15/04/2018
شام ، عراق ، افغانستان ، فلسطین
اور کشمیر کے مظلوم عوام اپنی
مزاحمتی تحریکوں
کے ذریعے مستقبل قریب میں
دشمنوں پر فتح حاصل کریں گے
رہبر معظم سید علی خامنہ ای۔
Mashrabe Naab مشرب ناب
14/04/2018
چند روز قبل امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے مشرق وسطی
پرکھربوں ڈالر لگا دیئے ہیں اور کچھ حاصل نہیں کیا۔
اس نے صحیح کہا۔انہیں کچھ نہیں ملا۔
اور امریکہ یہ بات بھی آج سے اپنے ذہن میں
ڈال لے کہ وہ چاہے اور جتنا مرضی پیسہ و ذور لگا لیں۔
انہیں اس خطے سے کچھ بھی نہیں ملے گا.
رہبر معظم سید علی خامنہ ای
Mashrabe Naab مشرب ناب
14/04/2018
جب بھی داعش نے مدد مانگی امریکہ حاضر ہوا۔
رہبر معظم سید علی خامنہ ای۔
Mashrabe Naab مشرب ناب
24/11/2017
وحت امت ریلی
Mashrabe Naab مشرب ناب
02/11/2017
آيت الله سيد علی خامنه ای دام ظله العالى
میں جس مسجد میں نماز پڑھاتا تھا اس میں مغرب و عشا کی نماز میں بڑا ازدحام رہتا تھا اور باہر تک صفیں لگتی تھیں۔
(نماز میں شرکت کرنے والے)اسی۸۰ فیصد جوان ہوتے تھے، وجہ یہ تھی کہ نوجوان طبقے سے ہمارا باقاعدہ رابطہ رہتا تھا۔
ان دنوں الٹی جیکٹ پہننے کا فیشن تھا لہذا نوجوان الٹی جیکٹ پہنے نظر آتے تھے۔
ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک جوان الٹی جیکٹ پہنے پہلی صف میں میرے مصلے کے پیچھے بیٹھا ہے، ایک حاجی صاحب نے جن کا بڑا احترام تھا اور جو ہمیشہ پہلی صف میں بیٹھا کرتے تھے، اس جوان کے کان میں کچھ کہا۔ میں نے دیکھا نوجوان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
میں نے فوراً حاجی صاحب سے پوچھا آپ نے کیا کہہ دیا۔
ان سے قبل نوجوان نے جواب دیا کہ کچھ بھی نہیں۔
میں سمجھ گیا کہ انہوں نے اس سے کہا ہے اس طرح کا لباس پہن کر پہلی صف میں بیٹھنا مناسب نہیں ہے۔
میں نے نوجوان سے کہا کہ، آپ کو پہلی ہی صف میں بیٹھنا ہے آپ یہاں سے کہیں اور مت جایئے۔
میں نے حاجی صاحب سے سوال کیا کہ آپ کیوں کہہ رہے ہیں کہ یہ نوجوان پیچھے چلا جائے، یہ سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ الٹی جیکٹ پہننے والا جدیدیت پسند نوجوان بھی نمازی ہو سکتا ہے اور نماز جماعت میں شرکت کرتا ہے۔
برادران ایمانی اگر ہمارے پاس دولت اور وسائل نہیں ہیں اگر ہمارے پاس دینے کو کچھ نہیں ہے تو کم از کم ہم اچھا اخلاق تو پیش کر سکتے ہیں۔
"فی صفۃ المومن بشرہ فی وجھہ و حزنہ فی قلبہ"
نوجوانوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہئے تاکہ ان کا ذہن و دل متاثر ہو اور ان کی صحیح تربیت ہو سکے۔
(انجمن تبلیغات اسلامی کے عہدہ داران سے ملاقات کے دوران 16/6/1997)
22/10/2017
استاد محترم سید جواد نقوی کے خلاف دشمنوں اور حاسدوں کا پروپیگنڈہ جاری تو تھا ہی مگر جب یہ دیکھا گیا کہ یہ سارے حربے سود ثابت ہورہے ہیں تو براہ راست توہین، اہانت اور کردار کشی شروع کردی۔نقشہ کے مطابق اب اگلا مرحلہ استاد محترم اور حوزہ علمیہ کے خلاف فتوے لانا اور علما اور دینی اداروں کو انکے سامنے لا کھڑ ا کرنا ہو سکتا ہے۔
