01/01/2026
☆درود شریف پڑھنے والا دوزخ میں نہیں جا سکتا یا دوزخ رہ نہیں سکتی - ویسے بنیادی طور پر دیکھو ، کوئی آدمی اپنے کسی محبوب کا ذکر کرنے والے سے ناراض ہو سکتا ہے؟ کیا کبھی ایسا ہو سکتا ہے ؟ - اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر جس مقام پر ہو، اسی کا نام جنت ہے ، اس کے علاوہ جنت ہے کیا چیز - جہاں اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر ہو ، وہ جگہ کیا ہے؟ جنت ہے - تو جہاں اللہ کا بندہ اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر کر رہا ہو گا وہی جنت ہے ، وہاں دوزخ کا کیا Concept ہے ، سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ وہ دوزخ میں ہو - آپ کو اس کا طریقہ بتایا ہے کہ آپ درود شریف پڑھتے رہا کرو ، اور اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام لب_زبان رکھو ، محبت کرتے جاوء ، تو پھر آپ کو کچھ اور سمجھنے کی ضرورت ہی کوئی نہیں ہے - یہ علم کی انتہا ہے! علم وہ ہو کہ دیکھنے والا کہے کہ یہ آدمی بڑا سیانا ہے کہ سیدھا ہی جنت میں چلا گیا اور دوسرے کو دیکھو ، اس کو ہم نے پہلے کہا ادھر جاوء، ادھر جاوء ، مدرسہ جاوء ، کالج جاوء ، یونیورسٹی جاوء، اور وہ سیدھا ہی اللہ کے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ گیا - کہتا ہے بس یہی علم ہے اور یہ خوش نصیب ہے - تو خوش نصیب وہ ہے جو اس مقام تک سفر کر جائے کہ جس مقام پر عافیت ہے خیریت ہے ، شفاعت ہے ، رحمت ہے ، بخشش ہے اور سب کچھ ہے اس مقام پر ، تو اس مقام کی طرف رجوع کر جاوء، آپ کی زندگی بھی آسان اور انشاءاللہ تعالی موت بھی آسان - دعا یہی مانگا کرو کہ یا اللہ زندگی آسان بنا اور موت بھی آسان بنا - ایسی زندگی دے کہ ہم بھی راضی رہیں اور تو بھی راضی رہے - یہ نہ ہو کہ ہم خوش رہیں اور تو ناخوش ہو جائے - زندگی میں ہم بھی راضی رہیں اور آپ بھی راضی ہو جاوء - تو ایسی زندگی ہو چاہیے _____________
گفتگو 13___________صفحہ نمبر 141____142
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ
30/12/2025
Noorani Qaida
Thakti 9| haroof-e-leen
AL ALEEM QURAN| THAKTI NO 9 |HAROOF-E-LEEN |NOORANI QAIDA
noorani qaida
30/12/2025
Noorani Qaida
Thakti 8 | Haroof-e-Madha
AL ALEEM QURAN| THAKTI NO 8 |HAROOF-E-MADHA |NOORANI QAIDA
noorani qaida
21/10/2025
ایک شخص کی آپ بیتی
*یہ واقعہ مجھے ایک بزرگ نے سُنایا تھا، جو میرے دل پر ایسا نقش ہوا کہ پھر عُمر بھر بھول نہیں پایا بلکہ اس واقعے سے ہونے والی نصیحت نے زندگی بھر میری رہنمائی بھی کی۔*
یہ اُس وقت کی بات ہے،جب مَیں غلّہ منڈی، پاک پتن میں محنت مزدوری کرتا تھا۔ ایک روز دن بھر مزدوری کرنے کے بعد جب سخت تھک گیا، تو سوچا، کچھ دیر تھوڑا آرام کر لیتا ہوں۔
