19/06/2026
Ashab e Suffa
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ashab e Suffa, College & University, Mustafa abad, Lahore.
19/06/2026
*آج کل والدین بچوں کی تربیت میں کیا غلطیاں کر رہے ہیں اور ان کے نقصانات*
بچوں کی تربیت والدین کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ موجودہ دور میں بہت سے والدین اپنی مصروفیات، ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال اور بعض غلط تربیتی رویّوں کی وجہ سے بچوں کی شخصیت سازی میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کر پاتے۔ چند اہم کمیوں اور ان کے نتائج درج ذیل ہیں:
1۔ ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ کرنا
بعض والدین بچوں کی ہر غلطی پر فوراً ڈانٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ مسلسل تنقید اور سخت لہجہ بچوں کے اعتماد کو کمزور کر دیتا ہے۔
نقصانات:
بچے ضدی اور باغی بن سکتے ہیں۔
والدین سے خوف پیدا ہو جاتا ہے۔
خود اعتمادی میں کمی آتی ہے۔
بچے اپنی بات چھپانا شروع کر دیتے ہیں۔
2۔ والدین کا موبائل میں حد سے زیادہ مصروف رہنا
کئی والدین بچوں کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں لیکن توجہ موبائل پر ہوتی ہے۔ اس وجہ سے بچوں کو احساس ہوتا ہے کہ ان کی بات اہم نہیں۔
نقصانات:
بچے خود بھی موبائل کے عادی ہو جاتے ہیں۔
والدین اور بچوں کے درمیان جذباتی تعلق کمزور ہو جاتا ہے۔
بچے اپنی مشکلات اور احساسات والدین سے شیئر نہیں کرتے۔
3۔ کاروباری اور معاشی مصروفیات
رزق کمانا ضروری ہے، لیکن بعض اوقات والدین اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ بچوں کے لیے وقت ہی نہیں نکال پاتے۔
نقصانات:
بچے تنہائی محسوس کرتے ہیں۔
غلط دوستوں اور غلط ماحول کا اثر بڑھ جاتا ہے۔
والدین بچوں کی عادات اور سرگرمیوں سے بے خبر رہتے ہیں۔
4۔ گھر میں موجود ہو کر بھی موبائل یا سوشل میڈیا میں مصروف رہنا
کچھ والدین گھر آنے کے بعد بھی زیادہ وقت موبائل، ویڈیوز یا سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔
نقصانات:
بچوں کو توجہ اور محبت کم ملتی ہے۔
خاندان میں گفتگو کا ماحول ختم ہو جاتا ہے۔
بچے بھی اسی طرزِ زندگی کو اپنانے لگتے ہیں۔
5۔ تربیتی باتوں کو بار بار نہ دہرانا
بعض والدین ایک بار نصیحت کر کے سمجھتے ہیں کہ بچہ سیکھ گیا ہے، حالانکہ تربیت مسلسل یاد دہانی اور عملی نمونے سے ہوتی ہے۔
نقصانات:
اچھی عادات پختہ نہیں ہوتیں۔
بچے صحیح اور غلط میں فرق بھول جاتے ہیں۔
کردار سازی کا عمل کمزور پڑ جاتا ہے۔
6۔ عملی نمونہ پیش نہ کرنا
والدین بچوں کو سچ بولنے، ادب کرنے اور نماز کی تلقین تو کرتے ہیں لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے۔
نقصانات:
بچے نصیحت سے زیادہ عمل کو دیکھتے ہیں۔
والدین کی بات کا اثر کم ہو جاتا ہے۔
بچے دوغلے معیار سیکھتے ہیں۔
7۔ بچوں کی بات نہ سننا
بعض والدین صرف حکم دیتے ہیں لیکن بچوں کے جذبات اور مسائل سننے کے لیے وقت نہیں نکالتے۔
نقصانات:
بچے احساسِ محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔
اعتماد کا رشتہ کمزور ہو جاتا ہے۔
بچے اپنے مسائل دوسروں سے بیان کرنے لگتے ہیں۔
یاد رکھیں
بچوں کی تربیت صرف کھانا، کپڑا اور تعلیم فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ وقت دینے، محبت کرنے، اچھی باتوں کی بار بار تلقین کرنے اور خود عملی نمونہ بننے کا نام ہے۔ اگر والدین ڈانٹ ڈپٹ کم کریں، موبائل کے استعمال میں اعتدال لائیں، بچوں کے ساتھ وقت گزاریں اور مسلسل تربیت پر توجہ دیں تو بچے زیادہ بااعتماد، بااخلاق اور ذمہ دار شہری بن سکتے ہیں۔
03/06/2026
حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی شخص کو پریشانی اور تشویش لاحق ہو اور وہ یہ دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کے غم کو دور کرکے اس کی جگہ خوشی عطا فرما دیتے ہیں. دعا اللہم کے لفظ سے شروع ہوتی ہے ذھاب ھمی پر ختم ہوتی ہے.
دعا کا ترجمہ یہ ہے:اے اللہ، سچی بات یہ ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں، تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے (یعنی تجھے مجھ پر مکمل اختیار اور قدرت حاصل ہے)، تیرا حکم مجھ پر چل کر رہتا ہے، میرے بارے میں تیرا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ انصاف ہی ہوگا. میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے واسطے سے جو تیرا ہے اور تو نے اپنے لیے مقرر کیا ہے، یا ہر وہ نام جو تو نے اپنی کتاب میں اتارا ہے، یا ہر وہ نام جو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی سکھایا ہو، یا ہر وہ نام جو غیب کے علم میں صرف اپنی ذات کے پاس ہی رکھا ہو (تیرے ان تمام ناموں کا حوالہ دے کر میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ) تو قرآن کو میرے دل کی بہار میرے سینے کا نور، میرے غم کے چھٹ جانے کا ذریعہ اور (آنے والے وقت کے بارے میں) میری تشویش کے ازالے کا ذریعہ بنا دے.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Mustafa Abad
Lahore