15/06/2026
Study world
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Study world, Education Website, lahore, Lahore.
Explore text books and useful notes to a vast collection of past papers, pairing schemes, and special materials not just in O/A Levels, Entry Tests, CSS etc.
🚨Whatsapp Channel:🚨
https://whatsapp.com/channel/0029VbBNT9WIXnlrqpj8If1V
15/06/2026
🚨Guess Paper 1st Year English New Syllabus All Punjab Boards.
🚧Lesson no.1
Para, 3,6,8,11,13
Questions 2,4,5,7
🚧Lesson no. 2
Para no. 3,4,5,6
Questions 2,4,5,6
🚧Lesson no. 3 poem
Questions no. 4,8,9
🚧Lesson no. 5
Para no. 3,4,6,7
Questions no. 1,2,4,5
🚧Lessson no. 6 poem
Questions no. 1,3,4,7
🚧Lesson no. 8
Para no. 3,4,5,6,10
🚧Lesson no. 10
Questions no. 2,3,4
🚧Lesson no. 11 poem
Questions no. 1,3،5،8
🚧Lesson no۔13 poem
Question no. 1,2,3,5,6,8
🚧Lesson no. 14 Play
Questions no. 1,4,6,7,8
♥️ Important translation lesssons
Chapter no. 1,2,8
♥️ PTB page no.90
Letter no.
18.2 summer vacation
18.5 health and studies
18.6 bad company
18.8 performance in the examination
18.14 marriage of your sister
18.17 condoling death .
♥️ Application page 85
* Sick leave
* Urgent piece of work
* Fee concession
* Character certificate
* Remission of absence
♥️ Stories page no.69
* Honesty is the best policy
* A friend in need
* Union is strength
* Foolish stage
* Tit for tat
* Look before you leap
* Thirsty crow
* Haste makes waste
* Might is right
♥️ Pair of words
Page no.46 to 60
1,4,13,16,18,23,24,26,30,33,36,39,40,4142,45,46,48,50,51,54,55,59,60,61,63,69,70,71,75,77,79,81,82,85،87،89،90،94،96
PTB book
15/06/2026
LAT - Roll Number Slips
Test Date: Sunday, June 21, 2026
Download Roll Number Slips from etc.hec.gov.pk
14/06/2026
National University of Computer & Emerging Sciences (NUCES-FAST University)
Islamabad | Lahore | Karachi | Peshawar | Chiniot-Faisalabad | Multan`
Admissions Fall 2026
Sector: Private
Last Date to Apply: 26 June, 2026
Entry Test: 29 June - 10 July, 2026
Fee Structure: https://www.nu.edu.pk/Admissions/FeeStructure
Apply Online: https://admissions.nu.edu.pk/OLAR/Login
ایک بادشاہ کے سامنے چار آدمی بیٹھے تھے
1 : اندھا
2 : فقیر
3 : عاشق
4 : عالم
بادشاہ نے ایک مصرعہ کہہ دیا:
"اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"
اور سب کو حکم دیا کہ اس سے پہلے مصرعہ لگا کر شعر پورا کرو۔
1 : اندھے نے کہا:
"اس میں گویائی نہیں اور مجھ میں بینائی نہیں،
اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"
2 : فقیر نے کہا:
"مانگتے تھے زر مصور جیب میں پائی نہیں،
اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"
3 : عاشق نے تو چھوٹتے ہی کہا:
"ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں،
اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"
4 : عالم دین نے تو کمال ہی کردیا:
"بت پرستی دین احمد ﷺ میں کبھی آئی نہیں،
اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"
سوچ کا زاویہ ہر ایک کا جدا ہوتا ہے، ہر کسی کا فکری انداز اسکے مطالعے، مجالست اور تربیت کی مناسبت سے ہوتا ہے. غالبا" یہی جداگانہ انداز فکر قدرت کی نعمت ہے۔
12/06/2026
سخاوت کی لازوال مثال
ایک شخص سخت پریشان حالت میں ایک حاجت مند کے پاس آیا اور بولا:
“بھائی! مجھے تھوڑا سا شہد چاہیے، میری چھوٹی بیٹی شدید بیمار ہے، اس کا علاج شہد سے ممکن ہے۔”
اس شخص نے افسوس سے جواب دیا:
“میرے پاس اس وقت شہد موجود نہیں، لیکن آپ ایک کام کریں۔ شہر سے باہر شام کے ایک بڑے تجارتی قافلے کا گزر ہونے والا ہے۔ اس قافلے کا امیر بہت نیک اور سخی انسان ہے، مجھے یقین ہے وہ آپ کی مدد ضرور کرے گا۔”
حاجت مند نے شکریہ ادا کیا اور امید لے کر قافلے کی طرف چل پڑا۔
کچھ وقت بعد قافلہ آتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ فوراً آگے بڑھا اور قافلے کے امیر کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے ایک نہایت باوقار اور روشن چہرے والے شخص کی طرف اشارہ کیا۔
وہ ان کے پاس گیا اور اپنی حاجت بیان کی:
“میری بیٹی بیمار ہے، علاج کے لیے مجھے تھوڑا سا شہد درکار ہے، مہربانی فرمائیں۔”
اس عظیم انسان نے فوراً اپنے غلام کو حکم دیا:
“جس اونٹ پر شہد کے دو مٹکے رکھے ہیں، ان میں سے ایک مٹکا اسے دے دو۔”
غلام نے عرض کیا:
“آقا! اگر ایک مٹکا دے دیا تو اونٹ کا وزن برابر نہیں رہے گا۔”
انہوں نے سکون سے فرمایا:
“تو پھر دونوں مٹکے ہی دے دو۔”
غلام حیران ہو کر بولا:
“آقا! پھر اونٹ کیسے چلے گا؟”
اس پر انہوں نے فرمایا:
“تو پھر اونٹ بھی اسے دے دو۔”
غلام فوراً دوڑتا ہوا گیا اور اونٹ دونوں مٹکوں سمیت حاجت مند کے حوالے کر دیا۔ وہ شخص حیرت اور خوشی کے ملے جلے احساس کے ساتھ دعائیں دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔
دوسری طرف غلام جب واپس آیا تو آقا نے اس سے پوچھا:
“جب میں نے ایک مٹکا دینے کو کہا تو تم رکے رہے، پھر دوسرے پر بھی اعتراض کیا، لیکن جب میں نے اونٹ دینے کو کہا تو فوراً چلے گئے، کیوں؟”
غلام نے جواب دیا:
“آقا! مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے مزید اعتراض کیا تو کہیں آپ مجھے بھی اس کے ساتھ ہی نہ بھیج دیں، اس لیے میں فوراً چلا گیا۔”
آقا نے مسکرا کر فرمایا:
“اگر تم اس کے ساتھ چلے جاتے تو تم غلامی سے آزاد ہو جاتے، یہ تمہارے لیے بہتر ہوتا۔”
غلام نے عاجزی سے کہا:
“آقا! میں آپ کی غلامی میں ہی رہنا چاہتا ہوں، کیونکہ آپ جیسے آقا بہت کم ملتے ہیں، اور مجھے آپ جیسا مالک کہیں اور نہیں ملے گا۔”
یہ عظیم شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ حضرت عثمان غنیؓ تھے، جن کی سخاوت آج بھی تاریخ میں روشن مثال ہے۔
اس سال جماعت پنجم اور جماعت ہشتم کے تمام مضامین کے امتحانات پیکٹا (PECTAA) کے زیرِ انتظام منعقد ہوں گے۔
10/06/2026
ایک شخص بہت زیادہ شراب پیتا تھا۔ اس کی بیوی تنگ آ کر اسے ایک بابا کے پاس لے گئی۔
بیوی نے کہا: "بابا جی، میرے شوہر کو شراب چھڑوا دیں"۔
بابا نے کہا: "کل آنا"۔
اگلے دن وہ دونوں پھر گئے تو دیکھا بابا درخت پر چڑھ کر بیٹھے تھے اور درخت کو زور سے پکڑا ہوا تھا۔
بیوی نے کہا: "بابا، آپ نے کل آنے کو کہا تھا"۔
بابا نے پھر کہا: "کل آنا"۔
یہ سلسلہ کئی دن چلا۔ روز وہ جاتے، بابا درخت پر چڑھے ہوتے اور بس یہی کہتے: "کل آنا"۔
آخر ایک دن وہ شخص تنگ آ گیا اور بولا: "ارے بیوی، کس پاگل کے پاس لے آئی ہو؟ یہ بتاتا کچھ نہیں، بس روز کہتا ہے کل آنا، کل آنا"۔
پھر غصے سے بولا: "ابے بابا، نیچے اتر"۔
بابا بولے: "بیٹا، میں کیسے اتروں؟ درخت نے مجھے پکڑا ہوا ہے"۔
شوہر ہنس پڑا اور بولا: "دیکھو بیوی، کیسا پاگل ہے! خود درخت کو پکڑا ہوا ہے اور کہتا ہے درخت نے مجھے پکڑا ہے"۔
بابا زور سے ہنسے اور بولے: "بیٹا، بس یہی سمجھنا تھا۔ کوئی بھی بری عادت تمہیں نہیں پکڑتی، تم خود اس عادت کو پکڑے رکھتے ہو۔
جیسے میں درخت کو چھوڑ دوں تو نیچے آ جاؤں، ویسے ہی تم شراب چھوڑ دو تو آزاد ہو جاؤ گے"۔
یہ سن کر شوہر بہت شرمندہ ہوا اور اسی دن سے شراب چھوڑ دی۔
*سبق:*
بری عادت ہمیں نہیں پکڑتی، ہم خود اسے پکڑے رکھتے ہیں۔ ارادہ کر لو تو ہر عادت چھوڑی جا سکتی ہے۔
09/06/2026
نہم جماعت کی ریگولر بورڈ رجسٹریشن کی تاریخ میں 22 جون تک توسیع...