ایسی سازشوں کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ آ ج سے کوئی چودہ سو سال پہلے حضرت علی ؑ کے خلاف امیر شام نے یہ حربہ کامیابی سے چلا۔ پروپیگنڈہ تو کیا ہی جار ہا تھا(جسکی زد میں آکر لوگ امیر المومنین ؑ کے سلام کا جواب نہیں دیتے تھے) ، سرعام منبروں سے آل رسولﷺ پرسبّ و شتم بھی شروع کروادیا گیا۔ اور آخر کار زمین اتنی ہموار کردی گئی اور ماحول کچھ ایسا بنا دیا گیا کہ امام حسینؑ کو (نعوذ باللہ)واجب القتل قرار دینے کے لیے قاضی شریح آسانی سے دستیاب ہو گیا۔
پروپیگنڈہ ایک نفسیاتی جنگ ہے جس میں غلط فہمی، افواہ اور جھوٹی خبروں کو ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معاشرے میں اس انداز سے پھیلا یاجاتا ہے کہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگیں ،تاکہ افراد کو ایک خاص ڈگر پر سوچنے، عمل کرنے، فکر بدلنے یا ردّ عمل دکھانے کے لیے اکسایا جا سکےاور اپنے مخالفین کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ اگر آپ وہی عمل کرتے ہیں یا وہی رویہ اختیار کرتے ہیں جو پروپیگنڈہ کرنے والے چاہتے ہیں تو یاد رکھیے آپ پروپیگنڈہ کی زد پر ہیں۔
سید جواد نقوی محض ایک فرد کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک علامت (سمبل) بن چکے ہیں۔ ان کی کردار کشی ایک فرد کی کردار کشی نہیں بلکہ بنیاد تشیع، نظریہ ولایت اور شناخت تشیع پر حملہ ہے ۔ یہ ایک ایسی فکر کی علامت بن چکے ہیں جسکا ماحصل یہ ہے کہ:
- امام زمانہ ؑ کی حکومت کے قیام کے لیے کوشش کرنا (نظام ولایت) اور ہر اس سیاسی نظام سے اظہار برات جو غیر دینی ہو واجب ہے؛
- اہل تشیع کی صرف ایک شناخت ہونی چاہیے اور وہ یہ کہ ”ہم ایک امت ہیں“؛
- تنظیمیں، گروہ اور حزبیں وغیرہ ایسی دیواریں ہیں جو ملت کے افراد کو ایک دوسرے سے دور رکھے ہوئے ہیں، جیسے ہی یہ دیواریں منہدم ہو جائیں گی یہ ملت ایک امت بن جائے گی؛
- اہل تشیع کی تمام مشکلا ت تب ہی حل ہونگی جب وہ بصیرت، آگاہی،شعور، بیداری، خود انحصاری، اطاعت اور عزم جیسی صفات اپنے اندر پیدا کریں گے؛
- کربلا سر مشق ہے، یعنی کربلا وائٹ بورڈ پر لکھی ہوئی اس تحریرکی مانندہے جسے استاد اسلیے لکھتا ہے تاکہ شاگرد علم حاصل کرنے کے لیے اپنی اپنی کاپیوں پر لکھ لیں اور یاد کرلیں۔ کربلاایسی تحریر ہے جو امامِ عزت حضرت امام حسینؑ نے اپنے پاک لہو سے تحریر کی ہے اور قیامت تک آنےوالے طالبِ حق اس تحریر کو اپنے وجود کی کاپیوں پر اتار کر صاحب عزت بنتے رہے ہیں اور بنتے رہیں گے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی کوئی کسی نظریہ کا جواب دلیل و برہان کے ذریعہ نہیں دے پاتا تو دیگر حربے اپناتا ہے۔ جب کہ یہ کائنات کا مسلم اصول ہے کہ” پھونکوں سے یہ چراغ بجھایانہ جائے گا.“
مگر چند باتیں جو قابل غور ہیں وہ یہ ہیں:
1. اپنے مقدسات اور نظریات کا دفاع اپنی پوری ہستی کے ساتھ کریں، مگر خیال رہے:
- اموی پروپیگنڈہ کاجواب اموی حربوں کے ذریعہ سے دینےکی بجائے علوی سیرت سے دیں؛
- مخالف کو دشمن نہیں بنائیں؛
- دشمن آپ سے جو ردّ عمل کروانا چاہتا ہے، ہرگز وہ نہ کریں ۔ یعنی دشمن کے
تیار کردہ میدان میں نہیں جائیں؛
- کوئی ایسا اقدام نہ کریں جس سے دشمن کے مقاصد کی تکمیل ہو؛
2. گوکہ ایسی توہین سے دل غمگین اور احساس رنجور ہوجاتے ہیں، مگر اہلِ حق کے لیے اس میں کئی پیغامات پنہاں ہوتے ہیں، وہ یہ کہ:
