ZABIR SAEED Institute of MEDIA Studies

ZABIR SAEED Institute of MEDIA Studies

Share

PAKISTAN'S No 1 OnLine Media Studies Institute. Founder: Sahibzada Zabir Saeed Badar | Awarded As

ZABIR SAEED INSTITUTE OF MEDIA STUDIES is established in the name of ZABIR SAEED BADAR who is renowned as media strategist, public relations practitioner, communication educationist, research scholar and a writer of dozen of books in the fields of Journalism, Mass Communication, P***c Relations, History and Current Affairs. The author is the son of the well known journalist poet and writer Saeed B

08/06/2026

پالتو جانور آپ کے بہترین دوست ہو سکتے ہیں
نفسیات کیا کہتی ہے

07/06/2026
07/06/2026

جرم، خود فریبی اور انسانی نفسیات کی پیچیدہ دنیا

صاحب زادہ
محمد زابر سعید بدر

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک خاتون پروفیسر کا قتل بظاہر جائیداد کے تنازع کی ایک عام سی خبر معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس واقعے کو محض ایک کرائم رپورٹ کے بجائے انسانی نفسیات کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہ کئی گہرے سوالات اٹھاتا ہے۔

پروفیسر دیبوسمیتا پال ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں۔ ان کے مبینہ قاتل بھی کوئی جنگلوں میں رہنے والے یا دنیا سے کٹے ہوئے لوگ نہیں تھے۔ وہ ایک ایسے معاشرے کا حصہ تھے جہاں برسوں سے کرائم پر مبنی پروگرام نشر ہو رہے ہیں۔ بھارت میں "کرائم پٹرول"، "سی آئی ڈی" اور اسی نوعیت کے درجنوں پروگراموں نے لاکھوں لوگوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ جرم کرنے والا بالآخر قانون کی گرفت میں آ جاتا ہے۔ سینکڑوں فلمیں، ہزاروں خبریں اور روزانہ کے واقعات یہی سبق دہراتے ہیں کہ جدید دور میں جرم کو چھپانا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے قتل کا فیصلہ کیوں کیا؟

نفسیات دان اس کیفیت کو "Optimism Bias" یا غیر حقیقی امید پسندی کہتے ہیں۔ انسان دوسروں کے انجام سے سبق تو لیتا ہے مگر لاشعوری طور پر یہ سمجھتا رہتا ہے کہ جو غلطی دوسروں سے ہوئی، وہ مجھ سے نہیں ہوگی۔ جو لوگ پکڑے گئے وہ شاید کم عقل تھے، میں زیادہ ہوشیار ہوں۔ یہی سوچ اسے خطرناک فیصلوں تک لے جاتی ہے۔

جرم کی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب غصہ، لالچ، انتقام یا ملکیت کا احساس شدید ہو جائے تو انسان کا منطقی دماغ کمزور پڑنے لگتا ہے۔ وہ نتائج کے بجائے صرف فوری مقصد کو دیکھتا ہے۔ اس مرحلے پر وہ قانون، اخلاقیات اور مستقبل کی سزا کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی قاتل قتل سے چند گھنٹے پہلے تک خود کو عقل مند اور کامیاب منصوبہ ساز سمجھ رہے ہوتے ہیں، لیکن چند دن بعد ہتھکڑیوں میں نظر آتے ہیں۔

یہاں ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر میڈیا اتنی آگاہی پیدا کر رہا ہے تو پھر جرم کیوں ختم نہیں ہوتا؟

اس کا جواب ابلاغیاتی تحقیق میں ملتا ہے۔ میڈیا معلومات دے سکتا ہے، خبردار کر سکتا ہے، مثالیں پیش کر سکتا ہے، لیکن وہ انسان کے کردار کی جگہ نہیں لے سکتا۔ ایک اشتہار لوگوں کو سگریٹ کے نقصانات بتا سکتا ہے، مگر ہر سگریٹ نوشی کرنے والا شخص سگریٹ نہیں چھوڑتا۔ اسی طرح کرائم پروگرام جرم کے نتائج دکھا سکتے ہیں، لیکن وہ ہر فرد کے اندر موجود غصے، حرص یا انتقام کے جذبے کو ختم نہیں کر سکتے۔

سماجی نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ معلومات اور رویے کے درمیان ہمیشہ سیدھا تعلق نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ بدعنوانی غلط ہے، پھر بھی بدعنوانی کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جھوٹ نقصان دہ ہے، پھر بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ قتل کی سزا موت یا عمر قید ہے، پھر بھی قتل کرتے ہیں۔ علم اور عمل کے درمیان ایک گہری خلیج موجود ہے۔

