THE SKAIM School & College Begum Kot Shahdara Lahore

THE SKAIM School & College Begum Kot Shahdara Lahore

Share

The SKAIM is an institute of academic excellence, serving the community since 2005. At the SKAIM, we help young minds realize their dreams.

The SKAIM is place where every effort is made to add value to its students. The syllabus has been carefully designed by a team of experts and this helps the young minds to learn the most through interactive methods. The teaching staff has been trained for this purpose. Every child is important and we believe, every child is an opportunity.

23/08/2024

دی سکائم ہائی سکول اور دی سکائم کالج کی ہونہار طلبہ عائشہ فاروق کے اپنے خالق حقیقی کو جاملیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔

عائشہ ایک ذہین، محنتی اور تابع فرمان طلبہ تھیں جنہوں نے سکائم ہائی سکول سے میٹرک اور دی سکائم کالج سے اپنی ایف ایس۔سی (پری میڈیکل) امتیازی نمبر سے پاس کی۔ وہ پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس فارماکولوجی کر رہی تھیں۔

کل رات انہیں بخار ہوا ڈاکٹر نے انجیکشن لگایا اور کچھ ہی دیر میں انجیکشن کے ری ایکشن کرجانے سے وہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

دی سکائم فیمیلی اپنی ہونہار طلبہ کے والدین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے

23/08/2024

Welcome Back to School, Students!

We hope you had a wonderful summer break, filled with fun and relaxation. As we begin this new school year, we are excited to embark on another journey of learning, growth, and achievement together.

Whether you're returning or joining us for the first time, remember that this school is a place where you can explore new ideas, challenge yourself, and make lasting friendships. Our dedicated teachers and staff are here to support you every step of the way.

Let’s make this year amazing by setting goals, staying positive, and working hard. Embrace the opportunities ahead, get involved in activities, and don’t hesitate to ask for help when you need it. Together, we can achieve great things!

22/08/2024

کائنات کے خالق نے کہا: قصاص میں زندگی ہے۔ انسان کی مینجمنٹ کا اس سے بہتر کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے۔ کلکتہ میں ایک ٹرینی ڈاکٹر کی میڈیکل رپورٹ کے مندرجات پڑھے۔ دل ہل کر رہ گیا کئی دن تک اس پہ ایک لفظ لکھنے کی ہمت نہیں اکٹھی کر پایا۔

صرف ایک مرتبہ تمام ملزمان کو پکڑ کا اسی تکلیف سے گزار دیں اسی طرح انہیں جنسی درندگی کی تکلیف سے گزارا جائے، ان کے جسم پہ ویسے ہی زخم ڈالے جائیں جو جو ہڈی ٹوٹی ہے ویسے ہی توڑ کر بکھیر دی جائے۔ کولہے کے جوڑوں کو اسی طرح اکھاڑا جائے اور پھر اسی طرح مردہ حالت میں پھینک دیا جائے

اس سارے عمل کو ویڈیو میں ریکارڈ کیا جائے اور تمام چینلز پہ صبح شام ایک سال تک چلایا جائے کسی کے اندر مردانگی کے نام پہ ہوس اور کسی کی بیٹی کی طرف آنکھ اٹھانے کی ہمت بھی پیدا نہیں ہو گی۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں صرف جرم کے بعد بیدار ہوتیں ہیں ان کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں حکومتوں کو جرم سے قبل بیدار رہنا ہوتا ہے۔

20/08/2024
17/08/2024

برائے درستگی ریکارڈ

پاکستان میں اغلاط العام کے طور پہ یہ بات زبان زد عام ہے اور شامل نصاب بھی ہے کہ پاکستان ببنے کے بعد دارلحکومت کراچی میں پاکستان کا پرچم معروف دیوبند عالم دین جناب شبیر احمد عثمانی صاحب نے لہرایا۔

اس بات کا کوئی تاریخی ریکارڈ موجود نہیں ہے یہ واقعہ پہلی بار منشی عبدالرحمٰن کی معروف کتاب ’’تعمیرِ پاکستان اور علمائے ربانی‘‘ کے صفحہ نمبر 135-136پر درج ہوا اور اس کے بعد نظریہ سازوں نے اسے مخصوص مقاصد کے تحت تاریخ بنا دیا۔

پاکستان نیشنل آرکائیو میں موجود ریکارڈ کے ساتھ ساتھ 15اور 16اگست 1947کے روزنامہ ڈان پڑھیں تو پتہ چلا کہ یہ بات صحیح نہیں بلکہ پرچم کشائی مولانا شبیر احمد عثمانی کی بجائے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح صاحب نے خود کی تھی۔

10/08/2024

تقسیم ہندوستان کے بعد پھوٹ پڑنے والے فسادات میں فریقین کی جانب سے لگائے جانے والے سبھی نعرے کھوکھلے، غیر حقیقی اور شر انگیزی بڑھانے کے لیے تھے۔ غیر مسلم اکثریتی علاقوں میں ہندوں اور سکھ مسلم نسل کشی میں مصروف تھے تو ہندو جے شری رام جبکہ سکھ جو بولے سو نہال ست سری کال کے نعرے لگا کر اپنے جذبوں کو مذہبی رنگ دے رہے تھے وہیں پہ مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمان ہندووں اور سکھوں کو قتل کرتے وقت اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے تھے۔

جے شری رام ہندوؤں کا ایک مذہبی نعرہ ہے جس کے معنی ہیں "بھگوان رام کی جیت ہو"۔ رام ہندو مت میں ایک بھگوان مانے جاتے ہیں جو وشنو کے ساتویں اوتار ہیں۔ جے شری رام کا نعرہ عموماً ڈر، خوف، افسردگی، ذہنی دباؤ اور تھکن کو دور کرنے کے لیے لگایا جاتا ہے۔

جو بولے سو نہال ستّ سِری اکال“ کا نعرہ بلند کرنے والوں کا مطلب تھا کہ ”جو کوئی لازوال ربّ کا نام لے گا وہ کامیاب و کامران ہو گا۔“

جب کہ اللہ و اکبر میں اللہ کی بڑائی کا اعتراف ہے۔

یہ تینوں مذاہب جو بات کر رہے تھے اسے خود اپنے لیے تسلیم نہیں کرتے تھے۔ یہ تینوں مذاہب ہوس ذدہ تھے، لوٹ مار اور نفرت انگیزی کا شکار تھے۔ گھٹن ذدہ ماحول کے ردعمل میں ایکدوسرے کے قتل میں لذت محسوس کرتے والے درندے تھے۔

