18/03/2022
Deen K Peechay Chalo, Dunya Tumary Peechay Chali Aye gi
Deen k Peechay Chalo, Dunya Tumare Peechay Chali Aye Gi. Success will b yours IN-SHA-ALLAH. AMEEN Here Are Some Rules For The Page.
�Welcome to the Page Deen K Peechay Chalo, Dunya Tumary Peechay Chali Aye gi�
I hope u will All Enjoy this page & Keep Posting!!! Remember & Follow These Rules.!
� Every one have to respect each and every member in order to be respected .
� No Abusing, No insults, No Personal Attacks & No Political Discussion.
� Misbehaving Attitude Not Allowed.
� No Bad Pic, No Bad Video & No Bad Link.
� N
18/03/2022
18/03/2022
.........
| *﷽* |
.........
قِســط # 14
🌴🌱 *_ِایــک غلــط ســوچ_* 🌱🌴
« *مُردوں کی روحـیں اپنے گـھروں کو آتی ہیـں* »
👈🏻 ہمارے معاشرے میں ایک بات بہت مشہور ہوگئی ھے کہ:
• جمعرات (شبِ جمعہ)
• یومِ عاشوراء
• عیدین
• 15 شعبان
• 27 رمضان
• 10 محرم
• منگل کی شام
• 12ربیع الاول
کو یا کسی اور مخصوص دن کو ان کے وفات پا گئے پیاروں کی روحیں اپنے گھروں کو آ کر سوالات کرتی ہیں۔ وہ یہ دیکھنے کے لیے آتی ہیں کہ کون ان کے لیے دعا کرتا ھے کون نھیں۔ اگر کوئی ان کے لیے دعا یا عبادت کر رہا ہو تو وہ خوش ہوتی ہیں اور اگر نھیں تو وہ مایوس ہو کر واپس لوٹ جاتی ہیں۔
*یہ ایک غلط سوچ ھے*
🔹 *اصل:-*
یہ عقیدہ بنیادی طور پر ہندو دھرم کا ھے، کچھ عقائد ملاحظہ ہوں:
*☆ عقیدہ اوّل:*
ہندوؤں کا یہ عقیدہ ھے کہ ان کے مُردوں کی روحیں مخصوص دنوں میں اپمے گھروں کو آتی ہیں اور دیکھتی ہیں کہ کون ہماری مُکتی (بخشش) کے لیے دعا وغیرہ کرتا ھے۔ اگر تو ان کے رشتے دار ایسے کام کر رہے ہیں تو اسے مُکتی مل جائے گی نہیں تو اسے مکتی نہیں ملتی اور وہ بھٹکتی رہتی ہیں۔
*☆ عقیدہ دوم:*
مرنے کے بعد روح، سال گزر جانے کے بعد یعنی ہر برسی پر، اپنے گھر واپس آتی ھے مگر "کوے" کے روپ میں۔ اسی لیے ہندو اس مخصوص دن کو کوے کے لیے بہت سے کھانے پینے و لوازمات جمع کرتے ہیں کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق جو کوا اس دن ان کے گھر آئے وہ ان کی سال پہلے مرے رشتہ دار کی روح ہوتی ھے۔
(ملاحظہ ہو: رمائیانہ)
*☆ عقیدہ سوم:*
مرنے والے کی روح ۱۱ دن کے ایک ایسے مرحلے سے گزرتی ھے جو اسے ہر طرح کی برائی سے پاک کر دیتا ھے، اس دوران وہ کچھ دن نرک، کچھ سورگ، کچھ آسمان، کچھ پانی میں گزارتی ھے، کچھ عقائد کے مطابق وہ کچھ دن اپنے ہی گھر میں رہتی ھے اور پھر واپس چلی جاتی ھے۔
جن کا قتل ہو جاتا ھے وہ مخصوص دنوں میں اپنے گھروں کو لوٹ کر آتی ہیں خصوصاً جب مہرتا کے دن ہوتے ہیں، اور جس نے اسے قتل کیا تھا اسے بھوت بن کر ڈراتی ہیں۔
(ملاحظہ ہو: گرودا پورانا، دھرما گھندا، باب - ۳۴)
*🔹اِضافی:-*
ہمارے معاشرے میں دین سے کم علمی کی بنیاد پر کچھ لوگوں نے اس بے بنیاد عقیدے کو دین کا عقیدہ بنا کر لوگوں کے سامنے رکھا ھے۔ کچھ حضرات کا تو کہنا یہ بھی ھے کہ مخصوص اوقات یا مخصوص دنوں میں روحوں کا گھروں میں آنا حدیث سے ثابت ھے۔ جس کے عوض میں وہ ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہیں جس کا نام *نورالصدور* ھے۔ اس پر ایک نہیں دو نہیں سینکڑوں عظیم مفتیان کرام، شیخ الحدیث علماء نے تحقیق کی اور اس سب کا نچوڑ ذیل میں دہے فتویٰ میں درج ھے:-
*¤ فتویٰ:*
ارواحِ مؤمنین کا شبِ جمعہ وغیرہ کو اپنے گھر آنا کہیں ثابت نہیں ہوا، یہ روایات واہیہ ہیں۔ اس پر عقیدہ کرنا ہرگز نہیں چاہیے۔
_فقط واللّٰه تعالیٰ اعلم_
(فتویٰ عدد: 144008200722 - جمامعہ علوم اسلامیہ پاکستان)
*◯ علین و سجین:*
مرنے کے بعد اگر میت نیک انسان تھا تو اسکی روح علیین، یعنی جنت میں ایسی جگہ جہاں نیک لوگوں کی روحیں رہتی ہیں، ادھر پہنچا دی جاتی ھے اور اگر میت گنہگار انسان کی ھے تو اس کی روح سجین، یعنی جہنم کی وہ جگہ جہاں گنہگاروں کی روحیں رہتی ہیں، وہاں پہنچا دی جاتی ھے۔
ان میں سے کوئ بھی روح چھوٹ کر اللّٰه ﷻ کی مرضی کے بغیر دنیا میں نہیں آسکتی۔ بری روحوں کو فرشتے چھوڑتے نہیں اور نیک روحیں جنت سے واپس اس دنیا میں آنا ہی نہیں چاھیں گی۔
*⬤ حاصلِ کلام:-*
یہ کہنا کہ پچھلے لوگوں کی روحیں موجودہ لوگوں کو دنیا میں آ کر پریشان کرتی ہیں، یہ بات بالکل غلط ھے۔ عمومی طور پر اس بات سے جُڑی جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں، تمام کی تمام جھوٹی اور خود ساختہ ہیں۔ پس یہ عقیدہ مسلمانوں میں برِصغیر کے ہندوؤں سے آیا ھے اور ایسی بات کا شریعتِ اسلامیہ سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ مزید یہ کہ مرنے کے بعد روح کا گھر واپس آنا یا جمعرات کو اپنے گھروں کے چکر لگانا، قرآن و صریح حدیث سے کہیں بھی *ثابت نہیں* ھے۔ اس طرح عقائد سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی تحمل سے سمجھائیں۔ اللّٰه ﷻ ہم سب مسلمانوں کو تمام ہندوانہ عقائد اور رسم و رواج سے بَری فرما دیں۔ ۔ ۔آمین!
