Quraanic Online Quran Academy

Quraanic Online Quran Academy

Share

Contact us today for FREE Trial Classes. Quraanic is a Leading Online Twelver Shia Islamic School of Thought. across the world. Course.

✅Online Islamic Courses for kids & adults.
✅Qualified male and female teachers
✅Personalized lessons
✅Refund Policy
✅Family Offfers
✅Flexible Schedules & Affordable monthly fee. We are working as an Online Shia Quran academy for all the followers of Ahlulbait (A.S.) Our teachings are based on the valuable teachings of our 14 infallibles (A.S.). Nowadays, many people and parents, especially in wes

10/05/2026

MashaAllah, Welcome to Islam.

09/05/2026

خوب صورت الفاظ اور درد بھری آواز۔

21/03/2026

Eid Mubarak

20/03/2026

کسی بھی وقت آپکو کال آسکتی ہے، لہذا محتاط رہیں 🤣🤣

20/03/2026

ایران نے اپنی فوج کو خود ہی کیوں تقسیم کیا ہے ؟

ایران نے ویتنام جنگ، پاکستان میں ضیاء الحق کے مارشل لاء ، ایران عراق جنگ اور صدام حسین پر ا مریکی حملے سے کیا سیکھا ؟
آئیے سمجھتے ہیں ۔

ایران میں ریاست منظم حصوں ارتش ، پاسداران انقلاب ، بسیج اور قدس پر تقسیم ہے۔

👈ارتش یہ ایران کی روایتی فوج ہے جس کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ غیر سیاسی ہے سوڈان کے جرنیلوں کی طرح انکا سیاست میں کوئی کام نہیں۔ انکے پاس دفاعی میزائل سسٹم ، جاسوسی ڈرونز اور طیارے اور تمام نیوی کے جنگی جہاز آبدوزیں ہوتی ہیں۔ یہ تعداد میں کم و بیش 4لاکھ ہیں ۔

👈 سال 1977 پاکستان میں فوجی جرنیل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لگایا ، اس سے ایران نے سبق حاصل کیا کہ ہمارے ملک میں بھی اسطرح ہوسکتاہے۔ سال 1979 کو تہران میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی IGRC کی بنیاد رکھی گئ۔

یہ ایک نظریاتی فوج ہے جس کا مقصد اسلامی نظام کا تحفظ کرنا ہے۔
ایران کا مکمل بیلسٹک میزائل پروگرام اسی کے کنٹرول میں ہے۔
بحری فوج میں شامل تمام چھوٹی کشتیاں جو گوریلا جنگ کیلئے استعمال ہوتی ہے انکے پاس ہیں۔ شاہد ڈرونز سمیت خودکش ڈرونز کی نگرانی انکا کام ہے۔ یہ کم و بیش تعداد میں 2 لاکھ ہیں۔

انکا کام سسٹم کو تحفظ دینا ہے کل کو اگر ملک کی مسلح افواج بغاوت کرکے یا دشمن کی آلہ کار بن کر مارشل لاء لگاتی ہے تو یہ فورس یہ تمام منصوبے ناکام بنائیں گے ۔

👈 عراق جنگ سے ایران نے یہ سبق حاصل کیا کہ خطے میں ام ریکی سہولت کار آلہ کار تنظیمیں ہیں انکے مقابلے کے بنا ایران مستحکم نہیں بن سکتا۔

👈 قدس فورس کی تیاری 1980 کی عراق ایران جنگ میں شروع ہوچکی تھی لیکن اسکا باقاعدہ بنیاد 1988 میں جنگ کے خاتمے کے بعد رکھی گئی۔

یہ انٹیلیجنس ادارہ ہے لیکن انکا کام سوڈان کے اداروں کی طرح اپنے عوام اور سیاست پر نظر رکھنا نہیں ہوتا بلکہ یہ ملک سے باہر جاسوسی کے نیٹ ورکس قائم کرتی ہیں اور ایران کے مخالفین پر نظر رکھتی ہے۔

