Old Lahore Referance Acadmy

Old Lahore Referance Acadmy

Share

The organization is culture and heritage places.

08/09/2022

contact me if u required mobile, fridge, ac led bike,

Photos 14/02/2014

باؤلی باغ لاہور
رنگ محل چوک کے قریب بکا ری خان کی سنہری مسجد کے پیچھے ، ایک کھلا میدان موجود ہے جسے باؤلی باغ کہا جاتا ہے۔ باؤلی ایک زیر زمین پانی کا ذخیرہ ہوتا ہے جو کافی گہرا ہو اور سیڑھیوں کے ذریعے اس تک رسائی ہو۔ اس باؤلی کو سکھ مذہب میں کافی مقدس گردانا جاتا ہے۔اس باؤلی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ باؤلی سکھوں کے پانچویں گرو ، گرو ارجن دیو جی نے جہانگیر کے زمانے میں بنوائی تھی۔ اور اس باؤلی کے ساتھ ایک بڑا لنگر خانہ بھی موجود تھا۔ لیکن ساتویں گرو ، گرو ہر گوبند سنگھ کے زمانے میں ، ان کے اور قاضی کے درمیان کسی جھگڑا کے باعث یہ باؤلی اور اس کی تمام عمارت حکومت کے حوالہ کر دی گئی اور لنگر خانہ کی عمارت کی جگہ پر ایک مسجد تعمیر کردی گئی۔
سکھ دور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ، جب بیمار ہوا تو اس کے نجومی نے اسے بتایا کہ اگر وہ اس باؤلی کو پھر سے کھلوائے اور اس کے پانی سے غسل لے تو وہ ٹھیک ہو جائے گا۔ مہاراجہ نے ایسا ہی کیا اور کہا جاتا ہے کہ غسل کے بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ا۔سکھ اس جگہ کو بہت مقدس جانتے تھے اور یہاں اپنی اہم گفت و شنید کی محافل منعقد کرتے۔ سکھوں کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب یہاں ایک لحاف میں لپیٹ کر رکھی گئی تھی۔ باؤلی کے داخلی راستہ پر ایک دوکاندار نے اپنی دوکان بڑھا رکھی ہے جس کے باعث اس تک پہنچنا خاصا مشکل ہو چکا ہے۔
تحریر و تحقیق؛۔ سید فیضان عباس (لاہور کا کھوجی)

Photos 12/02/2014

حضرت سید صوف ؒ سہروردی
چوک مسجد وزیر خان کے سامنے کی جانب سبز گنبد مزار سید صوف ہے ۔آپ عارف کامل اور سلسلہ سہروردی کے عظیم بزرگ تھے ۔متقی اور پرہیز گار تھے ۔آپ کے عقیدت مندوں میں بہت لوگ شامل تھے آپ فیروز شاہ تغلق کے دور میں تشریف لائے اور لاہور کے محلہ رڑہ میں قیام کیا ۔اور طالبان حق کو روحانی فیض بخشا ۔آپکا انتقال 786 ہجری میں ہوا ۔کہا جاتا ہے جب فیروز شاہ تغلق پر بیرونی حملہ آوروں نے حملہ کیا تو آپ نے بھی دشمنوں کے خلاف جہاد کیا اور انکے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوئے ۔جس جگہ آپکا مزار ہے اس جگہ ایک کھلا میدان تھا ۔بعد ازاں یہاں نادر خان لودھی نے اپنی حویلی تعمیر کر لی جو اسکے وارثوں کے پاس رہی ۔پھر شاہ جہاں کے دور میں نواب وزیر خان نے اس جگہ مسجدکی تعمیرکی ۔اور یہ مزار مسجد کے باہر آگیا ۔سکھ دور تک یہاں زائرین کی بڑی تعداد حاضری کو آتی تھی ۔انگریزوں کے دور حکومت میں جب اس جگہ کو کھلا کر کے چو ک میں تبدیل کیا جانے لگا تو ارد گرد کے مکانات کو مسمار کر دیا گیا ۔لاہور کا انگریزی ڈپٹی کمشنر آپ کا مزار بھی گرانا چاہتا تھا تاکہ چوک کھلا ہوجائے لیکن وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔خالی مزار پر لاہور کے سلطان ٹھیکدار نے روضہ کی تعمیر کروا دی ۔اور اسکے ساتھ ہی سنگ مر مر کی تختی نصب کر دی ۔جس پر مقبرہ کی تعمیر کنندہ کا نام اور عہد لکھا تھا ۔اب آپکا مزار بہت خوبصورت بنا دیا گیا۔ تحریر و تحقیق؛۔ سید فیضان عباس ( لاہور کا کھوجی)

