Govt.Pilot Secondary School, Wahdat Colony. Lahore
IT WAS CONSIDERED A PREMIER INSTITUTION AT THAT TIME.ADMISSION WAS HARD TO GET.WAS NEAT AND CLEAN.PROUD OF IT.
پڑھنے کے قابل تحریر
رب کی مانوں یا مولوی کی ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنجاب کے کسی دیہات میں ایک خوبرو قادیانی لڑکی شادی کے لئے ایک فوجی آفیسر کو پیش کی گئ
فوجی آفیسر نے شادی کی حامی بھرنے سے پہلے ایک شرط رکھی کہ وہ کبھی بھی قادیانیت قبول نہیں کرے گا
قادیانیوں نے اس کی شرط مان لی اور لڑکی فوجی آفیسر کے ساتھ روانہ کردی
شادی کے بعد رشتے ناطے میں آنا جانا لگا رہا اور نرمی سے فوجی آفیسر کو مائل بھی کیاجاتا رہا ایک دن قادیانیوں کے پوپ تشریف فرما تھے اور انہوں نے فوجی آفیسر سے کہا کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے نہ مانیں لیکن ہماری ایک بات قبول کیجیۓ ، آپ استخارہ کریں کہ آیا نبی اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی ہے یا نہیں ؟
مرزا غلام احمد قادیانی سچا نبی ہے یا نہیں ؟
فوجی کو زہر پلایا جا رہا تھا مگر اسے پیتے ہوۓ احساس تک نہیں ہوا کہ وہ زہر کا پیالا چڑھا چکا ہے
اس نے استخارہ کرنے کی حامی بھر لی ، رات کو استخارہ کیا تو خواب میں نظر آیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی بنا ہوا ہے اور اس کے آس پاس لوگ جمع ہیں
صبح اٹھا تو اپنے کیے ہوۓ استخارے کے مطابق قادیانیت پر ایمان لے آیا
محض خود ایمان لاتا تو اتنا مسئلہ نہیں تھا اس نے باقاعدہ مرزے کی نبوت کی دعوت دینا شروع کر دی اور اپنے خاندان کو مرزا قادیانی کا امتی بنا ڈالا
سارے علماء بے بس تھے ، جو عالم اسے دعوت دیتا تو وہ کہتا میں نے کسی قادیانی کی دعوت پہ مرزے کو نبی نہیں مانا میں نے باقاعدہ استخارہ کیا ہے اور استخارے میں مجھے قادیانی بطور نبی دکھلایا گیا ہے ۔ مجھے از خود خواب دیکھنے کا موقع ملا ہے
جب کوئی بھی عالم اسے دلیل سے مطمئن نہ کر سکا تو وہ تنگ آکر علماء سے ملنا ہی چھوڑ گیا
بالاخر چناب نگر کے جلسے میں مولانا یوسف لدھیانوی شہید تشریف لاۓ ، ان کا شہرہ تھا اور یہ فوجی آفیسر اس زعم سے ملنے کو تیار ہو گیا کہ ان کے بڑے مولوی کو بھی دیکھ لیتے ہیں
مولانا سے جب فوجی آفیسر نے اپنا قضیہ بیان کیا کہ وہ کسی کی دعوت یا کسی لالچ میں قادیانی نہیں ہوا بلکہ وہ خود دیکھی ہوئی دلیل سے متاثر ہو کر قادیانی ہوا ہے
استخارہ اللہ سے مشورہ ہے ، میں نے رب کے ساتھ مشورہ کیا جس کا حکم اسلام میں ہے تو اللہ نے مجھے مرزا قادیانی کو نبی دکھلا دیا
اب میں اللہ کی مانوں یا مولویوں کی ؟
جو اللہ نے مجھے از خود خواب میں دکھایا وہ چھوڑ کر مولویوں کی کیسے مان لوں ؟
لدھیانوی شہید نے اس کا ہاتھ تھاما اور گویا زبان حال سے کہا فی الحال رب کی نہ مان اس درویش مولوی کی مان ، کہ مولوی ہی بتائے گا اصلی رب کیا کہہ رہا ہے
مولانا گویا ہوۓ اور کہا ، جب تم نبی اکرم ﷺ کی ذات میں شک سے گزرے تو مسلمان ہی نہیں رہے اگر تمہیں یقین کامل ہوتا کہ نبی اکرم ﷺ کی ذات ہی آخری نبی ہیں اور کوئی نبی آ ہی نہیں سکتا تو استخارے کے لیے ہر گز تیار نہ ہوتے
جب تم نے استخارے کی ٹھان لی تو گویا تمہیں شک ہوا کہ سید الابرار ﷺ آخری نبی ہیں بھی یا نہیں ؟