یہ سوچ کر ایک قریبی پارک کی بینچ پر جا کے لیٹ گیا۔ ابھی لیٹا ہی تھا کہ میرے پاس ایک بزرگ شخص آکر بیٹھ گئے اور مجھ سے پوچھنے لگے۔ ’’بیٹا! آپ کچھ پریشان لگ رہے ہو؟‘‘ مَیں نے کہا۔ ’’پریشان نہ ہوں، تو کیا کروں، حالات ہی کچھ اِس طرح کے ہوگئے ہیں کہ دن بھر محنت مزدوری کرکے بھی گزارہ نہ ہو تو پریشانی تو بندے کے چہرے پر خود بخود آجاتی ہے۔‘‘
جواباً بزرگ شخص بولے۔ ’’بیٹا!روزی روٹی کے لیے پریشان نہ ہوا کریں، رزق دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے، آپ بس محنت اور ایمان داری سے اپنا کام کیا کرو۔ کام میں برکت اللہ تعالیٰ خود ڈالے گا اور پانچ وقت نماز ادا کیا کرو، اللہ تعالیٰ بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ پھر بولے، ’’مَیں آج آپ کو ایک واقعہ سُناتا ہوں، جس نے میرے رزق، روٹی سے متعلق خیالات بہت بدل دیئے۔ میرا اِس بات پر ایمان پختہ ہوگیا کہ بےشک رزق کا وعدہ اللہ کا ہے۔ کب، کہاں سے، کیسے، کتنا دینا ہے، وہی بہتر جانتا ہے۔‘‘ مَیں نے بزرگ کی طرف توجّہ کی اور اُٹھ کر بیٹھ گیا، تو اُنھوں نے واقعہ کچھ اِس طرح سُنایا۔
’’مجھے شکار کھیلنے کا بہت شوق تھا اور مَیں نے بہت شکار کھیلا بھی۔ ایک دن مَیں نے مچھلیاں پکڑنے کا ارادہ کیا۔ اور سب سامان لے کے نکل کھڑا ہوا۔ مَیں گائوں سےکافی فاصلے پر واقع ایک چھپّر پر جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ عموماً گاؤں کے لوگ وہاں مچھلی پکڑنے نہیں جاتے تھے، کبھی کبھار کوئی دوست میرے ساتھ ہی نکل کھڑا ہوتا۔ خیر، اُس دن میں اکیلا ہی چل پڑا۔ مَیں چھپّر کے پاس پہنچنے ہی والا تھا کہ مَیں نے دیکھا، ایک پرندہ اُڑتا ہوا آیا، اور اُس نے چھپّر کے اندر پانی میں غوطہ لگا دیا۔ وہ پانی سے باہرنکلا تو ایک بہت بڑی سی مچھلی اُس کے منہ میں تھی۔
مچھلی بہت زیادہ وزنی تھی، مجھے یقین تھا کہ پرندہ یہ مچھلی اپنی منزل تک نہیں لےجا سکے گا، راستے میں اُس کے منہ سے لازماً گر جائے گی۔ یہی سوچ کر مَیں نے اُس کے پیچھے بھاگنا شروع کردیا، پرندے کی پرواز خاصی نیچی تھی، مگر بہرحال پرندے کی پرواز تھی۔ اُس کے پیچھے مسلسل تیزی سے دوڑنے کی وجہ سے میری سانس سخت پُھولنے لگی تھی، تو مَیں تھک کے ایک جگہ رُک گیا، لیکن میری نظریں بدستور پرندے ہی پر جَمی تھیں۔ تھوڑی دُور جاکر پرندہ ایک سایا دار درخت پر بیٹھ گیا۔ مَیں نے سوچا، مچھلی بہت بڑی ہے، پرندے سے کسی صُورت نہیں کھائی جائے گی۔ ابھی یہ اِس کے پنجوں سے پھسل کے نیچے گرے گی تو مَیں اُٹھا لوں گا۔
وہ درخت بھی بہت ہی بڑا سا تھا۔ اُس کے اطراف زمین پر خاصی گھاس پھونس تھی، مجھے تھوڑا ڈر بھی لگ رہا تھا۔ خیر، تھوڑی ہی دیر انتظار کے بعد میرے دل کی خواہش پوری ہوگئی۔ مچھلی، پرندے کے منہ سے نکل کے بالکل صحیح سلامت نیچےگرچُکی تھی۔ مَیں تیزی سے مچھلی اُٹھانے کے لیے دوڑا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ درخت کے نیچے ایک بہت بڑا بلّا بیٹھا ہے۔ وہ ایک بہت ہی صحت مند، خُوب موٹا تازہ بلّا تھا۔ مگر اچانک میری نظریں اُس کے پیروں کی طرف گئیں، تو حیرت انگیز طور پر اُس کی چاروں ٹانگیں غائب تھیں۔
