Activity during Lockdown
Al-Haram Educational System
DELEVRING OF THE DREAMS
روزے کا ایک بڑا مقصد علماء کرام اپنی خواہشات پر کنٹرول بتاتے ہیں… ناجائز ہی نہیں جائز خواہشات پر بھی… مگر پچھلے دس برسوں سے ایک گھٹیا تماشا رمضان ٹرانسمیشن کے نام سے ایسا شروع ہو گیا ہے کہ دن بھرعوام روزہ رکھ کر نفس پر کنٹرول کرنے کی مشق کرتے ہیں اور افطار کے بعد رمضان بازاری شو کے ذریعے اپنی سفلی خواہشات کو اتنا بے لگام کرتے ہیں کہ اس کے لیے اپنی دینی اقدار ہی نہیں مشرقی روایات و اقدار کا جنازہ بھی دھوم سے ساری دنیا کے سامنے نکالتے ہیں۔
بیگمات لائیو اپنے خاوندوں کے منہ پر میک اپ کرتی ہیں…مرد لائیو گنجے ہوتے ہیں…شوہر و زن اپنی اپنی ساس امی یعنی ایک دوسرے کی والدہ کی شان میں ہنس ہنس کر گستاخی کرتے ہیں…اور یہ سب کن چیزوں کے لیے ہوتا ہے؟
ایک مائیکرو اوون، ایک موبائل اور ایک بائک لینے کے لیے…
ان مادی اشیاء کے لیے مرد و زن کی بےغیرتی کے ایسےحیا سوز مناظر نشر ہوتے ہیں کہ شریف آدمی دیکھ لے تو پسینے چھوٹ جائیں!
"عامر بھائی ایک مجھے بھی دو ناں، فہد بھایَ ایک ادھر پھینکو ناں پلیز…"
ایک سوٹڈ بوٹڈ نوجوان چہرے پر بھکاری کے سے تاثرات لاتے ہوئے بڑے مسکین سے لہجے میں التجا کرتا ہے اور اپنی خودداری کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیتا ہے!
حیا کی موت دیکھنی ہے تو وہ دیکھیے ایک لڑکی منہ میں انڈہ لیے اور اس کا شوہر بے حیائی سے منہ میں آم دبائےکھڑا ہوا ہے… کس لیے؟… دس پانچ ہزارکے گفٹ کے لیے!
ذلت کی انتہا دیکھنا چاہو تو ان عورتوں کو دیکھ لو جنہیں مرغے کی آواز ککڑوں کوں مسلسل نکالتے ہوئے اسٹیج کے گول دائرے میں تیز تیز سائیکل چلانا ہے… کس لیے؟
اس لیے کہ سونے کا وہ چمکتا زیور پا سکیں جو عورت کی ایسی تذلیل پر نوحہ کناں ہے!
اجتماعی وقار کا جنازہ دیکھنا ہو تو ادھر دیکھو: دور سے میزبان ہوا میں تحفے اچھال رہا ہے… اور ایک ایک چیز کے لیے عوام ایسے بھوکے کتوں کی طرح جھپٹ رہی ہے، جنہیں کئی دنوں کے بعد ہڈی مل سکی ہے… مردوں کی قمیص کے بٹن ٹوٹ رہے اورعورتوں کی جائے شرم کھل رہی مگر کسے پروا ہے؟… کسی طرح کچھ تو حاصل ہو گا نا!… یہ سب دیکھ کر میزبان کے چہرے پر رعونت آمیز مسکراہٹ رینگنے لگتی ہے…
ادھر پروگرام کے مہمان خصوصی حضرات جو بے شک علم کے نام پر دھبہ ہیں، بڑی ادا سے ماحضر سے شوق فرما رہے ہوتے ہیں، ان کے چہرے پر مطمئن مسکان اس بات کا ثبوت ہے کہ اس سب کنجرپنے کو شرعی سہارا دیے جانے پر ان کے حصے کا راتب ان تک پہنچ چکا ہے!