یہ واقعہ دراصل انسان کی ایک قدیم کمزوری کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ انسان اکثر تین وہم پال لیتا ہے: میں نہیں پکڑا جاؤں گا، میرا راز ظاہر نہیں ہوگا، اور میرے ساتھ وہ نہیں ہوگا جو دوسروں کے ساتھ ہوا۔ تاریخ، مذہب، فلسفہ اور نفسیات سب یہی بتاتے ہیں کہ یہ تینوں وہم بار بار ٹوٹتے ہیں، لیکن انسان انہیں بار بار پیدا کر لیتا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کے دور میں سی سی ٹی وی کیمرے، موبائل فون، ڈیجیٹل ریکارڈ، سفری دستاویزات اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تفتیشی نظام جرم کو پہلے سے کہیں زیادہ قابلِ سراغ بنا چکے ہیں۔ اس کے باوجود بعض لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ سب کو دھوکا دے سکتے ہیں۔ درحقیقت وہ دوسروں سے پہلے خود کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں۔

شاید اسی لیے یہ خبر صرف ایک قتل کی خبر نہیں۔ یہ انسانی ذہن کے اس پیچیدہ گوشے کی یاد دہانی ہے جہاں عقل، خواہش، خوف اور خود فریبی ایک دوسرے سے برسرِ پیکار رہتے ہیں۔ قانون مجرم کو پکڑ سکتا ہے، میڈیا آگاہی پیدا کر سکتا ہے، لیکن انسان کو اپنے نفس کے دھوکے سے بچانے کی ذمہ داری آخرکار خود انسان پر ہی عائد ہوتی ہے۔

___________
زابر سعید انسٹیٹیوٹ اف میڈیا اینڈ پالیسی سٹڈیز نے اس حالیہ خبر کو صحافت، نفسیات، ابلاغیات (Media Effects Theory)، سماجی نفسیات اور انسانی رویوں کے مطالعے کو یکجا کرتے ہوئے پیش کیا ہے، تاکہ میڈیا سائنس کے طالب علم انسانی رویوں کی پیچیدگی کو ایک نئے فہم و ادراک کے ساتھ سمجھ سکیں

06/06/2026

خاموش مطالعہ کلب: کیا پاکستان میں بھی کتابیں دوبارہ زندہ ہو سکتی ہیں؟
________
صاحب زادہ زابر سعید کی تجویز
________
ایک زمانہ تھا جب پاکستان میں شام ڈھلے محلے کی لائبریریوں میں رونق ہوتی تھی۔ ریلوے اسٹیشن پر سفر سے پہلے رسالہ خریدا جاتا تھا، کالجوں کے لان میں دوست ناولوں پر بحث کرتے تھے اور چائے خانوں میں سیاست کے ساتھ ساتھ کتابوں کا بھی ذکر ہوتا تھا۔ آج منظر بدل چکا ہے۔ ہاتھ میں کتاب کی جگہ موبائل فون ہے اور دو منٹ کی ویڈیو نے دو سو صفحات کی کتاب سے مقابلہ شروع کر دیا ہے۔

مگر دنیا کے کئی ممالک میں ایک دلچسپ رجحان جنم لے رہا ہے، جسے "سائلنٹ بک کلب" یا خاموش مطالعہ کلب کہا جاتا ہے۔ اس میں لوگ کسی کیفے، پارک یا لائبریری میں جمع ہوتے ہیں، تھوڑی دیر گپ شپ کرتے ہیں، پھر ایک گھنٹے تک مکمل خاموشی سے اپنی اپنی پسند کی کتاب پڑھتے ہیں۔ بعد میں اگر دل چاہے تو کتاب پر بات بھی کر لیتے ہیں۔

سوچیے، اگر لاہور کے باغِ جناح، اسلام آباد کے کسی کیفے، پشاور کے قصہ خوانی بازار یا ملتان کے کسی ادبی مرکز میں ہر اتوار نوجوان، بزرگ، اساتذہ، صحافی اور طلبہ صرف ایک گھنٹے کے لیے اپنے موبائل بند کر کے کتاب کھول لیں تو کیا منظر ہو گا؟

حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستان میں وقت کی کمی سے زیادہ توجہ کی کمی کا مسئلہ ہے۔ ہم روزانہ گھنٹوں سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں، لیکن دس صفحات مسلسل پڑھنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ ایک ویڈیو ختم نہیں ہوتی کہ دوسری سامنے آ جاتی ہے۔ دماغ کو ہر لمحہ نئی سنسنی چاہیے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق یہی مسلسل "ڈوپامین سائیکل" انسان کی یکسوئی کو کمزور کر دیتا ہے۔

