The Jinnah Model High School

The Jinnah Model High School

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Jinnah Model High School, School, Pakistan Lahore kot Abdul Malik schem3#, Lahore.

03/03/2025
24/07/2023

بیشک









30/07/2022

قوم کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ آپکا 7 ارب ڈالر کوریا پہنچ چکا ہے۔۔
فوج کا ملک بیچنے کا فیصلہ

کل کی افراتفری کی آڑ میں ایک بڑی واردات نہایت خاموشی سے ڈالی گئی ہے

شہباز حکومت نے ایک آرڈیننس کی منظوری دی ہے جس کے مطابق، دیوالیہ کا بہانہ بنا کر ملک کے اثاثے نہایت عجلت میں بیچے جارہے ہیں

اس آرڈیننس کے مطابق ان اثاثوں کو بیچنے کے لیے کسی پراسس، کسی پروسیجر، کسی ریگولیشن کی پابندی کرنی ضروری نہیں ہوگی

اس "لوٹ سیل" پر، کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہوگا

حتیٰ کہ کوئہ عدالت اس پراسس کے خلاف پیش کی گئی کسی پٹیشن کو بھی انٹرٹین نہیں کرسکے گی

آپ کو یاد ہوگا جب تحریک انصاف کی حکومت میں، نیویارک میں واقعی پی آئی اے کی پراپرٹی، روز ویلٹ ہوٹل کی فروخت کی جھوٹی خبر اڑائی گئی تھی تو مخالفین نے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھالیا تھا۔ ریحام خان نے اس حوالے سے زلفی بخاری پر جھوٹے الزامات لگائے تھے۔
ریحام کی بدقسمتی اور زلفی بخاری کی خوش قسمتی کے ریحام نے یہ الزامات برطانیہ جیسے اعلیٰ اقدار کے حامل ملک میں لگائے
زلفی نے ریحام پر فوراً کیس کردیا اور آخرکار جیت بھی لیا۔ ریحام خان نے اپنے جھوٹے الزام پر عدالتی حکم کے مطابق باضابطہ معافی بھی مانگی
اب آپ کے قومی اثاثے بناء کسی ٹرانسپیرنسی کے بیچے جارپے ہیں۔ امید ہے وہ تمام افراد اب کی بار چپ رہیں گے
بہانہ یہ بنایا جائے گا کہ دیوالیہ سر پر کھڑا ہے

یہ بہانہ اس پڈم حکومت میں تین ماہ کی محنت سے باقاعدہ "پیدا" کیا گیا ہے

یہ آپ کی آنکھوں کے سامنے واردات ڈالتے ہیں اور آپ کچھ نہیں کرسکتے
مجھے تو ان جاہل لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو عشروں سے، سب کچھ جانتے بوجھتے بھی اس مافیا کو چوتھی بار سپورٹ کررہے ہیں
ان کی جہالت کی قیمت پورا پاکستان ادا کرے گا۔۔۔۔۔۔