پرندے کی چونچ سے مچھلی عین اُس کے اوپر گری تھی۔ اور اب وہ بڑے انہماک اُسےکھانے میں مصروف تھا۔جب مَیں نےاوپر درخت کی سمت دیکھا، تو پرندہ غائب تھا۔ تب مَیں، قادرِ مُطلق کے اُس وعدے کا دل سے قائل ہوگیا کہ بےشک وہی بہتر رزق دینے والا ہے۔ کس کو، کب، کہاں سے، کیسے اور کتنا رزق دینا ہے، وہی جانتا ہے۔ اگر وہ ایک اپاہج بلّے کو اتنا شان دار اور اتنا فراواں رزق دےرہا ہے، تو بھلا اشرف المخلوقات کو اپنے رزق کے لیے اس قدر بےحال ہونے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘
وہ بزرگ تو مجھے یہ واقعہ سُنا کر اور ایک نصیحت کر کے چلے گئے، لیکن وہ دن ہے، اور آج کا دن، پھر مَیں کبھی رزق کے لیے پریشان نہیں ہوا۔ اُس دن مَیں نے خُود سے تہیّہ کر لیا تھا کہ اب کبھی رزق کے پیچھے نہیں بھاگوں گا، ہاں، رازق کی دل وجان سے عبادت ضرور کروں گا۔ اور الحمدللہ، آج میرے پاس اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا سب کچھ ہے۔
21/10/2025
نوٹ: اگر آپ میں درد سہنے کی طاقت ہے تو یہ تحریر اپنی ذمہ داری پر پڑھیں
"وزیرہ بیگم"
تحریر: عارف خٹک
میرے ذہن میں آج بھی گاوں کے واحد مولوی جبار گل کی باتیں نقش ہیں۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ہمارے ہاں جہیز کو اس لیے بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے کہ لڑکے والے شادی کے وقت لڑکی کو نقد رقم ادا کرتے ہیں۔ اس رقم کا مطلب لڑکی کو خریدنا نہیں ہوتا، بلکہ یہ لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کے والد کے لیے ایک تحفہ ہوتا ہے۔ گویا وہ کہتے ہیں کہ “آپ خود کو تکلیف نہ دیں، جہیز میں ہمارے پیسوں کا استعمال کریں تاکہ آپ کی بیٹی کو کسی محرومی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔”
ایک طرح سے یہ سوچ اچھی ہے کہ لڑکی کے والدین پر بوجھ کم ہو، مگر لوگوں نے اس عمل کو جو نت نئے رنگ اور ڈھنگ دیے ہیں، ان کی وجہ سے یہ نیکی بُرائی بن گئی ہے۔ نہ جانے کیوں، مولوی صاحب کی یہ تاویلات مجھے ہمیشہ مصنوعی سی لگتی تھیں۔
بچپن سے سنتے آئے تھے کہ جس عورت کے باپ نے جہیز میں بیٹی کو سلائی مشین، پلنگ و بستر، رنگین دستی پنکھے اور بڑا سا صندوق نہ دیا ہو، اس عورت کی سسرال میں عزت نہیں ہوتی۔ میری والدہ کی سسرال میں عزت دوسری بہوؤں کی نسبت اس لیے زیادہ تھی کہ سن اسی کی دہائی میں نانا نے انہیں دو سٹیل کے جگ بمعہ بارہ گلاس، ایک سلائی مشین (جو اس وقت ایک عجوبہ تصور کی جاتی تھی) اور بستروں سے بھری ایک بڑی پیٹی دی تھی۔ اسی کی بنیاد پر اماں دادی کی منظورِ نظر ٹھہریں، اور باقی سینئر بہوؤں کو شادی کی اگلی صبح ان کی "اوقات" یاد دلا دی گئی کہ وہ بھیک مانگنے والوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔
مشترکہ خاندانی نظام کے تحت چار چچا، ان کی سات بیویاں اور تیس کے قریب بچے، اللہ کی قدرت سے گھر میں خوب پھل پھول رہے تھے۔ اللہ کا خاص کرم ہم پر اتنا زیادہ تھا کہ سنبھالے نہیں سنبھلتا تھا۔
بڑی چچی نے علی الصبح بیٹے کو جنم دیا۔ ابھی گھر میں فائرنگ کی آوازیں مدھم نہیں ہوئیں تھیں کہ دو گھنٹے بعد اسی چچی کی بہو نے بیٹی کو جنم دے کر خاندان کی خوشیوں پر پانی پھیر دیا۔ دونوں ساس بہو چارپائیوں پر لیٹے ایک دوسرے کو کینہ توز نظروں سے گھورتی رہتیں۔ آخر کار ساس تو ساس ہوتی ہے، جیت بھی اُسی کی ہونی تھی۔ رات تک بہو "منحوس" قرار دے دی گئی۔
میری منجھلی چاچی وزیرہ بیگم کا میکہ انتہائی غریب تھا، مگر اللہ نے انہیں دولت کے بجائے اخلاق سے نوازا تھا۔ بچپن سے جوانی تک میں نے وزیرہ چاچی کو کبھی اونچی آواز میں بات کرتے یا روتے نہیں دیکھا۔ دادی نے کبھی اس سے بات نہیں کی، بلکہ اسے اس قابل ہی نہیں سمجھا۔ گھر میں خوشی ہو یا غم، میں نے چاچی کو ہمیشہ اپنے پانچ بچوں سمیت باورچی خانے میں دیکھا۔۔۔۔۔ چولہے میں گیلی سلگتی لکڑیاں پھونکتے ہوئے۔
کہتے ہیں جس ماں کی عزت نہ ہو، اس کے بچے بھی رُل جاتے ہیں۔ سو عید ہو یا شبِ برات، چاچی کے بچوں کے پھٹے گریبان، ننگے پیر، اور آخر میں پلیٹوں میں بچے کھچے سالن کو انگلیوں سے چاٹتے دیکھا۔ وہ کہتی تھیں “یہ سنتِ نبوی ہے۔”
چاچی وزیرہ کے بھائیوں کو کبھی ان سے ملتے نہیں دیکھا۔ اماں سے سنا تھا کہ ایک دفعہ ان کا چھوٹا بھائی ان سے ملنے حجرے آیا تو کسی نے عزت نہیں دی۔ وہ غریب مگر خوددار تھا، سو اس کے بعد کبھی کوئی رشتہ دار وزیرہ چاچی سے ملنے نہیں آیا۔
وزیرہ چاچی کو میں نے اکثر پٹتے دیکھا۔ جس دن کھانے میں نمک کی کمی بیشی پر شوہر کی مار سے بچ جاتیں، اُس دن کسی دیور کے ہتھے چڑھ جاتیں۔ کبھی الزام لگتا کہ استری سے کوئلہ جان بوجھ کر گرا کر بوسکی کی شلوار جلا دی۔
دادا کے سینکڑوں مہمانوں کی خدمت کرنی ہوتی تو وزیرہ کو آواز دے کر باورچی خانے میں قید کر لیا جاتا۔ گاؤں کے کسی بھی غم یا خوشی میں دادی صبح سویرے اعلان کرتیں کہ "وزیرہ ہمارے خاندان کی طرف سے خدمت کے لیے جائے گی"۔
وزیرہ کو میں نے آج تک "اُف" کرتے نہیں دیکھا۔ دوسری طرف میری ماں کو کسی نے کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا — مضبوط خاندان سے تھیں، سو عزت دار بھی تھیں اور بلا کی منہ پھٹ بھی۔ مگر کسی کو ناگوار نہ گزرتی۔ اگر لگتی بھی تو اعتراض کی جرات کسی میں نہ تھی۔
بچپن سے جوانی تک میں نے پھٹے انچل، ننگے پیر وزیرہ چاچی کو ہمیشہ بھاگتے دیکھا۔
ایک رات حجرے میں مہمان آئے تھے، میں کسی کام سے گھر داخل ہوا تو جانوروں کے باڑے میں لالٹین کی روشنی نظر آئی۔ تجسس سے مجبور ہو کر اندر جھانکا تو گائے تکلیف میں تھی۔۔۔۔۔ بچہ جن رہی تھی، اور وزیرہ چاچی نے اس کے گلے میں بازو ڈالے ہوئے تھے جیسے اسے جذباتی سہارا دے رہی ہوں۔
وہ کسی سے زیادہ بات نہیں کرتی تھیں، مگر ہر ایک کی سنتی تھیں۔ بچوں اور بڑوں کی ایک آواز پر ہاتھ باندھے کھڑی ہو جاتیں۔ میں نے کبھی ان کی زبان سے شکوہ یا فریاد نہیں سنی۔
