01/01/2026
☆درود شریف پڑھنے والا دوزخ میں نہیں جا سکتا یا دوزخ رہ نہیں سکتی - ویسے بنیادی طور پر دیکھو ، کوئی آدمی اپنے کسی محبوب کا ذکر کرنے والے سے ناراض ہو سکتا ہے؟ کیا کبھی ایسا ہو سکتا ہے ؟ - اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر جس مقام پر ہو، اسی کا نام جنت ہے ، اس کے علاوہ جنت ہے کیا چیز - جہاں اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر ہو ، وہ جگہ کیا ہے؟ جنت ہے - تو جہاں اللہ کا بندہ اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر کر رہا ہو گا وہی جنت ہے ، وہاں دوزخ کا کیا Concept ہے ، سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ وہ دوزخ میں ہو - آپ کو اس کا طریقہ بتایا ہے کہ آپ درود شریف پڑھتے رہا کرو ، اور اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام لب_زبان رکھو ، محبت کرتے جاوء ، تو پھر آپ کو کچھ اور سمجھنے کی ضرورت ہی کوئی نہیں ہے - یہ علم کی انتہا ہے! علم وہ ہو کہ دیکھنے والا کہے کہ یہ آدمی بڑا سیانا ہے کہ سیدھا ہی جنت میں چلا گیا اور دوسرے کو دیکھو ، اس کو ہم نے پہلے کہا ادھر جاوء، ادھر جاوء ، مدرسہ جاوء ، کالج جاوء ، یونیورسٹی جاوء، اور وہ سیدھا ہی اللہ کے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ گیا - کہتا ہے بس یہی علم ہے اور یہ خوش نصیب ہے - تو خوش نصیب وہ ہے جو اس مقام تک سفر کر جائے کہ جس مقام پر عافیت ہے خیریت ہے ، شفاعت ہے ، رحمت ہے ، بخشش ہے اور سب کچھ ہے اس مقام پر ، تو اس مقام کی طرف رجوع کر جاوء، آپ کی زندگی بھی آسان اور انشاءاللہ تعالی موت بھی آسان - دعا یہی مانگا کرو کہ یا اللہ زندگی آسان بنا اور موت بھی آسان بنا - ایسی زندگی دے کہ ہم بھی راضی رہیں اور تو بھی راضی رہے - یہ نہ ہو کہ ہم خوش رہیں اور تو ناخوش ہو جائے - زندگی میں ہم بھی راضی رہیں اور آپ بھی راضی ہو جاوء - تو ایسی زندگی ہو چاہیے _____________
گفتگو 13___________صفحہ نمبر 141____142
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