Noor-ul-huda Society

Noor-ul-huda Society

Share

Islam is the soul of life

06/08/2025

وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"
تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
"کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"
سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔
پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور فرماتی ہیں:
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔"
مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا علیہ الصلوات والتسلیم
سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ
"لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"
اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
"یہ کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ مجھے ان پاس لے چلو۔
پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"
ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔"
پھر مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔"
(یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔"
مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے"
اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
"ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔"
آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔
اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ:
"اے لوگو۔۔۔! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔"
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔
فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"
أم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتےتھے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! "قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی اظہار کیا تھا؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ
پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔
جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب انہوں نے مجھے بےتحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
"فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"
جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"
آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"
ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"
فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"
ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!"
سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔
"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"
مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔
ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"
اس موقع پر سب زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔ آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔
کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه
(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
"یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
"جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔
عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"
پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."
(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔
میں نے آج تک اس سے اچّھا پیغا م کبھی پوسٹ نہیں کیا۔
اسلۓ آپ سے گزارش کہ آپ اسے پورا سکون و اطمینان کے ساتھ پڑھۓ۔

13/07/2024

مکہ سے کربلا تقریباً 1731 کلومیٹر ہے۔
یہ فاصلہ گوگل میپ کے مطابق 18 گھنٹے بذریعہ مشینری مطلب گاڑی وغیرہ میں طے کیا جا سکتا ہے مگر آج سے1381 سال پہلے یہ فاصلہ ایک مُشکل اور تکلیف دہ راستہ تھا، جس پر امام حُسین علیہ السلام نے اپنا سفر 8 ذلحج 60 حجری یعنی 10 ستمبر 680 عیسوی کو اپنے اہل خانہ کیساتھ شروع کیا۔

سفر شروع کرنے کے بعد تاریخ کی کتابوں میں 14 مختلف مقامات کا ذکر ملتا ہے، جہاں امام نے یا پڑاؤ کیا یا مختلف لوگوں سے ملے اور یا لوگوں سے خطاب کیا۔۔
اس آرٹیکل میں ان 14 مقامات کا سرسری ذکر کیا جائے گا تاکہ جو لوگ نہیں جانتے اُنہیں سفر اور راستے کی تھوڑی آگاہی ہوسکے۔

نمبر 1: الصفا
یہ پہلا مقام تھا امام اس جگہ پر عرب کے مشہور شاعر الفرزدق سے ملے اور اُس سے کوفہ کے حالات پُوچھے ، شاعر بولا ” کوفہ والوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور اُن کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں”۔
شاعر نے امام کو کوفہ جانے سے روکا، مگر امام اپنا سفر شروع کر چُکے تھے۔

نمبر 2: ذات عرق
مکہ سے کوفہ جاتے ہُوئے یہ دوسرا مقام ہے جو مکہ سے تقریباً 92 کلومیٹر پر ہے، اس مقام پر امام اپنے کزن عبداللہ ابن جعفر سے ملے اور اس مقام پر عبداللہ ابن جعفر نے اپنے دونوں بیٹوں عون اور مُحمد کو امام کی خدمت میں پیش کیا اور ساتھ ہی امام کو کوفہ جانے سے روکا، جس پر امام نے جواب دیا:
”میری منزل اللہ کے ہاتھ میں ہے”۔

نمبر 3: بطن الروما۔
یہ مقام ذات عرق سے کُچھ کلومیٹر آگے ہے یہاں امام نے قیس بن مشیر کے ہاتھ کوفہ والوں کو خط لکھا اور یہاں امام کی مُلاقات عبداللہ بن مطیع سے ہُوئی جو عراق سے آرہا تھا۔ عبداللہ نے امام کو آگے جانے سے روکا اور بولا ” کوفہ والوں پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا وہ اہل وفا میں سے نہیں" مگر امام نے اپنا سفر جاری رکھا۔

نمبر 4: زرود۔۔
حجاز کی پہاڑیوں پر یہ ایک چھوٹا سا ٹاون تھا اور یہاں پر حجاز کی پہاڑیوں کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے اور عرب کا تپتا ریگستان شروع ہوتا ہے۔ یہاں امام کی مُلاقات زُہیر ابن القین سے ہُوئی۔ اُسے جب پتہ چلا کہ امام کس مقصد کے لیے جارہے ہیں تو اُس نے اپنا تمام سامان اپنی بیوی کے حوالے کیا اور اُسے کہا کہ تم گھر جاؤ میری خواہش ہے کہ میں امام کے ساتھ قتل ہو جاؤں۔

