Zafar Sulehri

Zafar Sulehri

Share

Teaching O and A-Level Biology since 1997. Currently providing his expertise at LGS, BLL, The city s

25/05/2026

قوموں کے زوال کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ لوگ اصولوں کے بجائے شخصیات کے اسیر ہوجائیں۔

ابن خلدون لکھتے ہیں کہ جب عقل کی جگہ اندھی عقیدت لے لے،
جب اختلافِ رائے کو غداری سمجھا جانے لگے،
جب سچ صرف اپنے گروہ کا اور جھوٹ صرف مخالف کا نظر آئے،
جب گالم گلوچ، افواہیں اور جذبات دلیل پر غالب آجائیں،
تو معاشرہ اپنا فکری توازن کھونے لگتا ہے۔

قومیں صرف ظلم سے نہیں گرتیں،
بلکہ اس وقت بھی کمزور ہوجاتی ہیں جب لوگ سوال کرنا چھوڑ دیں۔

اندھی مخالفت جتنی خطرناک ہے،
اندھی حمایت بھی اتنی ہی تباہ کن ہوتی ہے۔

18/05/2026

او سی ڈی (وسواسی جبری رویہ) ایک ایسا نفسیاتی عارضہ ہے جس میں مبتلا شخص بعض اوقات خود راست بازی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کے نزدیک وہ نہایت ٹھیک انسان ہے اور ارد گرد کے لوگ غلط ہیں۔ یہ عارضہ جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو مریض کے اندر شدت پسندی آجاتی ہے۔ وہ ایک ہی کام کو ہفتوں ایک ہی طرح سے بار بار کرتا ہے۔ اور کئ دفعہ شدت جذبات سے مغلوب کسی جرم کا ارتکاب بھی کرسکتا ہے۔ سلیپر سیلز اور خودکش بمبار بھی اسی طرح کے الجھنوں کا شکار پائے گئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ بحث مباحثے میں پڑنے سے محتاط رہنا چاہئے۔

17/05/2026

Thank you Sir Imran Latif for hosting this wonderfull intra GHA cricket tournament.

08/05/2026

Garret morgan and William potts were to great names of the early 20th century who invented traffic signals and got patented. Earned huge money and listed top engineers. Today who is making roads signal free are unknown engineers no patents, no big names but still work is worthless and better than their predecessor.

08/05/2026

اسلم کہتا ہے بھائی ہم نہ یزیدی ہیں نہ حسینی ہم کچھ اور ہی ہیں۔ ان کے آباو اجداد کو چودہ سو سال پہلے بھی لکھنا پڑھنا آتا تھا۔ ہمارا تو آج بھی لکھائی پڑھائ میں دل نہیں لگتا۔

05/05/2026

منافق اور حد درجہ گری ہوئی قوم۔
حکمران جاگیردار، سرمایہ دار بن جاتے ہیں اور پھر ملک کو لوٹتے ہیں انہیں باہر کرو سیاست سے۔ عام آدمی کو سیاست میں لاو، پھر جب عام آدمی آتا ہے تو اس کی نسل میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر غریبی کے طعنے دئے جاتے ہیں۔ اسکا پردادا تو فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ اسکے دادا کی تو دو مرنے کی دوکان تھی۔ اسکے باپ تو یہ تھا وہ تھا۔
پھر بوڑھے سیاستدانوں کے لتے لئے جاتے ہیں۔ جوانوں کے ہاتھ میں باگ ڈور ہونی چاہئے ملک کی۔ اور جب کوئ جوان اعلان کرتا ہے سیاست میں آنے کا تو کیسے بوڑھے حواس باختہ سیاستدانوں کے پیروکار نوجوانوں کی کردار کشی شروع کردیئے ہیں۔
فوج کا عمل دخل نہیں ہونا چاہئے اور پھر فوج ہی کے کندھوں پر سوار ہونے کو عزت سمجھتے ہیں۔
بڑھے بڑھے محلات میں رہنے والے حکمران بن جاتے ہیں غریب عام آدمی کے مسائل کو کیسے سمجھیں گے۔ پھر عام آدمی جب سیاست میں آئے تو گھر چھوٹا ہونا غریب ہونا ہی اسکا سب سے بدتر حوالہ ہوتا ہے۔
باہر والوں کی غلامی سے نجات چاہئے۔ غور کیجئے جس جس کے ساتھ باہر والوں کا کوئ رشتہ ہو یقین مانیے اسی کی عزت ہے۔
ہمارے حکمرانوں کو عام عوام کے مسائل کو سمجھنے کے لئے گھل مل کر رہنا چاہئے۔ جو گھل مل کے بیٹھے اس پر جوتے پھینکیں اور جو عوام کو جوتے کی نوک پر رکھے اسکے نام کے جوتے پہنیں۔