06/10/2021

سلطنت عمان کا سلطان "قابوس بن سعید رحمۃ اللہ علیہ" کا پروٹوکولز کے بارے میں اپنا خاص نظریہ تھا۔ وہ زندگی بھر کسی شخصیت کے استقبال کیلیئے ہوائی اڈے نہ گئے۔ مگر ان کی یہ عادت اُس وقت ٹوٹ گئی جب انہوں نے انڈیا کے صدر شنکر دیال شرما کا ہوائی اڈے پر جا کر استقبال کیا۔
حکومتی اراکین اور عہدیداران اس بات پر حیران و پریشان تو تھے ہی صحافیوں کیلیئے بھی یہ سب کچھ انوکھا اور حیرت و تعجب کا سبب بن گیا تھا۔
سلطان قابوس انڈین صدر سے اس کے جہاز میں کرسی پر سے اٹھنے سے پہلے ہی جا کر گلے ملے، اس کے ساتھ ہی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے جہاز سے نیچے اترے، جب کار کے نزدیک پہنچے تو ڈرائیور کو اتر جانے کا کہا، خود جا کر کار کا دروازہ کھولا، مہمان کو بٹھایا اور خود ہی کار چلا کر مہمان کو اپنے محل میں لائے۔
بعد میں جب صحافیوں نے اس بارے میں سلطان سے سبب پوچھا تو انہوں نے جواباً بتایا: میں ایئرپورٹ پر انڈیا کے صدر کے استقبال کیلیئے ہرگز نہیں گیا۔ میں ایئرپورٹ پر اس وجہ سے گیا ہوں کہ میں نے بچپن میں انڈیا کے شہر پونا کے ایک سکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔ جناب شنکر دیال شرما اس وقت میرے استاد ہوا کرتے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ زندگی کیسے گزارنی ہے اور زندگی میں آنے والے مشاکل اور مصائب کا کیسے سامنا کرنا ہے۔ اور میں آج تک حتی المقدور کوشش کرتا ہوں کہ جو کچھ اُن سے پڑھا اور سیکھا ہے اسے عملی زندگی میں نافذ کروں۔
تو یہ تھی ایک استاد کی قدر و منزلت جو سلطان کے اپنے پروٹوکول نظریات سے انحراف کا سبب بنی تھی۔
آج بھی ایسے عجائب نظر آ جاتے ہیں اگر کوئی دیکھنے والا بنے تو:
کل کی ہی تو بات جب روسی صدر پوٹین کو اپنے استقبال میں کھڑے لوگوں کے ہجوم میں اپنی ایک استانی نظر آ گئی۔ پوٹین نے سارے گارڈز، حفاظتی عملے اور حفاظتی حصار بالائے طاق رکھ کر سیدھا استانی کو جا کر گلے لگایا اور وہ رو رہی تھی۔ خلقت کے ہجوم میں استانی کو ساتھ لیکر باتیں کرتے اور چلتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا کہ پوٹین اپنی استانی کے ساتھ نہیں کسی ملکہ کے پہلو میں چل رہا ہے۔
اُستاد کی عزت و منزلت اور قدر و قیمت کی ایک تاریخ ہے۔ تاریخ سے ایک ورق ملاحظہ کیجیئے: مامون الرشید چھوٹا سا تھا تو اس کے استاد نے آتے ہی مامون کو بلا وجہ ایک ڈنڈا جڑ دیا۔ مامون نے درد سے بلبلاتے ہوئے اُستاد سے پوچھا: کیوں مارا ہے مجھے یونہی بلا وجہ؟ استاد نے کہا: چُپ، خاموش ہوجا۔ مامون اس بلاوجہ چھڑی مارنے کے بارے میں جب بھی استاد سے پوچھتا تو استاد کہتا: خاموش۔
بیس سال کے بعد یہی مامون جب خلیفہ وقت بن بیٹھا تو اسے اپنے ذہن پر نقش وہ بلاوجہ کی مار یاد آ گئی اور اس نے اپنے استاد کو بلوا بھیجا۔ استاد کے آنے پر مامون نے پوچھا: جب میں چھوٹا تھا آپ نے مجھے ایک بار کیوں بلا وجہ مارا تھا؟ استاد نے پوچھا: تو ابھی تک وہ مار نہیں بھولا کیا؟ مامون نے کہا: اللہ کی قسم میں تو کبھی بھی نہ بھولوں گا۔
استاد نے مسکراتے ہوئے مامون کو دیکھا اور میں جانتا تھا کہ تو ایک نہ ایک دن مسلمانوں کا خلیفہ بنے گا۔ اور میں نے تجھے جان بوجھ کر بلا سبب پیٹا تھا تاکہ تو یاد رکھ لے کہ "مظلوم کبھی بھی نہیں بھولا کرتے"۔
استاد نے مامون کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: کبھی کسی پر ظلم نہ کرنا۔ ظلم ایک آگ ہوتی ہے جو مظلوم کے دل میں کبھی بھی نہیں بُجھتی چاہے جتنے بھی سال کیوں نہ گزر جائیں۔
*****
** آداب و تسلیمات ہر اُس قابل قدر شخصیت کیلیئے جو تعلیم و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہے۔

The Jinnah Model High School 07/09/2021

تم بناتےرہوریاست مدینہ ہم یہ دنیاچھوڑچکےآج نارووال کےعلاقہ وریام میں ایک انتہائ افسوسناک واقعہ پیش ایا محمدقدیرولدمحمدفریدنےاپنےتیین کمسن معصوم بچوں کےساتھ ژہرکھالیا۔قدیرموقعہ پرجانبحق ہوااورایک بچہ ہسپتال جاکرفوت ہوگیادوبچوں کی حالت تشویشناک ہے۔قدیراپنےگھرپربستہ بنانےکاکام کرتاتھااورگھرکاواحدکفیل تھا۔قدیرنےدومائیکروفنانس اداروں سےقرض لےرکھاتھا۔کروناکی وجہ سےاسکول بندتھےاورکوئ ارڈربھی نہی مل رہاتھا۔اوپرسےان مائیکروفنانس اداروں نےقسطوں کےلیےاسکاجیناحرام کیاہواتھا۔مسلہ صرف قسطوں کانہیں اس نام نہاد سروس چارجز کابھی تھاجویہ ادارےدوماہ کےریلیف کےبدلےسوددرسودوصول کررہےتھے۔کروناکےدنوں میں حکومت نے نام نہاد ریلیف کےبدلےمائیکروفنانس اداروں کوسودکی کھلی چھٹی دیدی تھی۔اب وہ غریب پیسےکہاں سےدیتاایک کاروباربنداوراوپرسےسوددرسود۔کیابحثیت مسلمان اور پاکستانی ہم سب اس واقعیہ کےزمہ دارہیں اورحکومت توڈائریکٹ زمہ دارہے۔مدینہ کی ریاست میں حضرت عمر فاروق راضی اللہ عنہ نےفرمایاتھاکہ اگردجلہ کےکنارےکتابھی مرگیاتواس کاحساب عمر سےلیاجاے گا۔کل ایک بدبخت نےاپنی ماں کوماراتوساراسوشل میڈیامیدان میں اترایا۔ان دوناحق اموات کےلیےہم کتنی زمہ داری کا مظاہرہ کرتےہیں آس کااب پتہ چلےگا

The Jinnah Model High School School

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Pakistan Lahore Kot Abdul Malik Schem3#
Lahore