👈 یہ عراق ، شام ، یمن اور لبنان میں اصرائیل مخالف تنظیموں کی تربیت کرتی ہے اور انہیں ام ریکی ا لقا عدہ و دا عش کے خلاف جنگ کیلئے تیار رکھتی ہے۔ یہ تمام تنظیمیں گریٹر اصرائیل کے خلاف ہر وقت جہا د کرتے ہیں۔ انکی تعداد 5سے 15 ہزار کے درمیان ہوتی ہے۔

👈 انقلاب کے بعد خمینی صاحب نے ویتنام جنگ سے سبق حاصل کیا تھا کہ امر یکہ کو گوریلا جنگ عوام کی حمایت اور ریزرو فوجیوں سے شکت دی جاسکتی ہے۔

👈 1979 میں ایک رضاکار فورس بسیج کی بنیاد رکھی گئی ۔
یہ تنظیم داخلی سلامتی اور جنگ کے وقت افرادی قوت فراہم کرتی ہے۔
یہ ریزرو فوجی ہوتے ہیں۔ انکی تعداد 6 سے 10 لاکھ تک ہو سکتی ہے۔ جن میں 1 لاکھ تک ہر وقت فعال رہتے ہیں۔

اس تنظیم بنانے کا فائدہ یہ ہوا کہ تمام امریکی اتحادی یورپ ، اصرائیل اور عرب ممالک صدام حسین کے ہاتھوں ایران کو کمزور نہ کرسکے افرادی قوت کی کمی یہ پورا کرتے رہے۔ ملک کے اندر ہر قسم کے فسادات کا خاتمہ سب سے پہلے یہ کرتے ہیں۔

👈 سال 2003 میں ام ریکہ نے عراق پر حملہ کرکے صدام حسین کو فوج کو اسی لیے جلدی ختم کر دیا کیونکہ انکا کمانڈ سسٹم مرکزی تھا ۔
ایران نے اس سے سبق سیکھا اپنی فوج کو ٹکڑوں کی طرح بکھیر دیا تاکہ اسے ایک جھٹکے میں ختم نہ کیا جا سکے۔

👈 پاسداران انقلاب کے جرنل محمد علی جعفری نے 2005 میں موزیک ڈیفنس کا تصور پیش کیا۔ دو سال بعد اسے پورے ملک میں نافذ کیا گیا ۔
ہر ایک کیلئے زیر زمین میزائل شہر موجود ہے۔ فوجی اڈے ، ڈرونز تمام لاجسٹک سپورٹ ہر ایک صوبے میں ایک جیسے مہیا کیا گیا۔

فوج کو توڑ کر 31 صوبوں میں تقسیم کیا گیا۔

یعنی اگر حالت جنگ میں GHQ نہیں رہے یا لیڈرشپ ختم ہو جائے تو یہ ہر ایک صوبے میں ایک فوجی یونٹ بااختیار ہوگی کہ کہاں حملہ کرنا ہے کیسے کرنا ہے۔

👈 ایران نے موجودہ جنگ میں فوج کو خود ہی توڑ دیا ۔
ہر ایک صوبے میں ارتش ، پاسداران انقلاب ، اور بسیج پر مشتمل فوج با اختیار ہوگی ۔
اس فیصلے کے بعد ہر ایک ملک میں فو جی تنصیبات سمیت ایسے ہوٹلوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جہاں سی آئی اے مو ساد کے ایجنٹ موجود تھے۔
عمارت کے اسی منزل کو نشانہ بنایا گیا جسمیں یہ رہائش پزیر تھے۔

پہلے صرف فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ فوج کو توڑنے کے بعد اتنا طاقتور کیا گیا کہ امریکی و اسرائیلی جہاز ڈرونز کو مار گرایا گیا۔

ہر ایک ملک میں امریکی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

ہر جگہ آئل ٹینکرز پر حملے کر کے تمام شپنگ کمپنیوں اور انشورنس کمپنیوں کو بحری تجارت سے روک کر تمام دنیا کے مالیاتی نظام میں کھلبلی مچا دی۔

👈 ایران نے اس کا ماڈل پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلا دیا ہے جسے وہ Forward Defense کہتے ہیں۔

