12/05/2026
Asalam u Alikum,
We at ALHASSAN Online Quran Academy provide our services of recitation, translation and explanation of Holy Quran, Quranic Dua and basics of Islam throughout the world under very well versed Quraa and scholars.
We provide our services according to your ease and comfort and follow your desired schedule.
Do contact us for further information.
Whatsapp:0300 2757886
06/02/2026
شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے فرمایا کہ درود پاک پر کامل کی پابندی کرنے والا ایک عظیم انسان کے اور کوئی نہیں دیکھا۔ وہ ہسپانیہ کا ایک لوہار تھا اور وہ اللھم صل علٰی محمد کے نام سے مشہور تھا۔
جب بھی میں نے اس سے ملاقات کی تو میری درخواست پر اس نے میرے لیے دعا کی جس کا مجھے بہت فائدہ ہوا۔ اس کے پاس جو مرد، عورت یا بچہ اگر کھڑا ہو تا تو اس کی زبان پر بھی درود پاک جاری ہو جاتا۔
یعنی درود پاک پڑھنے کی عادت انسان کو روحانی طور پر بلند کرتی ہے اور اس کے لیے دعائیں قبول ہوتی ہیں۔
06/02/2026
ایک نیک بھائی کی پیاری بات
“میری بہن اپنی تین سالہ بیٹی کو سونے سے پہلے درود پاک سنایا کرتی تھی:
‘اللّٰهم صلِّ على سيدنا محمد وعلی آل سیدنا محمد’”
چند گھنٹوں بعد وہ ننھی بچی نیند سے جاگ اٹھی اور بار بار کہنے لگی:
“محمد ﷺ! محمد ﷺ!”
ماں نے حیرت سے پوچھا:
“کون؟”
وہ تین سالہ معصوم بولی:
“میں نے ‘اللّٰهم صلِّ على محمد ﷺ’ والے محمد ﷺ کو دیکھا!”
ایک اور موقع پر، ہمارے ایک جاننے والے چند سال پہلے اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ عمرہ پر گئے۔ وہ بتاتے ہیں:
“میں نے اپنی بیٹی کو سیدہ خدیجہؓ کے بارے میں بتایا—کہ وہ ملکہ ہیں، اور جو لڑکی ان کی پیروی کرے گی وہ جنت میں ان کے ساتھ ہوگی۔ پھر میں اسے جنتُ المعلیٰ لے گیا تاکہ ان کی آرام گاہ کی زیارت کرواؤں۔”
وہ ننھی بچی جذباتی ہو گئی اور بولی:
“امّی، میں آپ سے محبت کرتی ہوں، براہِ کرم مجھے آپ سے ملنے دیجئے!”
وہ لوگ ہوٹل واپس آ گئے۔ دن ڈھل گیا۔ رات کے درمیانی حصے میں وہ بچی ایک بڑی مسکراہٹ کے ساتھ جاگی اور کہنے لگی:
“ابّو! ابّو! میں نے ابھی خواب میں ہماری پیاری ماں **سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ بنت خویلد**ؓ کو دیکھا ہے…!”
اے ماں اور باپ!
جب آپ اپنے بچوں کو عظیم ہستیوں کے بارے میں بتاتے ہیں، تو وہ عظمت کو دیکھتے ہیں۔
اور جب وہ عظمت کو دیکھتے ہیں، تو خود بھی عظیم بننے لگتے ہیں۔
ہماری ذمہ داری بس اتنی ہے کہ ہم انہیں اُن لوگوں سے متعارف کروائیں جو اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ قیمتی ہیں—
باقی کام اللہ خود فرما دیتا ہے۔
واللہ!
نبی کریم ﷺ اور اہلِ بیت کے نام اور ان کی یاد
دلوں کو بدل دیتی ہے
اور زندگیاں سنوار دیتی ہے۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ رزق صرف کھانے، نوکری اور مال تک محدود ہے—
حالانکہ رزق میں والدین، شریکِ حیات، اولاد، دوست
اور دل کا اطمینان بھی شامل ہے۔
اے اللہ!