[ کتـاب: _ایک غلط سوچ_ ] 📖
[ تالیف: _سیف خان بابُر_ ]
🌿ایک غلط سوچ🌿
لوگوں میں موجود غلط باتیں۔ ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر بہت سارے نظریات و عقائد اور خیالات ایسے ہیں جو شریعت اور سنت ﷺ کے مطابق قابل اصلاح ہیں۔ ان کی اصلاح کے لیے یہ ایک کوشش اور ایک قدم ہے۔
-:اقتباس:-
🔸 کتاب: ایک غلط سوچ
🔸 مصنف: سیف خان بابُر
ہم لوگ ماڈرن کہلائے جانے کے چکر میں بہت قیمتی چیزیں چھوڑ بیٹھے ہیں۔ ہم نے آسانیاں ڈھونڈیں اور اپنے لیے مشکلیں کھڑی کر دیں۔
آج ہم دھوتی پہن کے باہر نہیں نکل سکتے لیکن صدیوں کی آزمائش کے بعد یہ واحد لباس تھا جو ہمارے موسم کا تھا۔ ہم نے خود اپنے اوپر جینز مسلط کی اور اس کو پہننے کے لیے کمروں میں اے سی لگوائے۔ شالیں ہم نے فینسی ڈریس شو کے لیے رکھ دیں اور کندھے جکڑنے والے کوٹ جیکٹ اپنا لیے۔ ہمیں داڑھی مونچھ اور لمبے بال کٹ جانے میں امپاورمنٹ ملی اور فیشن بدلا تو یہ سب رکھ کے بھی ہم امپاورڈ تھے!
ہم نے حقہ چھوڑ کے سگریٹ اٹھایا اور ولایت سے وہی چیز جب شیشے کی شکل میں آئی تو ہزار روپے فی چلم دے کر اسے پینا شروع کر دیا۔ ہے کوئی ہم جیسا خوش نصیب؟
ہم نے لسی چھوڑی، کولا بوتلیں تھام لیں، ہم نے ستو ترک کیا اور سلش کے جام انڈیلے، ہم نے املی آلو بخارے کو اَن ہائی جینک بنا دیا اور وہی چیز ایسنس کے ساتھ جوس کے مہر بند ڈبے خرید کے بچوں کو پلائی، وہ پیک جس کے آر پار نہیں دیکھا جا سکتا کہ گتے کا ہوتا ہے۔ ہم نے ہی اس اندھے پن پہ اعتبار کیا اور آنکھوں دیکھے کو غیر صحت بخش بنا دیا۔
ہم نے دودھ سے نکلا دیسی گھی چھوڑا اور بیجوں سے نکلے تیل کو خوش ہو کے پیا، ہم نے چٹا سفید مکھن چھوڑا اور زرد ممی ڈیڈی مارجرین کو چاٹنا شروع کر دیا، اس کے نقصان سٹیبلش ہو گئے تو پھر ڈگمگاتے ڈولتے پھرتے ہیں۔ گوالے کا پانی ہمیں برداشت نہیں لیکن یوریا سے بنا دودھ ہم گڑک جاتے ہیں، الحمدللہ!
اصلی دودھ سے ہمیں چائے میں بو آتی ہے اور ٹی واٹنر ہم نوش جان کرتے ہیں جس پہ خود لکھا ہے کہ وہ دودھ نہیں۔ گھر کے نیچے بھینس باندھ کر ہم نے سوکھا دودھ باہر ملک سے خریدنے کا سودا کیا اور کیا ہی خوب کیا!
ہم تو وہ ہیں جو آم کے موسم میں بھی اس کا جوس شیشے کی بوتلوں میں پیتے ہیں۔
ہم گڑ کو پینڈو کہتے تھے، سفید چینی ہمیں پیاری لگتی تھی، براؤن شوگر نے ہوٹلوں میں واپس آ کے ہمیں چماٹ مار دیا۔ اب ہم ادھر ادھر دیکھتے ہوئے گال سہلاتے ہیں لیکن گڑ بھی کھاتے ہیں تو پیلے والا کہ بھورا گڑ تو ابھی بھی ہمیں رنگ کی وجہ سے پسند نہیں۔
آئیں، ہم سے ملیں، ہم ایمرجنسی میں پیاسے مر جاتے ہیں، گھروں کی ٹونٹی کا پانی نہیں پی سکتے، نہ ابال کر نہ نتھار کے، ہم پانی بھی خرید کے پیتے ہیں۔ ہم ستلجوں، راویوں، چنابوں اور سندھوں کے زمین زاد، ہم ولایتی کمپنیوں کو پیسے دے کے پانی خریدتے ہیں۔
ہم تو پودینے کی چٹنی تک ڈبوں میں بند خریدتے ہیں۔ چھٹانک دہی اور مفت والے پودینے کی چٹنی ہم ڈیڑھ سو روپے دے کے اس ذائقے میں کھاتے ہیں جو ہمارے دادوں کو ملتی تو انہوں نے دسترخوان سے اٹھ جانا تھا۔
سوہانجنا ہمیں کڑوا لگتا تھا، جب سے وہ مورنگا بن کر کیپسولوں میں آیا ہے تو ہم دو ہزار میں پندرہ دن کی خوراک خریدتے ہیں۔ وہی سوکھے پسے ہوئے پتے جب حکیم پچاس روپے کے دیتا تھا تو ہمیں یقین نہیں تھا آتا۔
پانچ سو روپے کا شربت کھانسی کے لیے خریدیں گے لیکن پانچ روپے کی ملٹھی کا ٹکڑا دانتوں میں نہیں دبانا، ’عجیب سا ٹیسٹ آتا ہے۔‘
ہم پولیسٹر کے تکیوں پہ سوتے ہیں، نائلون ملا لباس پہنتے ہیں، سردی گرمی بند جوتا چڑھاتے ہیں، کپڑوں کے نیچے کچھ مزید کپڑے پہنتے ہیں اور زندگی کی سڑک پہ دوڑ پڑتے ہیں، رات ہوتی ہے تو اینٹی الرجی بہرحال ہمیں کھانی پڑتی ہے۔
ہم اپنی مادری زبان ماں باپ کے لہجے میں نہیں بول سکتے۔ ہم زبان کے لیے نعرے لگاتے ہیں لیکن گھروں میں بچوں سے اردو میں بات کرتے ہیں۔ ہم اردو یا انگریزی کے رعب میں آ کے اپنی جڑیں خود کاٹتے ہیں اور بعد میں وجہ ڈھونڈتے ہیں کہ ہم ’مس فٹ‘ کیوں ہیں۔
عربی فارسی کو ہم نے مدرسے والوں کی زبان قرار دیا اور ہاتھ جھاڑ کے سکون سے بیٹھ گئے۔ ’فورٹی رولز آف لَو‘ انگریزی میں آئی تو چومتے نہیں تھکتے۔ الف لیلیٰ، کلیلہ و دمنہ اور اپنے دیسی قصے کہانیوں کو ہم نے لات مار دی، جرمن سے گورے کے پاس آئی تو ہمیں یاد آ گیا کہ استاد مال تو اپنا تھا۔
جا کے دیکھیں تو سہی، عربی فارسی کی پرانی ہوں یا نئی، صرف وہ کتابیں ہمارے پاس اب باقی ہیں جو مدرسوں کے نصاب میں شامل ہیں۔ باقی ایک خزانہ ہے جسے ہم طلاق دیے بیٹھے ہیں۔ پاؤلو کوہلو اسی کا ٹنکچر بنا کے دے گا تو بگ واؤ کرتے ہوئے آنکھوں سے لگا لیں گے۔ متنبی کون تھا، آملی کیا کر گئے، شمس تبریز کا دیوان کیا کہتا ہے، اغانی میں کیا قصے ہیں، ہماری جانے بلا!