Photos 09/02/2014

۔ دینا ناتھ کا کنواں؛
یہ کنواں راجہ دینا ناتھ نے اپنے خرچے پر ،ڈپٹی کمشنر آف لاہور میجر جارج میکریگر کے مشورہ پر 1851 ء میں بنوایا تھا۔ راجہ دینا ناتھ نے عوام اور مسجد وزیر خان کے نمازیوں کے استعمال کے لئے یہ کنواں بنوایاتھا۔اس کنواں کی تعمیر بہت خوبصورت انداز میں کی گئی ہے ۔ اس کی دیواروں میں چار محرابیں ہیں جس پر ایک کپ کی شکل کا چھوٹا سا گنبد ایستادہ ہے ۔ جبکہ کنواں اس عمارت کے اندر واقع تھا ۔جوکہ تقسیم سے قبل ہی ختم ہو گیا اور اسکی عمارت قبضہ کی نظر ہو گئی ۔بہت عرصہ اس میں پکوڑے کی دکان تھی ۔آجکل والڈ سٹی اتھارٹی لاہور کے پروجیکٹ کی بناء پر اسکو واگذار کروا دیا گیا ہے جسے جلد دوبارہ مرمت کیا جائے گا ۔تحریر و تحقیق؛۔ سید فیضان عباس ( لاہور کا کھوجی)

Photos 06/02/2014

* لال حویلی؛۔
لال حویلی اندرون شہر لاہور کی ان چند حویلیوں میں سے ہے جن کی خوبصورتی آج بھی اپنی پوری آب وتاب سے موجود ہے یہ چھوٹی اینٹ سے بنی حویلی ہے جس کی بیرونی اطراف کی تین منزلوں پر خوبصورت لکڑی کے جھروکے آج بھی موجود ہیں۔ اس حویلی پر سرخی سے پلستر کیا گیا ہے جس ک باعث یہ لال حویلی کہلاتی ہے۔ اس علاقے میں بسنے والوں کے مطابق یہ حویلی کشمیر کے راجا نے اپنے پسندیدہ درباری \"دارو \" کے لئے بنوائی تھی۔اور اسی لئے اسے مائی دارو کی حویلی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس حویلی کی تعمیر کا سال معلوم نہیں ہو سکا البتہ یہ حویلی انیسوی صدی کے آغاز میں بنائی گئی تھی۔
لال حویلی لوہاری دروازہ میں، عوامی بازار میں واقع ہے۔راویوں کے مطابق، یہ حویلی برطانوی دور میں بنی اور تقریبا 150 سال پرانی ہے۔ جس زمانے میں یہ عمارت تعمیر ہوئی یہ ایک وسیع رقبے پر مشتمل تھی جو کہ بعد ازاں 3 حصہ داروں میں تقسیم ہوگئی۔ آج کل پلاٹ نمبر D-749 کو لال حویلی کے نام سے جانا جاتا ہے ۔تحریر و تحقیق؛۔ سید فیضان عباس(لاہور کا کھوجی)ریسرچ آفیسر والڈ سٹی لاہور اتھارٹی

Photos 02/02/2014

حضرت پیر بلخی ؒ
حضرت پیر بلخی کا اصل نام کسی کتاب میں درج نہیں ہے ۔جب منگولوں نے بلخ پر حملہ کیا تو آپ لاہور آگئے ۔آپ کے بلخ سے آنے کی وجہ سے آپ کی پیر بلخی کہا جاتا ہے ۔حدیقیتہ اؤلیاء نے لکھا ہے آپ کا اصل نام بلخ تھا جب بلخ پر چنگیز خان نے قبضہ کر لیا اور شہر میں قتل و غارت شروع ہو گئی ۔آپ وہاں سے ہجرت کر کے لاہور آگئے پھر جب چنگیز خا ن کی فوج شہزادہ جلال الدین خوارزمی کو گرفتار کرنے کی غرض سے لاہور آئی تو وہ بھاگ کر دہلی چلا گیا ۔اس پر منگولوں نے لاہور کا محاصرہ کر لیا اور کئی دن تک لڑائی ہوتی رہی آخرکار شہر مغلوب ہو گیا شہر کے اندر حضرت پیر بلخی ؒ اور انکے مرید انکے نرغے میں آگئے اور انھوں نے سب کو شہید کر دیا ۔آپکا مزار دہلی دروازے سے کشمیری دروازے کی جانب جاتے ہوئے سنہری مسجد کے قریب واقع ہے ۔جب نواب بکاری خان نے سنہری مسجد تعمیر کی تو بازار کو سیدھا کرنے کی غرض سے آپکاسابقہ مزار گرا دیا جوکہ بازار کے وسط میں تھا ۔مزار کو ایک پختہ کمرے میں بنوا دیا ۔آج بھی آپکا مزار ایک خوبصورت کمرے میں واقع ہے
۔تحریر و تحقیق؛۔ سید فیضان عباس (لاہور کا کھوجی) ریسرچ آفیسر والڈ سٹی اتھارٹی لاہور

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Yousaf Plaza Mozang Chungi
Lahore
54000