اس کے برعکس کتاب کا سفر آہستہ ہوتا ہے۔ کتاب قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ وہ تخیل کو بیدار کرتی ہے، الفاظ کا خزانہ بڑھاتی ہے اور انسان کو دوسروں کے دکھ سکھ سمجھنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ باقاعدہ مطالعہ ذہنی دباؤ کم کرتا ہے، نیند بہتر بناتا ہے اور بڑھتی عمر میں یادداشت کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ہمارے ہاں اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ نوجوان کتابوں سے دور ہو گئے ہیں۔ شاید سوال یہ نہیں کہ نوجوان کتابوں سے دور ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم نے ان کے لیے کتاب کو ایک سماجی سرگرمی بنایا؟ اگر دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلی جا سکتی ہے، کافی پی جا سکتی ہے اور فلم دیکھی جا سکتی ہے تو دوستوں کے ساتھ خاموشی سے کتاب کیوں نہیں پڑھی جا سکتی؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے کلب میں کوئی نصاب نہیں ہوتا، کوئی امتحان نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی یہ پوچھتا ہے کہ آپ فلسفہ پڑھ رہے ہیں یا جاسوسی ناول۔ آپ اقبال پڑھیں، ابنِ خلدون، اشفاق احمد، نسیم حجازی، مستنصر حسین تارڑ یا پھر جدید سائنس کی کوئی کتاب، مقصد صرف یہ ہے کہ کچھ دیر کے لیے اسکرین سے نکل کر الفاظ کی دنیا میں داخل ہو جائیں۔

پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں ذہنی دباؤ، معاشی پریشانیاں اور سماجی تقسیم بڑھ رہی ہے، شاید ایک گھنٹے کا مشترکہ مطالعہ صرف ایک ادبی سرگرمی نہیں بلکہ ایک سماجی ضرورت بھی بن سکتا ہے۔ یہ لوگوں کو جوڑ سکتا ہے، گفتگو کا معیار بہتر بنا سکتا ہے اور نئی نسل کو یہ احساس دلا سکتا ہے کہ علم صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ بہتر انسان بننے کا راستہ بھی ہے۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دوستوں کے ساتھ ایک نئی روایت شروع کریں۔ اگلی بار چائے کی میز پر صرف سیاست اور مہنگائی پر بات نہ ہو۔ ایک کتاب بھی ساتھ رکھی جائے۔

ممکن ہے پاکستان کو ایک اور شور مچانے والے کلب کی نہیں، بلکہ چند خاموش کتاب دوستوں کی ضرورت ہو۔

06/06/2026

کیا مغلیہ ہندوستان واقعی سو فیصد خواندہ تھا؟ ایک تاریخی جائزہ
_______


برصغیر کے تعلیمی نظام پر بحث کے دوران دو انتہائیں سامنے آتی ہیں۔ ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ انگریزوں نے ایک مکمل طور پر خواندہ اور علمی ہندوستان کو تباہ کر دیا، جبکہ دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ جدید تعلیم کا آغاز ہی برطانوی دور سے ہوا۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ حقیقت ان دونوں کے درمیان موجود ہے۔

معتبر برطانوی سرکاری ریکارڈ اور متعدد محققین کی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ برصغیر میں انگریزوں کی آمد سے قبل ایک وسیع مقامی تعلیمی نظام موجود تھا۔ محقق دھرمپال (Dharampal) نے اپنی معروف کتاب The Beautiful Tree: Indigenous Indian Education in the Eighteenth Century میں مدراس، بنگال اور بمبئی پریذیڈنسی کے برطانوی سرویز کی بنیاد پر استدلال کیا ہے کہ دیہی اور شہری علاقوں میں بڑی تعداد میں مقامی سکول اور مدارس کام کر رہے تھے۔ ان ریکارڈز سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ان اداروں میں صرف برہمن ہی نہیں بلکہ شودر اور دیگر طبقات کے طلبہ بھی زیر تعلیم تھے۔

اس حقیقت کی تائید ولیم ایڈم (William Adam Reports, 1835-1838) کی بنگال سے متعلق رپورٹوں سے بھی ہوتی ہے، جن میں مقامی تعلیمی اداروں کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ اسی طرح جنوبی ہندوستان کے بارے میں Sir Thomas Munro کی انتظامی رپورٹس بھی اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دیہات کی سطح پر تعلیم کا ایک منظم ڈھانچہ موجود تھا۔

مغلیہ اور قبل از نوآبادیاتی تعلیمی نظام میں صرف مذہبی علوم ہی نہیں بلکہ منطق، فلسفہ، ریاضی، ہندسہ، الجبرا، طب، ادب اور لسانیات جیسے مضامین بھی پڑھائے جاتے تھے۔ دینی اور دنیاوی علوم کی یہ آمیزش اس نظام کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔

البتہ بعض مقبول دعوے، مثلاً یہ کہ 1857ء میں ہندوستان کی 90 فیصد آبادی خواندہ تھی یا یہ کہ برطانوی اقتدار کے اختتام پر شرح خواندگی صرف 12 فیصد رہ گئی، مستند تاریخی شواہد سے ثابت نہیں ہوتے۔ اسی طرح یہ دعویٰ کہ برطانیہ کے تعلیمی قوانین براہ راست مغلیہ "اتالیق" نظام سے اخذ کیے گئے تھے، بھی مضبوط دستاویزی ثبوت کا محتاج ہے۔

یہ ضرور ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 1835ء میں تھامس بابنگٹن میکالے (Thomas Babington Macaulay) کی مشہور Minute on Indian Education اور لارڈ ولیم بنٹیک (Lord William Bentinck) کی تعلیمی پالیسیوں نے مقامی زبانوں اور روایتی تعلیمی اداروں کی سرکاری سرپرستی کو کمزور کیا۔ بعد ازاں سرکاری ملازمتوں میں انگریزی زبان کی اہمیت بڑھنے سے روایتی تعلیمی ڈھانچہ بتدریج زوال پذیر ہوا۔

تاریخی دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ نہ تو برصغیر کے قدیم تعلیمی نظام کی عظمت سے انکار کیا جائے اور نہ ہی ایسے اعداد و شمار کو حقیقت کے طور پر پیش کیا جائے جن کے حق میں معتبر شواہد موجود نہ ہوں۔ برصغیر کا روایتی نظام تعلیم ایک وسیع، متنوع اور نسبتاً جامع نظام تھا، جس کے کئی پہلو آج بھی قابل مطالعہ اور قابل استفادہ ہیں۔

اہم مراجع

1. Dharampal, The Beautiful Tree: Indigenous Indian Education in the Eighteenth Century.
2. William Adam, Reports on the State of Education in Bengal (1835–1838).
3. Thomas Babington Macaulay, Minute on Indian Education (1835).
4. G. W. Leitner, History of Indigenous Education in the Punjab.
5. A. E. Dobbs, A Short History of Education.
6. Sir Thomas Munro's Administrative Reports on Education.
7. Oxford Commission Report (1852).

05/06/2026

برٹرینڈ رسل:
البرٹ آئن سٹائن کی عظمت
___________
مدیر دانش گاہ:
#پروفیسرزابرسعیدبدر

البرٹ آئن سٹائن بلا شبہ اپنے زمانے کے عظیم ترین انسانوں میں سے ایک تھے۔ ان میں وہ سادگی بدرجۂ اتم موجود تھی جو بڑے سائنس دانوں کی پہچان ہوتی ہے۔ یہ سادگی اس خالص اور یکسو خواہش سے پیدا ہوتی ہے جس کا مقصد صرف حقیقت کو جاننا اور چیزوں کو سمجھنا ہوتا ہے، بغیر کسی ذاتی مفاد یا تعصب کے۔

آئن سٹائن کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی تھی کہ وہ روزمرہ کی مانوس چیزوں کو محض عادتاً قبول نہیں کرتے تھے بلکہ ان پر غور و فکر کرتے تھے۔ جس طرح نیوٹن نے یہ سوال اٹھایا کہ سیب زمین پر کیوں گرتا ہے، اسی طرح آئن سٹائن اس حقیقت پر حیرت اور شکرگزاری کا اظہار کرتے تھے کہ چار برابر لمبائی کی سلاخیں مل کر ایک مربع بنا سکتی ہیں۔ ان کے تصور میں ایسے بے شمار ممکنہ کائناتیں تھیں جہاں مربع جیسی شکل کا وجود ہی ممکن نہ ہوتا۔

ان کی عظمت صرف سائنسی کارناموں تک محدود نہیں تھی بلکہ ان کے اخلاقی اوصاف بھی غیر معمولی تھے۔ نجی زندگی میں وہ نہایت مہربان، منکسر المزاج اور سادہ طبیعت انسان تھے۔ اپنے ساتھی سائنس دانوں کے ساتھ ان کا رویہ حسد اور رقابت سے پاک تھا۔ یہ خوبی ایسی تھی جو نہ نیوٹن میں پوری طرح پائی جاتی تھی اور نہ ہی لائبنیز میں۔

زندگی کے آخری برسوں میں نظریۂ اضافیت (Relativity) کی جگہ سائنسی دنیا میں کوانٹم نظریے (Quantum Theory) نے زیادہ توجہ حاصل کر لی تھی، لیکن میں نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ اس بات سے آئن سٹائن کو کوئی رنج یا پریشانی ہوئی ہو۔ ان کی دلچسپی صرف اپنی شہرت یا نظریات کی برتری تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ علم کی مجموعی ترقی کو اہمیت دیتے تھے۔