ان کے نعروں میں کوئی حقیقت نہ تھی نہ تو ہندووں جے شری رام کی جیت کے لیے قتل و غارت گری میں مصروف تھے نہ ہی سکھوں کے ہاں قتل غارت گری اور عصمت دری کا مقصد سچے تے اوچے رب کو خوش کرنا تھا۔ مسلمانوں کا نعرہ تکبیر بھی ان کے عمل سے نفی ہو رہا تھا وہ اپنے عمل سے بتا رہے تھے کہ وہ اپنی انا، نفس اور گھٹیا فطرت کو اپنے رب سے بڑا سمجھتے تھے۔

ان حالات میں ایسے افراد کے فعل کی سزا آج تک پونے دو ارب لوگ برداشت کر رہے۔ لوگوں کی روٹی، صحت، رہائش اور سہانے مستقبل کے خواب اسلحہ خریدنے، خود کو دوسرے سے زیادہ مہلک بنانے اور ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم نہ کرنے کی نظر ہو گئے ہیں۔

جو لوگ سنہ 47 کے دنگے فسادات کو المیہ کہتے اور اس کی یاد میں نفرت کا کاروبار کرتے وہ بیوپاری ہیں جو جھوٹ بیچتے ہیں انسانی جبلّت کا تصادم جب انسانی اقدار سے ہوتا ہے تو عظیم المیہ جنم لیتا ہے۔ المیہ یہ نہیں ہوتا کہ زندگی کے طویل سفر پر سماج کے بندھن اپنے کانٹے بکھیرتے رہیں اور ہمارے پاؤں سے ساری عمر خون بہتا رہے بلکہ المیہ یہ ہوتا ہے کہ آپ لہو لہان پاؤں کے ساتھ ایک ایسے مقام پر کھڑے ہوجائیں جس کے آگے کوئی راستہ آپکو بلاوا نہ دے۔

سنہ 47 کے فسادات ایک حادثہ تھے لیکن اس کے بعد کے 77 سال المیہ ہیں۔ ہمیں کوئی نئی منزل بلا نہیں رہی ہم ایک غیر حقیقی ماضی کے حقیقتا شکار ہیں۔

26/07/2024

فلسطین اور کربلا: دو واقعات کی ایک جیسی کہانی

ہم جب بھی کسی کو دوسرے انقلابی یا اسلامی واقعات کو فلسطین میں جاری نسل کشی کے ساتھ جوڑتے ہیں تو کربلا کے سانحے کا کبھی ذکربہت کم ہوتا ہے ۔ اور میں اس کی وجہ نہیں سمجھ سکا اور حیران ہوں کہ کیوں؟حالانکہ کربلا کے سانحے کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت اور وضاحتی چیز فلسیطین میں جاری نسل کشی ہی ہے ۔ کربلا کے سانحہ کے بارے میں جاننا ہمیں حریت ، مزاحمت، انصاف، غم اور ایمان کی طاقت کی اہمیت سکھاتا ہے۔ جب آپ کربلا کے سانحہ کو سمجھتے ہیں تو آپ فلسطینی عوام کی حالت زار کو جذباتی طور پر بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ کربلا کا سانحہ فلسطین جیسی آزادی کی دیگر جدوجہد سے کتنا جڑا ہوا ہےکسی کو شیعہ، سنی مسلمان یا یہاں تک کہ مذہبی ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ کربلا ایک تاریخی واقعہ ہے جس کے نہ صرف بڑے مذہبی اثرات ہیں بلکہ دنیا کے تمام مظلوموں کے لیے انقلابی تحریک بھی ہے۔

مزاحمت کا موضوع ایک ایسی چیز ہے جسے ہم فلسطین کے لوگوں میں دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح پیچھے ہٹنے سے انکار کرتے ہیں۔ قبضے میں رہنے اور اپنی ہرطرح کی حرکت پر قابو پائے جانے کے باوجود وہ لڑتے رہتے ہیں اور پر امید رہتے ہیں۔ فلسطینی مزاحمت اسی طرح کی ہے جس طرح ہو چی منہ کے حامی امریکی فوجیوں کے خلاف لڑے جو ان پر قابض تھے اور الجزائر کی فرانس سے آزادی۔ سب کچھ اور نقصانات کی تعداد کے باوجود، ان سب نے مزاحمت کا انتخاب کیا۔ یہ تمام جدوجہد کربلا میں رونما ہونے والے واقعات کے مظہر ہیں۔ اس وقت کی حکومت اپنے عوام پر ظالم اور جابر تھی اس لیے امام حسین علیہ السلام نے فیصلہ کیا کہ تبدیلی کا واحد راستہ مزاحمت ہے۔ 1,000 کی فوج کے مقابلے میں صرف 72 کی فوج ہونے کے باوجود امام حسین علیہ السلام کی فوج نے شہادت کا تصور پیش کرتے ہوئے جنگ جاری رکھی۔ اس سانحے کو آج تک یاد رکھے جانے کی وجہ یہی ہےکہ اتنا عرصہ پہلے جو کچھ ہوا وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں دنیا بھر میں ہونے والے دوسرے واقعات کو کس طرح دیکھنا چاہئے اور ہمیں کس کی طرف ہونا چاہئے۔ جابر کے مقابلے میں مزاحمت چھوٹی اور لمحہ بھر کی ہو سکتی ہے لیکن اس سب میں اہم چیز پیغام کی طاقت ہے ۔ تعداد میں کم ہونے کے باوجود ہمیں اجتماعی طور پر اکٹھے ہونے اور زیادہ طاقت کے خلاف مزاحمت کرنے کی ضرورت ہے۔