ہماری گلیوں میں اب کوئی چارپائی بُننے والا نہیں آتا، ہمیں نیم اور بکائن میں تمیز نہیں رہ گئی، ہمارے سورج سخت ہوگئے اور ہمارے سائے ہم سے بھاگ چکے، ہمارے چاند روشنیاں نگل گئیں اور مٹی کی خوشبو کو ہم نے عطر کی شکل میں خریدنا پسند کیا۔
وہ بابا جو نیم کی چھاؤں میں چارپائی لگائے ٹیوب ویل کے ساتھ دھوتی پہنے لیٹا ہوتا ہے، وہ حقے کا کش لگاتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے اور ہنس کے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ اسے کب کی سمجھ آ گئی ہے، ہمیں نئیں آتی!
حسنین جمال
منقول
👈 *بھیک دینے سے غریبی ختم نہیں ہوتی* 👉
"ہم نے دو نوعمر بچوں کو لیا
ایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجا
اور دوسرے کو مختلف چیزیں دے کر فروخت کرنے بھیجا،
شام کو بھکاری بچہ آٹھ سو
اور مزدور بچہ ڈیڑھ سو روپے کما کر لایا.
اس سماجی تجربے کا نتیجہ واضح ہے۔
دراصل بحیثیت قوم، ہم بھیک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں
اور محنت مزدوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں.
ہوٹل کے ویٹر، سبزی فروش اور چھوٹی سطح کے محنت کشوں کے ساتھ ایک ایک پائی کا حساب کرتے ہیں
اور بھکاریوں کو دس بیس بلکہ سو پچاس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ جنت واجب ہوگئی.
ہونا تو یہ چاہئے کہ مانگنے والوں کو صرف کھانا کھلائیں
اور مزدوری کرنے والوں کو ان کے حق سے زیادہ دیں.
ہمارے استاد فرماتے ہیں کہ بھکاری کو اگر آپ ایک لاکھ روپے نقد دے دیں تو وہ اس کو محفوظ مقام پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے.
اس کے برعکس
اگر آپ کسی مزدور یا سفید پوش آدمی کی مدد کریں تو
وہ اپنی جائز ضرورت پوری کرکے زیادہ بہتر انداز سے اپنی مزدوری کرے گا.
کیوں نہ گھر میں ایک مرتبان رکھیں؟ بھیک کے لئے مختص سکے اس میں ڈالتے رہیں.
مناسب رقم جمع ہو جائے تو اس کے نوٹ بنا کر ایسے آدمی کو دیں جو بھکاری نہیں.
اس ملک میں لاکھوں طالب علم، مریض، مزدور اور خواتین ایک ایک ٹکے کے محتاج ہیں.
صحیح مستحق کی مدد کریں تو ایک روپیہ بھی آپ کو پل صراط پار کرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے.
یاد رکھئے!
بھیک دینے سے گداگری ختم نہیں ہوتی، بلکہ بڑھتی ہے.
خیرات دیں،
منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ،
اس طرح دنیا بھی بدل سکتی ہے اور آخرت بھی.
منقول
🍀 خواتین پڑھیں خود پر فخر کریں 🍀
🌺سب سے پہلے جو سب سے زیادہ بڑے ظالم و جابر خدائی کا دعوی کرنے والے فرعون کے مقابل شجاعانہ انداز میں کھڑا ہوا وہ کوئی مرد نہیں تھا بلکہ ایک عورت تھیں
(حضرت آسیہ)
🌺سب سے پہلے جس نے مکہ اور کعبہ کو آباد کیا وہ کوئی مرد نہیں تھا بلکہ ایک عورت تھیں
(حضرت ہاجرہ خاتون)
🌺سب سے پہلے جس نے روئے زمین کا مبارک ترین زمزم نوش فرمایا وہ کوئی مرد نہیں تھی بلکہ ایک عورت تھیں
(حضرت ہاجرہ خاتون)
🌺سب سے پہلے جو ہمارے نبی حضرت محمد المصطفی ﷺ پر ایمان لائی وہ کوئی مرد نہیں تھا بلکہ ایک عورت تھیں
(حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا )
🌺سب سے پہلے جس کا خون اسلام کی راہ میں بہایا گیا اور شہید ہوا وہ کوئی مرد نہیں تھا بلکہ ایک عورت تھیں
(حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا )
🌺سب سے پہلے جس نے اپنا مال اسلام کی راہ میں دیا وہ کوئی مرد نہیں تھا بلکہ ایک عورت تھیں
(حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا)
🌺قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ سب سے پہلے جس کی بات اللہ نے سات اسمانوں سے اوپر سنی وہ کوئی مرد نہیں تھا بلکہ ایک عورت تھیں
(سوره مجادله آیه 1)
(حضرت خولۃ رضی اللہ عنھا )
🌺سب سے پہلے جس نے صفا و مروه کی سعی انجام دی وہ کوئی مرد نہیں تھا بلکہ ایک عورت تھیں
(حضرت ہاجرہ خاتون)
🌺سب سے پہلے جو سب کی مخالفت کے باوجود بیت المقدس میں داخل ہوا وہ کوئی مرد نہیں تھا عورت تھیں
(حضرت مریم)
💕ہر عورت کو مبارک کہ وہ عورت پیدا کی گئی💕
🌺آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو دین اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین
* #کانپیں ٹانگ رہی ہیں‼*
کسی کی غلطی پر ہنسنا اور نقل اتارنا👇
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھےقطعاً یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی کے لہجے میں نقل اتاروں اگرچہ اس کے بدلے مجھے کتنا ہی مال و دولت حاصل ہو۔
جامع ترمذی،الرقم:۲۵۰۲
📖اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو ایمان کے بعد فسق برا نام ہے ، اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں💔
📚سورہ حجرات ایت نمبر11
#اور نصیحت کیجئے پس بےشک نصیحت ایمان والوں کو فائدہ دیتی ہے📖
📚 [القرآن 51:55]
(کاش کہ یہ پوسٹ تمام لوگ پڑهیں، اور اسے آگے بهی پھیلائیں)
یہ یاد ركھيے دنیا میں سب سے زیادہ اموات كولیسٹرول بڑھنے کی وجہ سے ہارٹ اٹیک سے ہوتی ہیں.