نمبر 5: زبالہ
اس مقام پر امام کی مُلاقات دو آدمیوں سے ہُوئی جن کا تعلق عرب کے قبیلہ اسدی سے تھا انہوں نے امام کو کوفہ والوں کے ہاتھوں جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر دی۔
امام نے فرمایا "بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں اور بیشک وہ ہماری قُربانیوں کا حساب رکھنے والا ہے”۔
اس مُقام پر امام نے اپنے ساتھ چلنے والوں کو بتایا کے جناب مُسلم اور جناب ہانی کو شہید کر دیا گیا ہےاور کوفہ والے ہماری نُصرت نہیں کریں گے، امام نے اس مقام پر فرمایا جو چھوڑ کر جانا چاہتا ہے واپس چلا جائے۔

بہت سے قبائل جو راستے میں امام کے ساتھ اس اُمید پر چل پڑے تھے کہ اُنہیں مال و دولت ملے گی اس مقام پر ادھر اُدھر بکھر گئے اور واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور امام کے ساتھ اُن کے اہل خانہ سمیت تقریباً پچاس لوگ رہ گئے۔

نمبر 6: بطن العقیق
اس مُقام پر امام اکرمہ قبیلے کے ایک آدمی سے ملے جس نے امام کو آگاہ کیا کہ "کوفہ میں آپ کا کوئی دوست نہیں، کوفہ کو یزید کے لشکر نے گھیرے میں لے لیا ہے اور اُس کے داخلی اور خارجی دروازے بند کر دئیے ہیں اور کوفہ تشریف نہ لے جائیں” ۔ یہاں بھی امام نے اپنا سفر جاری رکھا۔

نمبر 7: Sorat
اس مُقام پر امام نے رات بسر کی اور صبح اپنے قافلے سے کہا کہ جتنا پانی ہوسکتا ہے ساتھ لے لیں۔

نمبر 8: شرف
اس مُقام پر امام کے ساتھیوں میں سے ایک چلایا کے اُس نے ایک لشکر کو اپنی طرف آتے دیکھا ہے، امام فوراً قافلے کا رُخ موڑ کر قریب ایک پہاڑ کے پیچھے لے گئے۔

نمبر 9: ذو حسم۔۔
اس مُقام پر امام کی مُلاقات حُر اور اُس کے ایک ہزار سپاہیوں ہُوئی جو پیاسے تھے، امام نے سب کو پانی پلانے کا حُکم دیا اور بذات خُود بھی سب کو پانی پلایا اور جانوروں کو بھی پانی پلایا گیا، اس مُقام پر ظہر کی نماز ادا کی گئی اور سب نے ملکر امام کی امامت میں نماز ظہر ادا کی۔

اس مُقام پر امام نے حُراور اُس کی فوج سےخطاب کیا اور فرمایا ، مفہوم” او اہل کوفہ تُم لوگوں نے میرے پاس اپنے قاصد بھیجے اور مُجھے خطوط لکھے کہ تُم لوگوں کے پاس کوئی امام نہیں اور میں کوفہ آؤں اور تم لوگوں کو اللہ کے راستے میں اکھٹا کرؤں اور تم لوگ میری بیعت کر سکو، تم لوگوں نے لکھا کے آپ اہل بیعت ہیں اور ہمارے معاملات کو اُن لوگوں کی نسبت جو ناانصافی کرتے ہیں اور غلط ہیں، بہتر طریقے سے حل کر سکتے ہیں، مگر اگر تُم لوگوں نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے اور مُنکر ہوگئے ہو اور اہل بیعت کے حقوق نہیں جانتے اور اپنے وعدوں سے پھر گئے ہوتو میں واپس چلا جاتا ہُوں”۔
حُر کے لشکر نے امام کو واپس نہیں جانے دیا اور اُنہیں گھیر کر کوفہ کی بجائے کربلا کی طرف لے گئے۔