جب نبی اکرم ﷺ کی ذات کے حوالے سے تم شک سے گزرے تو کافر ہو گۓ ، نبی کی ذات میں شک کرنا بھی کھلا کفر ہے ، جونہی تم شک میں مبتلا ہوۓ تو کافر ہو گۓ اور حالت کفر میں تمہیں قادیانی ہی نبی نظر آنا تھا
فوجی آفیسر جھوم اٹھا دلیل سن کر ، اور کھڑا ہو کر مولانا شہید سے لپٹ گیا ، اسی وقت توبہ کی اور پھر سے مسلمان ہوا
تو ذرا سوچیے ابتداء کہاں سے ہوئی ؟ کیسے اسے سید الابرار ﷺ کی ذات کے حوالے سے شک میں ڈالا گیا اور انجام کیا ہوا ؟
امام اعظم ابو حنیفہ نے یہی تو کہا تھا کہ بنا کسی دلیل کے خم نبوت پہ ایمان لے آؤ جو سوال کرے گا وہ کافر ہو جاۓ گا ، سوال شک کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور نبی اکرم ﷺ کی ذات میں شک کھلا کفر ہے
ایک اور وقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ
کچھ دن پہلے ایک محفل میں بیٹھے تھے قادیانیوں کا ذکر چلا تو ایک صاحب بڑے فخر سے بولے کہ میرا ایک قادیانی سے چالیس سال سے تعلق ہے لیکن اس نے تو مجھے کبھی گمراہ کرنے کی کوشش نہیں کی، وہاں ایک بزرگ بھی بیٹھے تھے انہوں نے کہا کہ قادیانی ہو اور کسی مسلمان کا ایمان نہ لوٹے ایسا ممکن نہیں، قادیانیوں کی دشمنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور ان کے امتیوں سے ہے،قادیانی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ بیٹھنے والے مسلمان کا ایمان خرید لے اگر ایسا نہ ہو تو بھی وہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ یہ مسلمان نہ رہے،
جب اس سے پوچھا کہ قادیانی نے کبھی کوئی سوال کیا تو کہنے لگا بہت سال پہلے ایک سوال کیا تھا لیکن اس کا جواب نہ دے سکا ،، جب اس سے پوچھا کہ سوال کیا تھا تو وہ بولا کہ قادیانی نے مجھ سے کہا کہ عیسیٰ علیہ سلام تو تمھارے عقیدے کے مطابق آسمان پر حیات ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے پردہ فرما گئے ہیں تو مجھے بتاؤ کہ ایک غیر افضل نبی اوپر ہے اور افضل نبی نیچے ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے۔
تو وہ بزرگ بولے کہ اس قادیانی نے تیرے دل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارے میں شک ڈال دیا اب مجھے یہ بتا کہ ایمان شک کا نام ہے یا یقین کا نام ہے، تم کہتے ہو اس نے کبھی کچھ کہا ہی نہیں وہ تو تیرا ایمان ہی لوٹ کر لے گیا اور تجھے علم بھی نہ ہوسکا،
تو وہ شخص بولا کہ بزرگو اس کا جواب کیا ہے تو وہ بولے تم نے ترازو دیکھا ہے جو بھاری حصہ ہوتا ہے وہ نیچے ہوتا ہے اور خالی اوپر ہوتا ہے تو پھر وہ بولے کہ فرشتے آسمان پر ہیں تو فرشتے افضل ہیں یا انبیئا افضل ہیں پھر وہ مسکرا کا بولے تو اپنے آپ کو دیکھ تیرے سر پر ٹوپی ہے اب بتا کہ ٹوپی افضل ہے یا دماغ افضل ہے پھر وہ کہنے لگے کہ یہ مت سوچ کون اوپر ہے کون نیچے ہے یہ دیکھ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام کیا ہے وہ زمین پر ہیں لیکن ان کے جسم سے چھونے والی مٹی اللہ کے عرش سے بھی افضل ہے پھر انہوں نے کہا کہ قادیانیوں سے دور رہا کرو یہ ایمان پر ڈاکہ ڈالنے والے لوگ ہیں یہ خود تو جہنم میں جلیں گے اپنے ساتھ تعلق والے مسلمانوں کو بھی جلا دیں گے.