ہمیں اور ہماری اولاد کو
دنیا اور آخرت میں بہترین رزق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
20/01/2026
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت حسین و جمیل نبی ﷺ ہیں جو اپنے والد کی قبر پر کھڑے ہوئے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ عظیم رسول ﷺ ہیں جو اپنی ماں، اپنے دادا، اپنی محبوب زوجہ، اپنے چچا، اپنے کمسن بیٹوں، اپنی بیٹیوں اور اپنے سب سے قریبی صحابہؓ کی قبروں پر کھڑے ہوئے۔
وہ وہی بابرکت نبی ﷺ ہیں جنہوں نے آنکھ کھولنے سے پہلے ہی اپنے والد کو کھو دیا۔
کیا آپ اس آزمائش کا تصور کر سکتے ہیں؟
وہ وہی محبوب رسول ﷺ ہیں جنہوں نے چھ سال کی نازک عمر میں، عرب کے تپتے ہوئے صحرا میں، اپنی ماں کو کھو دیا۔ انہوں نے اپنی خوبصورت آنکھوں سے ماں کی بیماری کو بڑھتے دیکھا، اور اتنی کم عمری میں ان کی روح کو دنیا سے رخصت ہوتے دیکھا۔
کیا آپ اس امتحان کی عظمت کا اندازہ کر سکتے ہیں؟
پھر ان کے دادا نے انہیں اپنی آغوشِ محبت میں لیا، بے پناہ شفقت اور توجہ دی، مگر آٹھ برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے وہ سایا بھی اٹھ گیا۔
کیا آپ اس درد کو محسوس کر سکتے ہیں؟
ان کی زوجہ، جو دنیا میں سب سے زیادہ انہیں محبوب تھیں، دعوتِ حق کے سب سے کٹھن دنوں میں ان کے شانہ بشانہ رہیں، پھر وہ بھی جدا ہو گئیں۔
کیا آپ اس تڑپ کا تصور کر سکتے ہیں؟
ان کے چچا، جنہوں نے آٹھ برس کی عمر سے ان کی پرورش کی اور مکہ میں ان کا مضبوط سہارا بنے رہے، وہ بھی ان کی زندگی میں ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔
انہوں نے حضرت سیدنا حمزہؓ کی شہادت اور ان کے جسم کی بے حرمتی دیکھی—جو ان کے لیے باپ کی مانند تھے—اور اس نے ان کے مبارک دل کو چیر کر رکھ دیا۔
کیا آپ اس صبر اور قوت کا تصور کر سکتے ہیں؟
انہوں نے اپنی پھوپھی کو بھی کھو دیا، جو ان کے لیے ماں جیسی تھیں، اور خود ان کی قبر میں اترے اور اپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں دفن کیا۔
کیا آپ اس وفا کا اندازہ کر سکتے ہیں؟
انہوں نے اپنے بیٹوں کو کمسنی میں دفن کیا۔ اپنی زندگی میں چار بچوں کی جدائی کا غم اٹھایا، اور ان کی مبارک آنکھوں سے آنسو بہے۔
کیا آپ اس کرب کا تصور کر سکتے ہیں؟
انہوں نے ان صحابہؓ پر ہونے والے ظلم اور ان کی شہادتوں کو دیکھا جن کے ساتھ وہ جوان ہوئے تھے، جن سے وہ بے پناہ محبت کرتے تھے، اور ان کی روح ہمیشہ ان کے لیے تڑپتی رہی۔
کیا آپ اس محبت کو سمجھ سکتے ہیں؟
وہ بدر سے واپس لوٹے تو معلوم ہوا کہ ان کی ایک بیٹی وفات پا چکی ہے۔
کیا آپ اس جدائی کی شدت کا اندازہ کر سکتے ہیں؟
پھر زندگی نے ایک اور امتحان لیا، اور انہوں نے دو مزید بیٹیوں کو اپنے مبارک ہاتھوں سے قبر میں اتارا۔
کیا آپ ان کے صبر اور حوصلے کی عظمت کا تصور کر سکتے ہیں؟
اور ان سب کے باوجود—
ایک صحابیؓ فرماتے ہیں:
“میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا مگر یہ کہ ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی تھی۔”
کیا آپ ان کے کردار کی بلندی کا اندازہ کر سکتے ہیں؟ ﷺ
اللہ تعالیٰ ہمارے بیماروں کو شفا عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو نرم کرے، اور ہمیں مصیبتوں اور آزمائشوں میں صبر، حوصلہ اور رضا نصیب فرمائے۔
آمین
18/01/2026
