Quraanic Online Quran Academy

Quraanic Online Quran Academy Contact us today for FREE Trial Classes. Quraanic is a Leading Online Twelver Shia Islamic School of Thought. across the world. Course.

✅Online Islamic Courses for kids & adults.
✅Qualified male and female teachers
✅Personalized lessons
✅Refund Policy
✅Family Offfers
✅Flexible Schedules & Affordable monthly fee. We are working as an Online Shia Quran academy for all the followers of Ahlulbait (A.S.) Our teachings are based on the valuable teachings of our 14 infallibles (A.S.). Nowadays, many people and parents, especially in western countries, either don't have a physical Islamic Madrassa(school) in their neighborhood, or they have a lack of time to learn Islamic studies. So, if you are one of them and want to learn the Holy Quran Online, then you are at the right place. We are providing the facility of Online Shia Quran Classes to our Shia brothers and sisters. Our online Quran Classes are for both kids and adults. For Online Quran Learning we have the best certified and trained Quran teachers. Our Shia Quran Tutors can deliver the lessons in English, Urdu, Arabic, and Persian languages fluently. Alhamdulillah, many students have learned the Quran at our Online Shia Quran Academy. Being a follower of Ahlulbait (A.S.) it is our responsibility to educate our children about the Twelver Shia Islam. For this purpose, in the Shia Quran Teaching service, we offer different courses such as Basic Quranic Arabic Book (Qaida) for kids, Basic Quran Tajweed, Learn to Read Quran for kids and adults, Quran with advanced level Tajweed, Quran translation, re-reading the Quran, Islamic Studies Course, Quran Tafseer(illustration) Course, Islamic Laws, and Nahjul-blagha(sermons and lectures by Hazrat Imam Ali A.S.) Besides this, for each age group, we have designed a separate course of Islamic studies. In one-to-one Live Online Quran Classes, we teach via Zoom and Skype to make sure that each student gets sufficient attention and does the lessons easily. Our service is available round the clock. We have the best family-students offers for each course. Let us know if you have queries or questions.

نگہت غوری صاحبہ جو کہ کاروباری خاتون ہے اور روس میں مقیم ہیں وہ اپنے ایک دلچسپ سفر کے متعلق بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ...
06/08/2026

نگہت غوری صاحبہ جو کہ کاروباری خاتون ہے اور روس میں مقیم ہیں وہ اپنے ایک دلچسپ سفر کے متعلق بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ بالکل 100 فیصد ٹھیک مقولہ ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی انسان کو پہچاننا ہو یا اس کی خصلتوں کے بارے میں جاننا ہو تو اس کے ساتھ سفر کر لو اس کے بعد وہ اپنی روداد سناتی ہیں کہ

ایک بار وہ امریکہ سے پاکستان ارہی تھی۔ ان کے پاس بزنس کلاس کی ٹکٹ تھی۔ ان کا بتانا ہے کہ وہ شروع سے ہی بیرون ملک رہی ہیں ان کی پرورش یورپ میں ہوئی ہے۔ ان کی پیدائش بھی وہیں کی ہے اور پھر تعلیم کے لیے وہ امریکہ منتقل ہوئی۔

ان کے والدین فرانس میں رہتے ہیں اور اپنا کاروبار کرتے ہیں وہ فرانس سے امریکہ اپنے کسی دوست کی شادی کا فنکشن اٹینڈ کرنے کے لیے گئی تھیں اور پھر وہاں کچھ دن رکی رہی۔

اپنے باقی دوستوں سے ملاقات کی اس کے بعد وہ پاکستان آرہی تھیں۔ پاکستان آنے کے لیے ان کے پاس جرمنی کی ایک نجی ایئر لائن کی ٹکٹ تھی۔ ٹکٹ بزنس کلاس تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ جب سفر شروع کرنے سے پہلے میں اپنی فلائٹ میں سیٹ پر جا کر بیٹھی تو میرے پہلو والی سیٹ بھی کسی پاکستانی بزنس مین کی تھی۔