ارے دین کی بات تو چھوڑئیے… کیا اس سب بازاری پن کا ہماری خودداری، وقار اور شرافت کی مظہر مشرقی اقدار و روایات سے کچھ ذرا سا بھی تعلق ہے؟
پرائیویٹ سکولز اونرز اور اساتذہ کون ہیں ؟؟؟؟
معزز والدین !
پرائیویٹ سکولز اونرز اور استاذہ جنہیں ہمیشہ میڈیا اور کچھ ارباب اختیار نے ایک مافیا بنا کر پیش کیا کون ہیں ؟؟ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں
پرائیویٹ سکولز کے اونرز وہ لوگ ہیں ۔۔۔۔
جنہوں نے آپ کے بچوں کو ہمیشہ مقدم رکھا ۔۔۔۔۔۔ بہترین فرنیچر، کلاس رومز، سہولیات، فیکلٹی، سکیورٹی اور سب سے بڑھ کر تعلیمی ماحول دیا ۔۔۔۔۔۔
آپ کو ضرورت پڑی تو آپ کا ساتھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 4،4 ماہ کی فیسیں ادھار کیں ۔۔۔۔۔۔ بیسیوں دفعہ والدین نے اس ادھار کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور سکول معہ ادھار چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔ پھر بھی انہوں نے ایسے والدین پر کیس کیا نہ راستہ روکا ۔۔۔۔۔۔۔
نئے سال کا کورس کمزور مالی پوزیشن رکھنے والے والدین کو ادھار دیا ۔۔۔۔۔۔ تاکہ ان کے بچوں کا حرج نہ ہوسکے ۔۔۔۔۔
ہمیشہ بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔
پرائیویٹ سکولز اساتذہ بلاشبہ بہت کم مراعات کے باوجود دن رات آپ کے بچوں کے لیے کام کرنے کے لئے تیار ۔۔۔۔۔
ڈیلی پراگریس رپورٹس، ویکلی رپورٹس، منتھلی رپورٹس، سالانہ رپورٹس، ٹیسٹ میکنگ اور چیکنگ، پلانرز، کاپیز اور بہت کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس کے باوجود انتھک اور بے لوث لگن ۔۔۔۔۔
سب سے بڑھکر یہ گروپ یعنی اونرز اور ٹیچرز ہمہ وقت آپ کے بچوں کے روشن مسقبل کے لئے مصروف عمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کے بچوں کو لکھنا، پڑھنا، کھانا، پینا، بولنا اور آگے بڑھنا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ سر اٹھا کے جینا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آج یہ سب سر جھکا کے کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ انہیں ستائش ملنی چاہیئے تھی، تنقید کی گئی، حوصلہ ملنا چاہیئے تھا، حوصلہ شکنی کی گئی، تعاون ملنا چاہیئے تھا ، رکاوٹیں ڈالی گئیں مگر پھر بھی انہوں نے آپ کو بچوں کو پڑھایا ۔۔۔۔۔۔۔ سر اٹھا کے جینا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔
معزز والدین ۔۔۔۔۔
اب موجودہ حالات میں آپ کا فرض ہے کہ آپ ان کا سر نہ جھکنے دیں ۔۔۔۔۔ بہت سے لوگوں کی بلڈنگز کرائے کی ہیں، ہر ماہ کی دس تاریخ کو مالک بلڈنگ کرایہ لینے آجاتا یے ۔۔۔۔۔۔ یہ اساتذہ انہیں مجبوری سنائیں تو وہ بھی انہیں مافیا سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔۔ بلڈنگز سے بے دخل کرنے کا کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ہر ماہ کے آغاز پر سکول اساتذہ انہی لوگوں کے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ بجلی، گیس، پٹرول، سکیورٹی گاردز اور نجانے کون کون سی پیمنٹس ان کی منتظر ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔ ایسے میں یہ فرمان آتا ہے ۔۔۔۔ آپ فیسیں نہ لیں ۔۔۔۔ والدین سمجھتے ہیں کہ بچے سکول نہیں گئے تو ان کا کون سا خرچہ ہوا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ خرچے میں ایک روپے کی کمی نہیں ہوئی ۔۔۔۔ الٹا جن والدین ادھار بکس لیں تھیں، 4،4 ماہ کی فیس دینی تھی وہ فون سننے کے روادار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد رکھئے انہی لوگوں نے آپ کے بچوں کو سر اٹھا کے چلنا اور جینا سکھایا ہے اور سکھانا ہے ۔۔۔۔۔۔ آگے بڑھیں اور آج ان کا سر جھکنے سے بچائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت پر اپنی فیسیں ادا کرکے اپنے بچوں کے اداروں کو بند ہونے بچائیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہوں نے جو کچھ پڑھایا اور سکھایا ہے وہ اپنی تاثیر کھودے ۔۔۔۔۔!!!
