ کو فت.ح کیا، جو اس وقت کی سب سے مضبوط سلطنت تھی۔
اسامہ بن زید (سترہ سال): صحابہ کرام کی موجودگی میں مسلمانوں کی فو.ج کی قیادت کی اور دنیا کی عظیم افو.اج کا سامنا کیا۔
محمد بن قاسم (سترہ سال): برصغیر ہند کو فت۔ح کی اور اپنے دور کے بڑے فو.جی رہنما تھے۔
سعد بن ابی وقاص (سترہ سال): سب سے پہلے اللہ کی راہ میں تیر چلانے والے، شوریٰ کے چھے افراد میں تھے، رسول اللہﷺ فرماتے: یہ میرے ماموں ہیں، ہر کوئی اپنا ماموں دکھائے۔
ارقم بن ابی الارقم (سولہ سال): اپنے گھر کو رسول اللہﷺ کے لیے تیرہ سال تک مرکز بنایا۔
طلحہ بن عبید اللہ (سولہ سال): اسلام میں سب سے زیادہ سخی، احد میں آپﷺ کو بچایا حتیٰ کہ ہاتھ مفلوج ہوگیا۔
زبیر بن العوام (پندرہ سال): اسلام میں سب سے پہلے اللہ کے لیے تلوار اٹھانے والے، اور نبی کریمﷺ کے جاں نثار۔
عمرو بن کلثوم (پندرہ سال): قبیلہ تغلب کے سردار جن کے بارے میں کہا جاتا تھا اگر اسلام نہ آتا تو لوگ انہیں کھا جاتے۔
معاذ بن عمرو بن الجموح (تیرہ سال) اور معوذ بن عفراء (چودہ سال): بدر میں ابو جہل کو قت۔ل کیا جو کف۔ار کا سردار تھا۔
زید بن ثابت (تیرہ سال): وحی کے کاتب بنے، 14 راتوں میں سریانی اور یہودی زبان سیکھی، اللہ کا کلام حفظ کیا اور قرآن جمع کرنے میں مدد کی۔
عتاب بن اسید: نبی اکرمﷺ نے اٹھارہ سال کی عمر میں مکہ کا حاکم بنایا۔
یہ وہ مرد ہیں جو اسلام پر پروان چڑھے۔
لیکن آج کل کے نوجوان ٹک ٹاک بنانے میں ماہر ہیں، شاعری و عشق و معشوقی میں طاق ہیں، فیشن اور مختلف انداز کے کپڑے پہننے میں کمال رکھتے ہیں۔
اب آپ خود سوچیں... ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں؟
04/07/2025
گدھا درخت سے بندھا ہوا تھا شیطان آیا اور اسے کھول دیا گدھا کھیتوں کی طرف بھاگا اور کھڑی فصل کو تباہ کرنے لگا جب کسان کی بیوی نے یہ دیکھا تو اس نے غصے میں گدھے کو مار ڈالا .
گدھے کی لاش دیکھ کر گدھے کا مالک بہت غصے میں آگیا اور کسان کی بیوی کو گولی مار دی کسان اپنی بیوی کی موت سے اتنا مشتعل ہوا کہ اس نے گدھے کے مالک کو گولی مار دی جب گدھے کے مالک کی بیوی نے اپنے شوہر کی موت کی خبر سنی تو غصے میں اس نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ کسان کا گھر جلا دے.