آپ خود اپنے ہی گھر میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتے ہوں گے جن کا وزن اور كولیسٹرول بڑھا ہوا ھے.
امریکہ کی بڑی بڑی كمپنياں دنیا میں دل کے مریضوں کو اربوں کی دوا
(heart patients)فروخت کر رہی ہیں
لیکن اگر آپ کو کوئی تکلیف ہوئی تو ڈاکٹر کہے گا angioplasty (اےنجيوپلاسٹي) كرواؤ .اس آپریشن میں ڈاکٹر دل کی نالی میں ایک spring ڈالتے ہیں جسے stent کہتے ہیں.یہ stent امریکہ میں بنتا ہے اور اس کا cost of production صرف 3 ڈالر (روپیہ150یا180) ہے.
اسی stent کو پاک و ہند میں لاکر 3یا5 لاکھ روپے میں فروخت کیا جاتا ہے اور آپ کو لوٹا جاتا ہے.ڈاکٹروں کو ان روپوں کا commission ملتا ہے ، اسی لیے وہ آپ سے بار بار کہتا ہے کہ angioplasty كرواؤ .
Cholestrol، BP ya heart attack
آنے کی اہم وجہ ہے، Angioplasty آپریشن. یہ کبھی کسی کا کامیاب نہیں ہوتا.كيونکے ڈاکٹر جو spring دل کی نالی میں رکھتا ہے وہ بالکل pen کی spring کی طرح ہوتی ہے.
کچھ ہی مہينوں میں اس spring دونوں سائیڈوں پر آگے اور پیچھے blockage (cholestrol اور fat) جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے.اس کے بعد پھر آتا ہے دوسرا heart attack (ہارٹ اٹیک)
ڈاکٹر کہتا هے دوبارہ angioplasty كرواؤ .آپ لاكھوں روپے لٹاتے ھیں اور آپ کی زندگی اسی میں نکل جاتی ھے
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
اب پڑھیں اس آئرود کا علاج
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
ادرک (ginger juice) -
●●●●●●●●●●●●●●●●
اس خون کو پتلا کرتا ھے.
یہ درد کو قدرتی طریقے سے 90٪ تک کم کرتا هے.
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
لہسن (garlic juice)
●●●●●●●●●●●●●●
اس میں موجود allicin عنصر cholesterol اور BP کو کم کرتا ھے.
وہ دل کے بلوکج کو کھولتا ھے.
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
لیموں (lemon juice)
●●●●●●●●●●●●●●●●
اس میں موجود antioxidants، vitamin C اور potassium خون کو صاف کرتے ہیں.
یہ بیماری کے خلاف مزاحمت (immunity) بڑھاتے ہیں.
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
ایپل سائڈر سرکہ (apple cider vinegar)
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
اس میں 90 قسم کے عناصر ہیں جو جسم کے سارے اعصاب کو کھولتے ھیں، پیٹ صاف کرتے ہیں اور تھکاوٹ کو مٹاتے ہیں.
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
ان مقامی منشیات (یعنی چیزوں) کو
اس طرح استعمال میں لایئں
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
1-ایک کپ لیموں کا رس لیں.
2-ایک کپ ادرک کا رس لیں.
3-ایک کپ لہسن کا رس لیں.
4 ایک کپ ایپل apple سرکہ
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
ان چاروں کو ملا کر دھيمي آنچ پر گرم کریں جب 3 کپ رہ جائے تو اسے ٹھنڈا کر لیں.
اب آپ
اس میں 3 کپ شہد ملا لیں .
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
روز اس دوا کے 3 چمچ صبح خالی پیٹ لیں جس سے سارے
ساری بلوکج ختم ہو جائیں گی . یعنی شریانیں کھل جائینگی . إن شاء اللہ .
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
آپ سب سے درخواست ہے کہ اس میسج کو زیادہ سے زیادہ نشر کریں تاکہ سب اس دوا سے اپنا علاج کر سکیں . جزاکم اللہ خیرا .
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
ذرا سوچیں کہ شام کے
7:25 بجے ھیں اور آپ گھر جا رہے ھیں وہ بھی بالکل اکیلے .
ایسے میں اچانک آپ کے سینے میں تیز درد ہوتا ہے جو آپ کے ہاتھوں سے ھوتا ہوا آپ
جبڑوں تک پہنچ جاتا ہے .
آپ اپنے گھر سے سب سے قریب ہسپتال سے 5 میل دور ہیں اور اتفاق سے آپ کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ وهاں تک پہنچ پائیں گے یا نہیں .
آپ نے سی پی آر میں تربیت لی ہے مگر وہاں بھی آپ کو یہ نہیں سکھایا گیا کہ اس کو خود پر استعمال کس طرح کرنا ہے .
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
ایسے میں دل کے دورے سے بچنے
کے لئے یہ اقدامات کریں
●●●●●●●●●●●
چونکہ زیادہ تر لوگ دل کے دورے کے وقت اکیلے ہوتے ہیں بغیر کسی کی مدد کے انہیں سانس لینے میں تکلیف
ہوتی ہے. وہ بے ہوش ہونے لگتے ہیں اور ان کے پاس صرف 10 سیکنڈ ہوتے ہیں
ایسی حالت میں مبتلا شخص زور زور سے کھانس کر خود کو عام رکھ سکتا ہے.
ایک زور کی سانس
لینی چاہئے ہر کھانسی سے پہلے
اور کھانسی اتنی تیز ہو کہ
سینے سے تھوک نکلے .
جب تک مدد نہ آئے یہ
عمل دو سیکنڈ کے وقفے سے دہرایا
جائے تاکہ دھڑکن عام
ہو جائے.
زور کی سانسیں پھیپھڑوں میں
آکسیجن پیدا کرتی ہے
اور زور کی کھانسی کی وجہ
دل سكڑتا ہے جس سے
خون سنچالن باقاعدگی سے
چلتا ہے.