وہ انتہائی خوبصورت اور نوجوان شخص تھا۔ میں اس کو دیکھتے ہی اس کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں وہ آکر اپنی سیٹ پر بیٹھا اسی دوران اس نے بیل بجائی تو ایئر ہوسٹس ان کے پاس آگئی۔ انہوں نے ایئر ہوسٹس سے سرگوشی میں کوئی بات کی ائیرہوسٹس نے نفی میں سر ہلایا تو ائیرہوسٹس کا جواب سن کر وہ تھوڑے متذبذب دکھائی دیے۔

جب بھی آپ کے پڑوس میں کچھ ایسا ہو جاتا ہے آپ کی توجہ خود بخود ان کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ گو کہ میرے بالکل ساتھ بیٹھے ہوئے وہ اتنے سرگوشیوں میں بات کر رہے تھے کہ میں ان کی بات سمجھ نہیں پا رہی تھی۔

تھوڑی دیر دونوں آپس میں گفتگو کرتے رہے پھر وہ صاحب ایرہوسٹس کے ساتھ اٹھ کر پیچھے اکانومی کلاس میں گئے مگر تھوڑی دیر بعد وہ اسی میزبان خاتون کے ہمراہ واپس آگئے۔

واپس آکر میزبان خاتون مجھ سے مخاطب ہوئی اور پوچھا کہ ان صاحب کا کہنا ہے آپ میرے ساتھ سفر کرتے ہوئے اگر کسی قسم کی تکلیف محسوس کرتی ہیں تو آپ کو کسی خاتون کے ساتھ ایڈجسٹ کر دیتے ہیں تاکہ آپ کا سفر آسانی سے گزر جائے؟

میرے لیے یہ ایک انہونی بات تھی کیونکہ میں جس ماحول میں رہی تھی وہاں ایسا ہونا تو دور، ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ مجھے بھلا اس شخص کے ساتھ بیٹھنے سے کیا فرق پڑتا۔ لیکن پھر بھی میں نے اخلاق کا دامن ہاتھ میں رکھتے ہوئے جواب دیا کہ مجھے ان کے ساتھ سفر کرنے میں کسی قسم کی کوئی دشواری نہیں ہے۔ اگر ان کو میری وجہ سے کوئی پرابلم ہو تو یہ اپنی سیٹ ضرور بدل سکتے ہیں۔

جب میں نے یہ بات کی تو وہ صاحب ڈائریکٹ مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ دراصل میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ غیر مرد ہونے کے ناطے آپ میری وجہ سے سفر میں تنگ نہ ہوں کیونکہ سفر لمبا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ آپ کا سکون میری وجہ سے خراب ہو۔

اس شخص کا لہجہ اتنا دھیما تھا کہ جب وہ مجھ سے مخاطب تھا تو شاید ایئر ھوسٹس اس کی بات نہیں سن پا رہی تھی۔
میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور ہم دونوں اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔
جیسے ہی ہمارا جہاز محو پرواز ہوا تو میں اپنے موبائل میں مشغول ہو گئی اور انہوں نے اپنا لیپ ٹاپ کھول لیا۔

میں موبائل چلاتے چلاتے سو گئی اسی دوران پتہ نہیں کیا ہوا کہ مجھے شدید قسم کی کھانسی ہونے لگی یہ میرے لیے زندگی کا پہلا موقع تھا کہ میں اتنی شدید کھانسی کر رہی تھی۔ یہاں تک کہ مجھے کسی کو مدد کے لیے بلانے کا بھی موقع مل نہیں رہا تھا۔

ان صاحب نے جو اپنا کام کر رہے تھے وہ اسی وقت چھوڑ دیا۔ اپنا لیپ ٹاپ بند کر دیا۔ فضائی میزبان کو بلایا۔ اس سے پانی لانے کے لیے کہا۔ میرے لیے پانی آگیا۔ مجھے پانی پلایا گیا۔ جب میرے کچھ حواس بحال ہوئے تو میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

فضائی میزبان نے مجھ سے پوچھا کہ اور کسی قسم کی کوئی ضرورت ہو تو بتاؤ جہاز کے اندر ایک ڈاکٹر بھی موجود ہے۔ اگر آپ کو طبی معائنہ کروانا ہے تو بھی بتائیں۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس وقت میں ٹھیک ہوں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ جا سکتی ہیں۔

میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وہ فضائی میزبان میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔ اس کے بعد میں نے اپنی سیٹ پر ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کا بھی شکریہ ادا کیا۔ اسی دوران ہماری گفتگو شروع ہو گئی۔