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قادیانی فتنے سے محفوظ رکھیں ۔۔
ہمارے ایک ٹیچر مشتاق نامی لڑکے سے بہت بیزار تھے..مشتاق کا کمال یہ تھا کہ اسے جو بھی مضمون لکھنے کو کہتے وہ اس میں کہیں نہ کہیں سے " میرا بہترین دوست" ضرور فٹ کردیتا تھا جو اسے فر فر یاد تھا۔
مثال کے طور پے اسے کہا جاتا کے ریلوے اسٹیشن پر مضمون لکھ دو تو وہ یوں لکھتا کہ میں اور میرے ماں باپ چیچو کی ملیاں جانے کے لئے ریلوے سٹیشن گئے وہاں گاڑی کھڑی تھی اور گاڑی میں میرا بہترین دوست زاہد بیٹھا تھا- زاہد حسین میرا کلاس فیلو ہے اس کے تین بہن بھائی ہیں اس کا باپ محکمہ پولیس میں آفیسر ہے- زاہد حسین بہت اچھا لڑکا ہے -
اگر اسے "میرا استاد" مضمون لکھنے کو کہتے تو وہ لکھتا ماسٹر افتخار میرے پسندیدہ استاد ہیں ایک روز میں ان سے ملنے ان کے گھر گیا تو وہاں " میرا بہترین دوست زاہد بیٹھا تھا- زاہد حسین میرا کلاس فیلو ہے اس کے تین بہن بھائی ہیں اس کا باپ محکمہ پولیس میں آفیسر ہے- زاہد حسین بہت اچھا لڑکا ہے -
ظاہر ہے جب کرکٹ میچ یا پکنک کی باری آتی تو وہاں بھی زاہد حسین موجود ہوتا ہے- تنگ آکر ماسٹر صاحب نے کہا کے دیکھو یہ تو ہو نہیں سکتا کے ہر جگہ تمہارا دوست زاہد حسین موجود ہو۔ آج تم ہوائی جہاز پر مضون لکھو اور یاد رکھو ہوائی جہاز میں زاہد حسین موجود نہیں ہونا چاہیئے۔
دوسرے دن مشتاق نے مضمون لکھا وہ اس طرح تھا-
میں اپنے ماں باپ کے ساتھ ایئر پورٹ گیا وہاں جہاز کھڑا تھا، ہم اس میں بیٹھ گئے - جہاز میں زاہد حسین نہیں تھا - پھر جہاز اڑنے لگا میں نے کھڑکی سے نیچے جھانکا تو زمین پر میرا بہترین دوست زاہد جا رہا تھا- زاہد حسین میرا کلاس فیلو ہے اس کے تین بہن بھائی.........