وہ عالمی معاملات میں بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے پر، جب میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی، وہ امن پسند (Pacifist) تھے۔ لیکن ہٹلر کے ظہور نے، جس طرح مجھے متاثر کیا، اسی طرح انہیں بھی اپنے اس مؤقف پر نظرثانی پر مجبور کر دیا۔ پہلے وہ خود کو پوری دنیا کا شہری سمجھتے تھے، مگر نازیوں کے ظلم و ستم نے انہیں اپنی یہودی شناخت کا احساس دلایا، اور وہ دنیا بھر کے یہودیوں کے حقوق اور مفادات کے حامی بن گئے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد آئن سٹائن ان امریکی سائنس دانوں کے گروہ میں شامل ہو گئے جو ایٹم بم کی تباہ کاریوں سے انسانیت کو بچانے کے لیے کوئی محفوظ راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ سائنس انسان کی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنے، نہ کہ اس کی تباہی کا۔

برٹرینڈ رسل کے نزدیک آئن سٹائن کی اصل عظمت صرف ان کی ذہانت میں نہیں تھی بلکہ ان کی سادگی، انکساری، اخلاقی بلندی اور انسانیت کے لیے فکر میں بھی تھی۔ یہی اوصاف انہیں ایک عظیم سائنس دان کے ساتھ ساتھ ایک عظیم انسان بھی بناتے ہیں۔

جب امریکہ میں کانگریس کی کمیٹیوں نے مبینہ تخریبی سرگرمیوں کی تحقیقات کے نام پر تفتیشی کارروائیاں شروع کیں تو آئن سٹائن نے ایک مشہور کھلا خط لکھا۔ اس خط میں انہوں نے یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں سے وابستہ تمام افراد کو مشورہ دیا کہ وہ ان کمیٹیوں اور بعض جامعات کی جانب سے قائم کیے گئے تقریباً آمرانہ بورڈز کے سامنے گواہی دینے سے انکار کر دیں۔

ان کا استدلال یہ تھا کہ امریکی آئین کی پانچویں ترمیم کے مطابق کسی شخص کو ایسا سوال جواب دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جس سے وہ خود اپنے خلاف جرم کا ثبوت فراہم کرے۔ لیکن ان تفتیش کاروں نے اس آئینی تحفظ کی روح کو ناکام بنا دیا تھا، کیونکہ وہ خاموشی یا جواب دینے سے انکار کو بھی جرم کی علامت سمجھتے تھے۔ آئن سٹائن کا خیال تھا کہ اگر تعلیمی حلقے اجتماعی طور پر اس پالیسی پر عمل کرتے، حتیٰ کہ ان لوگوں کے معاملات میں بھی جن پر الزام لگانا سراسر بے بنیاد تھا، تو علمی آزادی کو بہت فائدہ پہنچتا۔ لیکن ہر شخص نے اپنی جان بچانے کی فکر کی، اور جن لوگوں کو خود پر بے گناہی کا یقین تھا انہوں نے بھی آئن سٹائن کے مشورے پر توجہ نہ دی۔

اپنی تمام عوامی سرگرمیوں میں آئن سٹائن نے کبھی ذاتی شہرت یا مفاد کو اہمیت نہیں دی۔ ان کی واحد فکر یہ تھی کہ انسانیت کو ان مصیبتوں سے کیسے بچایا جائے جو خود انسان کی غلطیوں اور حماقتوں کا نتیجہ ہیں۔ دنیا اگرچہ انہیں ایک عظیم سائنس دان کے طور پر سراہتی تھی، لیکن عملی معاملات میں ان کی دانش اتنی سادہ اور اتنی گہری تھی کہ دنیا کے نام نہاد ذہین اور پیچیدہ سوچ رکھنے والے لوگ اسے اکثر سادہ لوحی سمجھ لیتے تھے۔

اگرچہ آئن سٹائن نے نظریۂ اضافیت کے علاوہ بھی بہت اہم سائنسی کام کیے، لیکن ان کی شہرت کا سب سے بڑا سبب نظریۂ اضافیت ہی ہے، اور بجا طور پر ہے، کیونکہ اس کی اہمیت سائنس اور فلسفے دونوں کے لیے بنیادی نوعیت کی ہے۔

بہت سے لوگوں نے، جن میں میں خود بھی شامل ہوں، اس نظریے کی عام فہم تشریحات پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اس لیے میں یہاں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ البتہ میں مختصراً یہ بتانا چاہوں گا کہ اس نظریے نے کائنات کے بارے میں ہمارے تصور کو کس طرح بدل دیا۔