ایک سانپ اپنے زہر کی تعریف کررہاتھا کہ میراڈسا پانی نہیں مانگتا
پاس بیٹھا مینڈک اس کا مزاق اڑا رہاتھا کہ لوگ تیرے خوف سے مرتے ہیں زہر سے نہیں
دونوں کا مقابلہ لگ گیا
طے یہ پایا کہ کسی راہگیر کو سانپ چھپ کےکاٹے گا اور مینڈک سامنے آئے گا
دوسرے راہگیر کو مینڈک کاٹے گا اور سانپ سامنے آۓ گا
اتنے میں ایک راہگیر گزرا اس مسافر کوسانپ نے چھپ کے کاٹا جبکہ ٹانگوں سے مینڈک پھدک کے نکلا
راہگیر مینڈک دیکھ کے زخم کھجا کے تسلی سے چل پڑا خیر ہے مینڈک ہی تھا کیافرق پڑتا ہے
دونوں اسے دور تک جاتا دیکھتے رہے وہ صحیح سلامت چلا گیا
دوسرے راہگیر کو مینڈک نے چھپ کے کاٹا اور سانپ پھن پھیلا کے سامنے آگیا
مسافر دہشت سے فوری مر گیا
دنیا میں ہرروز ہزاروں افراد مرتے ہیں جن کو دیگر امراض ہوتے ہیں یاکوئی بھی مرض نہیں ہوتا
جبکہ کرونا کی شرح اموات اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے
خدارا سوشل میڈیا پر مایوسی مت پھیلائیں
مسلمان موت سے نہیں ڈرتا
جب موت ایک اٹل حقیقت ہے جس نے نہ پپیغمبروں کو چھوڑا نہ ولیوں کو
موت جب ہر حال میں آنی ہے پھر کرونا سے ڈر کیسا
احتیاط لازم ہے کریں لیکن خوف کو خود سے الگ کردیں
خوف اور مایوسی سے انسان کی قوت مدافعت ختم ہوجاتی ہے جوکسی بھی بیماری سے لڑنے کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے
کرونا کےہزاروں مریض صحت یاب ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں
موت اس کو آتی ہے جس کی زندگی کے دن پورے ہوچکے ہوتے ہیں
کرونا چھوت کا مرض ہے ایک دوسرے سے لگتا ہے
احتیاط ضرور برتیں لیکن اس خوف کو ذہن میں بٹھا کے موت سے پہلے اپنی زندگی کوموت سے بدتر نہ کریں
جینے کی امنگ خود میں پیدا کریں گے تو کوئی وائرس آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا
آواز خلق نقارہ خدا
اللہ وہی دے گا جس کی اللہ سے امید رکھتے ہو
اللہ تعالی کی شان ہے کہ وہ آپکی امنگوں پر پورااترتا ہے
اچھی امید رکھو گے تو اچھا ہی ہوگا
دعاوں میں یاد رکھیں ۔ ۔ ۔ ۔ شکریہ
جیسے اچھے دن پلک جھپکتے میں گزر جاتے ہیں، برے دن بھی گزر جائیں گے۔ قدرت کا اپنا نظام ہے۔ اس کا نظام چل رہا ہے۔ ہمارے اختیار میں فقط صبر اور احتیاط ہے۔
احتیاط کیجیے، زندگی آج بھی خوبصورت ہے، اس کی خوب صورتیوں پر نظر کیجیے۔ گھر ہماری پناہ گاہ ہے، اس پناہ گاہ کی قدر کیجیے۔ چند روز کو جو یہ موقع ملا ہے اس کا فائدہ اٹھائیں، اپنے گھر میں رہیے۔ لوگوں سے ملنا جلنا ترک کیجیے اور غور کیجیے کہ خود سے ملے کتنا عرصہ گزر چکا ہے؟