شہادت کا تصور سانحہ کربلا میں سمایا ہوا ہے۔ ایک ایسا عمل جسے اسلامی عقیدے میں اعلیٰ ترین اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ خدا اور شہادت پر ایمان رکھنے کا موضوع ایک ایسی چیز ہے جسے ہم فلسطینی عوام میں دیکھتے ہیں۔ شریعت نے ذکر کیا ہے کہ کس طرح "شہادت کا مطلب گواہی دینا ہے" اور لوگ کس طرح جہاد کے ذریعے "حق سے اپنی محبت" ظاہر کرتے ہیں ۔ کربلا کی آپس میں جڑی ہوئی فطرت کو مختلف انقلابات میں الہام کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ علی شریعتی اس چیز کو زیادہ بہتر انداز میں بیان کرتے ہیں کہ جب امام حسین علیہ السلام "مرنے کے لیے اٹھتے ہیں" تو اس کی وجہ یہ ہے کہ "ان کے پاس اپنے دشمن کی مذمت اور رسوا کرنے کی جدوجہد کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے" ۔ امام حسین علیہ السلام اپنی تقدیر کو جانتے تھے اور یہ جانتے تھے کہ وہ فتح یاب رہنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ جس چیز پر ایمان لائے اور جس کے لیے کھڑے تھے اس کے لیے شہید ہو جائیں۔ کیونکہ اس کی نظر میں، دشمن کو شکست دینے کا واحد طریقہ "ان کو رسوا کرنا" ہے۔ "انقلاب کی اس دوسری نسل کی لاشوں میں نیا خون اور جہاد کا عقیدہ ڈال کر اس کی مذمت کرنا" ۔ ظالم کے خلاف فتح حاصل کرنے کے لیے امام حسین علیہ السلام کی نظر میں ایک ہی راستہ تھا کہ وہ اپنے پیغام کے لیے قربان ہو جائیں۔

اس قسم کی کارروائی وہ چیز ہے جسے ہم جدوجہد کی تمام شکلوں میں دیکھتے ہیں خاص طور پر فلسطین میں۔ فلسطین میں ان افراد میں سے ہر ایک جو بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے اس حقیقت کے علاوہ کہ ان کا فلسطینی شہید سمجھا جاتا ہے۔ اور وہ سب خدا کےہاں بلند مقام رکھتے ہیں۔ شہادت اور "خدا کے لیے مرنا" کا خیال آسانی اور سکون لاتا ہے۔ کیونکہ اگر آپ کوئی ایسا شخص ہوتے جس پر بمباری ہو رہی ہو اور آپ کے بچنے کا کوئی امکان نہ ہو، تو اس لمحے میں صرف وہی چیز جو آپ کو سکون بخشے گی وہ یہ ہے کہ آپ کو امام حسین علیہ السلام کی سیرت کا مجسم پیروکار بنا جائے۔

شہادت کایہی بیان نہ صرف ایرانی انقلاب میں استعمال کیا گیا بلکہ اسے مزاحمت کی دوسری شکلوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔ ڈاکٹر شریعتی نے امام حسین کو "ہر صدی اور ہر دور میں موجود ہونے کے طور پر بیان کیا ہے - جو کوئی بھی ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہے، چاہے وہ مومن ہوں یا ملحد، مجرم ہوں یا نیک لوگ - وہ سب برابر ہیں"۔ جس چیز پر آپ یقین رکھتے ہیں اس کے لیے مرنا ایک ایسی چیز ہے جس کی ضرورت ان تمام لوگوں میں ہے جو اپنے ظالموں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اگر آپ خُدا کے لیے سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں اور جس پر آپ یقین رکھتے ہیں، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ فتح یاب ہوں گے۔

المیہ کا موضوع کچھ ایسا ہے جو اکثر فلسطین کے علاوہ کربلا میں پیش آنے والے واقعات کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ہم بچوں کو اپنے والدین کو دیکھ کر روتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ انہیں خون میں لتھڑا ہوا دیکھتے ہیں۔ ان بچوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ وہ اپنے خاندان کو کیوں اور کیسے کھوتے ہیں؟ یہ بچے اس بات کا مظہر ہیں جو نبی کے خاندان کے ساتھ پیش آیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان پر تشدد کیا گیا اور ان کے اہل خانہ کو قتل کر کے انہیں یتیم کر دیا گیا۔فلسطین میں ہونے والی بے شمار اموات کے ساتھ اور پیغمبر کے خاندان کی اموات کتنی وحشیانہ تھی۔ آپ دونوں کے درمیان موجود ارتباط کو بہت واضح طور پر دیکھیں گے۔ اسی قسم کا المیہ دیکھا جا سکتا ہے جب پوری نام نہاد "مسلم" امت فلسطینیوں کی مدد کی پکار کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ نبی کے خاندان کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا۔

المیہ اور درد کی ان کہانیوں کو یاد کرتے وقت ہمیں نہ صرف غصہ بلکہ غم بھی محسوس ہوتا ہے۔ غم کا موضوع ایک ایسی چیز ہے جسے اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔ اگر تم مرد ہو تو یہ رونا ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن کربلا کا سانحہ ہمیں دوسری صورت میں سکھاتا ہے اور جو کچھ فلسطین میں ہو رہا ہے اس کے ساتھ بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔ رونا اس لیے کہ آپ اس بات پر غمگین ہیں کہ جو کچھ عرصہ پہلے ہوا تھا یا دور چلا گیا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ انسان ہیں اور جذبات کی تصویر کشی کرنے کے اہل ہیں۔ ہم اصول پرست مخلوق نہیں ہیں۔ ہمارے پاس جذبات اور پیچیدگیاں ہیں جو روحانی طور پر دنیا کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ ہمیں کسی ایسی چیز سے نہیں ہٹایا جاتا جو بہت پہلے واقع ہوئی تھی، بالکل اسی طرح جو فلسطین میں اس وقت ہو رہی ہے اس سے ہمیں ہٹایا نہیں جاتا۔