از مستنصر حسین تارڑ
درسگاہوں سے یہ شکوہ ہمیشہ رہے گا کہ وہاں پر یاد کرنا تو سکھایا گیا لیکن یہ نہیں سکھایا گیا کہ بھلایا کیسے جائے۔
کہتے ہیں کہ میر تقی میر نے اپنا گھر بیچ کر اپنی اکلوتی بیٹی کو جہیز دیا تھا...
شادی کے بعد بیٹی کو کسی نے کہا تیرے باپ نے اپنا گھر اجاڑ کر تیرا گھر بسا دیا...
بیٹی بہت حساس تھی، یہ سُن کر وہ بیمار پڑ گئی اور اسی غم میں گُھل گُھل کر کچھ ہی دنوں میں انتقال کر گئی....
میر تقی میر بیٹی کا آخری دیدار کرنے گئے٬ کفن اٹھا کر بیٹی کو دیکھا اور کیسا غضب کا شعر کہا (جو ان کی زندگی کا آخری شعر کہا جاتا ہے)
اب آیا ہے خیال اے آرامِ جاں اس نامُرادی میں
کفن دینا تمہیں بھولے تھے ہم اسبابِ شادی میں..
🌚🖤🍁 نوٹ:بات سہی اور غلط بھی ہوسکتی ہے لیکن یہ ہر گھر کی کہانی ہے خدارا خیال کریں۔۔
تیرے ہونٹوں پہ وہ ہلکی سی تبسم کی لکیر
میرے تخیل میں رہ رہ کے جھلک اٹھتی ہے
یوں اچانک ترے عارض کا خیال آتا ہے
جیسے ظلمت میں کوئی شمع بھڑک اٹھتی ہے
میں سلگتے ہوئے رازوں کو عیاں تو کر دوں
لیکن ان رازوں کی تشہیر سے جی ڈرتا ہے
رات کے خواب اُجالے میں بیاں تو کر دوں
ان حسیں خوابوں کی تعبیر سے جی ڈرتا ہے
تیری سانسوں کی تھکن تیری نگاہوں کا سکوت
درحقیقت کوئی رنگین شرارت ہی نہ ہو
میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں
وہ تبسم وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو
کہیں ایسا نہ ہو پاؤں مرے تھرا جائیں
اور تری مرمریں بانہوں کا سہارا نہ ملے
اشک بہتے رہیں خاموش سیہ راتوں میں
اور ترے ریشمی آنچل کا کنارا نہ ملے
💞
ساحر لدھیانوی صاحب 💞
َمجھ کو شکست دل کا مزہ یاد آ گیا ۔
تم کیوں اداس ہو گئے کیا یاد آ گیا ۔
کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر ۔
کچھ یوں بسر ہوئی کہ خدا یاد آ گیا ۔
برسے بغیر ہی جو گھٹا گِھر کے کُھل گئی ۔
اک بے وفا کا عہد وفا یاد آ گیا ۔
مانگیں گے اب دعا کہ اُسے بھول جائیں ھم۔
لیکن جو وہ بوقتِ دعا یاد آ گیا۔
حیرت ھے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمار
کیا بات ہو گئی کہ خدا یاد آ گیا۔
خمار بارہ بنکوی
09/01/2023
It is Inform with sorrow and grief that
our childhood Beloved friend Shahid Ejaz Sheikh ( Merchant Navy Retd. Chief Engineer/Pilot School Matric 1972/old homes A35/X20 WC)
Passed away with Qazaa e Elahi
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
His Nimaz e Jinaza will be offered today ( Mon.09 Jan2023) after Nimaz e Zohar near home Jamia Masjid Al Quds Sector A1.
Home address :457-A-1,
Township Housing society, Lahore.
for Condolences contact
Son Ahsan Shahid,
Brother Fareed Ejaz
03064399042
03401585269
Please attend Jinaza ,and inform others too for Dua e Maghfruit.
اللہ پاک مغفرت فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطاء فرمائیں اور لواحقین کو صبر عطاء فرمائیں۔
آمین یا ربّ العالمين
Dua Guo ! Arshad Mehmood.
😭😭😭
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Lahore