اس شخص کے بولنے کا انداز اتنا پیارا تھا جیسے کوئی شخص واعظ کر رہا ہو۔ آواز اتنی رسیلی تھی کہ اس کے الفاظ سن کر اس کا لہجہ دیکھ کر غیر مسلم بھی اسلام قبول کر لے۔

میں اس شخص سے بہت متاثر ہوئی۔ اتنا متاثر کہ وہ میرے دل میں اتر گیا۔ میں نے اس سے نمبر لے لیا تاکہ بعد میں بھی اس سے رابطے میں رہ سکوں۔ پہلے پہلے وہ نمبر دینے سے انکاری رہا۔ پھر میں نے اس کو بتایا کہ مجھے بزنس میں آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہوگی۔

اگر آپ مجھ پر یہ احسان کر سکتے ہیں تو کر دیں اس پر اس شخص نے مجھے اپنا نمبر دے دیا۔
ہمارا سفر اختتام کو پہنچا۔ جب میں پاکستان میں گھومنے پھرنے کے بعد واپس فرانس اپنے والدین کے پاس چلی گئی تو میں نے وہاں جا کر ان کو اس شخص کے بارے میں بتایا اور پھر ان کو اپنے دل کے حالات بتائے۔ پھر ان کو بتایا کہ میں اس شخص سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔

میرے والدین نے اس کا اتا پتہ پوچھا تو میں نے ان کو ساری روداد سنا دی کہ میں کس طرح اور کہاں اس سے ملی ہوں اور کتنا اس کو جانتی ہوں۔ میری بات سن کر میرے والدین مسکرائے اور کہا کہ تم ایسا کرو پہلے اس سے پوچھو اگر وہ تم سے شادی کے لیے راضی ہو تو پھر اس کی ہم سے بات کرواؤ۔

پھر ہم تصدیق کر لیں گے۔ اس کو ڈھونڈ لیں گے۔ میں نے اس شخص سے بات کی۔ اس نے کہا کہ میں نے اپنا یہ حق اپنے والدین کو دے رکھا ہے۔ میں نے اس کے والدین کا نمبر لیا۔ اس کے والدین سے بات کی۔ اس کے والدین کو اپنا سب کچھ بتایا۔ انہوں نے کہا ہم اپنے بیٹے کی مرضی جاننے کے بعد اپ سے بات کریں گے۔ پھر رابطہ کریں گے۔

میں ان کا انتظار کرنے لگی۔ ٹھیک 15 دن بعد مجھے اس شخص کے والدین کی کال آ گئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ہماری دعوت پر روس آئیں۔

رشیا کے متعلق سن کر میرے والدین حیران رہ گئے۔ خیر ہم نے ان کی دعوت قبول کر لی اور ہم لوگ رشیا چلے گئے۔ ایک بار پھر وہاں ہمارا سارا خاندان آپس میں ملا۔ وہیں پہ ہمارا رشتہ طے ہوا اور پھر فیصلہ ہوا کہ ہم سب لوگ مل کر عمرہ کرنے کے لیے جائیں گے۔ وہاں ہی ہم نکاح کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔

پھر ہم نے بالکل ایسے ہی کیا اور یوں میری شادی ہو گئی۔
شادی کے بعد میں نے اپنے شریک حیات جو کہ کبھی میرا شریک سفر تھا اس سے پوچھا کہ تمہارا اخلاق اتنا بہترین کیوں ہےِ؟

تو وہ میری بات سن کر حیران ہوا اور پھر کہا کہ تم کو نہیں پتہ اسلام میں اخلاق کی کتنی اہمیت ہے۔ اسلام کی بنیاد ہی اخلاق ہے۔

پھر میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہ اتنا بڑا کاروبار کیسے کھڑا کیا۔ تو اس نے جواب دیا کہ میں نے صرف کوشش کی یہ سب کچھ میرے والدین کی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔ میں آج جہاں پر کھڑا ہوں، میں اسے اپنے والدین کی دعاؤں کا نتیجہ ہی سمجھتا ہوں۔

پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ میری کس چیز نے تمہیں سب سے زیادہ متاثر کیا ہے؟ تو میں نے اسے بتایا کہ تمہاری سب سے زیادہ بات جو مجھے پسند آئی ہے وہ اس کھلے ڈلے ماحول میں رہتے ہوئے بھی اسلامی نظریات کو مد نظر رکھنا ہے۔
میری بات سن کر انہوں نے مجھے بتایا کہ پتہ ہے میں ان اسلام نظریات کو مد نظر کیوں رکھتا ہوںِ، میں نے اس کے جواب میں کہا کہ مجھے بھلا یہ سب کچھ کیسے پتہ ہوگا؟

میری بات سن کر اس نے جواب دیا کہ ایک بار میں نے کوئی ایسا عمل کیا تھا کوئی ایسا کام کر لیا تھا جس کی وجہ سے میری والدہ مجھ سے ناراض ہو گئی تھی۔ شاید وہ کام شرع کے خلاف تھا۔ میں نے وہ حرکت اپنے غیر مسلم دوست کے کہنے پر کی تھی۔ تب میری ماں نے مجھے کہا تھا کہ بیٹا یاد رکھنا یہ دوستی یاری یہ تعلق واسطے اور یہ دنیا کے کام یہاں ہی رہ جائیں گے۔ وہاں تمہارے ساتھ صرف تمہارے کیے گئے اعمال جائیں گے۔ آج جس چھوٹی سی خوشی کے لیے تم نے اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈالا ہے، تمہیں اندازہ بھی ہے کہ اس سے تمہارا اللہ تم سے کتنا ناراض ہوا ہوگا؟ اللہ کا رسول تم سے کتنا ناراض ہوا ہوگا اور قبر میں یا روز محشر تم کتنی سزا کے مستحق ٹھہرو گے؟ اگر تم میری اولاد ہو تو ائندہ کبھی بھی کوئی ایسا عمل نہ کرنا جس کی وجہ سے تمہارے رب اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم یا تمہاری والدہ کو پسند نہ آئے اور وہ رنجیدہ ہوں۔

یاد رکھنا تمہارا ایمان واحد ایسی چیز ہے جو تمہارے ساتھ قبر میں جائے گا۔ جتنا تمہارا ایمان مضبوط ہوگا اتنا ہی تمہیں اللہ اور اس کے رسول کا قرب ملے گا اور جتنا تمہارا ایمان کمزور ہوگا اتنے ہی تم اللہ اور اس کے رسول سے دور ہوتے جاؤ گے۔ اس لیے زندگی میں کوئی بھی ایسا کام نہ کرنا جو تجھے اسلام کے اصولوں کے خلاف جا کر کرنا پڑے۔

میری والدہ نے مجھے فقط پانچ سے سات منٹ کا یہ لیکچر دیا والدہ کی بات اختتام کو پہنچ گئی اس کے بعد کبھی میری والدہ کو مجھے سمجھانے کی نوبت نہیں آئی۔ مجھے پتہ چل گیا کہ میں نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔

اگر میں کہیں تذبذب کا شکار ہوتا ہوں الجھ جاتا ہوں یا مجھے خوف ہوتا ہے کہ میں یہاں کوئی فیصلہ کروں گا تو غلط کر بیٹھوں گا تب میں اپنی والدہ سے ڈسکس کر لیتا ہوں۔ اگر میری والدہ مجھے مکمل طور پر مطمئن نہیں کر سکتی تو وہ مجھے کہتی ہیں تم کسی عالم سے مشورہ کر لو۔

والدہ کی اس دن کی نصیحت سے لے کر آج تک میں نے کوئی ایسا عمل اپنی طرف سے جان بوجھ کر نہیں کیا جس کی وجہ سے مجھے اللہ تعالی اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا اپنی والدہ کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

اپنے شوہر کی معصومیت اور نیک نیتی پر میں حیران رہ گئی تھی مجھے احساس ہوا تھا کہ آج ہم دنیا میں جہاں جی رہے ہیں وہاں اس دنیا کے قائم رہنے میں میرے شوہر جیسے بہت سارے لوگوں کا ہاتھ ہے ورنہ جس طرح کے ہمارے اعمال ہیں ہم لوگوں پر کب کا اللہ تعالی کا قہر اور عذاب نازل ہو چکا ہوتا۔