تعلق دیکھنے کے لیے آپ کا کسی مسلک کا ہونا ضروری نہیں ہے۔بلکہ مسلمان ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔ 1400 سال پہلے کربلا میں جو کچھ ہوا اس سے جو سبق حاصل کیا جا سکتا ہے اس کا اطلاق آج کے دور میں رونما ہونے والے کسی بھی سانحے پر کیا جا سکتا ہے۔ میری ساری زندگی سانحہ کربلا کی یاد میں گھومتی رہی۔ مجھے یاد ہے کہ میری عمر 11 سال تھی اور میں اپنی مقامی مسجد جاتا تھا اور لوگوں کو زیادہ تر کالے کپڑوں میں دیکھتا تھا۔ سانحہ کربلا کے بارے میں نوحے اور تقاریر سننایاد ہے۔ آنسو بہانا کیونکہ ایک بچہ ہونے کے باوجودکربلا میں جو ہوا وہ مجھے خوفناک حد تک محسوس ہوتا۔جیسے جیسے میں پختہ ہوتا گیا اور انقلاب کی دوسری شکلوں کے بارے میں سیکھتا رہا جیسے کہ الجزائر، ویتنام، کیوبا، فلسطین اور بہت سے دوسرے کے ساتھ کیا ہوا، میں نے اسی طرح کے موضوعات کو گھیرے ہوئے دیکھنا شروع کیا۔ وہ موضوعات جو مزاحمت، قربانی، ایمان، غم اور المیے کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ سب واقعہ کربلا میں سما گیا ہے۔ آزادی کی جدوجہد کی ہر شکل کو اس سادہ سطر کے ذریعے بیان کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح ’’ہر دن عاشورہ ہے اور ہر زمین کربلا ہے۔

21/07/2024

امام حسینؑ کا سر کہاں دفن ہوا؟

محرم الحرام کے ایا م میں جہاں ذکر ِ امام حسین ؑ کثرت سے کیا جاتا ہے وہاں سوشل میڈیا پہ ایک یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ امام حسین ؑ کی اس واقعہ سے قبل کی چھپن برس کی عمر تاریخ میں کیوں درج نہیں ہے۔ یہ اعتراض کافی جینوئن ہے۔ ایک اتنی بڑی ہستی جسکا تعارف رسول مکرم جنتی نوجوانوں کے سردار کے طور پہ کروا رہے ہوں وہ تاریخ سے ایک دم غائب ہو جائے۔ اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ تاریخ دربار اور سلطنت سے جڑے افراد کے گرد گھومتی ہے۔ خلفائے راشدین کے دور میں امام حسین ؑ چونکہ کسی حکومتی ذمہ داری سے جڑے نہیں تھے اس لیے امور سلطنت کی ڈیلی ڈائری کی شکل میں مرتب ہونے والی تاریخ کے ریڈار سے غائب ہیں ۔

پھر 61 ہجری میں دوبارہ تاریخ اس پہ اپنا فوکس اس قدر بڑھا دیتی ہے کہ آپ ؑ کی ایک ایک موومنٹ مانیٹر کی جاتی ہے۔ مدینہ میں یذید کے حاکم مقرر ہونے پہ آپ کا ردعمل نوٹ کیا جاتا ہے۔ مدینہ سے آپ کی مکہ رونگی کی تفصیلات درج کی جاتی ہیں ۔ مکہ میں آپ ؑ کو ملنے والے خطوط کے مندرجات بھی مورخین اپنے ہاں درج کرتے ہیں ۔ آپ کو ملنے والے افراد کی فہرست بنائی گئی۔ آپ کے قاصدوں اور رفقاء کے نام درج کیے۔ آپ کی طے کردہ منزلیں یاد رکھیں۔ الغرض آپ کو تاریخ نے سن 60 ہجری میں بھرپور کوریج دی۔

لیکن پھر کیا ہوا؟ جیسے ہی آپ کربلا میں شہید ہوئے تاریخ نے آپ ؑ کو یکسر نظر انداز کر کے آپ سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔ جس کی ایک مثال امام حسین ؑ کے سر ِ اقدس کا ایک سے زائد جگہوں پہ موجود ہونا ہے۔ یعنی یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ مورخ جو امام حسینؑ کی زیر ِ لب سرگوشی کو سن کر تاریخ میں درج کر رہا، امام حسین ؑ کی دوسرے شہیدوں سے ہونے والی علیحدگی میں گفتگو کو سن رہا ہے وہی مورخ یہ نہیں جان پایا کہ شہادت کے بعد امام حسین ؑ کے سرِ اقدس کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا۔

سر امام حسینؑ اور کربلاء کے شہدا ء کے سروں کے مدفن کے بارے شیعہ اور سنی کتب میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے اور جو اقوال اس بارے میں نقل ہوئے ہیں ان کے حوالے سے تحقیق کی ضرورت ہے۔ لیکن سب سے مشہور قول جو شیعہ میں سب نے قبول کیا ہے یہ ہے امام علیہ السلام کا سر مبارک کچھ مد ت کے بعد آپ کے بدن مبارک کے ساتھ ملحق ہو گیا اور کربلا میں لا کر دفن کیا گیا ہے۔ ذیل میں آپؑ کے سر مبارک کے مدفن کے بارے تاریخی تضادات کو ملاحظہ فرمائیں

پہلا قول یہ ہے کہ امام حسین ؑ کا سر مبارک کربلا میں ہے ۔یہ نظریہ علمائے شیعہ میں مشہور ہے اور علا مہ مجلسیؒ نے اس کی شہرت کی طرف اشارہ کیا ہے۔شیخ صدوق نے سر مبارک کے آپ کے بدن کے ملحق ہونے کے بارے میں فاطمہ بنت علی علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ہے۔ اب اس کی کیفیت کیا تھی کہ کیسے آپ کا سر مبارک آپ کے بدن سے ملحق ہوا ،اس بارے میں مختلف نظریات ذکر کئے گئے ہیں ۔ بعض جیسے سیدابن طاؤس اسے امر الٰہی شمار کرتے ہیں کہ خداوند نے خود اپنی قدرت کاملہ سے اعجاز کے طور پر یہ کام انجام دیا اور سید نے اس بارے میں چون و چرا سے بھی منع فرمایا ہے۔بعض دوسرے قائل ہیں کہ امام سجاد علیہ السلام جب شام سے واپس تشریف لائے تو وہ سر امامؑ کو اپنے ساتھ لائے اور کربلا میں اپنے بابا کے بدن کے ساتھ دفن کیا۔