بیٹے شام کو گئے اور ماں کے حکم کو پورا کرتے ہوئے کسان کے گھر کو آگ لگا دی یہ سوچ کر کہ کسان بھی گھر میں جل کر مر جائے گا.لیکن ایسا نہیں ہوا کسان واپس آیا اور گدھے کے مالک کے تینوں بیٹوں اور بیوی کو قتل کر دیا اس کے بعد کسان نے توبہ کرلی اور شیطان کو کوسنے لگا شیطان نے ناراض ہوتے ہوئے کہا کہ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا صرف گدھے کی رسی کھولی تھی لیکن سب نے رد عمل ظاہر کیا ، رد عمل کے جواب میں اور زیادہ اور شدید رد عمل ظاہر کیا اور اپنے اندر کی خباثت کو باہر آنے دیا
*لہذا اگلی بار جواب دینے ، رد عمل ظاہر کرنے اور کسی سے بدلہ لینے سے پہلے رک جائیں اور ایک لمحے کے لیے سوچیں*
*کبھی کبھی شیطان ہمارے درمیان صرف گدھا چھوڑ دیتا ہے اور باقی کام ہم خود کرتے ہیں !!*
*یاد رکھیں..*
*ٹوٹنا آسان ہے ، جڑے رہنا بہت مشکل ہے ...*
*لڑنا آسان ہے ، درگزر کرنا بہت مشکل ہے
24/06/2025
گورنمنٹ گرلز ایسوسی ایٹ کالج جہلم کی پرنسپل میڈم رخشندہ بتول نے اپنے کالج کے درجہ چہارم کے ایک ملازم کے لئے کیا خوبصورت عبارت تحریر کی ہے۔دل چاہتا ہے بار بار پڑھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درجہ چہارم کی بھرتیوں میں سب سے زیادہ خدشات مجھے تبارک کو لے کر تھے۔ مجھے لگتا تھا یہ دبلا پتلا لڑکا کیا خاک کام کرے گا ۔ جیسے جیسے تجربہ بڑھتا جا رہا ہے میں اپنی رائے کو زیادہ اہمیت دینے لگ گئی ہوں ۔ تبارک کے ساتھ تین سال کام کر کے میرا خیال ہے کہ اداروں کو بڑی ڈگریاں یا اونچے لمبے لوگ نہیں چلاتے بلکہ خلوص چلاتا ہے ۔ میری ٹیم میں سب سے ایماندار اور بھلا آدمی تبارک ہے۔ پچھلے تین سال میں مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کوئی کام کہا ہو اور وہ کام اس کے فرائض میں آتا ہو یا نہیں اور جواب نہ میں آیا ہو ۔ خصوصاً ان دنوں جب کالج میں کوئی پروگرام ہو اور شام ہو جائے اور میں صبح کے لیے کھپ رہی ہوں تو گیٹ کھولتے ہوئے تبارک کہتا ہے ،" میڈم جی تسی بے فکر ہو کے جاؤ " ۔ آج کل بھلا یہ کون کہتا ہے سبھی تو فکریں دینے والے ہوتے ہیں ۔
آج تبارک کی شادی ہے ایک میٹنگ کی وجہ سے شادی تو نہیں اٹینڈ کر سکی لیکن رات کچھ دیر کے لیے مہندی پر گئی ۔ راستہ نہیں معلوم تھا تو دولہا سڑک تک خود لینے آیا۔ اس کی پھوپھیوں اور مامیوں نے مجھے اتنی چمیاں دیں کہ واپسی تک میرا ایک نیا ہیئر سٹائل بن چکا تھا ۔ واپسی پر سب خواتین مجھے گاڑی تک چھوڑنے آئیں۔ میرے دیے ہوئے تھوڑے سے سلامی کے پیسے بھی اس کی امی لوٹانا چاہتی تھیں کیونکہ ان کے لیے میرا آ جانا ہی کافی تھا اور یہ ان سب کے چہروں پر لکھا ہوا تھا۔ ڈھولکی پر بھی وہ چاہ رہی تھیں کہ میں "بڑی میڈم" کرسی پر بیٹھوں لیکن بھلا آلتی پالتی مارے بغیر ڈھول کیسے بجایا جا سکتا ہے اور میرے اندر کی میراثن دولہے کا سہرا گانے کو بےتاب تھی لیکن وہ سب مجھ سے ٹپے سننا چاہتی تھیں۔ بس پھر غلط سلط ،بے سُرا جو بھی آتا تھا سب گایا ۔
