28/05/2025
خان صاحب کے تیور بتا رہے ہیں کہ عدالتی نظام کے حوالے سے انکی ہر طرح کی خوش فہمی یا غلط فہمی دور ہو چکی ہے۔ اب پر امن احتجاجی تحریک کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا۔ اس لئے اب وہ جو تحریک شروع کریں گے وہ آخری اور فیصلہ کن ہوگی۔بظاہر موجودہ قیادت میں وہ دم خم دکھائی نہیں دیتا کہ وہ کوئی لمبی تحریک چلا سکیں۔ لیکن اگر کسی بھی طرح یہ تحریک طول پکڑتی ہے تو ن لیگ،پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے علاوہ بہت سی جمہوری قوتیں ، بااثر و نامور شخصیات اور سول سوسائٹی اس تحریک کا حصہ ہوگی۔