میں جس دن سے اس گھر میں آئی ہوں، اس دن سے لے کر آج تک میری کوئی نماز قضا نہیں ہوئی، اس دن سے لے کر آج تک مجھے کبھی کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور یہ سب کچھ یقینا صرف اسی وجہ سے ہے کہ یہ گھرانہ مکمل طور پر دین اسلام پر عمل پیرا ہے۔

Female Hafiza Quran teacher required in
29/07/2026

Female Hafiza Quran teacher required in

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔۔۔😞
29/07/2026

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔۔۔😞

سرگودھا میں اکلوتے بیٹے کی موت ایک ہی گھر سے چار جنازے اٹھنے کا باعث بن گئی۔۔۔!سرگودھا کے علاقے کوٹ مومن، نصیرپور کلاں م...
29/07/2026

سرگودھا میں اکلوتے بیٹے کی موت ایک ہی گھر سے چار جنازے اٹھنے کا باعث بن گئی۔۔۔!

سرگودھا کے علاقے کوٹ مومن، نصیرپور کلاں میں پیش آنے والا یہ المناک واقعہ ہر آنکھ کو اشکبار کر گیا۔

سرگودھا کا قاسم رانجھا چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا جو کچھ ہفتے قبل اچانک دل کا دورہ پڑنے سے فوری طور پر انتقال کر گیا۔

جوان بھائی کی جدائی کا صدمہ ان کی چھوٹی بہن برداشت نہ کر سکی اور آٹھ روز بعد وہ بھی دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئیں۔

بیٹے اور بیٹی کی اموات کا غم انکے والد نذیر رانجھا کو مسلسل اندر ہی اندر کھاتا رہا۔ والد اولاد کا یہ غم نہ سہہ سکے اور چھ دن بعد وہ بھی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

اس کے بعد والدہ اپنے جوان بیٹے، بیٹی اور شوہر کی جدائی کا صدمہ دل میں لیے رہیں، مگر یہ دکھ بھی ان کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوا اور شوہر کی وفات کے ٹھیک چار دن بعد وہ بھی انتقال کر گئیں۔

یوں صرف تین ہفتوں کے مختصر عرصے میں ایک ہی گھر سے چار جنازے اٹھ گئے، جو یقیناً انتہائی دردناک اور دل دہلا دینے والا سانحہ ہے۔

علاقے میں فضا سوگوار ہے اور اہلِ محلہ کو بھی اپنے اچھے ہمسائیوں سے محروم ہونے کا بڑا دکھ ہے۔ اللہ پاک اس مر حوم خاندان کی ارواح پر اپنا کرم فرمائیں اور ان کا سفرِ آخرت آسان ہو۔

اسلام اباد لاہور سے ہوتی ہوی شراب اب ملتان جیسے شہر میں بھی پہنچ چکی ہے۔۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں فل انجواے کر رہے ہیں۔۔ملتان...
28/07/2026

اسلام اباد لاہور سے ہوتی ہوی شراب اب ملتان جیسے شہر میں بھی پہنچ چکی ہے۔۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں فل انجواے کر رہے ہیں۔۔

ملتان کے نجی کیفے نے حلال شراب کے نام سے اک ڈرنک متعارف کرای ہے جسکے بعد کیفے میں نوجوانو کا ہجوم ٹوٹ پورا ۔ دیکھنے میں شراب جیسی گلاس بھی ویسا ماحول مقامی ٹک ٹاکرز انفلوئنسر سے پیڈ کمپین چلوای جارہی ہے۔

نوجوان حلال شرابی جوڑے جھوم جھوم کر اپنی ویڈیوز بنا رہے ہیں نشہ ہو نا نہ ہو جیسا ماحول دیا گیا ہے وہ بھی مدہوش ہونے کیلے کافی ہے ۔۔
اب اپ کہیں گے ہے تو یہ حلال پھر اس پر شور کیوں مچا رہے ہیں ۔۔

تو سنیے جناب
اس ٹرینڈ کو بولتے ہیں Mocktail Culture۔ جو مغربی Cocktail Bar Culture کی غیر الکوحلک کی نقل ہے۔

