سبحان اللہ
Geet AQaa Dey
Assalat o Wassalam O Alika ya Rasool Allah [PBUH]
Assalam o Alaikum
13/09/2024
ہو کرم سرکار اب تو ہو گئے غم بے شمار
جان و دل تم پر فدا اے دو جہاں کے تاجدار
🤲
میں اکیلا اور مسائل زندگی کے بے شمار
آپ ہی کچھ کیجیئے نہ اے شہہ عالی وقار
🤲
یاد آتا ہے طواف خانہ کعبہ مجھے
اور لپٹنا ملتزم سے والہانہ بار بار
🤲
سنگِ اسود چوم کر ملتا مجھے کیف و سرور
چین پاتا دیکھ کر مستجاب و مستجار
🤲
یا خدا دکھلاحطیم پاک و میزاب و مقام
اور صفا مروا مجھے بہر ِرسولؑ زی وقار
🤲
جا رہا ہے قافلہ طیبہ نگر، روتا ہوا
میں رہا جاتا ہوں تنہا اے حبیب کردگار
🤲
جلد پھر تم لو بلا اور سبز گنبد دو دکھا
حاضری کی آرزو نے کر دیا پھر بیقرار
🤲
چوم کر خاک مدینہ جھومتا پھرتا تھا میں
یاد آتے ہیں مدینے کےمجھے لیل و نہار
🤲
گنبد خضرا کے جلوے اور وہ افطاریاں
یاد آتی ہے بہت رمضان طیبہ کی بہار
🤲
یا رسول اﷲ سن لیجیئے میری فریاد کو
کون ہے جو کہ سنے تیرے سوا میری پکار
🤲
حال پر میرے کرم کی اک نظر فرمائیے
دل میرا غمگین ہے اے غمزدوں کے غمگسار
🤲
قافلے والوں سنو یاد آئے تو میرا سلام
عرض کرنا روتے روتے ہو سکے تو بار بار
🤲
غمزدہ یوں نہ ہوا ہوتا عبید قادری
اس برس بھی دیکھتا گر سبز گنبد کی بہار
26/08/2024
آپ آئے تو دنیا منور ہوئی
بزم کونین میں روشنی گھر گھر ہوئی
ہادیٔ دوجہاں ہو سلام آپ پر
سرورِ انس و جاں ہو سلام آپ پر
دیکھتے کیا ہو اہل ِ صفا
آپہنچے محبوب ِ خدا
یعنی ہو چکے جلوہ نما
شاہ ِ حق شاہ ِ بطحا
لا اِلہ اِلا اللہ – لا اِلہ اِلا اللہ
حق لا اِلہ اِلا اللہ
آمنّابرسول اللہ
خلق کے رہبر آپہنچے
حق کے پیمبر آپہنچے
شافع ِ محشر آپہنچے
ساقی ِ کوثر آپہنچے
لا اِلہ اِلا اللہ – لا اِلہ اِلا اللہ
حق لا اِلہ اِلا اللہ
آمنّابرسول اللہ
ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں
مشعلیں حق کی جلتی ہیں
حسرتیں دل کی نکلتی ہیں
خوشیاں پہلو بدلتی ہیں
لا اِلہ اِلا اللہ – لا اِلہ اِلا اللہ
حق لا اِلہ اِلا اللہ
آمنّابرسول اللہ
ساقی ِکوثر بحر ِ خدا
آج تو ایسا جام پلا
اُٹھ جائے ہردہ جدائی کا
جلوۂِ زیبا ہم کو دکھا
لا اِلہ اِلا اللہ – لا اِلہ اِلا اللہ
حق لا اِلہ اِلا اللہ
آمنّابرسول اللہ
جسم سے ہو جب جان جدا
ہم کو ملے فردوس میں جا
لُوٹیں ہم قربت کا مزا
تیری اے محبوب ِ خدا
لا اِلہ اِلا اللہ – لا اِلہ اِلا اللہ
حق لا اِلہ اِلا اللہ
آمنّابرسول اللہ
جنت کی جب سیر کریں
ہم بھی سب ہمراہ چلیں
حوض ِ کوثر پر پہنچیں
ہاتھ سے آپ کے جام پئیں
لا اِلہ اِلا اللہ – لا اِلہ اِلا اللہ
حق لا اِلہ اِلا اللہ
آمنّابرسول اللہ
جو اِس بزم میں شامل ہو
اُس پر رحمت نازل ہو
جس گھر میں یہ محفل ہو
عزت و برکت داخل ہو