نمبر 10: بیضہ
امام اگلے دن بیضہ پہنچے اور اس مقام پر پھر حُر کے لشکر سے خطاب کیا آپ نے فرمایا، مفہوم "لوگو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص ایسے بادشاہ کو دیکھے جو ظالم ہو اللہ کے حرام قرار دئیے کو حلال کہے ، خُدائی عہدوپیمان کو توڑے ، سنت رسول کی مخالفت کرے اور اللہ کے بندوں پر گُناہ اور زیادتی کیساتھ حکومت کرتا ہو، تو وہ شخص اپنی زبان اپنے فعل اور اپنے ہاتھ سے اُس بادشاہ کو نہ بدلے تو اللہ کو حق پہنچتا ہے کے ایسے شخص کو اُس بادشاہ کی جگہ جہنم میں داخل کرے”۔
امام نے اس مُقام پر مزید فرمایا ، مفہوم” لوگو تمہیں معلوم نہیں کہ جن لوگوں نے شیطان کی اطاعت اختیارکی اور اللہ سے مُنہ پھیرا، مُلک میں فساد برپا کیا، حدود شرح کو معطل کیا اور مال غنیمت کو اپنے لیے مختص کر دیا، ایسی صورت میں مُجھ سے زیادہ کس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اصلاح کی کوشش کرے، میرے پاس تمہارےقاصد آئے اور خطوط پہنچے کے تُم نے بیعت کرنی ہے اور تُم میرے مدد گار بنو گے اور مُجھے تنہا نہ چھوڑو گے، پس اگر تُم اپنا وعدہ پُورا کرو گے تو سیدھے راستے پر پہنچو گے”۔

امام نے یہاں لوگوں کو اپنے حسب اور نسب کا حوالہ دیا اور فرمایا، مفہوم "اگر تُم اپنے وعدے سے پھر جاؤ گے تو تعجب نہیں، تُم اس سے پہلے میرے والد اور میرے چچا زاد بھائی مُسلم کیساتھ ایسا ہی کر چُکے ہو اور عنقریب اللہ مُجھے تمہاری مدد سے بے نیاز کر دے گا”۔

امام کی تقریر سُن کر حُر نے امام سے کہا کہ اگر آپ نے جنگ کی تو آپکو قتل کر دیا جائے گا، امام نے فرمایا "تُم مُجھے موت سے ڈراتے ہو اور کیا تمہاری شقاوت اس حد تک پہنچے گی کہ مُجھے قتل کر دو گے”۔

حُر کے لشکر پر کوئی اثر نہ ہُوا اور وہ امام کو کربلا کی طرف گھیر کر لیجاتے رہے۔

نمبر 11: عزیب الحجنات۔
اس مُقام پر امام کی مُلاقات طرماح بن عدی سے ہُوئی جس نے امام کو کوفے والوں کے خطرناک ارادے سے آگاہ کیا، جسے امام پہلے ہی جانتے تھے اور امام سے اپنے ساتھ کوہ آجاہ چلنے کی درخواست کی تاکہ امام وہاں پناہ لے سکیں۔ امام نے فرمایا، مفہوم "اللہ تعالی تمہیں اور تمہاری قوم کو جزائے خیر دے، ہم میں اور ان لوگوں میں عہد ہو چُکا ہے اور اب ہم اس عہد سے پھر نہیں سکتے”۔

نمبر 12: قصر بنی مقاتل۔۔
فیصلہ ہوچُکا تھا کہ امام کو کوفہ نہیں جانے دیا جائے گا چنانچہ حُر کے لشکر نے کوفہ کا راستہ بدل کر امام کوگھیر کر کربلا کی طرف لیجانا شروع کیا اور امام راستے میں قصر بنی مقاتل رُکے اور شام کے وقت میں امام نے فرمایا ” بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں”۔

امام کے 18 سالہ بیٹے علی اکبر امام کے قریب آئے تو امام نے فرمایا کہ اُنہوں نے خواب میں کسی کو کہتے سُنا ہے کہ یہ لوگ اُنہیں قتل کرنے والے ہیں۔ جس پر جناب علی اکبر نے امام کو تسلی دی اور فرمایا، مفہوم ” کیاہم سیدھے راستے پر نہیں ہیں”۔

نمبر 13: نینوا۔۔
اس مُقام پر حُر کو ابن زیاد کا خط ملا جس میں اُس نے لکھا تھا کہ امام جہاں ہیں اُنہیں وہیں روک لواور اُنہیں ایسی جگہ اُترنے پر مجبور کردو جہاں پانی اور ہریالی نہ ہو۔
حُر نے امام کو ابن زیاد کے خط سے آگاہ کیا۔ آپ نے فرمایا ہم اپنی مرضی سے نینوا میں خیمہ زن ہوں گے۔ جس پر حُر نے کہا کہ ابن زیاد کے جاسوس ہر چیز کی نگرانی کر رہے ہیں لہذا میں آپ کو ایسا نہیں کرنے دے سکتا، پھر امام کا قافلہ ایک مقام پر پہنچا تو امام نے پُوچھا اس جگہ کا کیا نام ہے؟ کسی نے جواب دیا کربلا۔ امام نے فرمایا یہ کرب و بلا کی جگہ ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمیں قتل کیا جائے گا۔