بے مقصد دوڑتی بھاگتی زندگی، ذرا دیر کو ٹھہری ہے۔ آپ بھی ٹھہریے اور خود سے ملیے۔ آپ بہت سے لوگوں سے اچھے ہیں خود سے مل کر یقیناً بہت خوشی ہو گی، ذرا مل کر تو دیکھیے!
22/03/2020
*صرف 15 دن*
*ہفتہ 12 مارچ 0202*
دنیا میں ایک زمانہ برف کا بھی گزرا ہے‘ اس زمانے میں پورا کرہ ارض منجمد تھا‘ مشرق سے مغرب تک برف ہی برف تھی‘ اس آئس ایج میں انسان کے پاس صرف ایک ہی کام تھا اور وہ کام تھا خوراک کی تلاش‘ انسان زندگی کا دھاگا قائم رکھنے کے لیے برفوں میں مارا مارا پھر رہا تھا‘ قدرت نے ”رین ڈیئر“ کو یہ اہلیت بخشی ہے یہ برف سونگھ کر اس کے نیچے چھپا سبزہ تلاش کر لیتا ہے‘ یہ اس کے بعد سم مار کر برف توڑتا ہے اورگھاس اور پتے نکال کر کھا لیتا ہے۔
انسانوں کو جب رین ڈیئر کی اس اہلیت کا پتا چلا تو یہ اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگے‘ رین ڈیئر جہاں سم مارتا تھا یہ بھی وہاں برف توڑنے میں مصروف ہو جاتے تھے اور بالآخر خوراک تک پہنچ جاتے تھے‘ انسان نے گوشت کھانا بھی اسی دور میں شروع کیا‘یہ رین ڈیئرز کو بھون کر کھا جاتے تھے‘ برف میں خوراک کی تلاش اور رین ڈیئرز کا پیچھا یہ مجبوری انسان کو روس سے امریکا لے گئی‘ ہمارے ڈی این اے میں درج ہے دس مرد اور عورتیں رین ڈیئرز کا پیچھا کرتے ہوئے روس سے الاسکا پہنچ گئے تھے‘ اس دوران زمین کا درجہ حرارت بڑھ گیا‘ برفیں پگھل کر پانی بن گئیں اور زمین سات حصوں میں تقسیم ہو گئی‘ الاسکا پہنچنے والے لوگ چلتے چلتے امریکا کے وسط میں آ گئے‘ یہ بعد ازاں ”ملٹی پلائی“ ہوئے اور ”مایا سولائزیشن“ کی بنیاد رکھ دی جب کہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کی نسلیں روس‘ سنٹرل ایشیا‘ برصغیر‘ مشرق بعید‘ مشرق وسطیٰ‘ یورپ اور افریقہ میں پھیلتی چلی گئیں‘ دنیا اس وقت براعظموں میں تقسیم ہو گئی‘ براعظموں کے درمیان سمندر تھے اور ہر سمندر نے ایک تہذیب کو دوسری تہذیب سے الگ رکھا ہوا تھا‘ سمندروں کی وجہ سے تہذیبیں دوسری تہذیبوں کی بیماریوں سے محفوظ تھیں‘ شادی کی روایت نے اس دور میں جنم لیا ‘ ہمارے ڈی این اے کی یادداشت میں درج ہے دنیا میں ایک ایسا وقت آیا تھا جب پورے کرہ ارض پر صرف دو ہزار لوگ بچ گئے تھے۔