لا اِلہ اِلا اللہ – لا اِلہ اِلا اللہ
حق لا اِلہ اِلا اللہ
آمنّابرسول اللہ
داور ِ کُل اے ربّ ِ عُلیٰ
صدقہ ذات ِ محمد کا
جاری رہے تا روز ِ جزا
مذہب اہل ِ سنّت کا
جاری رہے تا روز ِ جزا
مسلک اعلیٰ حضرت کا
جاری رہے تا روز ِ جزا
سلسلہ میرے مُرشد کا
لا اِلہ اِلا اللہ – لا اِلہ اِلا اللہ
حق لا اِلہ اِلا اللہ
آمنّابرسول اللہ
24/08/2024
سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں
لیکن آقا ﷺ کا منصب جدا ہے
وہ امامِ صفِ انبیاؑء ہے
ان کا رتبہ بڑوں سے بڑاہے
کوئی لفظوں سے کیسے بتا دے
ان کے رتبے کی حد ہے تو کیا ہے
ہم نے اپنے بڑوں سے سنا ہے
صرف اللہ ہی ان سے بڑا ہے
وہ جو اک شہر نور الہدیٰ ہے
جلوہ گاہوں کا اک سلسلہ ہے
جس کی ہر صبح شمس الضحیٰ ہے
جس کی ہر شام بدر الدجیٰ ہے
نام جنت کا تم نے سنا ہے
میں نے اس کا نظارا کیا ہے
میں یہاں سے تمہیں کیا بتا دوں
ان کے مدینے کی گلیوں میں کیا ہے
کتنا پیارا ہے موسم وہاں کا
کتنی پرکیف ساری فضاہے
تم میرے ساتھ خود چل کے دیکھو
گرد طیبہ بھی خاک شفا ہے
یہ وہی شہرِ طیبہ ہے جس میں
خواب گاہِ حبیبِ خدا ہے
کام ہے جن کا عقدہ کشائی
نام بھی جن کا خیر الورٰی ہے
جن کا رتبہ سوا ہے خرد سے
فہم و ادراک سے ماورا ہے
بحر و بر جن کے زیرِ نگیں ہیں
تابہ افلاک جن کی ضیا ہے
پیشواؤں کے جو پیشوا ہیں
اک لقب جن کا صدرالعلٰی ہے
قاب قوسین ہے جن کی منزل
رہگزر سدرۃ المنتہٰی ہے
مستقل ان کی چوکھٹ عطا ہو
میرے معبود ﷻ یہ التجاہے
کوئی پوچھے تو یہ کہ سکوں میں
باب جبریل میرا پتہ ہے 🌴
الصلوة ولسلام علیک یا رسول اللہ
وعلی الک واصحابک یا حںیب اللہ
Kaabey Wal Moooh Mahyaa
12/08/2024
منگتے خالی ہاتھ نہ لوٹے کتنی ملی خیرات نہ پوچھو
ان کا کرم پھر ان کا کرم ہے ان کےکرم کی بات نہ پوچھو
کنت کنزاً رازِ مشیّت جلوۂ اسریٰ نورِ ہدایت
جگمگ جگمگ دونوں عالم کیسی ہے وہ ذات نہ پوچھو
حب ِ عشق نبی کونین کی دولت عشق نبی بخشش کی ضمانت
اس سے بڑھ کر دستِ طلب میں ہے بھی کوئی سوغات نہ پوچھو
رشکِ جناں طیبہ کی گلیاں ہر ذرّہ فردوس بد اماں
چاروں طرف انوار کا عالم رحمت کی برسات نہ پوچھو
ظاہر میں تسکین دل و جاں باطن میں معراج دل و جاں
نام نبی پھر نامِ نبی ہے نام نبی کی بات نہ پوچھو
حال اگر کچھ اپنا سنایا اُن کے کرم کا شکوہ ہوگا
میں اپنے حالات میں خوش ہوں مجھ سے مرے حالات نہ پوچھو
تاجِ شفاعت سر پر پہنے حشر کا دولہا آ پہنچا
آنکھیں کھو لو غور سے دیکھو کس کی ہے بارات نہ پوچھو
میں کیا اور کیا میری حقیت سب کچھ ہے سرکار کی نسبت
میں تو بُرا ہوں لیکن میری لاج ہے کس کے ہات نہ پوچھو
خاؔلد میں صرف اتنا کہوں گا جاگ اُٹھا اشکوں کا مقدر
یادِ نبی میں روتے روتے کیسے کٹی ہے رات نہ پوچھو
12/08/2024
