06/08/2026
نگہت غوری صاحبہ جو کہ کاروباری خاتون ہے اور روس میں مقیم ہیں وہ اپنے ایک دلچسپ سفر کے متعلق بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ بالکل 100 فیصد ٹھیک مقولہ ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی انسان کو پہچاننا ہو یا اس کی خصلتوں کے بارے میں جاننا ہو تو اس کے ساتھ سفر کر لو اس کے بعد وہ اپنی روداد سناتی ہیں کہ
ایک بار وہ امریکہ سے پاکستان ارہی تھی۔ ان کے پاس بزنس کلاس کی ٹکٹ تھی۔ ان کا بتانا ہے کہ وہ شروع سے ہی بیرون ملک رہی ہیں ان کی پرورش یورپ میں ہوئی ہے۔ ان کی پیدائش بھی وہیں کی ہے اور پھر تعلیم کے لیے وہ امریکہ منتقل ہوئی۔
ان کے والدین فرانس میں رہتے ہیں اور اپنا کاروبار کرتے ہیں وہ فرانس سے امریکہ اپنے کسی دوست کی شادی کا فنکشن اٹینڈ کرنے کے لیے گئی تھیں اور پھر وہاں کچھ دن رکی رہی۔
اپنے باقی دوستوں سے ملاقات کی اس کے بعد وہ پاکستان آرہی تھیں۔ پاکستان آنے کے لیے ان کے پاس جرمنی کی ایک نجی ایئر لائن کی ٹکٹ تھی۔ ٹکٹ بزنس کلاس تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ جب سفر شروع کرنے سے پہلے میں اپنی فلائٹ میں سیٹ پر جا کر بیٹھی تو میرے پہلو والی سیٹ بھی کسی پاکستانی بزنس مین کی تھی۔
وہ انتہائی خوبصورت اور نوجوان شخص تھا۔ میں اس کو دیکھتے ہی اس کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں وہ آکر اپنی سیٹ پر بیٹھا اسی دوران اس نے بیل بجائی تو ایئر ہوسٹس ان کے پاس آگئی۔ انہوں نے ایئر ہوسٹس سے سرگوشی میں کوئی بات کی ائیرہوسٹس نے نفی میں سر ہلایا تو ائیرہوسٹس کا جواب سن کر وہ تھوڑے متذبذب دکھائی دیے۔
جب بھی آپ کے پڑوس میں کچھ ایسا ہو جاتا ہے آپ کی توجہ خود بخود ان کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ گو کہ میرے بالکل ساتھ بیٹھے ہوئے وہ اتنے سرگوشیوں میں بات کر رہے تھے کہ میں ان کی بات سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
تھوڑی دیر دونوں آپس میں گفتگو کرتے رہے پھر وہ صاحب ایرہوسٹس کے ساتھ اٹھ کر پیچھے اکانومی کلاس میں گئے مگر تھوڑی دیر بعد وہ اسی میزبان خاتون کے ہمراہ واپس آگئے۔
واپس آکر میزبان خاتون مجھ سے مخاطب ہوئی اور پوچھا کہ ان صاحب کا کہنا ہے آپ میرے ساتھ سفر کرتے ہوئے اگر کسی قسم کی تکلیف محسوس کرتی ہیں تو آپ کو کسی خاتون کے ساتھ ایڈجسٹ کر دیتے ہیں تاکہ آپ کا سفر آسانی سے گزر جائے؟
میرے لیے یہ ایک انہونی بات تھی کیونکہ میں جس ماحول میں رہی تھی وہاں ایسا ہونا تو دور، ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ مجھے بھلا اس شخص کے ساتھ بیٹھنے سے کیا فرق پڑتا۔ لیکن پھر بھی میں نے اخلاق کا دامن ہاتھ میں رکھتے ہوئے جواب دیا کہ مجھے ان کے ساتھ سفر کرنے میں کسی قسم کی کوئی دشواری نہیں ہے۔ اگر ان کو میری وجہ سے کوئی پرابلم ہو تو یہ اپنی سیٹ ضرور بدل سکتے ہیں۔
جب میں نے یہ بات کی تو وہ صاحب ڈائریکٹ مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ دراصل میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ غیر مرد ہونے کے ناطے آپ میری وجہ سے سفر میں تنگ نہ ہوں کیونکہ سفر لمبا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ آپ کا سکون میری وجہ سے خراب ہو۔
اس شخص کا لہجہ اتنا دھیما تھا کہ جب وہ مجھ سے مخاطب تھا تو شاید ایئر ھوسٹس اس کی بات نہیں سن پا رہی تھی۔
میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور ہم دونوں اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔
جیسے ہی ہمارا جہاز محو پرواز ہوا تو میں اپنے موبائل میں مشغول ہو گئی اور انہوں نے اپنا لیپ ٹاپ کھول لیا۔