ایک دن اسکول سے آیا تو اماں نے کہا “جاو، وزیرہ سے کہو کھانا دے دے۔” حسبِ معمول وہ بستر پر پڑی تھیں۔ میں نے آواز دی تو اچھل کر اٹھ بیٹھیں۔ آنکھیں سرخ تھیں۔ میں نے پوچھا “چچی، کیوں رو رہی ہو؟”
وہ شرمندہ سی ہو کر بولیں “نہیں بیٹا، بخار ہے... آو، کھانا دیتی ہوں۔”
وزیرہ چاچی کو میں نے کبھی روتے نہیں دیکھا۔۔۔۔ سوائے اُس دن کے، جب ان کا چودہ سالہ بیٹا پہاڑ سے لکڑیاں کاٹتے ہوئے سینکڑوں فٹ نیچے کھائی میں جا گرا۔ میں نے آج تک کسی کو اس طرح روتے نہیں دیکھا۔ وہ زمین پر چادر کے بغیر لوٹ پوٹ ہو رہی تھیں، چیخ رہی تھیں، جیسے خدا پر چیخ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔ اس کی ناانصافیوں پر ماتم کناں ہو۔
وہی دن ان کی زندگی کا آخری دن تھا۔ اس کے بعد نہ وزیرہ چاچی کو کسی نے دیکھا، نہ ان کا ذکر سنا۔ گاؤں کے چرواہے چراغ گل نے بتایا کہ سرِ شام وزیرہ کو اپنے بیٹے کی قبر پر بال بکھرائے دیکھا گیا، پھر وہ غائب ہوگئیں۔
دادی کہتی تھیں، "بدذات خاندان کی عورت تھی، بدذاتی والا کام کر گئی۔"
برسوں بعد گاؤں جانے کا اتفاق ہوا۔ دوستوں کے ساتھ شکار پر ملحقہ پہاڑوں پر گیا۔ وہیں پہنچا جہاں وزیرہ چاچی کے بیٹے کا پیر پھسلا تھا۔ میں نے نیچے جھانکا، اچانک میرا پیر بھی پھسل گیا۔ گرتے گرتے ایک جھاڑی پکڑ لی۔ بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا۔ پسینے میں شرابور تھا۔ موت کی ہیبت سے اوسان خطا ہو گئے۔ اللہ کا شکر ادا کیا کہ نئی زندگی دی۔
دل ہی دل میں شکر گزار تھا کہ نیچے سے بین کرتی آوازیں آنے لگیں۔ میں ٹھٹھک کر رک گیا۔
اس آواز کو میں ہزاروں آوازوں میں پہچان سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔وزیرہ چاچی آج پھر خدا سے فریاد کر رہی تھیں۔
تحریر: عارف خٹک
26/08/2025
کہا جاتا ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی کی۔ اس کا پہلے شوہر سے ایک تین سالہ بیٹا تھا۔ جب اس عورت نے دوسری شادی کی تو وہ اپنے بیٹے کے ساتھ اپنے نئے شوہر کے گھر منتقل ہو گئی۔ نیا شوہر بہت امیر تھا، اس لیے اس نے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کیا کہ اس کا بیٹا بھی ان کے ساتھ رہے۔ شروع میں وہ اس بچے کے ساتھ کھیلتا بھی تھا اور اسے اپنا ہی سمجھتا تھا۔
لیکن ایک سال بعد، جب ان کا اپنا بیٹا پیدا ہوا، تو شوہر کی محبت اور توجہ بدلنے لگی۔ اب وہ اپنے سوتیلے بیٹے سے کترانے لگا اور اس کے ساتھ پہلے جیسا سلوک نہیں کرتا تھا۔ اس کا سارا دھیان اب اپنے حقیقی بیٹے پر تھا۔ ایک دن جب وہ کام سے واپس آیا، تو اپنے بیٹے کے لیے ایک نئی سائیکل لے کر آیا۔ ماں کا دل کٹ گیا جب اس نے اپنے یتیم بیٹے کو اپنے چھوٹے بھائی کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے پایا۔