اور یہ نوجوانو میں کیوں مقبول ہے ۔
کیونکہ جس انداز میں شراب پیش کرتے ہیں وہی گلاس وہی گارنش وہی رنگ برنگے شربت اور وہی جھومنے جھلانے کا ماحول اب دیسی کیفوں میں بغیر الکحل کے دہرایا جا رہا ہے۔

مارکیٹنگ کی زبان میں اسے موکٹیل کہا جاتا ہے مگر جب مینو پر لفظ حلال شراب یا اسی سے ملتے جلتے نام چسپاں کیے جاتے ہیں تو یہ محض ذائقے کا کاروبار نہیں رہتا بلکہ ایک لسانی چالاکی بن جاتا ہے جس کا مقصد نوجوان کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ شراب خانے کا تجربہ حاصل کر رہا ہے مگر مذہبی جواز کے ساتھ۔

سوال یہ ہے کہ حلال اور شراب دو الفاظ ایک ساتھ کیسے جوڑے جا سکتے ہیں جبکہ اسلام میں نشہ آور اشیاء کی حرمت واضح اور غیر مبہم حکم ہے۔
دراصل یہ محض ایک مشروب کا نام نہیں بلکہ ایک ذہنی سازش ہے جس کے تحت نوجوان نسل کو مرحلہ وار شراب کی ثقافت سے مانوس کیا جا رہا ہے۔
آج انہیں مصنوعی رنگوں اور شربتوں سے بنی مٹھاس والی ڈرنک پلائی جا رہی ہے جس کا ذائقہ اور انداز پیشکش بالکل شراب جیسا ہے تاکہ ذہن آہستہ آہستہ اس تصور کا عادی ہو جائے کہ گلاس میں جھومتے ہوئے مشروب پینا ایک نارمل اور سٹائلش سرگرمی ہے۔

کل کو جب یہی نوجوان اصلی شراب کے قریب جائیں گے تو ان کے اندر وہ اخلاقی اور مذہبی مزاحمت باقی نہیں رہے گی جو ایک مسلمان کے دل میں ہونی چاہیے کیونکہ کیفے کلچر نے پہلے ہی اس منظر اس ماحول اور اس عادت کو معمول بنا دیا ہوگا۔

یہ دراصل مغربی نائٹ لائف اور بار کلچر کو دیسی رنگ دے کر ہمارے معاشرے میں داخل کرنے کا ایک نرم اور خطرناک طریقہ ہے جس میں برانڈنگ کے ذریعے حرام کو حلال کا لبادہ پہنایا جا رہا ہے۔

میں گلف میں رہا ہوں وہاں ڈسکو میں شروع میں لوگ شوق کیلے جاتے تھے اور ریڈبل پیتے تھے ڈانس دیکھ کر واپس اجاتے تھے پھر انہوں نے بئیر سٹارٹ کی پھر شراب اور اخر پکے شرابی بن کر نکلے ۔ جب اپ حلال ڈرنک کو اتنا گلئمرائز کر دیں گے اسے حلال شراب کہ دیں گے تو لوگ پھر اصل کی طرف کیوں نہی جائیں گے؟

ٹیکنالوجیا۔۔۔۔۔۔۔۔😂😂😂 اب آپ کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں، گھر بیٹھے مرید ہونے کی سہولت دستیاب ہے۔
28/07/2026

ٹیکنالوجیا۔۔۔۔۔۔۔۔😂😂😂

اب آپ کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں، گھر بیٹھے مرید ہونے کی سہولت دستیاب ہے۔

غیر ملکی میڈیا 🗣️🇮🇷⚔️🇺🇸رپورٹس کے مطابق، میزائلوں اور ڈرونز کے وسیع ذخیرے کی بدولت ایران طویل جنگ کے لیے امریکہ کی نسبت ب...
27/07/2026

غیر ملکی میڈیا 🗣️
🇮🇷⚔️🇺🇸

رپورٹس کے مطابق، میزائلوں اور ڈرونز کے وسیع ذخیرے کی بدولت ایران طویل جنگ کے لیے امریکہ کی نسبت بہتر پوزیشن میں دکھائی دے رہا ہے۔

⭕چند گھنٹے قبل، اور آج صبح سویرے، چھ خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں نے نیویگیشن اور مقام کی نشاندہی کے نظام میں خلل ڈال...
27/07/2026