میں موبائل چلاتے چلاتے سو گئی اسی دوران پتہ نہیں کیا ہوا کہ مجھے شدید قسم کی کھانسی ہونے لگی یہ میرے لیے زندگی کا پہلا موقع تھا کہ میں اتنی شدید کھانسی کر رہی تھی۔ یہاں تک کہ مجھے کسی کو مدد کے لیے بلانے کا بھی موقع مل نہیں رہا تھا۔
ان صاحب نے جو اپنا کام کر رہے تھے وہ اسی وقت چھوڑ دیا۔ اپنا لیپ ٹاپ بند کر دیا۔ فضائی میزبان کو بلایا۔ اس سے پانی لانے کے لیے کہا۔ میرے لیے پانی آگیا۔ مجھے پانی پلایا گیا۔ جب میرے کچھ حواس بحال ہوئے تو میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
فضائی میزبان نے مجھ سے پوچھا کہ اور کسی قسم کی کوئی ضرورت ہو تو بتاؤ جہاز کے اندر ایک ڈاکٹر بھی موجود ہے۔ اگر آپ کو طبی معائنہ کروانا ہے تو بھی بتائیں۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس وقت میں ٹھیک ہوں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ جا سکتی ہیں۔
میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وہ فضائی میزبان میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔ اس کے بعد میں نے اپنی سیٹ پر ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کا بھی شکریہ ادا کیا۔ اسی دوران ہماری گفتگو شروع ہو گئی۔
اس شخص کے بولنے کا انداز اتنا پیارا تھا جیسے کوئی شخص واعظ کر رہا ہو۔ آواز اتنی رسیلی تھی کہ اس کے الفاظ سن کر اس کا لہجہ دیکھ کر غیر مسلم بھی اسلام قبول کر لے۔
میں اس شخص سے بہت متاثر ہوئی۔ اتنا متاثر کہ وہ میرے دل میں اتر گیا۔ میں نے اس سے نمبر لے لیا تاکہ بعد میں بھی اس سے رابطے میں رہ سکوں۔ پہلے پہلے وہ نمبر دینے سے انکاری رہا۔ پھر میں نے اس کو بتایا کہ مجھے بزنس میں آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہوگی۔
اگر آپ مجھ پر یہ احسان کر سکتے ہیں تو کر دیں اس پر اس شخص نے مجھے اپنا نمبر دے دیا۔
ہمارا سفر اختتام کو پہنچا۔ جب میں پاکستان میں گھومنے پھرنے کے بعد واپس فرانس اپنے والدین کے پاس چلی گئی تو میں نے وہاں جا کر ان کو اس شخص کے بارے میں بتایا اور پھر ان کو اپنے دل کے حالات بتائے۔ پھر ان کو بتایا کہ میں اس شخص سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔
میرے والدین نے اس کا اتا پتہ پوچھا تو میں نے ان کو ساری روداد سنا دی کہ میں کس طرح اور کہاں اس سے ملی ہوں اور کتنا اس کو جانتی ہوں۔ میری بات سن کر میرے والدین مسکرائے اور کہا کہ تم ایسا کرو پہلے اس سے پوچھو اگر وہ تم سے شادی کے لیے راضی ہو تو پھر اس کی ہم سے بات کرواؤ۔
پھر ہم تصدیق کر لیں گے۔ اس کو ڈھونڈ لیں گے۔ میں نے اس شخص سے بات کی۔ اس نے کہا کہ میں نے اپنا یہ حق اپنے والدین کو دے رکھا ہے۔ میں نے اس کے والدین کا نمبر لیا۔ اس کے والدین سے بات کی۔ اس کے والدین کو اپنا سب کچھ بتایا۔ انہوں نے کہا ہم اپنے بیٹے کی مرضی جاننے کے بعد اپ سے بات کریں گے۔ پھر رابطہ کریں گے۔
میں ان کا انتظار کرنے لگی۔ ٹھیک 15 دن بعد مجھے اس شخص کے والدین کی کال آ گئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ہماری دعوت پر روس آئیں۔
رشیا کے متعلق سن کر میرے والدین حیران رہ گئے۔ خیر ہم نے ان کی دعوت قبول کر لی اور ہم لوگ رشیا چلے گئے۔ ایک بار پھر وہاں ہمارا سارا خاندان آپس میں ملا۔ وہیں پہ ہمارا رشتہ طے ہوا اور پھر فیصلہ ہوا کہ ہم سب لوگ مل کر عمرہ کرنے کے لیے جائیں گے۔ وہاں ہی ہم نکاح کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔
پھر ہم نے بالکل ایسے ہی کیا اور یوں میری شادی ہو گئی۔
شادی کے بعد میں نے اپنے شریک حیات جو کہ کبھی میرا شریک سفر تھا اس سے پوچھا کہ تمہارا اخلاق اتنا بہترین کیوں ہےِ؟
تو وہ میری بات سن کر حیران ہوا اور پھر کہا کہ تم کو نہیں پتہ اسلام میں اخلاق کی کتنی اہمیت ہے۔ اسلام کی بنیاد ہی اخلاق ہے۔