ماں نے شوہر سے درخواست کی کہ وہ اپنے سوتیلے بیٹے کے لیے بھی ایک سائیکل خرید دے، لیکن شوہر نے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اس بچے کا ذمہ دار نہیں ہے۔ اگر ماں نے دوبارہ اس بارے میں بات کی، تو وہ بچے کو گھر سے نکال دے گا۔ ماں نے اپنے بیٹے کے تحفظ کے لیے یہ بات مان لی۔
وقت گزرتا گیا اور دونوں بچے بڑے ہوگئے۔ شوہر نے اپنے حقیقی بیٹے کو ایک بہترین پرائیویٹ اسکول میں داخل کروا دیا، لیکن سوتیلے بیٹے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ وہ اس کا والد نہیں ہے، اس لیے اس پر اپنا پیسہ کیوں خرچ کرے؟ اس نے کہا کہ یہ لڑکا نہ تو اس کا نام لے گا اور نہ ہی اسے کوئی فائدہ پہنچائے گا۔
ماں نے غصے سے جواب دیا: "ہاں، وہ شاید تمہارا خون اور گوشت نہیں ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم اسے تعلیم سے محروم رکھو اور اسے جہالت کے اندھیرے میں چھوڑ دو۔ کیا تمہارے دل میں ذرا سی بھی رحمت اور شفقت نہیں؟" شوہر نے کہا: "بس بہت ہو چکا، میں اب اس کی موجودگی برداشت نہیں کر سکتا۔ میں اسے اپنے گھر میں نہیں دیکھنا چاہتا۔"
لڑکا اپنی ماں کے پاس آیا اور اس کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا: "ماں، پریشان نہ ہو، کچھ بھی ایسا نہیں ہے جس کے لیے آپ کو رونا پڑے۔ میں تھک چکا ہوں آپ کو روزانہ میری خاطر اس شخص کی توہین برداشت کرتے دیکھ کر۔ آپ کی خوشی کے لیے میں یہ گھر چھوڑ دوں گا۔" وہ لڑکا اپنی ماں کو چھوڑ کر چلا گیا، اپنے کپڑے اٹھائے اور گھر سے نکل گیا۔ ماں کا دل جیسے آگ میں جلنے لگا۔ اس کے دماغ میں سوالات اٹھنے لگے کہ اس کا بیٹا کہاں جائے گا؟ کہاں رہے گا؟ کہاں کھائے گا؟ اور اگر وہ بیمار پڑ گیا تو کون اس کی دیکھ بھال کرے گا؟
ماں نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور دعا کی: "اے اللہ! میں اپنے یتیم بیٹے کو تیرے سپرد کرتی ہوں، اس کی حفاظت فرما اور اسے محفوظ و سلامت واپس لے آ۔"
جب شوہر واپس آیا، تو اس نے دیکھا کہ بیوی خوش اور مطمئن نظر آ رہی ہے۔ اسے حیرت ہوئی کہ بیٹا گھر سے چلا گیا ہے اور پھر بھی بیوی خوش کیوں ہے؟ اس نے پوچھا: "تم خوش کیوں ہو اور اپنے بیٹے کے جانے پر اداس کیوں نہیں ہو؟" بیوی نے مسکرا کر کہا: "میں نے اپنے بیٹے کی حفاظت اس کے سپرد کر دی ہے جو اسے دیکھ بھال اور حفاظت کے قابل ہے، وہ جو کبھی تھکتا نہیں اور کبھی نا امید نہیں ہوتا، اور وہ بغیر کسی اجر کے سب کچھ کر سکتا ہے۔" شوہر نے حیرت سے پوچھا: "وہ کون ہے؟" بیوی نے کہا: "اللہ عز و جل۔"
شوہر نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا: "دنیا باہر رحم نہیں کرتی، اور کوئی بھی بھوکے پر ترس نہیں کھاتا، لگتا ہے تم نے اپنا دماغ کھو دیا ہے۔" وقت گزرتا گیا اور سالوں بعد، ماں کا بیٹا ایک دن واپس آیا، اپنے ہاتھ میں ایک بچہ اور ساتھ ایک عورت کے ساتھ۔
اس نے اپنی ماں کو سلام کیا۔ ماں حیرت اور خوشی سے پوچھتی ہے: "یہ عورت کون ہے اور یہ بچہ کس کا ہے؟" بیٹے نے جواب دیا: "یہ میری بیوی ہے اور یہ میرا بیٹا ہے، اے ماں!" ماں نے پوچھا: "تم نے یہ سب کچھ کیسے حاصل کیا، جب تمہارے پاس نہ پیسے تھے اور نہ ہی کوئی پناہ؟"