اب یہ سوال کہ کیا سر بدن کے ساتھ ملحق ہو گیا یا امام کی ضریح میں یا اس کے نزدیک دفن کیا گیا۔ اس با رے میں کوئی واضح عبارت تو نہیں ملتی یہاں بھی سید ابن طاؤس نے چون و چرا سے نہی فرمائی ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ آپ ؑ کا سر مبارک دمشق میں دفن ہے ۔ اور اس ضمن میں بعض قائل ہیں کہ سر مبا رک کو تین دن دروازہ دمشق پر آویزاں رکھنے کے بعد اتار کر حکومتی خزانے میں رکھ دیا گیا اور سلیمان عبدالملک کے دور تک یہ سر وہیں تھا اس نے سر مبارک کو وہاں سے نکالا اور کفن دے کر دمشق میں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ اس کے بعد اس کے جانشین عمر بن عبدالعزیز ( ۹۹ تا ۱۰۱ہجری حکومت) نے سر کو قبر سے نکالا، لیکن پھر اس نے کیا کیا یہ معلو م نہیں ہوسکا ، لیکن ان کی ظاہری شریعت کی پابند ی کو دیکھتے ہوئے زیادہمورخین نے یہ احتمال کیا ہے کہ اس نے سر کو کربلا بھیجا ہو گا۔

تیسرا قول یہ ہے آپ ؑ کا سر مبارک حضر ت علی علیہ السلام کی قبر کے پاس نجف میں مدفون ہے ۔علامہ مجلسیؒ کی عبارت اور روایات میں تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سر مقدس سید الشہداء، نجف اشرف میں حضر ت علی علیہ السلام کی قبر کے پاس دفن ہوا۔ روایات میں آیا ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے بیٹے امام اسماعیل ؑکے ہمراہ نجف میں حضرت امیر المومنینؑ پر درود و سلام بھیجنے کے بعد امام حسینؑ پر سلام بھیجا۔ اس روایت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے دور تک سر مقدس نجف اشرف میں مدفون تھا۔

بعض دوسری روایا ت بھی اسی نظریہ کی تائید کرتی ہیں بلکہ بعض شیعہ کتابوں میں توحضرت علیؑ کی قبر مطہر کے پا س سر امام حسینؑ کی زیا رت بھی نقل ہوئی ہے۔سرِ مقدس کو نجف منتقل کرنے کے حوالے سے امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ اہل بیتؑ کے چاہنے والوں میں سے ایک شخص نے شام سے کسی نہ کسی طریقے سے یہ سر حاصل کیا اور حضر ت علیؑ کی قبر میں لا کر دفن کر دیا ۔ لیکن اس نظریے پر اشکال یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے دور تک تو حضرت علیؑ کی قبر مبارک عام لوگوں سے مخفی تھی اور انہیں اس کا پتہ نہیں تھا۔

ایک اور روایت میں ہے کہ دمشق میں سر مقدس کے ایک مدت تک رکھے جانے کے بعد اسے کوفہ ابن زیاد کے پاس بھیج دیا گیا اور اس نے لوگوں کی شورش کے خوف سے حکم دیا کہ سر کو کوفہ سے باہر لے جا کر حضرت علیؑ کی قبر کے پاس دفن کر دیا جائے۔اس پر بھی وہی اشکال ہے کہ اس وقت تک لوگوں سے حضرت علیؑ کی قبر مخفی تھی۔

چوتھا قل یہ ہے کہ سید الشہدا امام حسین ؑ کے سر اقدس کو کوفہ میں دفن کی گیا۔ سبط ابن جوزی نے یہ نظریہ ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ عمرو بن حریث مخزومی نے سر کو ابن زیاد سے لیا اورپھر اسے غسل و کفن دیا اور خوشبو لگانے کے بعد اپنے گھر میں دفن کردیا ۔

پانچواں قول یہ ہے کہ آپ کا سر مبارک مدینہ منورہ میں دفن ہے۔ ابن سعد ( طبقا ت کے مصنف ) نے یہ نظریہ قبول کیا ہے کہ یزید نے سر حاکم مدینہ عمرو بن سعید کو بھیجا اور اس نے اسے کفن دینے بعد جنت البقیع میں امامؑ کی والدہ ماجدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی قبر کے پاس دفن کر دیا۔ بعض دوسرے اہل سنت علماء جیسے خوارزمی نے مقتل الحسینؑ میں اورابن عماد جنبلی نے شذرات الذھب میں بھی یہی نظریہ قبول کیا ہے۔

چھٹا قول یہ ہے کہ آپ کا سر مبارک شام دفن کیا گیا۔ کہ اکثر اہل سنت کا یہی نظریہ ہے کہ سر مقدس شام میں مدفون ہے اور پھر اس نظریے کے قائلین میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اس بارے پانچ نظریات ذکر کئے گئے ہیں :
الف: دروازہ فرادیس کے پا س دفن ہوا بعد میں وہاں مسجد الرائس تعمیر کی گئی،
ب: جامع اموی کے پاس ایک باغ میں دفن ہے،
ج: دارالامارہ میں دفن ہے،
د: دمشق کے ایک قبرستان میں دفن ہے،
ھ: باب تو ماکے نزد یک دفن ہے،

ساتواں قول ہے کہ آپ کا سر مبارک رِقّہ میں دفن ہے ۔نہر فرات کے کنارے ایک شہر ہے، جس کا نا م رِقّہ ہے، اس دور میں آل عثمان میں سے آل ابی محیط کے نام سے مشہورایک قبیلہ وہاں آباد تھا، یزید نے سرمقد س ان کے پاس بھیجا اور انہوں نے اسے اپنے گھر کے اندر دفن کر دیا ،بعد میں وہ گھر مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔

آٹھواں قول یہ ہے کہ سر مبارک مصر کے شہر قاہرہ میں نقل ہواہے کہ فاطمی حکمران جن کی حکومت مصر پر چوتھی صدی ہجری کے دوسرے نصف سے شرو ع ہوئی اور سا تویں صدی ہجری کے دوسرے نصف تک باقی رہی ، یہ اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے سر امام حسین علیہ السلام کو شام کے باب الفرادیس سے عسقلان منتقل کیا اور پھر عسقلان سے قا ہرہ منتقل کیا اور وہاں دفن کر کے ۵۰۰ سا ل بعد اس پر تا ج الحسینؑ کے نام سے مقبرہ تعمیر کیا ۔