جسطرح ملک کے اندر ہر صوبے میں میزائل شہر ، ڈرونز و میزائل بنانے ، انٹلیجنس اور فوج پر کام کیا گیا یہی سب کچھ شام عراق لبنان اور یمن میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کیا گیا انہیں راکٹ، میزائل، ڈرونز بنانے کا ہنر سکھایا گیا۔ وہاں زیر زمین میزائل سٹی کارخانے بنائے گئے تاکہ حالت جنگ میں یہ محفوظ بھی ہوں، پروڈکشن بھی جاری رہے اور جب ایران پر حملہ ہو تو دشمن پر حملے جاری رکھیں۔

👈 ایران نے ویتنام جنگ سے گوریلا جنگ ، صدام حسین پر امریکی حملے ، پاکستان میں ضیاء الحق کے مارشل لاء اور صدام حسین کے ایران پر حملے سے جو کچھ سیکھا اسے اپنے ریاست پر نافذ کیا۔

آج ایران میں نہ مارشل لگ سکتا ہے۔
نہ ہی فسادات ہوسکتے ہیں جو ریاست کا تختہ الٹ دے۔
نہ ہی فوج کی کمی ہوسکتی ہے۔

یہی وہ تیاری ہے جسکے بارے میں مشہور ہے کہ ایران چالیس سال سے اس عظیم جنگ کی تیاری کررہا ہے۔

💚 آپ سے گزارش ہے کہ پوسٹ کو شیئر کر دیں اور ہمارا پیج فالو کرلیں تاکہ آپ کو مزید معلومات ملتی رہیں۔ شکریہ

20/03/2026

✍ جنگ 1 گھنٹے میں ختم ہو سکتی ہے اگر عرب اسرائیل اور امریکہ کو بتائیں کہ انہیں ایران پر حملہ کرنے کے لیے اپنی فضائی حدود سے پرواز کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

🇸🇦 سعودی وزیر خارجہ: ہم اپنے ملک اور اپنے وسائل کے دفاع کے لیے مناسب فیصلے کریں گے۔

سعودی وزیر خارجہ: اگر ایران یہ سمجھتا ہے کہ خلیجی ریاستیں جواب دینے سے قاصر ہیں تو اس کا حساب غلط ہے۔

مزید معلومات اور حالات سے باخبر رہنے کےلئے ہمارا پیج فالو کر لیں۔ پوسٹ کو دوسروں کے سات شیئر کردیں۔ شکریہ

20/03/2026

آج دنیا کی تاریخ بدل گئی ہے

📌وہ واقعہ ہوا ہے جس کا کم از کم ہم نے اپنی زندگی میں سوچا بھی نہ تھا امریکا کو پوری دنیا سے انکار سننا پڑا ہے

برطانیہ ، فرانس ، جاپان ، اسپین ، آسٹریلیا ، جرمنی سب نے وقت کی سپر پاور کو نو یعنی ییس سر کے بجائے پہلی بار انکار کر دیا ہے اور امریکی صدر ان سب کو بدعائیں دے رہا ہے نیٹو والوں کو کہا تمہارے ساتھ بہت برا ہوگا

برطانیہ کے وزیراعظم نے تو باقاعدہ بے عزت کیا ہے جواب میں ٹرمپ نے کہا ہم یاد رکھیں گے

امریکی صدر نے کہا تھا کہ اپنے جہاز بھیجو آبنائے ہرمز کھلواؤ لیکن سب نے No کر دیا

وقت بدل گیا زمانہ بدل گیا ۔چند دن میں دنیا بدل گئی صدیوں کا سفر طے ہوا یورپ ایشیا سب امریکا کا ساتھ چھوڑ گئے

سب یک زبان ہوکر بولے نو سر یہ جنگ آپ کی ہے آپ نے شروع کی تھی بغیر کسی وجہ کے شروع کی ہے