بیٹے نے کہا: "سچ بتاؤں تو میں خود نہیں جانتا کہ زندگی نے مجھے کہاں پہنچا دیا۔ میں بے یار و مددگار تھا اور نہیں جانتا تھا کہ کہاں جاؤں۔ پھر میں ایک چھوٹے سے گاؤں کی مسجد میں پہنچا اور وہاں رات گزاری۔ دن میں کام کی تلاش کرتا اور رات کو مسجد میں سوتا تھا۔ امام مسجد کو اپنی کہانی سنائی اور ان سے مسجد میں سونے کی اجازت مانگی، انہوں نے اجازت دے دی اور ہر روز مجھے کھانا دیتے تھے۔ میں شام کو مسجد صاف کرتا تھا اور امام نے مجھے قرآن حفظ کروایا اور دین کی تعلیم دی۔ میں روزانہ مسجد کی لائبریری میں پڑھتا رہتا تھا۔ ایک دن امام بیمار پڑ گئے، تو میں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اور اسی دن سے میں لوگوں کا امام بن گیا۔ لوگ مجھے پسند کرنے لگے اور مجھ سے محبت کرنے لگے۔ انہوں نے میرے لیے ایک یتیم لڑکی سے شادی کا انتظام کیا، جس کے پاس صرف اس کی دادی تھی۔ میں نے شادی کی اور کچھ ہی عرصے بعد اس کی دادی کا انتقال ہو گیا۔ بیوی کو اس کی دادی کی وراثت سے زمین کا ایک ٹکڑا ملا، جسے میں نے کاشت کیا اور حالات بہتر ہو گئے، الحمدللہ۔ اب اللہ کے فضل سے میرے پاس بہت سی زرعی زمینیں ہیں، اور اللہ نے مجھے اپنے فضل سے نوازا ہے۔ مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہیں، اور اللہ نے آپ کی وجہ سے میری مدد کی۔"
ماں خوشی سے رو پڑی اور جان گئی کہ اللہ نے اس کی دعائیں قبول کیں۔ اس نے اپنے پوتے کو گلے لگایا اور بیٹے نے ماں کے ہاتھ چومے۔ لیکن شوہر کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ ایک دن وہ لڑکا ایک کامیاب اور امیر شخص بن کر واپس آئے گا۔ سبحان اللہ، اللہ ہی رازق ہے اور جسے چاہے بے حساب نوازتا ہے۔ اس یتیم بچے کو اس کی ماں کی دعاؤں اور رضامندی کی بدولت نوازا گیا۔
*اور آخر میں، حضرت نبی کریم ﷺ پر اور ان کی آل و اصحاب اور تابعین پر قیامت تک کے لیے درود و سلام بھیجنا نہ بھولیں۔❤️
17/08/2025
اس نے گھر سے بھاگنے کا بڑا فیصلہ کر لیا تھا فیصلے سے اپنے بوائے فرینڈ کو آگاہ کیا وہ خوشی سے چلایا یہ ہوئی نہ محبت
گھر سے بھاگنے کے لیے پچھلی رات کا وقت طے پا گیا وہ چوری چھپے اپنے چند ضروری کپڑے اور چھوٹی موٹی چیزیں بیگ میں پیک کر کے مقررہ وقت کا بے چینی سے انتظار کرنے لگی اس دوران بوائے فرینڈ کی کال آگئ کہنے لگا ماں نے کوئی زیور شیور بھی بنایا ہو گا وہ بھی ہاتھ میں کر لو مشکل وقت میں کام آۓ گا
اچھا کچھ کرتی ہوں اسے پتہ تھا کے ماں نے اسکے ؟ لیے سونے کے زیورات بنا رکھے ہیں وہ ماں کے کمرے سے زیورات نکالنے کی ترکیب سوچنے لگی وقت بہت کم تھا وہ جیسے ہی ماں کے کمرے کیطرف بڑھی ماں کمرے کا دروازہ کھول کر باہر آگئی ایک لمحے کے لیے وہ ماں کو سامنے دیکھ کر سکتے میں چلی گئی
میری شہزادی اتنی رات گئے تم جاگتی پھرتی ہو اور یہ