⭕چند گھنٹے قبل، اور آج صبح سویرے، چھ خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں نے نیویگیشن اور مقام کی نشاندہی کے نظام میں خلل ڈال کر آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک غیر قانونی اور غیر محفوظ راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے ایک بحری جہاز حادثے کا شکار ہو گیا، جبکہ باقی بحری جہازوں کو ایران کے سخت کنٹرول میں واپس خلیجِ فارس کی جانب لوٹا دیا گیا۔

27/07/2026

ایک خاتون بتا رہی تھیں کہ اُنکے بیٹے کو آنکھوں کا انفیکشن ہوا تو ڈاکٹر نے آئی ڈرا پس لکھ کر دئیے جنہیں استعمال کرنے سے وہ انفیکشن فوری ٹھیک ہو گیا اور چونکہ دوائی کارگر رہی تھی اس لئے انہوں نے سنبھال کر برآمدے کے شیڈ پر رکھ دی۔
پھر کچھ ماہ بعد اتفاق سے دوسرے بیٹے کی آنکھیں خراب ہوئیں تو اُنہیں وہ ڈراپس یاد آئے۔ لہٰذا ڈاکٹر کے جانے کے بجائے وہی ڈراپس اُٹھا کر اُسی طریقے سے بیٹے کی آنکھوں میں ڈالے ہی تھے کہ اُس کی آنکھوں سے شدید پانی آنے لگا۔

لیکن سنجیدہ لینے کے بجائے سوچا کہ شاید ڈراپس کے بعد ایسا ہونا نارمل ہے
اور خود کام کاج میں لگ گئیں یا شاید پڑوس میں چلی گئیں۔
پھر بیٹے نے آنکھوں میں جلن کی شکایت کی تو ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے تاکہ کچھ بہتری ہو۔ لیکن تکلیف اتنی بڑھی کہ وہ چیخ چیخ کر رونے لگا اور اُنہیں بھاگم بھاگ ڈاکٹر کے پاس لانا پڑا۔

قصہ مختصر کہ مختلف طرح کے ٹیسٹ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے بتایا کہ تین چار ماہ مسلسل دھوپ اور گرمی میں رکھے گئے ڈراپس استعمال کرنے پر اُنکے بیٹے کی بینائی شدید متاثر ہوئی ہے جو آہستہ آہستہ بالکل ہی زائل ہو گئی۔

اب اندازہ کیجئیے اُس دُکھ اور پچھتاوے کا ، جس سے وہ ماں گزر رہی ہے کہ جو اپنی لاعلمی کے باعث بیٹے کی روشن دنیا اندھیر کرنے کا باعث بن گئی۔

👈یہ بات خود بھی یاد رکھئیے اور دوسروں کو بھی بتائیے کہ کوئی بھی دوا ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر ہر گز ہرگز استعمال نہ کی جائے۔

👈اگر میڈیکل سٹور سے بھی دوا خریدیں تو پہلے اُسکی ایکسپائری ڈیٹ خود ضرور دیکھئیے۔

👈آئی ڈراپس سمیت کسی بھی لیکوئیڈ دوا سے متعلق انتہائی احتیاط کیجئیے کیونکہ عموماً اس طرح کی ادویات ایک مرتبہ شیشی یا بوتل کھُل جانے کے بعد دیر تک قابلِ استعمال نہیں رہتیں۔

👈کچھ دوائیں ایک مخصوص سرد ٹمپریچر پر رہیں تو ہی اُنکی افادیت برقرار رہتی ہے ، ورنہ نقصان دے سکتی ہیں۔

👈کسی دوسرے شخص کی بتائی گئی میڈیسن ( جیسا کہ پاکستان میں رواج ہے ) خواہ اُس سے اُسے فائدہ ہی کیوں نہ ہوا ہو، ڈاکٹر کے مشورے کے بغیرکبھی بھی استعمال نہ کریں۔

👈آئی ڈراپس یا سیرپ وغیرہ کھولنے کے بعد اُن پرڈیٹ لکھ دیں تاکہ بھولنے کا کوئی چانس بھی نہ رہے۔