تبریزی نے عسقلان سے قاہرہ کی طرف سر مقدس کے انتقال کی تا ریخ ۵۴۸ ہجری لکھی ہے اور کہا ہے کہ جب سر مقدس عسقلا ن سے نکالا گیا تو دیکھا گیا کہ خون ابھی تک تازہ ہے اور خشک نہیں ہوا اور مشک و عنبر کی خوشبو سر سے پھو ٹ رہی تھی۔ علامہ سید محسن امینی عسقلا ن سے مصر سر کے انتقال کا قول ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں ، سر مقدس کے دفن کی جگہ پر بہت بڑی بارگاہ بنائی گئی ہے اورا س کے پاس ایک بہت بڑ ی مسجد بھی بنائی گئی ہے۔ میں نے ۱۳۲۱ہجری میں وہاں زیارت کی اور وہاں میں نے زائرین کی بڑی تعداد زیارت و گریہ کرتے ہوئے دیکھا ، پھر آپ فرما تے ہیں کہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ سر عسقلان سے مصرمنتقل ہوا ہے ، لیکن آیا وہ امام حسین علیہ السلام کا سر تھا یا کسی اور کا اس بارے یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔علامہ مجلسیؒ نے بھی بعض مصریوں سے نقل کیا ہے، مصر میں مشہد الکریم کے نام سے بہت بڑی بارگاہ موجود ہے۔

محترم قارعین آپ نے ملاحظہ کیا کہ امام حسین ؑ کے سرمبارک کے بارے کس قدر متضاد دعویٰ اسی تاریخ میں موجود ہے جو تاریخ شہادت امام حسین ؑ سے چند دن قبل تک آپ سے جڑی ہر چھوٹی سی چھوٹی چیز کو بڑی ترتیب سے اپنی یاداشت میں محفوظ کر رہی تھی۔ تاریخ نے صرف اور صرف امام حسین ؑ کا استعمال کیا ہے۔ آپ کی زندگی جو کہ اسوہ رسول کا بہترین عملی ظہور تھا اسے فراموش کرنے میں کوئی کس نہیں چھوڑی۔ واقعہ کربلا سے قبل اور اس کے بعد امام حسین ؑ مورخین کی توجہ کا مرکز کبھی نہیں رہے۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی بڑی ہستی کا سر اقدس کسی جگہ دفن ہوا ہو اور اس کے چشم دید سینکڑوں کی تعداد میں نہ ہوں۔اس لیے اس تاریخ کا بھروسہ کیسے کیا جا سکتا؟

16/07/2024

سیدنا حسین بن علی علیہ السلام کے قیام کے مقاصد میں سے ایک اپنے نبی (ص) کی امت کو جسد واحد کی طرح متحد کرنا تھا۔کیونکہ نبی کریم ﷺ کو امت کے بارے جس چیز کی سب سے زیادہ فکر تھی وہ اتحاد امت تھی۔ امام حسین ؑ سے بڑھ کر نبی کریم ﷺ کے پیغام کا فہم کسی کو نہیں ہو سکتا۔ اس لیے آپؑ نے اس مقصد کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔

کیا امام حسینؑ سے اپنی محبت میں ہم امت کو جسد واحد کی طرح متحد کرنے میں اپنے سب کچھ میں سے صرف اپنے آپ کو قربان کر سکتے تاکہ ہمارا مطالعہ، ہماری تاریخ، ہماری فقہ، ہماری روایات، ہمارے سلف صالحین ہمارے علما سمیت وہ ہمارا سب کچھ جو امت میں تقسیم کا باعث ہے وہ درمیان سے ہٹ جائے؟

اگر امام کے مقصد کے لیے ہم اپنا کچھ بھی قربان نہیں کر سکتے تو پھر ہمارے اس تعلق پہ دنیا یہ کہنے میں حق بجانب ہو گی کہ یہ ایامِ محرم امام حسینؑ کی محبت میں نہیں بلکہ یذید کے شکریے کے طور پہ منائے جاتے ہیں۔ کہ یذید کا شکریہ جس نے ہم سب کی روٹی کے اسباب پیدا کیے۔

08/07/2024

بچوں کی تربیت میں کہانیوں کا کتنا بڑا عمل دخل ہوتا ہے اس کا مجھے کچھ دن پہلے اندازہ ہوا۔ میری بیٹی فاطمہ روز رات سونے سے پہلے مجھ سے کہانی سنتی ہے۔ پچھلے ہفتے میں نے انہیں ایک خاص نقطہ نظر سے حضرت موسیٰ (ع) کی کہانی سنانی شروع کی۔ یہ کہانی کچھ دن چلی۔ میں روز کہانی کا پچھلا حصہ بھی سنا دیتا جس سے فاطمہ کو کہانی کا بیشتر حصہ نہ صرف زبانی یاد ہو گیا بلکہ وہ بہت جذباتی حد تک حضرت موسیٰ سے اٹیچ ہو گئی ہے۔

کل فاطمہ اپنی ماما اور 3 سالہ کزن حسن کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ انہوں نے چار کرسیاں ایک لائن میں رکھ کر ٹرین بنا کر کھیل رہے تھے۔ فاطمہ ٹرین کی ڈرائیور بنی ہوئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد فاطمہ نے ماما سے پوچھا ماما آپ جانتی ہیں کہ ٹرین پہ آپ اور حسن بھائی کے علاوہ اور کون سوار ہے۔ فاطمہ کی ماما نے کہا کہ کون ہے؟ تو کہنے لگی حضرت موسیٰ (ع)۔ فاطمہ کی ماما نے مسکرا کر بات سنی ان سنی کر دی۔ کچھ دیر بعد فاطمہ کہنے لگی ٹرین رک گئی ہے حضرت موسیٰ (ع) کا اسٹیشن آ گیا۔ یعنی وہ ہر وقت حضرت موسیٰ کو اپنے ساتھ ساتھ محسوس کرتی ہے۔ رات میں جب اسے دبارہ کہانی سنانے لگا تو فاطمہ کہتی پاپا آپ جانتے ہیں میرا فرینڈ کون ہے؟ میں نے پوچھا کون؟ کہنے لگی حضرت موسیٰ (ع)

مجھے یہ بات شدت سے محسوس ہوئی کہ ماں باپ اپنے بچوں کی تربیت کے سالوں میں انہیں گلی بازار کے ماحول اور موبائل کے غیر ذمہ دارانہ تربیت کے ہاتھ لگنے کی بجائے اگر اپنے ساتھ وقت گزارنے کا موقعہ دیں تو وہ مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں جن سے ایک نسل حق گوئی، بہادری اور جرات مندانہ اقدار کو اپنے اندر اپنا سکتے ہیں