03/11/2025

اسلام: انفرادی مذہب نہیں بلک اجتماعی نظامِ حیات

ایک تحقیقی مطالعہ
مصنف: ظفر سلہری

خلاصہ

اسلام کا بنیادی تصور دینِ فطرت ہونے کے ناطے صرف انفرادی عبادات یا روحانی نجات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ گیر اجتماعی نظامِ حیات ہے۔ قرآن و سنت، فقہی متون اور تاریخِ خلافت سے یہ واضح ہے کہ اسلام کا اصل ہدف عدل و قسط پر مبنی معاشرہ قائم کرنا ہے۔ نماز، زکوٰۃ، جہاد، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسے ارکان انفرادی افعال نہیں بلکہ اجتماعی نظم کے اجزا ہیں۔ یہ مقالہ اسی تصور کی قرآنی، نبوی، اور فقہی بنیادوں کا جائزہ پیش کرتا ہے۔

1. مقدمہ

اسلامی فکر میں یہ بحث ہمیشہ بنیادی رہی ہے کہ آیا دین کا دائرہ انفرادی تزکیہ تک محدود ہے یا اجتماعی نظمِ حیات تک پھیلا ہوا۔ جدید دور میں، خصوصاً استعماری اثرات کے تحت، اسلام کو ’’فرد کا ذاتی معاملہ‘‘ قرار دینے کی کوشش کی گئی، حالانکہ کلاسیکی اسلامی روایت اس تصور کو مسترد کرتی ہے۔ قرآن مجید میں دین کی غایت ’’اقامتِ قسط‘‘ اور ’’اقامتِ صلاۃ‘‘ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، جو ایک منظم اجتماعی نظام کے بغیر ممکن نہیں۔

2. قرآن کا تصورِ دین: اقامتِ عدل و نظامِ اجتماعی

قرآن مجید میں دین کی غایت ’’اقامتِ قسط‘‘ کے طور پر بیان کی گئی:

> ﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾
(الحدید: 25)

یہ آیت دین کو عدل کے قیام کے ساتھ جوڑتی ہے — یعنی انبیاء کی بعثت کا مقصد اجتماعی عدل کا قیام ہے، جو ریاستی نظم کے بغیر ممکن نہیں۔

اسی طرح ارشاد ہے:

> ﴿الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ﴾
(الحج: 41)

یہاں "تمکین فی الارض" یعنی اقتدار کے ساتھ دینی ذمہ داریاں وابستہ کی گئی ہیں۔ گویا دین کے ارکان — نماز، زکوٰۃ، امر بالمعروف — سب اس وقت مکمل صورت اختیار کرتے ہیں جب اجتماعی اقتدار میسر ہو۔

3. سنتِ نبوی ﷺ: مدینہ بطور ریاستی ماڈل

ہجرت کے فوراً بعد نبی اکرم ﷺ نے ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے ذریعے ایک ریاستی نظام کی بنیاد رکھی۔ اس دستاویز میں:

نظمِ عدل،

اجتماعی دفاع،

مالی ذمے داریاں،

مذہبی آزادی اور

سیاسی وحدت کے اصول طے کیے گئے۔

یہ میثاق واضح کرتا ہے کہ نبوت کا مقصد محض فردی اصلاح نہیں بلکہ اجتماعی عدل کا قیام ہے۔

مزید برآں، عبادات میں بھی یہی اصول نمایاں ہے۔ فرض نماز کا جماعتی نظام دراصل ریاستی نظم کا مظہر تھا۔ نبی ﷺ اور خلفائے راشدین کے دور میں نمازِ جمعہ ہمیشہ امیر یا اس کے مقرر کردہ نمائندے کے ذریعے ادا کی جاتی تھی۔

امام نووی (رح) فرماتے ہیں:

> "لا تصح الجمعة إلا بإذن السلطان أو نائبه."
(شرح النووي على صحيح مسلم، ج 6، ص 155)