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
جہاں تک ممکن ہو اس پیغام کو سب تک پہنچائیں . ایک دل کے ڈاکٹر نے تو یہاں تک کہا کہ اگر ہر شخص یہ پیغام 10 لوگوں کو بھیجے تو ایک جان بچائی جا سکتی ہے.
●●●●●●●●●●●●●●●
●●●●●
آپ سب سے درخواست ہے
چٹكلے تصویریں بھیجنے کی بجائے
یہ پیغام سب کو بھیجیں
شب براءت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
الحمد لله،
اللہ کا فرمان ہے۔
سخت مشقت کر رہے ہونگے، تھکے جاتے ہونگے، شدید آگ میں جھلس رہے ہونگے۔ (سورۃ غاشیہ # ۳،۴)
اور جو اِس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ راستہ پانے میں اندھے سے بھی زیادہ ناکام۔ (سورۃ الاسراء # ۷۲)
برصغیر پاک و ہند میں اس رات کو شب برات کے علاوہ شب قدر بھی کہا جاتا ہے۔ حالانکہ احادیث میں اس رات کے بارے میں شب برات یا شب قدر کے الفاظ کا کہیں ذکر نہیں ۔ بعض روایات میں اس رات کا جو ذکر آیا ہے وہ نصف شعبان کی رات کے حوالے سے آیا ہے اور ویسے بھی شب قدر اورشب برات سےمراد لیلۃ القدر ہے جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔
سورہ القدر میں فرمایا:
﴿إِنّا أَنزَلنـٰهُ فى لَيلَةِ القَدرِ ﴿١﴾... سورةالقدر
کہ ہم نے اس قرآن کو قدر والی رات میں نازل کیا۔
سورہ دخان میں ہے کہ
﴿إِنّا أَنزَلنـٰهُ فى لَيلَةٍ مُبـٰرَكَةٍ... ﴿٣﴾... سورة الدخان
یعنی ہم نے اس کتاب کو برکت والی رات میں نازل کیا۔
یہ خیال درست نہیں ہے کہ سورہ دخان میں مراد شعبان کی ۱۴۔۱۵ کی درمیانی شب ہے کیونکہ معتبر تفاسیر میں اس سے مراد لیلۃ القدر ہی لی گئی ہے۔
جہاں تک اس رات کو منانے کا تعلق ہے تو ہمارے ہاں اس کے مختلف طریقے رائج ہیں:
پهلا یہ کہ اس شام کو اچھے اور عمدہ کھانے (حلوہ وغیرہ) پکائے جاتے ہیں اور بانٹے جاتے ہیں اور پھر خود بھی بیٹھ کر اسے مزے سے کھاتےہیں ۔
دوسرا یہ کہ آتش بازی کی جاتی ہے اور گولہ بارود خوب استعمال کیا جاتاہے۔
تیسرا طریقہ کچھ لوگوں کے ہاں یہ بھی مروج ہے کہ اس رات کے استقبال کے لئے گھروں کو صاف کیا جاتا ہے اور انہیں خوب سجایا جاتاہے اور یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ اس دن مرے ہوئے لوگوں کی روحیں واپس آتی ہیں۔
چوتھا طریقہ بعض جگہوں پر یہ بھی دیکھا گیا کہ اس رات لوگ خصوصی اہتمام کے ساتھ اور بعض اوقات اجتماعی شکل میں قبرستان کی زیارت اور دعا کےلئے جاتے ہیں۔
پانچواں طریقہ جو زیادہ معروف ہے وہ اس دن روزہ رکھنا اور رات کو عبادت و ذکر کرنے کا طریقہ ہے۔
ان پانچوں طریقوں کے بدعت ہونے میں کوئی شبہ نہیں بلکہ ان میں سے کجھ تو خرافات کے زمرے میں آتے ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ نصف شعبان کی اس را ت کو سرے سے اسلامی تہوار کہا ہی نہیں جاسکتا اور اسے عیدین یا حج وغیرہ کی شکل دینا ہی غلط ہے۔
اور پھر یہ حلوہ پکانے اور کھانے ’آتش بازی کرنے اور گھروں کو سجانے کی رسمیں تو یوں بھی کسی اسلامی تہوار کا حصہ نہیں۔ یہ وہ خود ساختہ رسومات ہیں جو یا تو بعض مذہبی پیشواؤں نے اپنے مخصوص مفادات کے لئے جاری کیں اور یا پھر مسلمانوں نے ہندوؤں سے مستعار لے لی ہیں اور آتش بازی کا کسی دن کے منانے کے ساتھ اسلام میں سرے سے تصور ہی موجود نہیں۔
مردوں کی روحوں کے آنے کا عقیدہ بھی باطل ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ مرنے کے بعد کسی روح کا واپس آنا نہ شعبان کی اس رات میں ممکن ہے نہ کسی دوسرے دن وہ واپس اس دنیا میں آ سکتی ہیں۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔
(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ جائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ "اے میرے رب، مجھے اُسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔ امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا" ہرگز نہیں، یہ بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے اب اِن سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک۔ (سورۃ مومنون # ۹۹،۱۰۰)
وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اُس کی روح نیند میں قبض کر لیتا ہے، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے اُسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔ (سورۃ زمر # ۴۲)
اس رات قبرستان کی خصوصی زیارت کا مسئلہ بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ یوں تو کسی بھی دن یا رات قبروں کی مسنون طریقے سے زیارت جائز ہے۔ بلکہ رسول اللہﷺ نے قبروں کی زیارت کی تلقین فرمائی ہے لیکن اس رات بطور خاص اور اجتماعی شکل میں اس رات کی فضیلت کی وجہ سے جانا ثابت نہیں اس بارے میں ایک روایت ترمذی شریف کی پیش کی جاتی ہے۔مگر محدثین نے اس سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اس لئے ضعیف حدیث سے دلیل نہیں پکڑی جاسکتی۔
اب رہا مسئلہ پانچویں طریقے کا جس پر زیادہ لوگ عمل کرتے ہیں یعنی دن کو روزہ رکھنا اور رات کو ذکر وعبادت کرنا اور اس کےفضائل بیان کرنے کےلئے مخصوص مجلسیں منعقد کرانا۔
اس بارے میں درج ذیل روایات پیش کی جاتی ہیں:
۱۔ سنن ابن ماجہ: کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ (نصف شعبان کی رات(شب براءت )کا بیان)، سند : ضعیف جداً، حدیث # 1388 .