جیسا کہ سب جانتے ہیں، نظریۂ اضافیت دو مراحل میں سامنے آیا۔ پہلا مرحلہ خصوصی نظریۂ اضافیت (1905ء) تھا اور دوسرا عمومی نظریۂ اضافیت (1915ء)۔

خصوصی نظریۂ اضافیت سائنسی اور فلسفیانہ دونوں اعتبار سے نہایت اہم ثابت ہوا۔

پہلی وجہ یہ تھی کہ اس نے مائیکلسن-مورلے تجربے کے نتائج کی وضاحت کر دی، ایک ایسا مسئلہ جس نے تقریباً تیس برس تک سائنس دانوں کو الجھا رکھا تھا۔

دوسری وجہ یہ تھی کہ اس نے یہ سمجھایا کہ الیکٹرانوں کی رفتار بڑھنے کے ساتھ ان کی کمیت (Mass) میں اضافہ کیوں ہوتا ہے، ایک حقیقت جس کا مشاہدہ پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔

تیسری وجہ یہ تھی کہ اس نظریے نے کمیت اور توانائی کے باہمی تبادلے کا تصور پیش کیا، جو بعد میں طبیعیات کے بنیادی اصولوں میں شامل ہو گیا۔

اس تصور کا مشہور اظہار یہ مساوات ہے:

E=mc^2

یعنی کمیت اور توانائی دراصل ایک ہی حقیقت کی مختلف شکلیں ہیں۔

یہ صرف چند مثالیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ خصوصی نظریۂ اضافیت نے سائنس میں کتنی گہری تبدیلی پیدا کی۔ اس کے اثرات نے نہ صرف طبیعیات کے بنیادی تصورات کو بدل دیا بلکہ کائنات، زمان و مکان اور حقیقت کی نوعیت کے بارے میں انسانی سوچ کو بھی ایک نئی جہت عطا کی.

فلسفیانہ اعتبار سے خصوصی نظریۂ اضافیت نے انسانی فکر میں ایک بنیادی انقلاب برپا کر دیا۔ اس نظریے نے ہمیں کائنات کے زمان و مکان (Space and Time) کے بارے میں اپنے صدیوں پرانے تصورات بدلنے پر مجبور کر دیا۔

طبیعی دنیا کے بارے میں ہمارے علم میں "ساخت" (Structure) سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ طویل عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ کائنات کی ساخت دو الگ نظاموں پر قائم ہے: ایک مکان (Space) اور دوسرا زمان (Time)۔ لیکن آئن سٹائن نے تجرباتی اور منطقی دلائل کی بنیاد پر ثابت کیا کہ ان دونوں کو الگ الگ نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ انہیں ایک ہی حقیقت کے طور پر دیکھنا چاہیے، جسے انہوں نے زمان-مکان (Space-Time) کا نام دیا۔

اگر دو واقعات مختلف مقامات پر رونما ہوں تو پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہم ان کے درمیان فاصلہ اتنے میل اور اتنے منٹ بتا سکتے ہیں۔ لیکن آئن سٹائن نے دکھایا کہ مختلف مبصرین، خواہ وہ کتنی ہی احتیاط سے مشاہدہ کریں، فاصلے اور وقت کے مختلف اندازے لگائیں گے، اور سب کے اندازے درست ہوں گے۔ ایسی صورت میں صرف ایک چیز تمام مبصرین کے لیے یکساں رہتی ہے، جسے "وقفہ" (Interval) کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل فاصلے اور وقت کا ایک مشترکہ پیمانہ ہے۔

عمومی نظریۂ اضافیت خصوصی نظریے سے کہیں زیادہ وسیع اور سائنسی اعتبار سے زیادہ اہم ہے۔ یہ بنیادی طور پر کششِ ثقل (Gravitation) کا نظریہ ہے۔

نیوٹن کے بعد تقریباً 230 برس تک کششِ ثقل کی اصل نوعیت کو سمجھنے میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔ سائنس دان ہمیشہ اس بات سے ناخوش تھے کہ نیوٹن کے نظریے میں اجسام ایک دوسرے پر دور سے اثر انداز ہوتے ہیں، مگر یہ واضح نہیں تھا کہ یہ عمل کیسے ہوتا ہے۔

آئن سٹائن نے اس مسئلے کا ایک بالکل نیا حل پیش کیا۔ ان کے مطابق کششِ ثقل دراصل جیومیٹری کا حصہ ہے اور زمان-مکان کی ساخت ہی اس کی ذمہ دار ہے۔