حضرت امام مالک بن انس رضی الله تعالیٰ عنھما مسجد نبوی ﷺ میں باقاعدہ حاضری دیتے ، جنازوں میں شریک ہوتے ، لوگوں میں سے کوئی دعوت دیتا تو قبول فرماتے اور اُن کے حقوق کا خیال رکھتے ۔ پھر اُنہوں نے مسجد نبوی ﷺ میں بیٹھنا چھوڑ دیا ، بس نماز پڑھتے اور گھر لوٹ جاتے ۔ بیماروں کی عیادت بھی چھوڑ دی اور جنازوں میں شرکت بھی ، ہاں لوگوں سے تعزیت کیا کرتے تھے ۔ پھر ایک وقت آیا کہ اُنہوں نے لوگوں سے تعلق چھوڑ دیا ، مسجد نبوی ﷺ میں آنا بھی ترک کر دیا حتیٰ کہ جمعہ کے روز بھی نہیں آتے تھے ۔ لوگ اُس متعلق پوچھتے تو فرمایا کرتے تھے : دیکھو ہر کوئی اپنا عذر بیان نہیں کر سکتا ۔
بعض(رضی الله تعالیٰ عنھم) کہتے ہیں : امام مالک رضی الله تعالیٰ عنھما نے سات سال تک جمعہ و جماعت میں حاضری کو چھوڑے رکھا ۔
جب اُن کی وفات کا وقت آیا تو اِس متعلق پوچھا گیا ، فرمانے لگے : اگر آج میرا اِس دنیا میں آخری دن نہ ہوتا تو تمہیں کچھ نہ بتاتا ۔ میں سلس البول(پیشاب کے قطروں کا آنا) کے مرض میں مبتلا ہوں ۔ مجھے ناپسند ہے کہ اِس حالت میں مسجد نبوی ﷺ میں حاضر ہوتا ، یہ رسول الله ﷺ کے ادب کے خلاف ہے اور میں اِس چیز کو بھی ناپسند کرتا ہوں کہ اپنی بیماری کے متعلق لوگوں کو بتا دوں ، یہ میرے رب تعالیٰ کا شکوہ کرنا ہے ۔
( ترتيب المدارك وتقريب المسالك : ٥٥/٢ )
14/01/2026
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ریاضُ الجنۃ…
وہ مبارک جگہ جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔”
آج کل اس مقدس مقام کی حاضری کے لیے پرمٹ حاصل کرنا بہت مشکل ہو چکا ہے۔
بہت سے عاشقانِ رسول ﷺ بار بار کوشش کے باوجود
تاریخ نہ ملنے اور اپڈیٹ نہ آنے کی وجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔
الحمدللہ
اللہ تعالیٰ نے ہمارے چند دوستوں کو یہ سعادت عطا فرمائی ہے
کہ ہم صرف خدمتِ حجاج و زائرین کی نیت سے
ریاضُ الجنۃ کے پرمٹس بالکل فری بنا کر دے رہے ہیں
تاکہ کوئی آنکھ اشکبار ہو کر واپس نہ لوٹے
اور کوئی دل اس جنت کے باغ میں سجدہ کیے بغیر نہ رہے۔
نہ کوئی فیس،
نہ کوئی مفاد،
بس ثواب کی نیت،
اور اللہ کے مہمانوں کی خدمت کا شرف۔
اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو اس سہولت کی ضرورت ہو
تو بلا جھجھک رابطہ کریں۔
اللہ کے کرم سے جو بن پڑا، پوری کوشش کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو بار بار
ریاضُ الجنۃ میں حاضری،
رسول اللہ ﷺ کے در پر سلام،
اور ایمان کی تازگی نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین.
برائے رابطہ۔
خادم الحجاج والمعتمرین
مولانا قاری غلام مصطفیٰ
+966 535684132
+92 300 2757886
05/01/2026
ایک غریب ماں اپنی دو کمسن بیٹیوں کے ساتھ سیدہ عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ سیدہ عائشہؓ نے انہیں تین کھجوریں عطا فرمائیں۔
ماں نے فوراً دونوں بیٹیوں کو ایک ایک کھجور دے دی اور وہ کھا گئیں۔ جب ماں اپنی کھجور کھانے لگی تو بچیوں کی نظریں اس پر جم گئیں، وہ مزید کھجور کی خواہش کرنے لگیں۔
ماں نے بغیر کسی تردد کے خود بھوکا رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی واحد کھجور کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور دونوں بیٹیوں کو دے دیا۔
جب یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ تک پہنچا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ نے اس ماں کو اس کے اس عملِ رحمت کی بدولت جنت عطا فرما دی۔"
یہ ماں کی محبت اور ایثار کی عظیم مثال ہے — ایک ایسی قربانی جو خاموشی سے دی گئی، بغیر کسی شکوے کے، اور جس کا اجر اللہ کے پاس محفوظ ہے۔
اے اللہ! ہمارے ماں باپ کو صحت عزت عافیت کے ساتھ سلامت باکرامت رکھ جن کے والدین وفات پا گئے انہیں جنت عطا فرما ان بے شمار قربانیوں کے بدلے جو انہوں نے ہمارے بچپن میں ہمارے لیے دیں، جن کا ہمیں اُس وقت شعور بھی نہ تھا۔
آمین