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو۔ اس رات اللہ تعالیٰ سورج کے غروب ہوتے ہیں پہلے آسمان پر نزول فرما لیتا ہے، اور صبح صاد طلوع ہونے تک کہتا رہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا ہے، کہ میں اسے معاف کروں؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ اسے رزق دوں؟ کیا کوئی کسی بیماری یا مصیبت میں ) مبتلا ہے کہ میں اسے عافیت فرمادوں؟‘‘
۲۔ سنن ابن ماجہ: کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ (نصف شعبان کی رات(شب براءت )کا بیان)، سند : ضعیف، حدیث # 1389 .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کو ( گھر میں ) نہ پایا۔ میں آپ کی تلاش میں نکلی تو دیکھا کہ آپ بقیع میں ہین اور آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا ہوا ہے۔ ( جب مجھے دیکھا تو) فرمایا: ’’عائشہ ! کیا تجھے یہ ڈر تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کریں گے؟ ‘‘ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: میں نے عرض کیا: مجھے یہ خوف تو نہیں تھا لیکن میں نے سوچا (شاید) آپ اپنی کسی) اور) زوجہ محترمہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں ۔تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نصف شعبان کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ (لوگوں ) کو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘
۳۔ سنن ابن ماجہ: کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ (نصف شعبان کی رات(شب براءت )کا بیان)، سند : ضعیف، حدیث # 1390 .
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت بیان کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات( اپنے بندوں پر) نظر فرماتا ہے ، پھر مشرک اور( مسلمان بھائی سے) دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کی مخفرت فرما دیتا ہے۔‘‘ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اپنے استاد محمد بن اسحاق کی سند سے یہ روایت بیان کی تو انہوں نے صحاک بن عبدالرحمن اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے درمیان ضحاک کے باپ کا واسطہ بیان کیا۔
یہ تمام روایات جو اس رات کی فضیلت میں بیان کی جاتی ہیں وہ سند کے اعتبار سے قابل استدلال نہیں اور محدثین نے حدیث کی صحت کےلئے جو معیار مقرر کیا ہے اس پر پورا نہیں اترتیں ۔ اس لئے ان روایات کو بنیاد بنا کر اس رات کو خصوصی اسلامی تہوار کی حیثیت دینا ہرگز قرین قیاس نہیں ہے۔
اس بارے میں جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ شعبان کے مہینے میں دوسرے مہینوں کے مقابلے میں زیادہ روزہ رکھتے تھے۔
جیسا کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رویت کی کہ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کبھی کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں،اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی(اور) مہینے میں اس سے زیادہ روزے رکھے ہوں جتنے شعبان میں رکھتے تھے۔
صحیح مسلم: کتاب: روزے کے احکام و مسائل (باب: رمضان کے علاوہ (دوسرے مہینوں میں )نبی اکرم ﷺ کے روزے ‘یہ مستحب ہے کہ کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہ رہے) حدیث # ۲۷۲۱
آج مسلمان دین سے ناواقفیت کی وجہ سے اس مہینے میں کثرت صوم کے عمل سے تو غافل ہیں لیکن فالتو رسموں کو خوب اہتمام سے کرتے ہیں۔
اللہ تعالی فرماتا ہے۔
آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے
(سورة المائده # 3)
نیز فرمایا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
(سورة الحجرات # 1)
اور فرمایا
در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ هے، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے
(سورة الأحزاب # 21)
تو جو کتاب و سنت سے ہٹ کر کوئ روش اختیار کرے وہ بدعت ہے اور بدعت سے متعلق رسول اللہﷺ کا فرمان ہے۔
" ہر نيا كام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہى ہے اور ہر گمراہى آگ ميں ہے ...
اسے نسائى نے باب كيف الخطبۃ صلاۃ العيدين ميں روايت كيا ہے، اور مسند احمد ميں جابر رضى اللہ تعالى عنہ سے اور ابو داود ميں عرباض بن ساريہ اور ابن ماجہ ميں ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہم سے مروى ہے.
جب رسول اللہﷺ خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ يہ كہتے:
" اما بعد: يقينا سب سے بہتر كلام اللہ كى كتاب اللہ ہے، اور سب سے بہتر طريقہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم كا ہے، اور سب سے برے امور نئے ايجاد كردہ ہيں، اور ہر بدعت گمراہى ہے "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 2005 ).
اللہ وحدہُ لاشریک سے دعا ہے کہ ہم سب کو صحیح دین سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین
شعبان وشبِ برأت کی حقیقت ،فضائل،احکام اوربدعات ورسومات
شعبان کامہینہ چل رہاہےاوریہ اسلامی کیلنڈرکے اعتبارسےآٹھواں مہینہ ہے،شعبان ’’شَعٗب یاشَعُّب‘‘سے ماخوذہے،جس کےکئی معانی میں سے ایک معنی پھیلنے کی بھی آتےہیں،اورچونکہ اس مہینہ میں رمضان المبارک کیلئےخوب بھلائی اورنیکیاں پھیلتی ہیں اس لئے اس مہینہ کو شعبان کہتےہیں۔
اسلامی نقطۂ نظرسےشعبان رمضان کی تیاری اورعبادت کامہینہ ہے،آپﷺ رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں ہی رکھتےتھے،بخاری شریف کی حدیث نمبر1969میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ آپﷺ کےمتعلق فرماتی ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللهِﷺيَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ(صحيح البخاري)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفلی روزے رکھتے تو رکھتے ہی چلے جاتے یہاں تک کہ ہم آپس میں کہتےکہ اب آپﷺافطار ہی نہیں کریں گے، اسی طرح جب روزے چھوڑتے تو چھوڑتےہی چلے جاتے یہاں تک کہ ہم آپس میں کہتےکہ اب آپﷺ روزے رکھیں گے ہی نہیں۔ میں نےآپﷺکو رمضان کےعلاوہ کبھی پورے مہینے کےروزے رکھتے نہیں دیکھتا اور جتنے روزے آپﷺ شعبان میں رکھتے میں نے کسی مہینہ میں اس سے زیادہ نفلی روزے رکھتے آپﷺ کو نہیں دیکھا۔