بھئی میں کہتی ہوں کہ یہ جو آپ محبت نہ ملنے کا رونا روتے ہیں اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ آپ اپنے سے اونچے لوگوں کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں۔ ان پر تو آپ اپنی ساری جمع پونجی، سارا وقت بھی لٹا دیں تو انہیں بھلا کیا فرق پڑتا ہے ۔ ان کی گردن کا سریا آپ کو کہیں نہ کہیں ان کی اور آپ کی اوقات دکھا دے گا۔ اپنے جیسوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کریں ان کے دکھوں اور خوشیوں میں شریک ہوں پھر دیکھیے گا محبت کیسے نور بن کر آپ کے چہرے پر کھلے گی۔ اور کوشش کریں کہ یہ بات جلدی سمجھ جائیں ایسا نہ ہو کہیں دیر ہو جائے اور محبت آپ کے گھر کا راستہ بھول جائے ۔
جیتے رہو بھائی، وش یو آل دا لک۔
منقول
20/06/2025
کولمبیا یونیورسٹی کا ایک طالبعلم ریاضی کی کلاس میں سو گیا۔ جب آنکھ کھلی تو طلباء کی آوازیں آ رہی تھیں کہ لیکچر ختم ہو چکا تھا۔
اس نے دیکھا کہ پروفیسر نے تختہِ سیاہ پر دو سوال لکھے ہوئے ہیں۔ اس نے سوچا کہ یہ یقیناً ہوم ورک کے سوالات ہوں گے۔ اس نے جلدی سے دونوں سوال اپنی کاپی میں نقل کر لیے تاکہ گھر جا کر حل کرے۔
جب اس نے ان پر کام شروع کیا تو پایا کہ یہ سوالات انتہائی مشکل ہیں مگر وہ ہمت نہ ہارا۔ لائبریری گیا، کتابیں کھنگالیں، حوالہ جات دیکھے، اور مسلسل کوشش کرتا رہا، یہاں تک کہ بڑی مشکل سے ان میں سے ایک سوال حل کر لیا۔
اگلی کلاس میں، اس نے حیرت سے دیکھا کہ پروفیسر نے پچھلے لیکچر کے ہوم ورک کے بارے میں کوئی بات ہی نہیں کی!
اس نے پوچھا: "سر! آپ نے پچھلی کلاس کا ہوم ورک چیک ہی نہیں کیا جو آپ نے آخر میں بورڈ پر لکھا تھا؟"
پروفیسر نے حیرت سے کہا: "ہوم ورک؟ وہ ہوم ورک نہیں تھا۔ میں نے تو صرف چند ایسی مثالیں دی تھیں جنہیں ابھی تک دنیا کے بڑے بڑے ریاضی دان بھی حل نہیں کر سکے!"
طالبعلم حیرت سے بولا:
"لیکن میں نے ان میں سے ایک سوال چار صفحات میں حل کر لیا ہے!"
بعد میں اس سوال کا حل کولمبیا یونیورسٹی میں باقاعدہ رجسٹر کیا گیا اور آج تک وہ حل اس طالبعلم کے نام سے جانا جاتا ہے۔
وہ چار صفحات آج بھی یونیورسٹی میں محفوظ ہیں۔
یہ طالبعلم بعد میں ریاضی کے عظیم ماہر بنے: "جارج دانتزِگ (George Dantzig)"
انہوں نے صرف اس لیے یہ مسئلہ حل کر لیا، کیونکہ انہوں نے یہ نہیں سُنا تھا کہ:
"یہ سوالات آج تک کوئی حل نہیں کر سکا!"
انہوں نے خود کو یہ یقین دلا دیا کہ ان کا حل ممکن ہے۔
اور جب مایوسی کے بغیر کوشش کی…
تو وہ انہیں حل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
کبھی کسی کی یہ بات نہ سنو کہ "تم نہیں کر سکتے!"