05/07/2024

3/45 جھانسی کی رانی لکشمی بائی: آزادی کی تحریک میں ہمت کا نشان

رانی لکشمی بائی، جسے جھانسی کی رانی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جھانسی (جو اس وقت اتر پردیش کے جھانسی ضلع میں واقع ہے) کی ایک بہادر حکمران تھی۔ وہ 19 نومبر 1828 کو وارانسی کے قصبے میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک افسانوی کردار کی طرح تھی جو 1857 کے ابتدائی ہندوستانی بغاوت میں شامل تھی اور اس کا تعلق برطانوی راج کے خلاف ابتدائی مزاحمت سے ہے۔ اس کے شوہر، جھانسی کے مہاراجہ راجہ گنگادھر راؤ نیوالکر کے انتقال کے بعد ہندوستان کے برطانوی گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی نے مہاراجہ کے لے پالک بیٹے کو ان کا وارث تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور جھانسی پر قبضہ کر لیا۔

رانی لکشمی بائی جیسی بہادر اور مضبوط خاتون جنگجو ہندوستانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اس نے خود مختاری کی لڑائی اور برطانوی جبر سے ہندوستانی عوام کی رہائی کے لیے اپنے آپ کو قربان کیا۔ رانی لکشمی بائی ہندوستان میں حب الوطنی اور فخر کی ایک شاندار مثال ہے۔ وہ بہت سے لوگوں کو متاثر کرتی ہے اور وہ اس کی طرف رشک سے دیکھتے ہیں۔ اس طرح ان کا نام ہندوستان کی تاریخ میں امر ہے اور ہرشخص کے دل میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

ایک مراٹھی برہمن گھرانے میں، رانی لکشمی بائی 19 نومبر 1828 کو وارانسی میں موروپنت تامبے اور بھاگیرتھی سپرے (بھگیرتی بائی) کے ہاں پیدا ہوئیں۔ ۔ جب وہ چار سال کی تھی تو اس نے اپنی ماں کو کھو دیا۔ لکشمی بائی کو بٹھور کے درباری پیشوا نے اس میں ہمت اور بہادری کی خصوصیات بہت پسند کیا انہوں نے اسے "چھبیلی" کہا، جس کا مطلب ہے "چنچل" اور اپنی بیٹی کے طور پر اس کی پرورش کی۔

اپنے دور کی زیادہ تر لڑکیوں کے مقابلے لکشمی بائی کا بچپن کچھ غیر معمولی تھا۔ اس نے اپنی اسکول کی تعلیم بشمول مارشل آرٹس، تلوار بازی، گھڑ سواری ، شوٹنگ، اور باڑ لگانا گھر پر حاصل کی اور پیشوا خاندان میں لڑکوں کے ساتھ پرورش پائی۔ اپنے بچپن کے دوستوں نانا صاحب اور تانتیا ٹوپے کے ساتھ اس نے جمناسٹک بھی سیکھا ۔

مانی کارنیکا نے مئی 1842 میں جھانسی کے مہاراجہ گنگا دھر راؤ نیوالکر سے شادی کی۔ مشہور ہندو دیوی لکشمی کے بعد اسے لکشمی بائی کا نام دیا گیا۔ اس کا بیٹا دامودر راؤ، جو 1851 میں پیدا ہوا تھا اور چار ماہ بعد انتقال کر گیا تھا۔ مہاراجہ نے کوئی وارث نہ ہونے کی وجہ سے اپنے کزن کے بچے کو گود لے لیا۔ نوجوان جو پہلے آنند راؤ کے نام سے جانا جاتا تھا مہاراجہ کے انتقال سے ایک دن قبل اس کا نیا نام دامودر راؤ رکھا گیا۔ برطانوی پولیٹیکل آفیسر کو ایک خط دیتے ہوئے بچے کے ساتھ احترام سے پیش آنے کی ہدایات کے ساتھ مہاراجہ نے گود لینے کے طریقہ کار کو بھی انجام دیا۔ نومبر 1853 میں مہاراجہ کا انتقال ہو گیا، اور گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی کی سربراہی میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے مہاراجہ کے لے پالک بیٹے کو اپنا وارث تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اورDoctrine of Lapse.”." کے مطابق ریاست جھانسی سے الحاق کر لیا۔ لکشمی بائی، جو انگریزوں میں "جھانسی کی رانی" کے نام سے مشہور تھیں واقعات کےاس اتار چڑھاو سے غصے میں تھیں۔ اس نے جھانسی پر انگریزوں کا کنٹرول نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ مارچ 1854 میں انگریزوں نے لکشمی بائی کو جھانسی کا محل اور قلعہ خالی کرنے کا حکم دیا اور انہیں ماہانہ ساٹھ ہزار روپے ماہانہ وظیفہ پر مقرر کیا۔

1857 کی بغاوت ، جسے برطانوی حکومت کے خلاف پہلی اہم مزاحمت سمجھا جاتا ہے، نے پہلی بار ہندوستان میں برطانوی اقتدار کے لیے خطرے کے طور پہ دیکھا گیا ۔ 10 مئی 1857 کو میرٹھ میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف ایک برطانوی فوج کے سپاہیوں میں بغاوت شروع ہو گئی۔ لکشمی بائی نے ابھی تک انگریزوں کے خلاف بغاوت نہیں کی تھی اور درحقیقت ایک برطانوی پولیٹیکل آفیسر کیپٹن الیگزینڈر سکین سے اپنی حفاظت کے لیے مسلح افراد کی ایک فورس کو جمع کرنے کی اجازت مانگی تھی جو اسے دے دی گئی۔ شمالی ہند کے متعدد شہروں میں بغاوت کا شعلہ تیزی سے پھیل رہا تھا۔ جاگیردار اور شاہی جاگیروں کے مالکان جو ناخوش تھے برطانوی فوج کے خلاف بغاوت کرنے لگے۔ اگرچہ انگریزوں نے جھانسی میں سپاہیوں کو بھیجنے کا وعدہ کیا تھا لیکن فوجیوں کو آنے میں کچھ وقت لگا۔ مارچ 1858 میں جب برطانوی فوجیں بالآخر جھانسی پہنچیں لیکن اس شہر کے دفاع کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ قلعہ میں بھاری ہتھیار نصب کیے گئے تھے جو پورے شہر میں فائر کر سکتے تھے۔

