02/02/2026
💔*لہجوں کی چوٹ*💔
کبھی لفظ بولتے نہیں چُبھتے ہیں
اور کبھی خاموشی کچھ کہتی نہیں مگر سب کچھ چھین لیتی ہے
اپنوں کی بے نیازی وہ اذیت ہے
جس پر کوئی مرہم لگانے والا نہیں ہوتا *کیونکہ جس دل سے توقع ہو وہی اگر نظر انداز کر دے تو شکایت بھی شرمندہ ہو جاتی ہے*
کبھی الفاظ زخم بن جاتے ہیں
ایسے زخم جو دکھائی نہیں دیتے
مگر روح تک اُتر جاتے ہیں
*اور کبھی خاموشی خنجر بن جاتی ہے* کیونکہ جواب نہ ملنا سب سے سخت جواب ہوتا ہے
یاد رکھو؟
زندگی کی گرد میں سب منظر دُھندلا جاتے ہیں باتیں وعدے قربتیں اور فاصلے بھی
مگر جو چیز وقت کی دُھول میں بھی صاف رہتی ہے
*وہ ہیں الفاظ کے وار*
*اور رویّوں کے زخم*
یہ وہ درد ہے جو نہ چیخ مانگتا ہے
نہ آنسو بس انسان کو آہستہ آہستہ
اندر ہی اندر سے بدل دیتا ہے
اسی لیے اگر بات کرو تو وزن کے ساتھ خاموش رہو تو معنی کے ساتھ اور اگر اپنائیت دِکھاؤ تو ایسی کہ سامنے والا خود کو غیر محسوس نہ کرے
`کیونکہ آخر میں انسان یہ نہیں گنتا کہ تم کتنی دیر ساتھ رہے ہو`
وہ یہ یاد رکھتا ہے کہ تم نے اسے
کس لہجے میں چھوڑا تھا
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے لہجوں کو سنوارے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین
`اخوکم فی الدین`
*محمد عمران حافی*