04/01/2026
https://vt.tiktok.com/ZS5yJ1P2F/
پیج کے تمام فالورز سے گزارش ہے کہ برائے کرم اس بیج کے ٹکٹاک اکاؤنٹ کو فالو کریں شکر گزار رہوں گی
😍😍
TikTok · Chand Ke Paar
4116 likes, 336 comments. “آگــــــــ سے سِیکھ لیا ہے ٫ یہ قَرینہ ہم نے بُجھ بھی جانا تو ٫ بڑی دیر سُلگتے رَہنا جانے کِس عُمر میں ٫ جائے گی یہ عادت اَپنی رُوٹھنا اُس سے تو ٫ اَور...
13/04/2025
To all my followers. Facebook just activated my monitisation option. Now anyone can send me stars as a gesture of appreciation. I look forward to get stars from you soon. 😍🌟⭐
13/04/2025
بھر کے دامن میں ترا رنج تری یاد سمیت
لوٹ جائیں گے اسی گریۂ بیداد سمیت
جیسے ہم کار جہاں کے لئے موزوں ہی نہ ہوں
ہم کو لوٹا دیا جاتا رہا اسناد سمیت
لوگ چوپال میں بیٹھے تھے مگر ساکت تھے
ہم بھی خاموش رہے زخم کی روداد سمیت
جوتشی کوئی الٹ پھیر کا حل ہے کہ نہیں
سب ستارے ہیں نحوست بھرے اعداد سمیت
میں نے ہی بھوک کو خیرات پہ برتر رکھا
لوگ آئے تھے مری سمت بھی امداد سمیت
میں تو جو دیکھ رہی ہوں وہی بولوں گی سدا
قید کر دیجئے مجھ کو لب آزاد سمیت
میں نے کس جبر میں کاٹی ہے یہ پسماندہ حیات
مجھ کو کوئی بھی نہ سمجھا مری اولاد سمیت
13/04/2025
چل عمر کی گَٹھڑی کھولتے ہیں
اور دیکھتے ہیں
اِن سانسوں
کی تضحیک میں سے
اِس ماہ و سال کی بھیک میں سے
اِس ضرب، جمع، تفریق میں سے
کیا حاصل ہے، کیا لاحاصل؟؟
چل گَٹھڑی کھول کے لمحوں کو
کچھ وَصل اور ہِجر کے برسوں کو
کچھ گِیتوں کو، کچھ اَشکوں کو
پھر دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں
یہ درد بَھری سوغات ہے جو
یہ جیون کی خیرات ہے جو
اِک لمبی کالی رات ہے جو
سب اپنے پاس ہی کیوں آئی؟؟
یہ ہم کو راس ہی کیوں آئی؟؟
یہ دیکھ، یہ لمحہ میرا تھا جو اور کسی کے نام ہوا
یہ دیکھ، یہ صُبح کا منظر تھا جو صُبح سے مِثلِ شام ہوا
اور یہ میرا آغاز پڑا جو بدتَر اَز انجام ہوا
اب چھوڑ اُسے، آ دیکھ اِدھر
یہ حَبس پڑا اور ساتھ اِس کے
کچھ اُکھڑی اُکھڑی سانسیں ہیں
اِک دُھندلا دُھندلا منظر ہے
اور اُجڑی اُجڑی آنکھیں ہیں
یہ جُھلسے ہوئے کچھ خواب ہیں، جن کے ساتھ کوئی تعبیر نہیں
یہ دیکھ حِنائی ہاتھ بھی ہیں پَر وَصل کی ایک لکیر نہیں
دو نازک ہونٹ گلاب سے ہیں پَر داد جو دے وہ مِیر نہیں
اِک اِسم محبت والا ہے اور اُس کی بھی تفسیر نہیں
بس اِتنی ہمّت تھی تجھ میں؟؟
بس تیری آنکھیں بھیگ گئیں؟؟
ابھی اور بہت سے لمحے ہیں
ابھی اور بہت سی باتیں ہیں
ابھی ہِجر بَھرا اِک حُجرہ ہے
ابھی درد بَھری اِک کُٹیا ہے
چل چھوڑ اِس درد کہانی کو
روک آنکھ سے بہتے پانی کو
آ ڈھونڈ کہیں اِس گَٹھڑی میں
اِک ہِجر آلُود سا وعدہ ہے
وعدہ بھی سیدھا سادہ ہے
بس اپنے اپنے رستے پر
چلتے رہنے کا ارادہ ہے
تُو دیکھ اگر وہ مِل جائے
ممکن ہے زخم بھی سِل جائے
ورنہ ہم ہِجر جو کاٹ چکے
وہ اس جیون سے زیادہ ہے
18/02/2025
یہی ھے نا..! تمہاری بے دھیانی سے گریزاں ھیں
کہ اب تو ھم بھی اپنی رائیگانی سے گریزاں ھیں
تجھے بس ایک پَل کو دیکھنا تھا بات کرنا تھی
مگر اب تیرے لہجے کی گرانی سے گریزاں ھیں
تمہارے نام پر جلتا دِیا بُجھنے نہیں دیتے
مگر دِل پر تمہاری حکمرانی سے گریزاں ھیں
فریبِ گفتگو نے دیر تک محصور رکھا ھے
مگر اب ھم فضائے خُوش گُمانی سے گریزاں ھیں
عذابِ تشنگی نے جسم و جاں کو ریت کر ڈالا
لبِ دریا کھڑے ھیں اور پانی سے گریزاں ھیں
تجھے تسخیر کرنا تھا کسی دلدار ساعت میں
مگر یوں ھے کہ اب ساری کہانی سے گریزاں ھیں
کبھی شاخِ بدن پر روشنی کی آیتیں اتریں
کبھی یہ رتجگے، اس مہربانی سے گریزاں ھیں
{ نوشیؔ گیلانی }
18/02/2025
تلخی کی بوند بوند سے لہجہ ہوا زہر.....