👈دوائی کو ہمیشہ اُس پر لکھی ہدایات کے مطابق رکھیں ، یعنی اگر فریج میں رکھنے کی ہدایت ہو تو اُسی پر عمل کریں، اور اگر روم ٹمپریچر پر رکھنی ہو تو ہر صورت دھوپ، گرمی اور نمی سے بچائیں۔

👈کسی بھی دوا کی ڈوز اپنی مرضی سے کم زیادہ نہ کریں۔

👈دوائی کی رنگت بو یا ساخت میں کچھ تبدیلی محسوس ہو تو ہرگز استعمال نہ کریں بیشک ایکسپائری ڈیٹ ابھی باقی ہی ہو کیونکہ یہ دوائیاں بھی ایک نعمت تو ہیں لیکن صرف صحیح تشخیص ، بہترین دوا، ٹھیک مقدار اور درست طریقہ استعمال ہی اسے شفا کا ذریعہ بناتا ہے۔

✔ یاد رکھیں! معمولی سی احتیاط ہمیں زندگی بھر کے پچھتاوے سے بچا سکتی ہے۔

آخر میں بچپن سے ٹی وی پر سُنے جانے والی مفید ہدایت کہ تمام دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں اور طبیعت زیادہ خراب ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

سوتیلی ماں کیا ہوتی ہے؟ آج تک صرف سنا تھا، مگر آج اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا۔"آج بازار سے گزر رہا تھا کہ میری نظر ایک ن...
27/07/2026

سوتیلی ماں کیا ہوتی ہے؟ آج تک صرف سنا تھا، مگر آج اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا۔"
آج بازار سے گزر رہا تھا کہ میری نظر ایک ننھے سے بچے پر پڑی۔ اس کے سر پر آٹے کا برتن تھا اور وہ ننگے جسم، تیز دھوپ اور گرم سڑک پر آہستہ آہستہ تنور کی طرف روٹیاں لگوانے جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور چھوٹا بچہ بھی تھا۔ یہ منظر دیکھ کر میں خود کو روک نہ سکا۔
میں نے اسے پیار سے آواز دی اور پوچھا:
"بیٹا، تم نے شرٹ کیوں نہیں پہنی؟ اتنی گرمی میں ننگے جسم کیسے جا رہے ہو؟"
اس نے معصومیت سے جواب دیا:
"انکل، میری امی نے کہا تھا کہ آٹا لے جا کر تنور پر روٹیاں لگوا کر لاؤ، لیکن میری آنکھ لگ گئی۔ تھوڑی دیر بعد امی نے میرے منہ پر تھپڑ مار کر مجھے جگایا اور کہا کہ تمہیں میری بات کی کوئی پروا نہیں۔ جب میں شرٹ پہننے لگا تو امی نے کہا، کوئی شرٹ نہیں پہننی، ایسے ہی جاؤ۔"
میں نے اس کی بات سنی تو دل دکھا، مگر پھر بھی میں نے کہا:
"بیٹا، تمہاری امی تو بہت سخت ہیں۔"
میری یہ بات سنتے ہی اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ چند لمحے خاموش رہا، پھر آہستہ سے بولا:
"انکل... میری اصلی امی تو فوت ہو گئی تھیں، یہ میری دوسری امی ہیں۔"
بس... اس ایک جملے نے سب کچھ بتا دیا۔
میرے پاس اس وقت اسے دینے کے لیے بڑے بڑے الفاظ نہیں تھے۔ میں نے صرف اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا:
"بیٹا، صبر کرو۔ ان شاء اللہ ایک دن تم بڑے ہو جاؤ گے، محنت کرو گے، اور اللہ ضرور تمہارے حالات بدل دے گا۔"
وہ خاموشی سے تنور کی طرف چل دیا، مگر جاتے جاتے میرے دل میں ایک ایسا سوال چھوڑ گیا
کیا وہ اپنے ابو کو کبھی نہیں بتاتا کہ اس کی سوتیلی ماں کیسا سلوک کرتی ہے؟

اللہ پاک ہر بچے کو ماں باپ کی محبت نصیب فرمائے،اور کسی معصوم کو ایسی آزمائش نہ دیکھنی پڑے۔ آمین

Address

173-E, Pak Arab Housing Scheme
Lahore
54760

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quraanic Online Quran Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Quraanic Online Quran Academy:

Shortcuts

Share

Category