اسی طرح ابوداؤدشریف میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں:
كَانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانُ ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ.(سنن أبى داود)
ترجمہ:ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مہینوں میں سب سے زیادہ محبوب یہ تھا کہ آپ شعبان میں روزے رکھیں، پھر اسے رمضان سے ملا دیں۔
شعبان میں روزے رکھنےپرکئی صحیح احادیث موجودہیں،آپ ﷺکامعمول بھی شعبان کےاکثرمہینہ میں روزے رکھنےکاتھا، لہٰذا ہمیں بھی شعبان میں روزےرکھنےکی سنت پرعمل کرنےکااہتمام کرناچاہئے۔لیکن یہ بات ذہن میں رہےکہ شعبان سےایک دو دن پہلےروزہ نہ رکھیں تاکہ رمضان کیلئےطبیعت میں چستی ونشاط پیدا ہوجائے،بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی رمضان سے ایک دو دن پہلے روزے نہ رکھے،البتہ اگر کسی کو ان دنوں میں روزہ رکھنے کا معمول ہوتو وہ شخص روزہ رکھ سکتا ہے۔(بخاری)
شب برأت :
شعبان کی پندرہ تاریخ کی رات کوشبِ برأت کےنام سےیادکیاجاتاہے، اس رات کے متعلق اکثر لوگ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔بعض تو وہ ہیں جو سرے سے اس کی فضیلت کے قائل ہی نہیں بلکہ اس رات کی فضیلت میں جو احادیث مروی ہیں انھیں یکلخت موضوع و من گھڑت قراردیدیتے ہیں۔جبکہ بعض فضیلت کے قائل تو ہیں لیکن اس فضیلت کے حصول میں بے شماربدعات،رسومات اورخودساختہ امورداخل کردیئےہیں،عبادت کے نام پر ایسےایسے منکرات سرانجام دیتے ہیں کہ الامان و الحفیظ، دونوں طریقے راہِ اعتدال سےہٹے ہوئے ہیں،اس بارے میں معتدل نظریہ ہے کہ شعبان کی اس رات کی فضیلت کسی حدتک ثابت ہے لیکن اس کا درجہ فرض و واجب کا نہیں بلکہ زیادہ سےزیادہ مستحب کہہ سکتےہیں،سرے سےاس کی فضیلت کا انکار کرنا بھی صحیح نہیں اوراس رات کویا اس میں کیے جانے والے اعمال و عبادات کو فرائض و واجبات کا درجہ دینا بھی درست نہیں۔
شیخ الاسلام حضرت مولانامفتی محمدتقی عثمانی صاحب مدظلہم فرماتےہیں کہ شب ِ برأت کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کی کسی قسم کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں تویہ بات بالکل غلط ہے،کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی، ان میں سے بعض احادیث سند کے اعتبار سے بیشک کچھ کمزور ہیں اور سندکےاعتبارسےان احادیث کے کمزور ہونے کی وجہ سے بعض علماءنے یہ کہہ دیا کہ اس رات کی فضیلت بے اصل ہے،ان کی یہ بات درست نہیں ہے،یہاں پردو باتیں پیشِ نظر ہیں:
پہلی بات یہ ہے کہ حضرات محدثین اور فقہاءکا احادیث سےمتعلق یہ اصول و ضابطہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اس کی تائید بہت سی دیگر احادیث سے ہوجائے تو اس سندکی کمزوری دور ہوجاتی ہے۔
دوسری بات یہ ہےکہ محدثین وفقہاءکے نزدیک یہ بھی ضابطہ ہے کہ جو بھی ضعیف روایت مؤید بالتعامل ہو وہ مقبول ہوتی ہے،یعنی سند کے اعتبارسےکسی ضعیف روایت پرخیرالقرون سےامت کاعمل چلاآرہاہوتووہ حدیث مقبول ہوتی ہے،اور لیلۃ البرأت میں امت کا تعامل بیداری اور عبادت کا خاص اہتمام کرنے کاچلاآ رہا ہے۔اس رات کی فضیلت سےمتعلق بطورمثال چنداحادیث نقل کردیتاہوں:
ترمذی شریف میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سےروایت ہے،جس میں آپﷺ فرماتےہیں:
إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ
ترجمہ:اللہ تعالی شعبان کی پندرھویں تاریخ کو آسمانِ دنیا پرتشریف(کمایلیق بشانہ) لاتےہیں، اس رات اللہ تعالیٰ قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سےبھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔
شُعب الایمان للبَیہَقی میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
أَتَدْرِينَ أَيَّ لَيْلَةٍ هَذِهِ ؟ قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: هَذِهِ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَطْلُعُ عَلَى عِبَادِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِلْمُسْتَغْفِرِينَ، وَيَرْحَمُ الْمُسْتَرْحِمِينَ، وَيُؤَخِّرُ أَهْلَ الْحِقْدِ كَمَا هُمْ " (شعب الإيمان وغيره)
ترجمہ:(اے عائشہ!) کیا تمھیں معلوم ہے کہ یہ کون سی رات ہے؟میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے۔ اس رات اللہ رب العزت اپنے بندوں پر نظر رحمت فرماتے ہیں، بخشش چاہنے والوں کو بخش دیتے ہیں، رحم چاہنے والوں پر رحم فرماتے ہیں اور بغض رکھنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔
شُعب الایمان للبَیہَقی میں ہی آپﷺنےفرمایا:
أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: هَذِهِ اللَّيْلَةُ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَلِلَّهِ فِيهَا عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ بِعَدَدِ شُعُورِ غَنَمِ كَلْبٍ، لَا يَنْظُرُ اللهُ فِيهَا إِلَى مُشْرِكٍ، وَلَا إِلَى مُشَاحِنٍ ، وَلَا إِلَى قَاطِعِ رَحِمٍ، وَلَا إِلَى مُسْبِلٍ ، وَلَا إِلَى عَاقٍّ لِوَالِدَيْهِ، وَلَا إِلَى مُدْمِنِ خَمْرٍ. شعب الإيمان (5/ 363)
ترجمہ: حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائےاور فرمایا:یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابرلوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے، لیکن اس رات مشرک،کینہ رکھنے والے، قطع رحمی کرنے والے، ازار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والے، ماں باپ کے نافرمان اور شراب کے عادی کی طرف نظر(رحمت) نہیں فرماتے۔
ان احادیث سے شبِ برأت کی فضیلت کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا کہ اس مغفرت کی رات میں بھی بعض بدنصیب لوگ ایسے ہیں جن کی مغفرت نہیں ہوتی،جن میں مشرک،بغض رکھنے والا،کینہ رکھنے والے، قطع رحمی کرنے والے، ازار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والے، والدین کا نافرمان اور شراب کے عادی شامل ہے، ہمیں چاہئے کہ اس فضیلت والی رات میں ہم ان بدنصیب افراد کی فہرست میں شامل نہ ہوں۔
عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں :
ان تمام باتوں سےمعلوم ہواکہ یہ عبادت کی رات ہےالبتہ یہ بات درست ہے کہ اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں طریقے سے عبادت کی جائے ، جیسے بعض لوگوں نے اپنی طرف سے ایک طریقہ گھڑ کر یہ کہہ دیا کہ شب ِ برات میں اس خاص طریقے سے نماز پڑھی جاتی ہے ، مثلاََ پہلی رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے، دوسری رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے وغیرہ وغیرہ، اسکا کوئی ثبوت نہیں، یہ بالکل بے بنیاد بات ہے، بلکہ نفلی عبادت جس قدر ممکن ہووہ اس رات میں انجام دی جائے، نفل نماز پڑھیں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں ، ذکرکریں ، تسبیح پڑھیں ، دعائیں کریں ، یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔اورعبادت اس حد تک کریں کہ اس کی وجہ سےفجر کی نمازقضاءنہ ہو۔
15 شعبان کا روزہ:
ایک مسئلہ شب برأت کے بعد والے دن یعنی پندرہ شعبان کے روزے کاہے، اسکو بھی اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہئے، ذخیرہ احادیث میں اس روزہ کے بارے میں صرف ایک روایت میں ہے کہ شب برأت کے بعد والے دن روزہ رکھو،لہذابعض علماءنےاس روزہ کو مستحب قراردیا،لیکن یہ روایت چونکہ ضعیف اورصرف ایک ہی روایت ہے تو بعض علماءکےنزدیک اس روایت کی وجہ سے خاص پندرہ شعبان کے روزے کو سنت یا مستحب قرار دینادرست نہیں، البتہ شعبان کےپورے مہینے میں روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہےجیساکہ ابتداءمیں کچھ احادیث ذکرکی ہیں،اسی طرح آپﷺکا ہراسلامی مہینےمیں ایامِ بیض کےروزےرکھنےکامعمول تھا،جس میں سےپندرہ تاریخ کا روزہ بھی ہے،ان تمام جہات کے اعتبارسےاگرکوئی پندرہ شعبان کا روزہ رکھ لیتاہےتویہ عمل ثواب سےخالی نہ ہوگا۔
شبِ برات میں قبرستان جانا:
اس رات میں ایک اورعمل ہے جو ایک روایت سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت محمدﷺجنت البقیع میں تشریف لے گئے،اب چونکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس رات میں جنت البقیع میں تشریف لے گئے اس لئے مسلمان بھی شبِ برات میں قبرستان جانےکاہتمام کرنے لگ گئے،بلکہ بعض لوگ اس معاملہ میں بےحدغلو تک پہنچ گئے، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب قدس سرہ اس معاملہ میں بہت مفید بات فرمایاکرتےتھے جو ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے، وہ فرماتے تھے کہ جو چیز رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے جس درجہ میں ثابت ہو اسی درجہ میں اسے رکھنا چاہئے، اس سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے، لہٰذا ساری حیاتِ طیبہ میں رسول کریمﷺ سےشبِ برأت میں صرف ایک مرتبہ جنت البقیع جانا مروی ہے،اس لئے تم بھی اگر زندگی میں ایک مرتبہ چلے جاؤ تو ٹھیک ہے ، لیکن ہر شب برأت میں جانے کا اہتمام کرنا،اس کوضروری سمجھنا، اوراس کو شب برأت کا لازمی حصہ سمجھنا اور اس کے بغیر یہ سمجھنا کہ شب برأت نہیں ہوئی ، یہ اس کو اس کے درجہ سے آگے بڑھانے والی بات ہے۔
شبِ برأت کی چندبدعات و رسومات :
۱۔اعلانات واشتہارات کےذریعہ لوگوں کومساجدمیں پوری پوری رات بیدارکرنےکیلئےجمع کرناشرعی حدود سے تجاوز عمل ہےکیونکہ اس رات میں انفرادی طورپر عبادت کااہتمام کرناچاہئےاوربالفرض بیان کاانتظام کیاجائےتو مختصربیان کیاجائےتاکہ اس کےبعدلوگ انفرادی طور پرعبادت کرسکیں،اگربیانات کاسلسلہ اتناطویل کیاجائےجس کےبعد لوگ انفرادی عبادت ہی نہ کرسکیں یہ بھی حد سے تجاوز شمار ہوگا،اس سے بھی اجتناب کرناچاہئے۔
۲۔شب برأت میں سورکعات ایک ہزار مرتبہ سورت اخلاص کے ساتھ پڑھنے والی روایت یاچودہ رکعات والی روایت موضوع،من گھڑت اوربناوٹی ہے،لہٰذا اس سےاجتناب لازمی ہے۔
۳۔شب برأت میں حلوہ وغیرہ پابندی سے پکانا اور اس کے بغیر شب برأت کی فضیلت سے محروم ہونے کا نظریہ رکھنا،یافوت شدہ افراد کی روحوں کا گھروں میں آنے کانظریہ رکھنااوران کی نیت سے حلوہ وغیرہ پکانااوریہ عقیدہ رکھنا کہ اگر نہ پکایاجائےتووہ گھروں کی دیواریں چاٹ کرچلی جاتی ہیں،یہ سب نظریات وعقائد بالکل غلط ہیں اور ان سےاجتناب ضروری ہے۔اسی شب براءت میں مسور کی دال پکانے کو ضروری سمجھنابھی درست نہیں ہے۔
۴۔شبِ برأت کومُردوں کی عید سمجھنا ، یااگر کوئی شخص شب برأت سے پہلے مرجائے اور جب تک شب برأت میں حلوہ پور ی اور چپاتی پر فاتحہ نہ کی جائے وہ مردوں میں شامل نہیں ہوتا ہے،غلط عقائد میں سےہے۔
۵۔شب برأت میں آتش بازی کرناہندوانہ طرزِ عمل ہے ،اس میں گناہ کے ساتھ ساتھ پیسے کا ضیاع بھی شامل ہے، اس لئےاس سےخود بھی بچیں اور اپنی اولاد کوبھی اس بری حرکت سے بچائیں۔
۶۔پندرہویں شعبان سے ایک دو دن پہلے قبروں کو درست کرنا،لپائی کرانااورپندرہویں شعبان کی رات کو اس پر چراغاں روشن کرنا ،قمقمہ جلانا،پھول پتیاں چڑھانا،اگربتیاں جلاناوغیرہ یہ سب ہندوانہ رسم ورواج ہیں، اسلام کا ان رسم و رواج سےدور کابھی واسطہ نہیں ہے،اس لئے ہم پر ان بدعات و رسومات سے اجتناب کرناضروری ہے۔
خلاصہ :
اس تحریر کا خلاصہ یہ ہےکہ جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام سے روایات مروی ہوں،جن کی اسناد کاضعف دیگرروایات کی وجہ سےکم یاختم ہوچکاہواوران روایات پرامت کاتعامل بھی رہاہوتو اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں ہے،صحیح بات یہ ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے، اس رات میں عبادت کرنا باعث ِ اجر و ثواب ہے اور اسکی خصوصی اہمیت ہے،تاہم اس فرض وواجب نہ سمجھاجائے،اوراس میں بدعات کوفروغ نہ دیاجائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم اور راہ اعتدال پرچلنےکی توفیق عطاءفرمائے،اورہرقسمی بدعات ورسومات سےمحفوظ رکھے، آمین.
تحریر:محمدعاصم (عصمہ اللہ تعالی)فاضل ومتخصص دارالعلوم کراچی
12/شعبان/1439ھ
28/اپریل/2018 ء
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Lahore
54000