یعنی نمازِ جمعہ ریاستی نظم سے منسلک عبادت تھی۔

4. فقہی روایت اور ائمہ کا اتفاق

اسلامی فقہ میں امامت (حکومت) کو دینی نظام کا ناگزیر جزو قرار دیا گیا۔ امام ماوردی (رح) الاحکام السلطانية میں لکھتے ہیں:

> "الإمامة موضوعة لخلافة النبوة في حراسة الدين وسياسة الدنيا به."
(الاحكام السلطانية، ص 15)

یعنی امامت نبوت کی خلافت ہے جس کا مقصد دین کی حفاظت اور دنیا کی سیاست کو دین کے مطابق چلانا ہے۔

امام ابن تیمیہ (رح) السیاست الشرعية میں بیان کرتے ہیں:

> "ستون الإسلام العدل، وبه قامت السماوات والأرض."
(السیاست الشرعية، ص 13)

یہ دونوں ماخذ واضح کرتے ہیں کہ اسلام کا ستون عدل ہے اور عدل صرف اجتماعی و ریاستی سطح پر قائم ہوتا ہے۔

5. انفرادی تصورِ اسلام: استعماری فکر کا اثر

اسلام کو محض ’’انفرادی اخلاق‘‘ یا ’’روحانی نجات‘‘ تک محدود کرنا استعماری دور کی فکری گمراہی ہے۔ مغربی سیکولر فکر نے مذہب کو ریاست سے الگ کر کے دائرۂ عبادات تک محدود کر دیا۔ برصغیر میں بھی جدید مفکرین کے بعض مکاتبِ فکر نے اسی تصور کو قبول کیا، حالانکہ قرآن و سنت کی روشنی میں دین کا مقصد صرف نیک فرد نہیں بلکہ عادل معاشرہ ہے۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اس تصور پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

> "اسلام محض چند عبادات اور روحانی اذکار کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو حکومت، قانون اور تمدن کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔"
(اسلام کا نظامِ حیات، ص 17)

6. نتیجہ

اسلام کا مقصد انفرادی تزکیہ کے ذریعے اجتماعی عدل کا قیام ہے۔ قرآن کی روشنی میں دینِ اسلام ایک ریاستی و سماجی نظام ہے جس میں عبادات، اخلاق، قانون، معیشت اور سیاست ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔
اس اعتبار سے یہ کہنا کہ ’’اسلام انفرادی مذہب ہے‘‘ قرآنی تصورِ دین، سیرتِ نبوی ﷺ، اور فقہی روایت — تینوں کے خلاف ہے۔

اسلام کا جامع مقصد وہی ہے جو قرآن نے بیان کیا:

> ﴿لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾
(الحدید: 25)

مراجع

1. القرآن الکریم.

2. صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ.

3. امام ماوردی، الاحكام السلطانية، دار الکتب العلمیة، بیروت.

4. امام نووی، شرح صحیح مسلم، دار الفکر، دمشق.

5. ابن تیمیہ، السیاست الشرعية فی إصلاح الراعی والرعیة، مکتبۃ المعارف، ریاض.

6. سید ابوالاعلیٰ مودودی، اسلام کا نظامِ حیات، لاہور: ترجمان القرآن، 1950.

7. محمد حمیداللہ، میثاقِ مدینہ، ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد، 1970.

8. محمد اسد، The Principles of State and Government in Islam, University of California Press, 1961.

20/06/2025

🎶 "Bio Bio (This Time for Learning)" 🎶

You're a keen learner,
Ready for action,
Pick up your books,
No more distractions,
Get to the lab now,
Goggles in place,
Microscopes ready,
Let’s start the chase!

You know it’s science,
We’re getting closer,
Mitosis, enzymes—
It’s never over!

The pressure’s on, you feel it,
But you’ve got this, believe it!

When exams come up—oh oh,
Open your mind up—eh eh,
DNA to Golgi,
Let’s go study!

🧬 Cause this is Biology!
Zamina-mina—ATP!
Zangalewa—You got the key!
Zamina-mina—Study spree!
Hey hey—This is Biology! 🧫

13/04/2025
Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Zahur Elahi Road
Lahore

Opening Hours

Monday 16:00 - 20:00
Tuesday 16:00 - 20:00
Wednesday 16:00 - 20:00
Thursday 16:00 - 20:00