باقی آبادی نامعلوم بیماریوں کی وجہ سے ختم ہو گئی تھی‘ اس زمانے میں عورت محض عورت اور مرد صرف مرد تھا‘ یہ جانوروں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ اختلاط کرتے تھے لیکن پھر انسان کو پتا چلا اس غیرمحفوظ جنسی تعلق کی وجہ سے ایک انسان کی بیماریاں دوسرے انسانوں تک منتقل ہو رہی ہیں چناں چہ موت کے خوف نے انسان کو ”ون مین وومین“ پر مجبور کر دیااور اس نے شادی کرنا شروع کر دی‘ نکاح اور ولیمہ بھی اس دور کی روایت ہے۔
نکاح اعلان ہوتا تھا”یہ دونوں میاں بیوی ہیں“ اور ولیمے کا مطلب ہوتا تھا علاقے کے تمام لوگ اس رشتے سے واقف ہو جائیں تاکہ یہ غیرمحفوظ اختلاط کی غلطی نہ کریں اور یوں بیماریوں سے محفوظ رہیں‘ یہ تکنیک کارگر ثابت ہوئی اور بیماریاں رک گئیں لیکن پھر انسان نے سفر کے سمندری ذریعے ایجاد کر لیے‘ بحری جہاز بنائے اور براعظم براعظموں سے رابطے میں آ گئے‘ یہ بحری رابطے ایک خطے کی بیماریاں دوسرے خطوں تک پہنچانے لگے ‘ یورپ میں طاعون پھیلا تو اس نے ایشیا اور افریقہ کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔
ٹی بی آئی تو یہ میڈی ٹیرین سی تک پوری دنیا میں لاشیں بچھاتی چلی گئی اور چیچک‘ خناق‘ کالی کھانسی اور خسرہ آیا تو یہ بھی چند ماہ میں پوری دنیا میں پھیل گیا‘ انسان نے ان اموات سے سیکھا آپ ہر شخص کو فوری طور پر اپنے شہر‘ اپنے ملک میں داخل نہ ہونے دیں چناں چہ سمندروں کے کنارے احاطے بنا دیے گئے اور بحری جہازوں سے اترنے والے لوگوں اور عملے کے لیے40 دن ان احاطوں میں رہنا لازم قرار دے دیا گیا‘ یہ 40 دن کیوں؟ انسان نے تجربوں سے سیکھا تھا ہمارے جسم میں چالیس دن بعد ہرچیز تبدیل ہو جاتی ہے‘ صرف انسان کے دماغ‘ دل اور آنکھوں کے خلیے مستقل ہوتے ہیں‘ یہ نئے نہیں بنتے‘ باقی سارا جسم خود کو بناتا اور توڑتا رہتا ہے۔
یہ شکست وریخت زیادہ سے زیادہ چالیس دن میں مکمل ہو جاتی ہے چناں چہ اگر انسان کے جسم میں کوئی بیماری موجود ہے تو یہ چالیس دن میں سامنے آ جاتی ہے لہٰذا سمندروں کے کنارے آباد شہروں کی انتظامیہ مسافروں اور عملے کو 40 دن تک احاطے میں رکھتی تھی جس کے بعدصحت مند لوگوں کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی تھی اور بیمار لوگوں کو واپس بھجوا دیا جاتا تھا‘ چالیس دن کا یہ سلسلہ فرانس میں شروع ہوا تھا‘ فرنچ زبان میں چالیس کو قروئین اور دن کو ٹائین کہا جاتا ہے چناں چہ اس مناسبت سے چالیس دن کے اس قیام کو قوارنٹائین (قرنطینہ) کہا جانے لگا۔