تم سب کچھ کر سکتے ہو، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں ان شاء اللہ۔
19/06/2025
جاسوسہ جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی… اور بیویوں کی زبان سے شوہروں کو مروایا!
کیتھرین پیریز شکدام — ایک فرانسیسی دوشیزہ، جس نے اسلام قبول کیا اور علانیہ تشیع اختیار کر لیا۔
اس نے ایرانی انقلاب کی تعریف کی، ولایتِ فقیہ کی حمایت کی،
یہاں تک کہ اس کے مضامین ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی ویب سائٹ پر شائع ہونے لگے۔
لیکن یہ سب محض نقاب تھے…
درحقیقت، اس کے پیچھے موساد کی آنکھیں چھپی تھیں،
جو ایرانی نظام کے اندر سے ہر چیز کو دیکھ رہی تھیں۔
کیتھرین کسی عام جاسوس کی طرح ایران میں داخل نہیں ہوئی،
بلکہ وہ ایک لکھاری، صحافی اور مفکر کے طور پر سامنے آئی۔
اس نے سیاستدانوں سے ملاقاتیں کیں، پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ بیٹھکیں جمائیں،
ابراہیم رئیسی سے ملی،
اور "صحافتی تحقیق" کے پردے میں حساس علاقوں کا دورہ کیا۔
مگر سب سے خطرناک محاذ تھا: خواتین کے نجی محفلیں۔
وہ ایرانی اعلیٰ حکام، فوجی افسران اور سائنسدانوں کی بیویوں کے قریب ہوئی،
ان سے قریبی تعلقات بنائے،
ان کا دل جیتا یہاں تک کہ وہ اسے اپنی جیسی ایک "بہن" سمجھنے لگیں۔
پھر وہ اپنے شوہروں کی ذاتی زندگی، رہائش، سفر، سیکیورٹی اور روزمرہ کے معمولات تک کی باتیں اس
اس سے بے دھڑک کرنے لگیں۔
ہر لفظ ریکارڈ ہوتا رہا،
ہر معلومات اسرائیل کو بھیجی جاتی رہی۔
انہی معلومات کی بنیاد پر اہم شخصیات کی ٹارگٹ کلنگز ہوئیں،
ایسی کلنگز جو خواتین کی معصوم باتوں سے ممکن ہوئیں —
ایسی باتیں، جن کا شاید انہیں خود بھی ادراک نہ تھا کہ وہ جان لیوا ثابت ہوں گی۔
جب اس پر شک ہوا،
تو وہ ایران سے فوراً فرار ہو گئی،
اس سے پہلے کہ راستے بند ہو جائیں۔
مگر اس وقت تک اس کا مشن مکمل ہو چکا تھا۔
وہ ایران کو وہ زخم دے چکی تھی،
جن کی تکلیف آج بھی جاری ہے۔
اسرائیل اب تک ان معلومات کی بنیاد پر خفیہ اور مہلک کارروائیاں کر رہا ہے،
جو کیتھرین نے ایران کے ایوانوں اور گھروں سے حاصل کیں۔
یہ صرف ایک جاسوسی کی داستان نہیں،
بلکہ ایک ریاستی سیکیورٹی کی زبردست ناکامی ہے۔
آج کے دور میں،
جنگیں بندوق سے نہیں،
بلکہ زبان کے وار سے لڑی جاتی ہیں — خاص طور پر خواتین کے حلقوں میں۔
کیا ایران اس سیکیورٹی بریک سے نکل پائے گا؟
اور کیا ایسی کوئی "کیتھرین" آج کسی اور ملک میں سرگرم ہے…؟
https://www.thejc.com/news/uk/former-muslim-who-infiltrated-the-tehran-regime-is-new-head-of-we-believe-in-israel-y2wvqhpi