- باطل کے تیروں کا رخ ہمیشہ حق کی طرف ہوتا ہے۔ اس لیے جب بھی حق مشتبہ ہوجائے تو باطل کے تیر حق کو تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں؛
- باطل اس فکر کے آگے بے بس ہے اور سوائے منفی حربوں کے اسکے پاس کوئی جواب نہیں؛
- باطل کسی طرح سے اس فکر کی ترویج روکنا چاہتا ہے اور کسی دوسرے مسئلہ میں الجھانا چاہتا ہے۔ ایسے میں ذمہ داری سے ترویج حق، پہلے سے بھی زیادہ بڑھا دینی چاہیے۔ جہاں ایک شخص تک پیغام پہنچاتے تھے اب دس افراد تک پیغام پہنچائیں؛
- حق کی گونج باطل کےحلقوں تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی جن لوگوں کو باطل نے سالہا سال لگا کرغفلت میں رکھا اور اپنے من پسند کام کے لیے استعمال کرتا رہا اب ان افراد میں بھی بیداری پیدا ہورہی ہے یا باطل کوانکے بیدار ہونے کا خدشہ ہے۔
3. جس میدان کی جنگ ہو اسکا مقابلہ اسی میدان میں ہی کیا جاتا ہےاوراسی کے مطابق تیاری کی جاتی ہے۔ پروپیگنڈہ وار، نفسیاتی جنگ کی ہی ایک قسم ہے۔ یہ ایک پورا سبجیکٹ ہے۔ اس جنگ میں مقابلہ کے لیے شعور اوربصیرت کے ساتھ ساتھ سوشل سائیکالوجی جیسے علوم سے لیس ہونا ضروری ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح میدانی جنگ میں ایک فوجی کے لیے حملہ اور دفاع کی اسٹریٹجی سے آگاہ ہونا بیحد ضروری ہے ورنہ جنگ کے آغاز میں ہی دشمن کی چال کانشانہ بن جائے گا۔
4. بے شک ذرائع ابلاغ (چینل ،سوشل میڈیا) پیغام کی نشرواشاعت کا ایک بہت موثرذریعہ ہیں۔ مگران سے کئی گنا زیا دہ موثراورپائیدارذریعہ، آمنے سامنے پیغام پہنچانا ہے (face to face)۔
لہذا سوشل میڈیا پر فعالیت کسی بھی طرح فیس ٹو فیس تبلیغ کا نعم البد ل نہیں ہو سکتی ۔ اور نہ ہی یہ کہا جاتا ہے کہ صرف سوشل میڈیا پر پیغام کی ترویج کر کے کوئی اپنے حصہ کی ذمہ داری سے سبک دوش ہوگیا ہے۔
اور
آخر میں گزارش یہ ہے کہ استاد محترم کا یہ قول اپنا نصب العین بنا لیں اور اگر ممکن ہو تو اس قول کا والپیپر اپنے فون اور کمپیوٹر میں لگا لیں:
”عصر حاضر کے تقاضوں اور حالات حاضرہ سے غافل افراد باطل کا مخفی لشکر ہیں “۔
(کیونکہ ایسے افراد معرکہ صفین میں امام علیؑ کے لشکر میں ہونے کے باوجود کبھی بھی اپنے مولا ہی کے خلاف تلواریں نکال سکتے ہیں)
www.facebook.com/Mashrabe.Naab
23/09/2017
احساساتی اور روحانی رابطوں میں فرق
جب کوئی امامؑ کی بارگاہ میں جاتا ہے،خواہ حیات میں جائے یا شہادت کے بعد امامؑ کے مزار پر حاضری دے تو وہ یا تو اپنے ظاہرکو اس ظاہری ماحول سے جا کر مس کرتا ہے یا اپنے باطن اور روح کو امام کی روح کے قریب لے جاتا ہے ،جب فقط اپنے ظاہر سے مس کرے تو جب تک دوظاہر آپس میں مس ہو کرمرتبط رہتےہیں، ہمارے دل پر ایک خاص حالت طاری ہوتی ہے اورجونہی امامؑ کی بارگاہ سے باہر نکلتے ہیں اور دو ظاہروں میں فاصلہ پڑتا ہے تو وہ حالت باقی نہیں رہتی ،لیکن جب انسان روحِ امامؑ کے ساتھ آشنا ہو کر اپنی روح کے ذریعے رابطہ کرے تو فرق نہیں پڑتا کہ وہ امامؑ کی بارگاہ میں حاضر ہو یا باہرہو،ضریح امامؑ کے ساتھ کھڑا ہو توبھی وہی حالت ہوگی اوراگر ضریح سے بہت دورہو تو بھی وہی حالت ہوگی اس لیے کہ اب انسان کی روح امامؑ کی روح سے مرتبط ہو چکی ہے اور روح اتنی جلدی حالتیں تبدیل نہیں کرتی۔
(استادِ محترم سید جواد نقوی )
کتاب ؛فلسفہ قیام امام حسینؑ
Mashrabe Naab مشرب ناب