Munawwar Meri Ankhoun ko Naat Lyrics
منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں
غموں کی دھوپ میں وہ سایۂ زلف دوتا کردیں
جہاں بانی عطا کردیں بھری جنت ہبہ کردیں
نبی مختارِ کل ہیں جس کو جو چاہیں عطا کردیں
جہاں میں ان کی چلتی ہے وہ دم میں کیا سے کیا کردیں
زمیں کو آسماں کردیں ثریا کو ثریٰ کردیں
فضا میں اڑنے والے یوں نہ اترائیں ندا کردیں
وہ جب چاہیں جسے چاہیں اسے فرماں رَوا کردیں
ہر اک موجِ بلا کو میرے مولیٰ ناخدا کردیں
مری مشکل کو یوں آساں مرے مشکل کشا کردیں
ہر اک موجِ بلا کو بحر غم میں ناخدا کردیں
مری مشکل کو یوں آساں مرے مشکل کشا کردیں
عطا ہو بے خودی مجھ کو خودی میری ہوا کردیں
مجھے یوں اپنی الفت میں مرے مولیٰ فنا کردیں
جہاں میں عام پیغام شہ احمد رضا کردیں
پلٹ کر پیچھے دیکھیں پھر سے تجدید وفا کردیں
نبی سے ہو جو بیگانہ اسے دل سے جدا کردیں
پدر ، مادر ، برادر ، مال و جاں ان پر فدا کردیں
تبسم سے گماں گزرے شب تاریک پر دن کا
ضیائِ رخ سے دیواروں کو روشن آئینہ کردیں
شب تاریک پر دن کا گماں گزرے تبسم سے
ضیائِ رخ سے دیواروں کو روشن آئینہ کردیں
کسی کو وہ ہنساتے ہیں کسی کو وہ رلاتے ہیں
وہ یونہی آزماتے ہیں وہ اب تو فیصلہ کردیں
گلِ طیبہ میں مل جائوں گلوں میں مل کے کھل جائوں
حیاتِ جادوانی سے مجھے یوں آشنا کردیں
یہ دورِ آزمائش ہے انہیں منظور ہے جب تک
نہ چاہیں تو ابھی وہ ختم دورِ ابتلا کردیں
سگ آوارۂ صحرا سے اُکتا سی گئی دنیا
بچائو اب زمانے کا سگانِ مصطفیٰ کردیں
زمانہ خوگر مے ہے نئی مے کی ضرورت ہے
پلا کر اپنی نظروں سے وہ تجدید نشہ کردیں
مجھے کیا فکر ہو اخترؔؔ مرے یاور ہیں وہ یاور
بلائوں کو جو میری خود گرفتارِ بلا کردیں
Naat Lyrics #1
Madine ka Safar hey Or Mein Numdida Urdu Lyrics
مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
جبیں افسردہ افسردہ، قدم لغزیدہ لغزیدہ
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ
نظر شرمندہ شرمندہ، بدن لرزیدہ لرزیدہ
کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ
کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ
غلامانِ محمد دور سے پہچانے جاتے ہیں
دلِ گرویدہ گرویدہ، سرِ شوریدہ شوریدہ
کہاں میں اور کہاں اس روضہِ اقدس کا نظّارہ
نظر اس سمت اٹھتی ہے مگر دزدیدہ دزدیدہ
مدینے جا کے ہم سمجھے تقدس کس کو کہتے ہیں
ہوا پاکیزہ پاکیزہ، فضا سنجیدہ سنجیدہ
بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے
مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ
وہی اقبؔال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
فراقِ طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Lahore Cant
Lahore
54000