فرانس کا یہ تجربہ کام یاب ہو گیا‘ پوری دنیا نے اسے کاپی کیااور متعدی امراض کنٹرول ہو گئے لیکن پھر کولمبس نے 1492ءمیں امریکا دریافت کر لیا جس کے ساتھ ہی وہ لوگ دنیا سے مل گئے جن کے آباﺅاجداد ”آئس ایج“ میں رین ڈیئر کا پیچھا کرتے ہوئے الاسکا کے ذریعے امریکا پہنچے تھے‘ یہ لوگ اس وقت تک جانوروں کے ساتھ رہتے تھے‘ ان میں شادی کا انسٹی ٹیوٹ بھی موجود نہیں تھا‘ یہ جانوروں کی طرح اختلاط کرتے تھے لہٰذا ان میں وہ تمام بیماریاں موجود تھیں جن پر ہماری دنیا قابو پا چکی تھی چناں چہ کولمبس جب اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس لوٹا تویہ ماضی کی تمام بیماریاں ساتھ لے آیا۔ 16 ویں اور17ویں صدی میں فرنچ‘ پرتگالی‘ ڈینش‘ برٹش اور ڈچ جہاز ران بھی امریکا پہنچ گئے۔
یہ بھی واپسی پر بیماریوں کے تحفے لے آئے چناں چہ ایک ایسا وقت آ گیا جب پورا یورپ بیمار ہو چکا تھااور یہ بیماریوں سے بچنے کے لیے فرانس کی طرح ہر پورٹ پر قرنطینہ بنا نے پر مجبور ہو گیا تھا‘ بحری سفر کرنے والا ہر شخص اس قرنطینہ میں چالیس دن پورے کیے بغیر ملک میں داخل نہیں ہو سکتا تھا‘ 1928ءمیں اینٹی بائیوٹک ایجاد ہو گئیں‘ بیماریوں کے بیکٹیریاز کا علاج ممکن ہو گیاجس کے بعد قرنطینہ ختم ہوتا چلا گیا‘ آج آپ کو کسی پورٹ پر 40 دن انتظار نہیں کرنا پڑتا۔
اس کی وجہ بلڈ ٹیسٹ اور اینٹی بائیوٹک ہیں‘ ڈاکٹر کسی بھی انسان کا خون ٹیسٹ کرتے ہیں‘ اگر بیماری نکل آئے تو اینٹی بائیوٹک کے ذریعے اس کا علاج شروع کر دیا جاتا ہے اور یہ چند گھنٹے بعد محفوظ ہو جاتا ہے یوں انسان نے بیماریوں کا تدارک کر لیا لیکن قدرت انسان اور انسانی تدبیر سے لاکھوں کروڑوں گنا تگڑی ہے چناں چہ اس نے نئے انداز سے حملے شروع کر دیے‘ بیکٹیریا کے بعد وائرس شروع ہو گئے‘ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے بیکٹیریا اور وائرس میں کیا فرق ہے؟۔
میں اس طرف آنے سے پہلے آپ کو یہ بتاتا چلوں ہم انسانوں میں 37 ٹریلین باڈی سیلز ہوتے ہیں‘ ہمارا پورا وجود ان سیلز (خلیوں) سے بنتا ہے جب کہ ہمارے جسم میں 39 ٹریلین اچھے برے بیکٹیریاز ہوتے ہیں‘ اچھے بیکٹیریاز ہماری زندگی کی گاڑی چلاتے ہیں‘ یہ خوراک ہضم کرتے ہیں‘ ہمارا خون بناتے ہیں اور ہمیں حرکت پر مجبور کرتے ہیں جب کہ برے بیکٹیریا ہمیں بیمار بناتے ہیں‘ یہ ہمیں کم زور اور لاغر کرتے ہیں‘ ہمارے جسم کے برے بیکٹیریا (مثلاً پس پیدا کرنے والے بیکٹیریا) اینٹی بائیوٹک سے ہلاک ہو جاتے ہیں جب کہ وائرس بیکٹیریا سے مختلف ہوتا ہے۔