08/06/2026
. پیسہ آخر ہے کیا؟ — ایک کافی شاپ میں ہونے والی گفتگو جس نے سوچنے کا انداز بدل دیا
گلاسگو کے ویسٹ اینڈ کی ایک پُرسکون کافی شاپ میں ہم دونوں بیٹھے تھے۔ باہر ہلکی ہلکی بارش برس رہی تھی، لوگ آ جا رہے تھے، اور فضا میں کافی کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔
میں نے اپنے استاد محترم کی طرف دیکھا اور ایک سوال پوچھ لیا، ایسا سوال جو شاید ہر انسان کے ذہن میں کبھی نہ کبھی ضرور آتا ہے۔
میں نے کہا:
"سر، دنیا میں اتنی دولت، اتنی ٹیکنالوجی اور اتنی پیداوار موجود ہے، پھر بھی غربت کیوں ختم نہیں ہوتی؟ آخر پیسہ حقیقت میں ہے کیا؟"
استاد محترم مسکرائے، کافی کا کپ میز پر رکھا اور بولے:
"محمد نواز! اگر تم واقعی سمجھ گئے کہ پیسہ کیا ہے تو دنیا کو ایک بالکل نئے زاویے سے دیکھنا شروع کر دو گے۔"
میں غور سے سننے لگا۔
انہوں نے کہنا شروع کیا:
"ابتدائی زمانوں میں بینک نہیں ہوتے تھے۔ بینکاری کا تصور تاجروں نے متعارف کروایا۔ اس دور میں دولت زیادہ تر سونے کی شکل میں ہوتی تھی۔ لوگ اپنا سونا محفوظ مقامات پر جمع کرواتے اور بدلے میں ایک رسید حاصل کرتے۔"
میں نے پوچھا:
"رسید؟"
وہ بولے:
"ہاں، ایک تحریری وعدہ کہ جب چاہو اپنا سونا واپس لے سکتے ہو۔"
پھر انہوں نے بتایا کہ وقت کے ساتھ لوگوں نے محسوس کیا کہ سونا ساتھ اٹھائے پھرنے کے بجائے یہی رسید لین دین کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، کیونکہ سب کو یقین ہوتا تھا کہ اس کے پیچھے اصل سونا موجود ہے۔
میں نے کہا:
"یعنی رسید ہی پیسے کی حیثیت اختیار کر گئی؟"
وہ مسکرائے۔
"بالکل۔"
پھر کچھ لمحے رکے اور بولے:
"لیکن اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔"
میں مزید متجسس ہو گیا۔
انہوں نے کہا:
"فرض کرو کسی بینک کے پاس پانچ ملین ڈالر کے برابر سونا موجود ہے۔ اب ایک تاجر قرض لینے آتا ہے۔"
میں نے جواب دیا:
"تو بینک اسے سونا دے دیتا ہوگا۔"
وہ ہنس پڑے۔
"نہیں، بینک اسے سونا نہیں دیتا بلکہ ایک نئی رسید جاری کر دیتا ہے۔"
میں خاموش ہو گیا۔
انہوں نے میز پر انگلی سے دو دائرے بناتے ہوئے کہا:
"سونا تو اب بھی پانچ ملین ہی ہے، مگر رسیدوں کی مجموعی مالیت دس ملین ہو چکی ہے۔"
میں حیران رہ گیا۔
"یعنی پیسہ جیسے کہیں سے پیدا ہو گیا؟"
وہ بولے:
"جدید مالیاتی نظام کی بنیاد کچھ اسی تصور پر کھڑی ہے۔"
میں نے پھر پوچھا:
"اگر سب لوگ ایک ہی وقت میں اپنا سونا واپس مانگ لیں تو؟"
ان کا لہجہ سنجیدہ ہو گیا۔
"پھر بینک مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے، جسے بینک رن کہا جاتا ہے۔"
گفتگو آگے بڑھی تو میں نے پوچھا:
"پہلے بینک قرض کس کو دیتے تھے؟"
انہوں نے جواب دیا:
"زیادہ تر بادشاہوں کو، خصوصاً جنگوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے۔"