میں رفتہ رفتہ نیم کے پتوں میں ڈھل گئی!
18/02/2025
سنو !!!!!!!!!!!!!
ہر انسان کیلئے ،،
ظرف اور مُحبت کا پیمانہ مختلف ہوتا ہے ،،
چھوٹے ییمانےمیں ،،
بڑی مُحبت گُھٹن بن جاتی ہے ،،
اور ،،
بڑے پیمانے میں چھوٹی مُحبت ،، تشنگی ۔۔
24/02/2024
اسی موڑ سے شروع کریں پھر یہ زندگی
ہر شہ جہاں حسین تھی ھم تم تھے اجنبی
لے کر چلے تھے ھم جنہیں جنت کے خواب تھے
پھولوں کے خواب تھے وہ محبت کے خواب تھے
لیکن کہاں ھے ان میں وہ پہلے سی دلکشی
رہتے تھے ھم حسین خیالوں کی بھیڑ میں
الجھے ھوئے ہیں آج سوالوں کی بھیڑ میں
آنے لگی ھے یاد وہ فرصت کی ہر گھڑی
شاید یہ وقت ھم سے کوئی چال چل گیا
رشتہ وفا کا اور ھی رنگوں میں ڈھل گیا
اشکوں کی چاندنی سے تھی بہتر وہ دھوپ تھی
اسی موڑ سے شروع کریں پھر یہ زندگی
07/12/2023
نہ سماعتوں میں تپش گُھلے نہ نظر کو وقفِ عذاب کر
جو سنائی دے اُسے چپ سِکھا جو دکھائی دےاُسے خواب کر
ابھی منتشر نہ ہو اجنبی، نہ وصال رُت کے کرم جَتا!
جو تری تلاش میں گُم ہوئے کبھی اُن دنوں کا حساب کر
مرے صبر پر کوئی اجر کیا مری دوپہر پہ یہ ابر کیوں؟
مجھے اوڑھنے دے اذیتیں مری عادتیں نہ خراب کر
کہیں آبلوں کے بھنور بجیں کہیں دھوپ روپ بدن سجیں
کبھی دل کو تِھل کا مزاج دے کبھی چشمِ تِر کو چناب کر
یہ ہُجومِ شہرِ ستمگراں نہ سُنے گا تیری صدا کبھی،
مری حسرتوں کو سُخن سُنا مری خواہشوں سے خطاب کر
یہ جُلوسِ فصلِ بہار ہے تہی دست، یار، سجا اِسے
کوئی اشک پھر سے شرر بنا کوئی زخم پھر سے گلاب کر۔۔۔
07/12/2023
حُکم تیــــرا ھے تو تعمیــــل کیئے دیتــے ہیں
زنــــدگی ہجــــر میں تحلیــــل کیئے دیتـــے
تو مرے وصـــل کی خواہش پہ بگڑتا کیوں ہے
راسـتہ ہی ھے ،چلو تبدیــل کیئے دیتـے ہیں
آج سب اشکوں کو آنکھــوں کے کنارے پہ بلاؤ
آج اِس ہجـــر کـی تکمیـــــل کیئے دیتــے ہیں...
06/12/2023
کوئی شام بٙخش دے دِسمبر کی
ہٙمراہ آگ تاپیں گے...............
میں تُجھے شال اٙوڑھاؤں گا......
تُو شانے پہ میرے سٙر رٙکھ دینا.......
پِھر کُچھ خٙط پُرانے دورِ فِراق کے.......
مِل کہ وٙصل کے اٙلاؤ میں جھونک دیں گے
دِل سٙماجٙت پہ اُتر آیا ھے دیکھ نہ......
کوئی شام بٙخش دے دِسمبر کی......