03/06/2025
عنوان نماد نمی کا سبب بنا کیونکہ در حقیقت یہ مکاتیب غالب کے انتخاب کی حیثیت رکھتی تھی جس پر انھوں نے ایک مبسوط مقدمہ تحریر کیا تھا۔ اس مقدمے میں محاسن مکاتیب پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی تھی اس لیے یہ اعلی جماعتوں کے طلبہ وطالبات کے لیے بہت مفید ثابت ہوا۔
ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار کا شمار اردو ادب بہترین ادبا میں ہوتا ہے۔ وہ ایک۔محنتی محقق اقر اچھے نقاد تھے۔انتخاب مکاتیب غالب میں انھوں نے خطوط غالب کے جملہ محاسن بڑے عمدہ انداز میں گنوائے ہیں اور انتخاب میں ایسے مکاتیب کو نمایاں کیا گیا ہے جو تاریخی اور ادبی محاسن سے مالا مال ہیں ۔
مغربی پاکستان اردواکیڈمی لاہور
26/05/2025
تفہیم اقبال کے لئے ایک بے نظیر کاوش
علامہ اقبال آبرو ہیں۔ اردو نظم کو جس بلند مقام پر انھوں نے پہنچا دیا ہے اس کا عشر عشیر بھی کسی دوسرے شاعر کو نصیب نہیں ہو سکا۔ ان کے کلام میں پیچیدہ اصناف نظم اور مشکل الفاظ و تراکیب کے باوصف کوہستانی ندی کی سی تیزی اور روانی ہے۔
علامہ اقبال کی نظموں میں شکوہ اور جواب شکوہ فکری بلندی اور اسلوب کی پختگی ہر دو اعتبار سے ان کی نمائندہ نظمیں ہیں، جنھیں ایک صدی گزر جانے کے باوجود آج بھی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے لیکن چونکہ نئی نسل اب اپنی فکری اور ادبی میراث سے غافل ہو چکی ہے اس لئے ان کی تفہیم ان کے لئے آسان نہیں رہی ۔ لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان نے جس عمدہ انداز میں ان کی تشریح و توضیح کی ہے اور ان کے ایک ایک مصرعے کو سمجھانے کے لئے جو کاوش کی ہے اس کی نظیر اس سے پہلے کہیں موجود نہیں۔ انھوں نے تمام لفظی اور معنوی باریکیوں کی عمدہ انداز میں وضاحت کی ہے اور اس کے لئے سماجی، سیاسی، تاریخی، جغرافیائی اور بہت سے دیگر علمی ذرائع سے جو مدد لی ہے وہ ازحد لائق ستائش ہے۔ انھوں نے تمام وضاحت طلب نکتوں کو بڑی باریک بینی سے سلجھا کر قارئین کی رہنمائی کا فریضہ احسن طریقے سے انجام دیا ہے۔ شکوہ اور جواب شکوہ ہی نہیں، فکر وفن اقبال کی تفہیم اور تحسین کے لئے اقبالیات سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کو بڑی توجہ سے اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
کتاب کے حصول کے لیے بذریعہ وٹس ایپ آرڈر کیجیے:
03452753338
یا وزٹ کیجیے
مغربی پاکستان اردو اکیڈمی
۲۵ سی۔لوئرمال لاہور
12/05/2025
رسالہ "سوغات" بنگلور کسی زمانے میں ایک معیاری ادبی مجلہ تھا جس کی خدمات آب زر سے لکھی جانی چاہئیں مگر اب اس کا مقدر گرد فراموشی ہے ۔ "سوغات" کے مدیر محمود ایاز آج سے تقریبا ساٹھ سال پہلے "جدید نظم نمبر" شائع کیا تھا جس نے دنیا بھر کی جدید شاعری سے اہل اردق کو متعارف کرایا تھا اور جدید اردو نظم کے بارے میں بھی بہت کچھ بڑی تگ و دو کر کے حاصل کیا تھا اور ایک ضخیم نمبر کی صورت میں شائع کیا تھا۔ آج بہت سی دیگر اہم تحریروں کے ساتھ ساتھ یہ نمبر لوگوں کی یادوں سے محو ہو گیا ہے ۔ ہم نے جدید نظم کے بارے میں اس بہت اہم دستاویز کو ادب سے لگاؤ رکھنے والوں کی خدمت میں از سر نو پیش کر دیا ہے۔ اس اہم نمبر کے مطالعے کے بغیر اردو میں جدید نظم کا کوئی مطالعہ مکمل نہیں ہو سکتا خصوصاً ادب کی اعلیٰ جماعتوں کے طلبہ کے لیے اس کا مطالعہ ناگزیر ہے۔
(جنرل سیکرٹری مغربی پاکستان اردو اکیڈمی )
کتاب ہچاس فی صد رعایت پر حاصل کی جا سکتی ہے۔ کل قیمت ہزار روپے
رعایتی قیمت پانچ سو روپے علاوہ۔ڈاک خرچ
خریدنے کے لیے وٹس ایپ پر رابطہ کیجیے۔
03452753338
دستی حصول کے لیے
مغربی پاکستان اردو اکیڈمی
۲۵۔ سی لوئرمال لاہور
24/02/2025
روزنامہ نئی بات لاہور
22 فروری 2025ء میں اکیڈمی کی تازہ شایع شدہ کتب کی خبر بہ شکریہ محمد اکرم صاحب
https://e.naibaat.pk/Pre/lahore/Page02.aspx