نمبر 14: کربلا
امام کے حکم پر کربلا کے میدان میں خیمے گاڑ دئیے گئے ۔ دریائے فرات خیموں سے کُچھ میل کے فاصلے پر تھا اور یہ 2 محرم 61 ہجری کا دن تھا اور عیسوی کلینڈر پر 3 اکتوبر 680 کی تاریخ تھی۔

نوٹ: اس آرٹیکل میں کربلا کے حالات تفصیلاً بیان نہیں کیے جارہے ۔
اس آرٹیکل کا مقصد امام کے مکہ سے کربلا تک کے سفر میں آنے والی منازل اور چیدہ چیدہ واقعات کا ذکر کرنا تھا تاکہ جو لوگ نہیں جانتے اُنہیں 1731 کلومیٹر کے امام کے اس سفر کی تھوڑی آگاہی ہو
نقل شدہ مضمون ۔

#کربلا #محرم

07/07/2024

بسم اللّٰہ الرحمٰنِ الرَّحِیم

فضائلِ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ، احادیث میں

1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:۔ بے شک تم سے پہلی امتوں میں مُحَدَّثْ (صاحبِ الہام) ہوا کرتے تھے۔ اگر میری امت میں بھی کوئی مُحَدَّثْ ہے تو عمر ہے۔ (بخاری کتابُ المناقب، مسلم باب فضائل عمر)

2۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، تم سے پہلے لوگوں یعنی بنی اسرائیل میں ایسے لوگ بھی ہوا کرتے تھے جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام فرمایا جاتا تھا حالانکہ وہ نبی نہ تھے۔ اگر ان میں سے میری امت میں بھی کوئی ہے تو وہ عمر ہے۔ (بخاری کتابُ المناقب)

3۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگی اور آپ کے پاس قریش کی چند عورتیں گفتگو کر رہی تھیں اور اونچی آواز سے کچھ مطالبہ کر رہی تھیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اجازت مانگی تو وہ پردے کے پیچھے چھپ گئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اندر داخل ہوئے اور رسول ﷲ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا رہے تھے ۔ عرض کی، یا رسولﷲﷺ! آپ کو ﷲ تعالیٰ ہمیشہ مسکراتا رکھے ۔ نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، مجھے ان عورتوں پر تعجب ہے جو میرے پاس تھیں اور جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو پردے کے پیچھے چھپ گئیں۔ آپ نے کہا ، اے اپنی جان کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو مگر ﷲ کے رسولﷺ سے نہیں ڈرتیں؟ انہوں نے کہا، ہاں کیونکہ آپ سخت مزاج اور سخت گیر ہیں۔ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا ، خوب اے ابنِ خطاب ! قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، شیطان جب بھی تم سے کسی راستے میں ملتا ہے تو اپنا راستہ بدل لیتا ہے ۔ (بخاری، مسلم)

4۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک محل دیکھا ۔ میں نے پوچھا، یہ محل کس کا ہے؟ جواب ملا، عمر بن خطاب کا میں نے ارادہ کیا کہ اندر داخل ہوکر اسے دیکھوں لیکن تمہاری غیرت یاد آگئی۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ عرض گزار ہوئے ، یا رسول اﷲ ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ، کیا میں آپ پر غیرت کرسکتا ہوں۔ (بخاری، مسلم)

5۔ حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، میں سویا ہوا تھا کہ مجھ پر لوگ پیش کیے گئے جنہوں نے قمیضیں پہنی ہوئیں تھیں۔ کسی کی قمیض سینے تک اور کسی کی اس سے بھی کم تھی۔ پھر مجھ پر عمر بن خطاب پیش کیے گئے تو ان پر بھی قمیض تھی اور وہ اسے گھسیٹ رہے تھے۔ لوگ عرض گزار ہوئے ، یا رسول ﷲ ﷺ! آپ نے اس قمیض سے کیا تعبیر لی ہے؟ فرمایا، دین۔ (بخاری، مسلم)

6۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ،میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا۔ میں نے پیا ، یہاں تک کہ سیرابی کو اپنے ناخنوں سے نکلتے ہوئے دیکھا۔ پھر بچا ہوا دودھ میں نے عمر بن خطاب کو دے دیا۔ لوگ عرض گزار ہوئے ، یا رسول اﷲ ﷺ! آپ اس (دودھ) سے کیا مراد لیتے ہیں؟ فرمایا ، علم۔ (بخاری، مسلم)

7۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ "
حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ نے فرمایا ، بے شک اﷲ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور دل پر حق جاری فرمادیا ہے۔ [ترمذی:3644، صحيح ابن حبان:7052(15 : 318)، مسند أحمد بن حنبل:4999(5123) + 5544(5664) ، المعجم الأوسط للطبراني: 255 (247) + 297 (289)]

8۔ عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ " .
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم نے فرمایا ، اﷲ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے کہ وہ ہمیشہ حق بولتے ہیں۔ [صحيح أبي داود:2962، صحيح ابن ماجه:88، صحيح الجامع:1834 ]

9۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: ہم اس بات میں شک نہیں کرتے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی زبان پر سکینہ بولتا ہے یعنی ان کے ارشاد پر سب کو دلی سکون ملتا ہے۔ اسے امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا۔(مشکوٰۃ)

10۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلامَ بِعُمَرَ أَوْ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ " ، فَأَصْبَحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْلَمَ .
[تثبيت الإمامة وترتيب الخلافة لأبي نعيم » خِلافَةُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ... » ذِكْرُ دَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ...رقم الحديث: 79]

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی، اے اﷲ ! اسلام کو ابو جہل بن ہشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے عزت دے۔ صبح ہوئی تو اگلے روز حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا اور مسجد میں اعلانیہ نماز پڑھی۔(احمد، ترمذی)

ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے اپنے ایک خطبہ میں حضرت عمرؓ کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ فلاں شخص کے شہروں کو برکت دے، اُنہوں نے کجی کو سیدھا کیا، بیماری کا علاج کیا، سنت کو قائم کیا، فتنہ کو ختم کر دیا، دنیا سے پاک و صاف لباس اور کم عیب میں رخصت ہوئے، خلافت کی نیکی کو حاصل کیا اور اس کے شر سے اجتناب کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو بجا لائے اور اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرے جس طرح ڈرنے کا حق تھا‘‘ (نہج البلاغہ، ص:887، خطبہ: 226)۔ شیخ ابن ابی الحدید کہتے ہیں: ''فلاں شخص سے حضرت عمرؓ بن خطاب کی ذات مراد ہے‘‘ (شرح نہج البلاغہ، ج:12، ص:3)۔ جناب رئیس احمد جعفری نے نہج البلاغہ کے اُردو ترجمہ میں ذکر کیا ہے: ''یہ خطبہ حضرت عمرؓ کے متعلق ہے‘‘ (نہج البلاغہ، مترجم اردو، ص: 541)۔
حضرت علیؓ کو معلوم ہوا: بعض لوگ حضراتِ ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے متعلق بغضانہ الفاظ استعمال کرتے ہیں، آپؓ نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: ان دونوں سے وہی محبت کرے گا جو صاحبِ فضیلت ہو گا اور ان دونوں سے وہی بغض و عداوت رکھے گا جو بدبخت اور دین سے نکلنے والا ہو گا،کیونکہ ان دونوں کی محبت تقرب الٰہی کا سبب ہے، ان سے بغض رکھنا دین سے خارج ہونے کی علامت ہے، ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو رسول اللہﷺ کے دو بھائیوں، دو وزیروں، دو ساتھیوں، قریش کے دو سرداروں اور مسلمانوں کے دو باپوں کو نازیبا الفاظ سے یاد کرتے ہیں، میں ان لوگوں سے لا تعلق ہوں جو ان دونوں کوبرے الفاظ سے یاد کرتے ہیں، میں اس پر انہیں سزا دوں گا‘‘ (کنز العمال، ج:13، ص:8)۔ ''اَبُوالسَّفَر بیان کرتے ہیں: میں حضرت علیؓ کے جسم پر اکثر ایک چادر دیکھا کرتا تھا، میں نے عرض کی: کیا وجہ ہے کہ آپ اس چادر کو بہت زیادہ پہنا کرتے ہیں؟ آپؓ نے فرمایا: یہ چادر مجھے میرے خلیل اور میرے دوست عمرؓ نے پہنائی ہے، اُنہوں نے اللہ سے خلوص کا معاملہ کیا تو اللہ نے ان سے خیر خواہی کی‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ: 31997)۔

11۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلامَ بِعُمَرَ " .
[مستدرک للحاکم » كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ... » ذِكْرُ الرِّوَايَاتِ الصَّحِيحَةِ عَنِ الصَّحَابَةِ ...رقم الحديث: 4422]
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی، اے اﷲ ! اسلام کو عمر بن خطاب کے ذریعے غلبہ عطا فرما۔

اس حدیث میں مذکور دعا میں کسی دوسرے شخص کا نام شامل نہیں ہے۔ اس حدیث کو ابن ماجہ نے سنن میں اُمُ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ اسی حدیث کو طبرانی نے اوسط میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے اور معجم کبیر میں حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (تاریخ الخلفاء:١٨٣)

12۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ایمان لائے تو حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ! آسمان والے حضرت عمر کے ایمان لانے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔(ابن ماجہ، حاکم)

13۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رض سے روایت ہے کہ جب سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوگئے اس وقت سے ہم مسلسل کامیاب ہوتے آرہے ہیں۔ (بخاری )

14۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا ، اے رسول اللہ ﷺ کے بعد تمام لوگوں سے بہتر۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، آپ تو یوں کہتے ہیں حالانکہ میں نے رسولﷲ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ، سورج کسی ایسے شخص پر طلوع نہیں ہوا جو عمر سے بہتر ہو۔ (ترمذی)

15۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا، رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسا نیک اور سخی نہیں دیکھا گویا یہ خوبیاں تو آپ کی ذات پر ختم ہوگئی تھیں۔ (بخاری)

16۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔ (ترمذی، حاکم)

17۔ عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ ، فَقُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ؟ فَنَزَلَتْ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 ، وَآيَةُ الْحِجَابِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَمَرْتَ نِسَاءَكَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ فَإِنَّهُ يُكَلِّمُهُنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ ، وَاجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَيْرَةِ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ لَهُنَّ : عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ ، أَنْ يُبَدِّلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ "
[صحيح البخاري » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ » بَاب مَا جَاءَ فِي الْقِبْلَةِ ، وَمَنْ لَمْ يَرَ ...رقم الحديث: 390]

حضرت انس اور حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا، تین باتوں میں میرے رب نے میری موافقت فرمائی:
١) میں عرض گزار ہوا ، یا رسول اللہ ﷺ! کاش ہم مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بنالیں تو حکم نازل ہوا،''اور ٹھہرالو مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ''۔ (٢:١٢٥)
٢) میں نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ! ہماری عورتوں کے پاس بھلے اور برے آتے ہیں، کاش! آپ انہیں پردے کا حکم فرمائیں۔ اس پر پردے کی آیت نازل ہو گئی ۔
٣) نیزجب نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات غیرت کھا کر جمع ہو گئیں تو میں عرض گزار ہوا ، ''اگر آپ انہیں طلاق دے دیں تو قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو ان سے بہتر بدلے میں عطا فرمائے''۔ پس اسی طرح آیت نازل ہو گئی ۔(بخاری، مسلم)

18۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو دوسرے لوگوں پر چار باتوں سے فضیلت دی گئی ہے۔
١) بدر کے قیدیوں کے بارے میں جب آپ نے اُن کو قتل کرنے کے لیے کہا تو اﷲ تعالیٰ نے(آپ کی تائید میں) فرمایا ، ''اگر اﷲ پہلے فیصلہ نہ کرچکا ہوتا جو تم نے کیا تو تم کو بڑا عذاب پہنچتا''۔ ( ٨:٦٨)
٢) اور پردے کے معاملے میں جب آپ نے نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات سے پردے کے لیے کہا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے کہا، اے ابنِ خطاب ! آپ ہم پر بھی حکم چلاتے ہیں۔حالانکہ وحی ہمارے گھر میں نازل ہوتی ہے۔ تو ﷲ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا،''اور جب تم نے کوئی چیز ان سے مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو''۔ (٣٣:٥٣)
٣) اور حضور اکرم ﷺ کی دعا کے باعث کہ'' اے ﷲ ! عمر کے ذریعے اسلام کی مدد فرما ''۔
٤) اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے بیعت کے فیصلے کے باعث کہ سب سے پہلے اُنہوں نے بیعت کی۔ (احمد، مشکوٰۃ)
[البحر الزخار مسند البزار » السادس عشر وهو الثاني من حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ » وَمِمَّا رَوَى أَبُو نَهْشَلٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ ...رقم الحديث: 1575 ؛ كشف الأستار » كِتَابُ عَلامَاتِ النُّبُوَّةِ » مَنَاقِبُ عُمَرَ...رقم الحديث: 2361)

19۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا علم ترازو کے ایک پلے میں اور تمام اہلِ دنیا کا علم ترازو کے دوسرے پلے میں رکھ کر تولا جائے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا پلہ ہی بھاری رہے گا کیونکہ علم کے دس حصوں میں سے نو حصے علم آپ کو دیا گیا ہے۔ (طبرانی، حاکم، تاریخ الخلفاء:١٩٥)

20۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، میری امت سے وہ آدمی جنت میں بڑے بلند درجے والا ہے ۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ خدا کی قسم، ہم اس آدمی سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ہی مراد لیا کرتے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے راستے پر چلے گئے یعنی وصال فرما گئے۔ (ابنِ ماجہ،مشکوٰۃ)

21۔ حضرت مِسوَر بن مخرمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو زخمی کیا گیا اور انہوں نے تکلیف محسوس کی تو حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے تسلی دیتے ہوئے کہا ، اے امیرالمومنین ! کیا آپ پریشان ہیں حالانکہ آپ رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہے اور اچھا ساتھ نبھایا۔ پھر جب وہ جدا ہوئے تو آپ سے راضی تھے پھر آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی صحبت میں رہے اور اچھا ساتھ نبھایا۔ پھر جب وہ جدا ہوئے تو آپ سے راضی تھے ۔ پھر آپ کی صحابہ اکرام سے صحبت رہی اور اچھی صحبت رہی۔ اگر آپ ان سے جدا بھی ہوجائیں تو وہ آپ سے راضی ہیں۔

فرمایا ، تم نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اور رضامندی کا ذکر کیا ہے تو یہ ﷲ تعالیٰ کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر فرمایا ۔ تم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت اور رضامندی کا ذکر کیا تو یہ بھی ﷲ تعالیٰ کا کرم ہے جو اس نے مجھ پر فرمایا۔ اور جو تم میری پریشانی دیکھ رہے ہو یہ تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی وجہ سے ہے۔ خدا کی قسم ! اگر میرے پاس زمین بھر سونا بھی ہوتا تو میں ﷲ کے عذاب کو دیکھنے سے پہلے اس کا فدیہ ادا کردیتا۔ (بخاری باب مناقب عمر بن خطاب)

22۔ حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،جس شخص نے عمر سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ عرفہ پر عموماً اور عمر پر خصوصاً فخر کیا ہے۔ جتنے انبیاء کرام مبعوث ہوئے ہیں، ہر ایک کی امت میں ایک محَدَّثْ ضرور ہوا ہے اگر میری امت کا کوئی محَدَّث ْ ہے تو وہ عمر ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ! محدَث کون ہوتا ہے؟ فرمایا، جس کی زبان سے ملائکہ گفتگو کریں۔ اس حدیث کی اسناد درست ہیں۔ (طبرانی فی الاوسط، تاریخ الخلفاء:١٩٤)

23۔ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، میرے بعد حق عمر کے ساتھ رہے گا خواہ وہ کہیں ہوں۔ (تاریخ الخلفاء:١٩٣،طبرانی)

24۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے مرض ُالوصال میں دریافت کیا گیا، اگر آپ سے اللہ تعالیٰ یہ دریافت فرمائے کہ تم نے عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو کیوں خلیفہ منتخب کیا تو آپ اس کا کیا جواب دیں گے؟ فرمایا، میں عرض کروں گا کہ میں نے ان لوگوں پر ان میں سے سب سے بہتر شخص کو اپنا خلیفہ مقرر کیا تھا۔ (تاریخ الخلفاء: ١٩٥، طبقات ابن سعد)

25۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، عمر اہلِ جنت کا چراغ ہیں۔ (تاریخ الخلفاء:١٩٣، البزار، ابن عساکر)

26۔ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی جانب اشارہ کر کے فرمایا، یہی وہ ہستی ہے جس کے باعث فتنہ وفساد کے دروازے بند ہیں اور یہ جب تک زندہ رہے گا اس وقت تک تم میں کوئی پھوٹ اور فتنہ وفساد نہیں ڈال سکے گا۔ (تاریخ الخلفاء:١٩٣، ازالۃ الخفاء)

27۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے، مجھ سے جبرائیل نے کہا ہے کہ اسلام عمر کی موت پر روئے گا یعنی ان کی وفات سے اسلام کو بہت نقصان پہنچے گا۔ (تاریخ الخلفاء:١٩٤، طبرانی)

28۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے سوا کسی شخص سے واقف نہیں جس نے جرات کے ساتھ راہِ خدا میں ملامت سنی ہو۔ (تاریخ الخلفاء:١٩٥)
ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے اپنے ایک خطبہ میں حضرت عمرؓ کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ فلاں شخص کے شہروں کو برکت دے، اُنہوں نے کجی کو سیدھا کیا، بیماری کا علاج کیا، سنت کو قائم کیا، فتنہ کو ختم کر دیا، دنیا سے پاک و صاف لباس اور کم عیب میں رخصت ہوئے، خلافت کی نیکی کو حاصل کیا اور اس کے شر سے اجتناب کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو بجا لائے اور اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرے جس طرح ڈرنے کا حق تھا‘‘ (نہج البلاغہ، ص:887، خطبہ: 226)۔ شیخ ابن ابی الحدید کہتے ہیں: ''فلاں شخص سے حضرت عمرؓ بن خطاب کی ذات مراد ہے‘‘ (شرح نہج البلاغہ، ج:12، ص:3)۔ جناب رئیس احمد جعفری نے نہج البلاغہ کے اُردو ترجمہ میں ذکر کیا ہے: ''یہ خطبہ حضرت عمرؓ کے متعلق ہے‘‘ (نہج البلاغہ، مترجم اردو، ص: 541)۔

29۔حضرت علیؓ کو معلوم ہوا: بعض لوگ حضراتِ شیخین ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے متعلق بغضانہ الفاظ استعمال کرتے ہیں، آپؓ نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: ان دونوں سے وہی محبت کرے گا جو صاحبِ فضیلت ہو گا اور ان دونوں سے وہی بغض و عداوت رکھے گا جو بدبخت اور دین سے نکلنے والا ہوگا،کیونکہ ان دونوں کی محبت تقرب الٰہی کا سبب ہے، ان سے بغض رکھنا دین سے خارج ہونے کی علامت ہے، ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو رسول اللہﷺ کے دو بھائیوں، دو وزیروں، دو ساتھیوں، قریش کے دو سرداروں اور مسلمانوں کے دو باپوں کو نازیبا الفاظ سے یاد کرتے ہیں، میں ان لوگوں سے لا تعلق ہوں جو ان دونوں کوبرے الفاظ سے یاد کرتے ہیں، میں اس پر انہیں سزا دوں گا‘‘ (کنز العمال، ج:13، ص:8)۔

30۔ ''اَبُوالسَّفَر بیان کرتے ہیں: میں حضرت علیؓ کے جسم پر اکثر ایک چادر دیکھا کرتا تھا، میں نے عرض کی: کیا وجہ ہے کہ آپ اس چادر کو بہت زیادہ پہنا کرتے ہیں؟ آپؓ نے فرمایا: یہ چادر مجھے میرے خلیل اور میرے دوست عمرؓ نے پہنائی ہے، اُنہوں نے اللہ سے خلوص کا معاملہ کیا تو اللہ نے ان سے خیر خواہی کی‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ: 31997)۔

31۔امام محمد باقرؓ بیان کرتے ہیں: حضرت جابرؓ بن عبداللہ نے بیان کیا: جب وصال کے بعد حضرت عمرؓ کو غسل دے کر کفن پہنایا گیا تو حضرت علیؓ تشریف لائے اور فرمانے لگے: ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، میرے نزدیک تم میں سے کوئی شخص مجھے ان سے زیادہ محبوب نہیں کہ میں ان جیسا نامہ اعمال لے کر بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوں، (تَلْخِیْصُ الشَّافِی، ص: 219، مطبوعہ ایران)۔

32۔امام محمد باقرؓ فرماتے ہیں: ''حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی اولادِ بزرگوار کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ ابوبکرؓ و عمرؓ کے حق میں وہ بات کہیں جو سب سے بہتر ہو‘‘ (اَلصَّوَاعِقُ الْمُحْرِقَہ، ج:1، ص: 155)۔

گدائے در پیر سیال لجپال
غلام مرتضیٰ حمیدی سیالوی

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


New Shalimar Colony Multan Road
Lahore
54000