کسی مشاورت کے بغیر شروع ہے اس کو انجام تک بھی آپ نے ہی پہنچانا ہے ۔

امریکی اڈے جو دنیا میں خوف کی علامت ہوتے تھے ایک ایک کرکے ختم ہوتے جا رہے ہیں

کوئی ملک اپنی سرزمین دینے کو تیار نہیں امریکی سفارت خانے بند ہو رہے ہیں

آبنائے ہرمز سے صرف وہ گزر سکتا ہے جو جنگ مخالف ہو یعنی امریکا اسرائیل مخالف ۔ یا جسے اجازت دی جائے۔

جنگیں ہوں یا الیکشن آپ دوستوں کے سر پر لڑتے ہیں امریکا نے اس جنگ میں دوست کھو دئیے ہیں
امریکا تنہا ہے
امریکا نے کسی قانون کا احترام نہیں کیا

ایک کمزور ملک کے صدر کو اٹھا کر لے گیا
کسی کو پھانسی چڑھا دیا
کسی کو جلا وطن
کہیں بغاوت کرا دی ۔

لیکن آج امریکا کو ہر طرف سے انکار سننا پڑا ہے ۔ 😄

کس نے سوچا تھا ایران جیسا پابندیوں کا شکار ملک ان کو اس طرح کی مصیبت میں مبتلا کر دے گا۔

18/03/2026

ایران امریکہ جنگ سے پاکستان اور اس کی افواج کو خطے کی صورتِ حال کو مزید اچھے سے سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ ایران ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس نا نیوکلیئر ہتھیار ہیں نا ہی ائیر فورس جو آج کی ہر جنگ میں بنیادی ہتھیار سمجھا جاتا ھے اور نا ہی کوئی تگڑا ائیر ڈیفنس سسٹم۔

اس کے باوجود ایران نے دنیا کے بہترین ائیر ڈیفنس سسٹمز کو بریچ کر کے دشمن کو اچھا خاصہ نقصان پہنچایا اور اب ایران کے دشمن لڑائی میں بے ایمانی پر اتر آئے ہیں۔ یعنی وہ روایتی جنگ میں ہر طرح سے دو نمبری کر رہے اور اب تو وہ میزائلوں کی جنگ لڑنے سے بھی راہ فرار اختیار کر رھے ہیں۔

اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ہم ایران کی جگہ پاکستان کو رکھ کر سوچیں اور اگر یہی لڑائی ان دونوں ممالک کی پاکستان سے ہوتی تو تب یہ کیا کرتے؟ ان کے پاس تو نیوکلیئر پاور یوز کرنے کا بھی پاکستان کے معاملے میں کوئی چانس نئیں تھا کیونکہ جواب میں بھی نیوکلیئر پاور یوز ہو سکتی ھے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے پاس چار سو کلومیٹر دور تک ائیر ٹو ائیر مار کرنے والے جدید میزائلوں سے لیس جنگی طیارے اور ایران سے کہیں بہتر اور جدید میزائل سسٹمز ہیں۔ پھر اس پر یہ کہ پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیار تو ہیں ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پاس ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بھی ہیں جو چھوٹے علاقوں میں روایتی جنگ کے اندر دشمن کا صفایا کر دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

پاکستان ایران سے کئی گنا زیادہ فوجی اعتبار سے طاقتور ھے اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی بھی بھرپور طریقے سے رکھتا ھے مگر اللہ پاک سے پھر بھی دعا ہے کہ وہ پاکستان کی حفاظت کرے اور اسلام کے دشمن کو ہر میدان میں ذلیل کرے۔
پاک فوج زندہ باد، پاکستان زندہ باد

18/03/2026

یہ کام بہت پہلے ہوجاتا تو اچھا تھا۔

18/03/2026

🚨روس میں ایرانی سفیر نے سپریم لیڈر سید مجتبی خامنه ای کے روسی اسپتال میں زخمی حالت میں زیر علاج ہونے کی تردید کر دی ہے۔

18/03/2026

یمن کے انصار اللہ:

ایران کے لاریجانی کی شہادت سے امریکہ، اسرائیل کے حق میں کچھ نہیں بدلے گا۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


173-E, Pak Arab Housing Scheme
Lahore
54760