اس تصور کو سمجھنے کے لیے رسل ایک سادہ مثال دیتے ہیں۔ طبیعیات میں ایک اصول ہے جسے اصولِ کم ترین عمل (Principle of Least Action) کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق کوئی جسم ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کے لیے ہمیشہ نسبتاً آسان راستہ اختیار کرتا ہے، اور یہ ضروری نہیں کہ وہ سیدھی لکیر ہو۔ اگر راستے میں پہاڑ اور گہری وادیاں ہوں تو مسافر ان سے بچ کر گزرنا پسند کرے گا۔

آئن سٹائن کے مطابق (اگرچہ یہ محض تشبیہ ہے) زمان-مکان بھی پہاڑیوں اور وادیوں سے بھرا ہوا ہے۔ اسی لیے سیارے سیدھی لکیر میں سفر نہیں کرتے۔ سورج گویا ایک بلند پہاڑی کی مانند ہے، اور سیارے اس کے گرد گھومنا اس کی چوٹی پر چڑھنے کے مقابلے میں آسان سمجھتے ہیں۔

اس نظریے کو جانچنے کے لیے نہایت باریک اور حساس تجربات کیے گئے۔ نتائج نے ثابت کیا کہ مشاہدات نیوٹن کے بجائے آئن سٹائن کے نظریے سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔ چنانچہ نازیوں کو چھوڑ کر تقریباً پوری سائنسی دنیا نے آئن سٹائن کے نظریے کو قبول کر لیا۔

عمومی نظریۂ اضافیت کے نتیجے میں کچھ حیران کن حقائق سامنے آئے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ کائنات محدود حجم رکھتی ہے، لیکن اس کی کوئی سرحد نہیں۔ (رسل خود خبردار کرتے ہیں کہ اگر آپ نے غیر اقلیدسی جیومیٹری کا مطالعہ نہیں کیا تو اس تصور کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں۔)

اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ نظریہ یہ بتاتا ہے کہ کائنات یا تو ہمیشہ پھیلتی رہے گی یا ہمیشہ سکڑتی رہے گی۔ دور دراز کہکشاؤں کے مشاہدات سے معلوم ہوا کہ کائنات واقعی پھیل رہی ہے۔

رسل کے زمانے میں سائنس دانوں کا اندازہ تھا کہ موجودہ کائنات تقریباً دو ارب سال پہلے وجود میں آئی۔ اس سے پہلے کیا تھا، اس بارے میں کوئی یقینی بات کہنا ممکن نہیں تھا۔

عوام کی نظر میں آئن سٹائن اب بھی ایک انقلابی موجد اور مفکر سمجھے جاتے تھے، لیکن طبیعیات دانوں کے درمیان ان کی حیثیت کسی حد تک "قدامت پسند مکتبِ فکر" کے رہنما کی بن چکی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کوانٹم نظریے کی بعض نئی تشریحات کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔

خاص طور پر آئن سٹائن نے ہائزن برگ کے اصولِ عدم تعین (Principle of Indeterminacy) کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا۔ کوانٹم نظریے کے مطابق ایٹموں کی سطح پر ہونے والے انفرادی واقعات کسی سخت اور قطعی قانون کے تابع نہیں ہوتے۔ دنیا میں جو باقاعدگیاں ہم دیکھتے ہیں وہ صرف شماریاتی (Statistical) نوعیت کی ہیں۔

رسل اس کی مثال انشورنس کمپنیوں سے دیتے ہیں۔ ایک انشورنس کمپنی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس سال کون سا بیمہ یافتہ شخص وفات پائے گا، اور نہ ہی اسے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے صرف اوسط شرحِ اموات اہم ہوتی ہے۔ اسی طرح کوانٹم نظریہ کہتا ہے کہ فطرت کے قوانین بھی بنیادی طور پر اسی قسم کی شماریاتی باقاعدگیوں پر مشتمل ہیں۔

آئن سٹائن نے اس تصور کو کبھی مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔ وہ یہ یقین رکھتے رہے کہ ایٹموں کے انفرادی رویّے کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی قطعی قانون موجود ہے، اگرچہ انسان ابھی تک اسے دریافت نہیں کر سکا۔

رسل اعتراف کرتے ہیں کہ جو شخص پیشہ ور طبیعیات دان نہ ہو، اس کے لیے اس معاملے میں رائے دینا مناسب نہیں۔ تاہم وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس مسئلے پر ماہرینِ طبیعیات کی اکثریت آئن سٹائن سے اختلاف کرتی تھی۔

یہ بات اور بھی حیرت انگیز ہے کیونکہ خود آئن سٹائن نے کوانٹم نظریے کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اگر وہ نظریۂ اضافیت پیش نہ بھی کرتے، تب بھی کوانٹم طبیعیات میں ان کی خدمات انہیں دنیا کے عظیم ترین سائنس دانوں کی صف میں کھڑا کرنے کے لیے کافی تھیں۔