تیار ہو کر کہاں جا رہی ہو وہ ہی تو بتانے آ رہی تھی رات
لیٹ فون آیا تھا یونیورسٹی والوں نے ایمر جنسی کچھ
کام سے بلایا ھے میری کچھ دوست بھی جا رہی ہیں آپ سو رہی تھیں ڈسٹرب نہ ہوں اس لیے آپکو اس وقتنہیں بتایا اس نے خود کو سنبھالتے ہوے جھوٹ گھڑ دیا تھا اچھا تم میرے کمرے میں ہی بیٹھو میں تمہارے لیے کچھ .... بنا کر لاتی ہوں
ماں کچن میں چلی گئی وہ ماں کے کمرے میں داخل ہوئی بہت اچھا موقع مل گیا ھے اس نے یہ سوچتے ہوے جلدی سے پیٹی کا دروازہ کھولا تو سب سے پہلے اسکی نظر اپنے لیے بنے لال رنگ کے بہت پیارے لہنگے پر پڑی جو اسکی ماں نے خاص طور پر شادی والے دن کے لیے اسکی پسند سے بنوایا تھا ماں اکثر کہتی رہتی تھی جب میری بیٹی اسے پہن کر دلہن بنے گی شہزادی لگے گی شہزادی ایک سے بڑھ کر ایک اچھا سوٹ بہترین بستر ڈنر سیٹ ٹی سیٹ اور نہ جانے کیا کیا سامنے آ رہا تھا بہت سی قیمتی اور خوبصورت چیزیں تو ایسی تھیں جو ماں نے چوری چوری بنا رکھیں تھیں جنکا علم اُسے آج ہو رہا تھا
چیزیں الٹ پلٹ کرتے کرتے آخر زیورات اس نے ڈھونڈ
ہی نکالی لیکن اسکا دل و دماغ چکرا کر رہ گیا تھا زیورات
اس سے اٹھاۓ نہیں جا رھے تھے
اس نے کمرے میں نظریں دوڑائی تو دیکھا فریج 5
مشینیں برتن سب کچھ اسکے لیے رکھا پڑا تھا ایک ماں کے کمرے میں ایک دلہن کے کمرے میں ایک دلہن کا مکملسامان پڑا تھا
ضمیر نے اسے جھنجوڑا وہ سوچوں میں گم گئی ماں کی کوکھ سے جنم لینے سے لیکر اب تک ماں باپ نے میرے لیے کیا نہیں کیا کھانا پینا پہناوا پڑھائی لکھائی چھوٹی بڑی سب خواہشات اپنا خون پسینہ ایک کر کے سب ادھورا پورا .... کیا میرے اگلے گھر کا سامان تک بنا دیا
اور میں بے فیض بے وفا کیا کرنے جا رہی ہوں مار کر اپنے ماں باپ کو خود مرنے جا رہی ہوں محبت کا سمندر گھر میں ھے اور میں محبت کا دریا سر ... کرنے جا رہی ہوں
اسکی آنکھیں بھیگ گئی تھیں اسے اپنی اعلی تعلیم اپنی حماقتوں پر خوب رونا آ رہا تھا اس دوران ماں آگئی
یہ لو میری شہزادی اپنا پسندیدہ پراٹھا کھاؤ اتنا سفر ھے یونیورسٹی کا میری شہزادی کو بھوک لگ جاتی ویسی بھی آخری دفعہ یونیورسٹی جا رہی ہو سکول سے لیکر کالج یونیورسٹی تک تیری ماں نے آجتک تجھے بغیر ناشتے کے نہیں بھیجا آج اگر تو بغیر ناشتے کے چلی جاتی تو تیری ماں کو مرتے دم تک اس بات کا دکھ رہتا
ماں کی بات سن کر بے اختیار وہ ماں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ماں نے ماتھا چوم کر آنسو صاف کرتے ہوے پوچھا میری شہزادی کیوں رو رہی ھے وہ نظریں چراتے ہوے کہنے لگی ماں مجھ سے کتنی محبتکرتی ہو ناں؟ یہ بھی کوئی بات ہوئی اب ماں سے بڑھکر بھی بھلا کوئی محبت کر سکتا ہے ؟ اس دوران اسکے موبائل کی گھنٹی بار بار بجنے لگی اس ... نے کال کاٹتے ہوے میسج لکھا
سوری میں نہیں آ سکتی اور کبھی نہیں آ سکتی ۔ کیونکہ مجھے میری محبت میرے گھر سے ہی مل گئی ھے یہ جو ماں باپ کی محبت ہوتی ہے نہ یہ محبتوں کی ماں ہوتی ھے