22/02/2025
جامعہ پنجاب میلے کا آخری دن انتہائی شاندار
آج کے دن بہت اہم شخصیات اس جامعہ پنجاب کے کتاب میلہ میں شرکت فرما ہوئیں۔۔۔ خاص طور پر انھوں نے مغربی پاکستان اردو اکیڈمی کے سٹال پر آ کر رونق کو دوبالا کر دیا۔ ان سب سے پہلا نام استاذ الاساتذہ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب (پروفیسر ایمریطس پنجاب یونیورسٹی) جن کی اکیڈمی کے لیے عرصہ دراز سے گراں قدر خدمات ہیں۔ اس کے علاوہ اس میلے کو سجانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر محمد ہارون عثمانی (چیف لائبریرین پنجاب یونیورسٹی) تشریف لائے اور ان کے ہمراہ ترکی سے تشریف لایا ہوا وفد جن ڈاکٹر درمش بلغر (پروفیسر شعبہ اردو استنبول یونیورسٹی ترکی) شامل تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران (ڈین کلیہ علوم۔شرقیہ)، ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی (پروفیسر شعبہ اردو جی سی یونیورسٹی لاہور) ان کے ہمراہ تھے۔ مزید یہ کہ سابق پروفیسر انسٹی ٹیوٹ آف پنجابی اینڈ کلچرل اسٹڈیز اورینٹل کالج ڈاکٹر سعادت علی ثاقب صاحب، استاد ادارہ زبان و ادبیات اردو جناب مشتاق احمد خان صاحب، ڈاکٹر عمران ظفر (صرر شعبہ اردو گورنمنٹ گریجویٹ کالج جھنگ)، مرے کالج سیالکوٹ سے اردو زبان کے استاد جناب مہر الیاس صاحب، ڈاکٹر رفاقت علی شاہد صاحب تشریف لائے اور اکیڈمی کی کتب خریدیں۔ اس کے علاوہ جنرل سیکٹری مغربی پاکستان اردو اکیڈمی ڈاکٹر آصف علی چھٹہ صاحب بھی سٹال پر موجود رہے۔ ان تمام معتبر شخصیات کی آمد سے سٹال کو چار چاند لگ گئے۔ سب کے شکریے کے ساتھ چند تصویری جھلکیاں ان محبان کے لیے جن کی آنکھیں انھیں دیکھنے کی طلب گار ہیں۔
21/02/2025
جامعہ پنجاب میں منعقدہ کتاب میلے کا دوسرا دن
پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران (سابق وائس چانسلر جامعہ پنجاب) کی سٹال پر آمد۔۔۔ ان کے ہمراہ خزانچی مغربی پاکستان اردو اکیڈمی پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران (ڈین فیکلٹی آف اورینٹل لرننگ) اور پروفیسر ڈاکٙر خواجہ زاہد عزیز (چیئرمین شعبہ کشمیریات اورینٹل کالج) تشریف لائے اور سٹال کو رونق بخشی۔ اس کے ساتھ ساتھ سیکرٹری نشر و اشاعت مغربی پاکستان اردو اکیڈمی ڈاکٹر عاطف خالد بٹ صاحب بھی ساتال پر موجود رہے۔ انھوں نے آنے والے مہمانوں کو خودآمدید کہا اور انھیں اکیڈمی کی مختلف کتب کی اہمیت سے آگاہ کیا۔
20/02/2025
پہلا دن
پنجاب یونیورسٹی کے تاریخی کتاب میلے کی چند تصاویر۔۔۔ جنرل سیکرٹری مغربی پاکستان اردو اکیڈمی ڈاکٹر آصف علی چھٹہ صاحب کی آمد۔۔۔ دیگر اہم شخصیات۔۔ اساتذہ بھی تشریف لائے۔ اس کے علاوہ محترم محمد اکرم صاحب (سابق آفس سیکرٹری مغربی پاکستان اردو اکیڈمی) جو پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ انتظامیہ سے وابستہ ہیں_ نے سٹال پہ تشریف لا کر رونق بخشی۔ انھوں نے اکیڈمی کی اردو ادب کے حوالے سے خدمات کو سراہا اور کتب کی خریدار کی۔ ان میں ڈاکٹر طارق ہاشمی صاحب (جی سی یونیورسٹی فیصل آباد)، ڈاکٹر عابدہ بتول (لاہور کالج) وغیرہ شامل تھے۔ طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد موجود رہی۔ کتابوں سے محبت کرنے والے افراد یہ موقع نہ گنوائیں۔
19/02/2025
جامعہ پنجاب میں ہر سال کی طرح پاکستان کا سب سے بڑا کتاب میلہ
20،21 اور 22 فروری 2025ء
پنجاب یونیورسٹی نیوکیمپس، لاہور
مغربی پاکستان اردو اکیڈمی کی طرف سے پہلی دفعہ اس اہم اور تاریخی کتاب میلے میں اپنا سٹال لگایا جا رہا ہے۔ سٹال پر ادارے کی طرف سے شایع شدہ کتب رعایتی نرخوں پر دستیاب ہوں گی۔ یہ سٹال ادارہ تالیف و ترجمہ پنجاب یونیورسٹی سے ملحقہ جگہ پر ہوگا۔ ادب کے قارئین، طلبہ و طالبات اس اہم کتاب میلے میں لازمی شرکت فرمائیں اور اپنی پسندیدہ کتب رعایتی نرخوں پر حاصل کریں۔ بہت شکریہ