رسل آخر میں لکھتے ہیں کہ کوانٹم نظریہ، نظریۂ اضافیت سے بھی زیادہ انقلابی ثابت ہوا ہے، اور غالباً انسانی تصوراتِ کائنات کو بدلنے کی اس کی صلاحیت ابھی مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوئی۔
کوانٹم نظریے کے تخیلاتی اور فکری اثرات نہایت حیران کن ہیں۔ اگرچہ اس نظریے نے انسان کو مادّے پر تصرف اور کنٹرول کی بے مثال طاقتیں عطا کیں، جن میں ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم جیسی خوفناک قوتیں بھی شامل ہیں، لیکن اسی کے ساتھ اس نے ہمیں یہ احساس بھی دلایا کہ جن بہت سی باتوں کو ہم یقینی علم سمجھتے تھے، درحقیقت ان کے بارے میں ہماری معلومات بہت محدود تھیں۔
کوانٹم نظریے سے پہلے کسی کو اس بات میں شک نہیں تھا کہ کسی بھی لمحے ایک ذرّہ (Particle) کسی مخصوص مقام پر موجود ہوتا ہے اور ایک معین رفتار سے حرکت کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن اب یہ تصور برقرار نہیں رہا۔
کوانٹم طبیعیات کے مطابق اگر آپ کسی ذرّے کی جگہ کو زیادہ درستگی سے معلوم کرنے کی کوشش کریں گے تو اس کی رفتار کے بارے میں معلومات کم درست ہو جائیں گی۔ اور اگر آپ اس کی رفتار کو زیادہ درستگی سے جاننا چاہیں گے تو اس کی پوزیشن کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ جائے گی۔
یہ تصور ہائزن برگ کے اصولِ عدم تعین کی بنیاد ہے:
مزید یہ کہ خود ذرّے کا تصور بھی مبہم ہو گیا۔ پہلے اسے ایک چھوٹی سی ٹھوس گیند، یعنی بلیئرڈ کی گیند کی طرح سمجھا جاتا تھا، لیکن اب ایسا نہیں رہا۔ جب آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے اسے ایک ذرّے کی صورت میں پکڑ لیا ہے تو وہ موج (Wave) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ گویا وہ ایک ہی وقت میں ذرّہ بھی ہے اور موج بھی۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس چند ریاضیاتی مساوات تو موجود ہیں، لیکن ان کی حتمی فلسفیانہ تشریح اب بھی پوری طرح واضح نہیں۔
آئن سٹائن کو یہ نقطۂ نظر پسند نہیں تھا۔ وہ طبیعیات کو کلاسیکی تصورات کے زیادہ قریب رکھنا چاہتے تھے۔ اسی لیے وہ عمر بھر اس خیال کے خلاف جدوجہد کرتے رہے کہ کائنات کی بنیاد مکمل غیر یقینی پن پر قائم ہے۔
اس اختلاف کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی میں سائنس کے جن انقلابی تصورات نے دنیا کو بدل دیا، ان کے تخلیقی دروازے سب سے پہلے آئن سٹائن ہی نے کھولے تھے۔
برٹرینڈ رسل اپنے مضمون کا اختتام انہی الفاظ کے مفہوم سے کرتے ہیں جن سے انہوں نے آغاز کیا تھا:
"وہ ایک عظیم انسان تھے، اور شاید اپنے عہد کے سب سے عظیم انسان۔"
______

اس کے بعد رسل سائنس کی اصل روح پر ایک نہایت خوبصورت تبصرہ کرتے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ سائنس کا تجربہ کچھ ایسا ہے جیسے آپ کا پاؤں زور سے کسی چیز سے ٹکرا جائے اور پھر آپ کو معلوم ہو کہ وہ واقعی ایک چٹان تھی۔ حقیقت سے اس براہِ راست تصادم اور نئی دریافت کے احساس کو عام لوگوں تک پہنچانا آسان نہیں۔
کسی انسان کو یہ سمجھانا کہ دنیا کے بارے میں کوئی نئی حقیقت دریافت کرنے کا تجربہ کیسا ہوتا ہے، تقریباً اتنا ہی مشکل ہے جتنا کسی ایسے شخص کو روحانی یا وجدانی تجربے کی کیفیت بیان کرنا جس نے کبھی اس کا ذرا سا اشارہ بھی محسوس نہ کیا ہو۔

زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Zabir Saeed Institute
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 16:30 - 20:00
Tuesday 16:30 - 20:00
Wednesday 16:30 - 20:00
Thursday 16:30 - 20:00
Friday 16:30 - 20:00