اس پر اینٹی بائیوٹک کا اثر نہیں ہوتا ‘یہ ہمیں بیمار کیے بغیر ختم نہیں ہوتا چناں چہ انسان کو جب بھی وائرل اٹیک ہوتا ہے تو ادویات اس پر بے اثر ہو جاتی ہیں‘ یہ صرف اپنی قوت مدافعت کے ذریعے ہی بیماری سے باہر آتا ہے۔انسان نے وقت کے ساتھ ساتھ سیکھا‘ وائرس زیادہ سے زیادہ 14 دنوں میں اپنا آپ دکھا دیتا ہے‘ یہ بیماری کو ظاہر کر دیتا ہے‘ آپ نے دیکھا ہو گا حکومتیں کورونا سے متاثر ہونے والے علاقوں سے آنے والے لوگوں کو14دن قرنطینہ میں رکھتی ہیں۔
دوسرا دنیا میں اگر کرونا کا کوئی علاج موجود نہیں توپھر 97 فیصد مریض ٹھیک کیسے ہو جاتے ہیں؟ یہ لوگ اپنی قوت مدافعت کے ذریعے ٹھیک ہوتے ہیں‘ آرام کرتے ہیں‘ اچھی خوراک کھاتے ہیں اور ٹینشن فری رہتے ہیں چناں چہ یہ ایک دو ہفتوں میں صحت مند ہو جاتے ہیں باقی رہ گیا یہ سوال کہ حکومت انہیں ”آئسو لیشن“ میں کیوں رکھتی ہے تو اس کی صرف اور صرف ایک وجہ ہے‘ مریض کرونا کے وائرس دوسرے لوگوں تک منتقل نہ کرسکیں چناں چہ میری آپ سے درخواست ہے آپ اگر خود اور دوسروں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ اپنے اپنے گھروں میں ایک کمرے کا قرنطینہ بنا لیں۔
جس بھی شخص میں کرونا کی علامتیں ظاہر ہوں اسے اس کمرے تک محدود کر دیں‘ اس سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہ رکھیں‘ فون پر بات کریں اور خوراک کا ذخیرہ بھی ایک ہی بار اسے دے دیں‘ مریض کمرے میں رہے‘ کتابیں پڑھے‘ ٹی وی دیکھے‘ موبائل فون پر ویڈیوز دیکھے‘ دس دس‘ پندرہ پندرہ گھنٹے سوئے اور ہر دس منٹ بعد دو گھونٹ پانی پیے‘ یہ ان شاءاللہ دس دن میں صحت یاب ہو جائے گا‘ ہمیں یہ بات پلے باندھنا ہوگی یہ آسمانی آفت ہے‘ یہ اپنے وقت پر ہی ختم ہو گی‘ آپ اس میں اپنی بداعمالیاں یا گناہ تلاش نہ کریں‘ آفتیں آتی ہیں اور اپنا وقت گزار کر چلی جاتی ہیں چناں چہ آپ بھی قرنطینہ میں بیٹھ کر اس کے جانے کا انتظار کریں‘ یہ کم ہو رہی ہے‘یہ ان شاءاللہ اگلے پندرہ دن میں ختم ہو جائے گی‘ آپ نے صرف 15 دن کا قرنطینہ لینا ہے اور بس۔
🌹🌼🌹🌼🌹🌼🌹🌼🌹🌼🌹
20/03/2020
Teacher dressing
20/03/2020
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Lahore
54000
Opening Hours
| Monday | 08:00 - 14:00 |
| Tuesday | 08:00 - 14:00 |
| Wednesday | 08:00 - 14:00 |
| Thursday | 08:00 - 14:00 |
| Friday | 08:00 - 12:00 |
| Saturday | 08:00 - 14:00 |