پھر میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہ اتنا بڑا کاروبار کیسے کھڑا کیا۔ تو اس نے جواب دیا کہ میں نے صرف کوشش کی یہ سب کچھ میرے والدین کی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔ میں آج جہاں پر کھڑا ہوں، میں اسے اپنے والدین کی دعاؤں کا نتیجہ ہی سمجھتا ہوں۔
پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ میری کس چیز نے تمہیں سب سے زیادہ متاثر کیا ہے؟ تو میں نے اسے بتایا کہ تمہاری سب سے زیادہ بات جو مجھے پسند آئی ہے وہ اس کھلے ڈلے ماحول میں رہتے ہوئے بھی اسلامی نظریات کو مد نظر رکھنا ہے۔
میری بات سن کر انہوں نے مجھے بتایا کہ پتہ ہے میں ان اسلام نظریات کو مد نظر کیوں رکھتا ہوںِ، میں نے اس کے جواب میں کہا کہ مجھے بھلا یہ سب کچھ کیسے پتہ ہوگا؟
میری بات سن کر اس نے جواب دیا کہ ایک بار میں نے کوئی ایسا عمل کیا تھا کوئی ایسا کام کر لیا تھا جس کی وجہ سے میری والدہ مجھ سے ناراض ہو گئی تھی۔ شاید وہ کام شرع کے خلاف تھا۔ میں نے وہ حرکت اپنے غیر مسلم دوست کے کہنے پر کی تھی۔ تب میری ماں نے مجھے کہا تھا کہ بیٹا یاد رکھنا یہ دوستی یاری یہ تعلق واسطے اور یہ دنیا کے کام یہاں ہی رہ جائیں گے۔ وہاں تمہارے ساتھ صرف تمہارے کیے گئے اعمال جائیں گے۔ آج جس چھوٹی سی خوشی کے لیے تم نے اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈالا ہے، تمہیں اندازہ بھی ہے کہ اس سے تمہارا اللہ تم سے کتنا ناراض ہوا ہوگا؟ اللہ کا رسول تم سے کتنا ناراض ہوا ہوگا اور قبر میں یا روز محشر تم کتنی سزا کے مستحق ٹھہرو گے؟ اگر تم میری اولاد ہو تو ائندہ کبھی بھی کوئی ایسا عمل نہ کرنا جس کی وجہ سے تمہارے رب اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم یا تمہاری والدہ کو پسند نہ آئے اور وہ رنجیدہ ہوں۔
یاد رکھنا تمہارا ایمان واحد ایسی چیز ہے جو تمہارے ساتھ قبر میں جائے گا۔ جتنا تمہارا ایمان مضبوط ہوگا اتنا ہی تمہیں اللہ اور اس کے رسول کا قرب ملے گا اور جتنا تمہارا ایمان کمزور ہوگا اتنے ہی تم اللہ اور اس کے رسول سے دور ہوتے جاؤ گے۔ اس لیے زندگی میں کوئی بھی ایسا کام نہ کرنا جو تجھے اسلام کے اصولوں کے خلاف جا کر کرنا پڑے۔
میری والدہ نے مجھے فقط پانچ سے سات منٹ کا یہ لیکچر دیا والدہ کی بات اختتام کو پہنچ گئی اس کے بعد کبھی میری والدہ کو مجھے سمجھانے کی نوبت نہیں آئی۔ مجھے پتہ چل گیا کہ میں نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔
اگر میں کہیں تذبذب کا شکار ہوتا ہوں الجھ جاتا ہوں یا مجھے خوف ہوتا ہے کہ میں یہاں کوئی فیصلہ کروں گا تو غلط کر بیٹھوں گا تب میں اپنی والدہ سے ڈسکس کر لیتا ہوں۔ اگر میری والدہ مجھے مکمل طور پر مطمئن نہیں کر سکتی تو وہ مجھے کہتی ہیں تم کسی عالم سے مشورہ کر لو۔
والدہ کی اس دن کی نصیحت سے لے کر آج تک میں نے کوئی ایسا عمل اپنی طرف سے جان بوجھ کر نہیں کیا جس کی وجہ سے مجھے اللہ تعالی اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا اپنی والدہ کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔
اپنے شوہر کی معصومیت اور نیک نیتی پر میں حیران رہ گئی تھی مجھے احساس ہوا تھا کہ آج ہم دنیا میں جہاں جی رہے ہیں وہاں اس دنیا کے قائم رہنے میں میرے شوہر جیسے بہت سارے لوگوں کا ہاتھ ہے ورنہ جس طرح کے ہمارے اعمال ہیں ہم لوگوں پر کب کا اللہ تعالی کا قہر اور عذاب نازل ہو چکا ہوتا۔
میں جس دن سے اس گھر میں آئی ہوں، اس دن سے لے کر آج تک میری کوئی نماز قضا نہیں ہوئی، اس دن سے لے کر آج تک مجھے کبھی کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور یہ سب کچھ یقینا صرف اسی وجہ سے ہے کہ یہ گھرانہ مکمل طور پر دین اسلام پر عمل پیرا ہے۔