سنٹرل انڈین فیلڈ فورس کے کمانڈر سر ہیو روز نے خبردار کیا کہ اگر اس نے سر تسلیم خم نہ کیا تو شہر کو تباہ کر دیا جائے گا۔ لکشمی بائی نے اعلان کیا کہ وہ اس وقت تک آزادی کے لیے جدوجہد کریں گے جب تک کہ وہ اس مقام پر مر نہ جائیں۔ 23 مارچ 1858 کو جب روز نے جھانسی کا محاصرہ کیا تو اس نے شہر کی حفاظت کے لیے برطانوی فوجیوں کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیا۔ برطانوی فوجیوں کے خلاف ایک مضبوط لڑائی لڑنے کے علاوہ اس نے تانتیا ٹوپے سے مدد طلب کی جو اسے حاصل ہو گئی ۔ لکشمی بائی نے انگریزوں کی طرف سے اپنی افواج پر غالب آنے کے باوجود ہار ماننے سے انکار کر دیا۔ بہادر رانی نے اپنے گھوڑے بادل پر قلعہ سے چھلانگ لگائی جس کی پشت پر دامودر راؤ تھا اور رات کو اس کے محافظوں کی مدد سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ ڈی لالہ بھاؤ بخشی، موتی بائی، دیوان رگھوناتھ سنگھ، اور خدا بخش بشارت علی ان کے ساتھ بھاگنے میں کامیاب ہونے والے جنگجوؤں میں شامل تھے۔ قلعہ سے نکلنے کے بعدوہ مشرق کی طرف چلی گئی اور کالپی میں ڈیرہ ڈالا جہاں اس کے ساتھ دیگر باغی بھی شامل ہو گئے جن میں تانتیا ٹوپے بھی شامل تھے۔ وہ کالپی کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب ہو گئے لیکن 22 مئی 1858 کو برطانوی فوجیوں نے اس شہر پر حملہ کر دیا۔ لکشمی بائی نے انگریزوں کے ساتھ لڑائی میں ہندوستانی فوج کی قیادت کی لیکن وہ ناکام رہیں۔ گوالیار فرار ہونے اور دوسرے ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ شامل ہونے کے بعد، لکشمی بائی باندا کے نواب، راؤ صاحب، اور تانتیا ٹوپے کے ساتھ شامل ہوگئیں۔ انہوں نے گوالیار کے شہر کے قلعے پر ایک کامیاب حملہ کیا اور کسی بھی مزاحمت کے بغیر اس کے اسلحہ خانے اور خزانے پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کے بعد پیشوا (حکمران) کو نانا صاحب اور گورنر کو راؤ صاحب (صوبیدار) قرار دیا گیا۔ تاہم لکشمی بائی نے گوالیار میں برطانوی حملے کی توقع کی تھی لیکن وہ دوسرے ہندوستانی سربراہوں کو دفاع کی منصوبہ بندی کرنے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہیں۔ اسی سال 16 جون کو مورار لینے کے بعد کیپٹن روز کی قیادت میں برطانوی فوجیوں نے لکشمی بائی کی پیشین گوئی کی تصدیق کرتے ہوئے گوالیار پر کامیابی سے حملہ کیا۔

17 جون 1858 کو لکشمی بائی نے گوالیار کے پھول باغ کے قریب کوٹہ کی سرائے میں کیپٹن ہینیج کے ماتحت 8ویں (کنگز رائل آئرش) ہسار کے دستے کے ساتھ زبردست مقابلہ کیا ۔ کچھ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ لکشمی بائی جو سوار کی وردی میں ملبوس تھی کی موت اس وقت ہوئی جب ایک سپاہی نے "نوجوان خاتون کو اپنی کاربائن کے ساتھ ساتھ فائر کر کے زخمی کیا " جب کہ دیگر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رانی جو کہ گھڑسواروں کے لیڈر کے لباس میں ملبوس تھی شدید لڑائی میں مصروف تھی۔ جنگ میں شدید زخمی ہونے کے بعد انگریزوں کو اس پر قبضہ کرنے سے روکنے کے لیے اس کے جسم کو جلانے کو کہا۔ اس کے انتقال کے بعد علاقے کے متعدد مکینوں نے اس کی لاش کا آخری رسوم کیا۔ روز نے دعویٰ کیا کہ لکشمی بائی کی باقیات کو گوالیار کی چٹان کے دامن میں املی کے درخت کے نیچے "بڑی تقریب کے ساتھ" دفن کیا گیا تھا۔

رانی لکشمی بائی ہندوستان میں ایک قومی ہیرو ہیں۔ انہیں ایک بہادر اور دلیر خاتون کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے اپنے وطن اور اپنے لوگوں کے لیے جنگ لڑی۔ وہ ہندوستانی آزادی اور نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف مزاحمت کی علامت ہیں۔ لکشمی بائی کی وراثت نے ہندوستانیوں کی نسلوں کو متاثر کیا ہے۔ وہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے ایک رول ماڈل ہیں اور وہ آزادی اور انصاف کے لیے لڑنے کی اہمیت کی یاددہانی کرواتی ہیں۔ لوگوں کی نسلیں بہادر ملکہ کی کوششوں سے متاثر ہوئی ہیں۔ موجودہ بھارت میں ان کے اعزاز میں کئی اداروں کے نام رکھے گئے ہیں جن میں جھانسی میں رانی لکشمی بائی سنٹرل ایگریکلچرل یونیورسٹی، جھانسی میں مہارانی لکشمی بائی میڈیکل کالج، گوالیار میں لکشمی بائی نیشنل یونیورسٹی آف فزیکل ایجوکیشن، اور رانی آف جھانسی رجمنٹ، خواتین کی یونٹ شامل ہیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Lahore

Opening Hours

Monday 07:30 - 13:30
15:30 - 20:30
Tuesday 07:30 - 13:30
15:30 - 20:30
Wednesday 07:30 - 13:30
15:30 - 20:30
Thursday 07:30 - 13:30
15:30 - 20:30
Friday 07:30 - 13:30
15:30 - 20:30
Saturday 07:30 - 13:30
15:30 - 20:30