میں حیران ہوا۔
"اور اگر بادشاہ قرض واپس نہ کریں؟"
وہ بولے:
"ایسا اکثر ہوتا تھا۔ اسی لیے بینک ایک دوسرے سے جڑتے گئے، اتحاد بنتے گئے اور بالآخر ایک ایسا نظام وجود میں آیا جسے آج ہم سنٹرل بینکنگ کے نام سے جانتے ہیں۔"
کچھ دیر بعد میں نے وہ سوال پوچھا جو مسلسل میرے ذہن میں گردش کر رہا تھا۔
"سر، اگر پیسہ پیدا کیا جا سکتا ہے تو پھر غربت کیوں موجود ہے؟"
وہ چند لمحے خاموش رہے، پھر آہستہ سے بولے:
"کیونکہ مسئلہ پیسے کی کمی نہیں، بلکہ طاقت اور وسائل کی تقسیم ہے۔"
میں نے کہا:
"میں پوری طرح نہیں سمجھا۔"
انہوں نے وضاحت کی:
"پیسہ دراصل ایک علامتی نظام ہے۔ اس کی مقدار بڑھائی یا گھٹائی جا سکتی ہے، لیکن اگر ہر شخص کے پاس بے شمار دولت آ جائے تو معاشی رویے اور نظام یکسر بدل جائیں گے۔"
میں نے حیرت سے پوچھا:
"تو کیا غربت ضروری ہے؟"
وہ بولے:
"غربت صرف معاشی مسئلہ نہیں، ایک نفسیاتی حقیقت بھی ہے۔ یہ لوگوں کو یہ احساس دلاتی ہے کہ پیسہ قیمتی ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے محنت درکار ہے۔"
پھر وہ ذرا قریب ہوئے اور دھیمی آواز میں بولے:
"اور اسی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے بعض اوقات جنگیں اور بڑے معاشی بحران بھی کردار ادا کرتے ہیں۔"
میں حیرت سے ان کی بات سنتا رہا۔
انہوں نے کہا:
"جنگیں صرف زمین یا سرحدوں کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ طاقت، دولت اور نظام کی نئی ترتیب کے لیے بھی ہوتی ہیں۔ ان میں شہر تباہ ہوتے ہیں، معیشتیں کمزور پڑتی ہیں اور بے شمار دولت ختم ہو جاتی ہے۔"
پھر انہوں نے مزید کہا:
"جب نظام میں دولت بہت زیادہ جمع ہو جائے تو بعض اوقات ایسے واقعات جنم لیتے ہیں جو اس توازن کو دوبارہ ترتیب دیتے ہیں۔ جنگیں اور معاشی بحران اکثر یہی کردار ادا کرتے ہیں، اور لوگوں کو دوبارہ یہ احساس دلاتے ہیں کہ وسائل محدود ہیں۔"
کافی شاپ کے باہر بارش اب تیز ہو چکی تھی۔
میں کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا، پھر آہستہ سے پوچھا:
"تو اصل دولت پیسہ نہیں؟"
میرے استاد مسکرائے اور بولے:
"نہیں محمد نواز، اصل دولت انسان کا وقت، اس کی صلاحیت، اس کی تخلیقی سوچ اور اس کی محنت ہے۔"
پھر انہوں نے کپ اٹھایا اور کہا:
"پیسہ صرف ایک علامت ہے۔"
اس دن جب میں کافی شاپ سے باہر نکلا تو میرے ذہن میں ایک ہی بات گونج رہی تھی:
ہم ساری زندگی پیسے کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں، لیکن شاید بہت کم لوگ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پیسہ حقیقت میں ہے کیا۔
اور شاید حقیقی آزادی اسی دن شروع ہوتی ہے جب انسان پہلی بار خود سے یہ سوال پوچھتا ہے:
"آخر پیسہ ہے کیا؟"
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Lahore
Lahore