24/10/2024
میں نے یونیورسٹی میں کئ دوستوں سے ناول "راجہ گدھ" کا نام سنا مگر پڑھ نہ سکا ، کئ بار بازار سے لینے گیا تو نہیں ملا ،آخر کار میں نے یہ پچھلے ہفتے ملتان سے خریدا اور اسے پڑھا ۔میں نے بہت سے ناول پڑھے مگر یہ ناول ان سب سے مجھے قدرے مختلف لگا۔
آخر تک سمجھ نہیں آئی کہ آخر کہانی کا اختتام کیا ہوگا، یہ مجازی ہے کہ حقیقی ہے۔
کتابیں ہمیشہ آپ کو میلوں کا سفر کراتی ہیں ، اور ایسے ہی راجہ گدھ پڑھتے ہوئے کبھی آپ سڑک پر چل رہے ہوتے تو کبھی ویرانے کو محسوس کرتے ہیں، کبھی محلات میں بیٹھے ہوتے تو کبھی صحرا میں پہنچ جاتے۔ بانو قدسیہ لکھتے ہوئے کبھی کسی ملا کا روپ دھار لیتی ہے تو کبھی کسی پادری کا ۔ کبھی وہ جون ایلیاء کی غمگین شاعری کی طرح اداس کر دیتی ہے تو کبھی منٹو کا روپ دھار کر عورت کے حسن ، اسکے چال، اسکے جسم پر اگلے دو اضافی گوشت کے ٹکڑوں کی ہلچل ، کبھی اسکے کولہوں کے ہلنے سے پیدا ہونے والے ابھار اور اسکی اٹریکشن کو ایسے بیان کرتی ہے کہ لگتا ہے کہ منٹو کا کوئ ایک مضمون پیچ میں چھاپ دیا۔
یہ کہانی جی سی کالج لاہور میں پروفیسر کے ایک سوال سے شروع ہوتی ہے کی دیوانگی ، پاگل پن کیا ہے ؟ اور یہ کیسے انسان میں پیدا ہوتا ہے اور پھر کہانی کے مختلف کرداروں کی محبت اور جسمانی و روحانی پیار کی داستان شروع ہوتی ہے جو کہ کتاب پڑھ کر ہی اسکے مزے لیے جا سکتے ہیں مگر جتنا کچھ میں سمجھ سکا کی اسکی اصل فلاسفی جو بانو قدسیہ بیان کرنا چاہتی ہے وہ حرام اور حلال کے گرد گھومتی ہے جس میں اسکا کہنا ہے حرام کھانے والے انسان دیوانگی اور پاگل پن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ وہ اس کو کچھ سائنس تو کچھ مذہب سے جوڑتی ہے کہ جب حرام انسان کے جسم یا روح میں جاتا ہے تو وہ اسکو دیوانہ کر دیتا ہے یا پھر اسکی آنے والی نسلوں میں یہ اثر پیدا ہوتا ہے(دیوانے اور پاگل پن کی مختلف اقسام کتاب میں بتائ گئ ہیں).
یہ فلسفہ قابل بحث ہے کہ کیا حقیقی طور پر ایسا ہونا ممکن ہے کہ نہیں ، سائنس اور مذہب الگ الگ طریقے سے اسے بیان کرتے ہیں کیونکہ ہر مزہب کا شاید یہ حلال و حرام کا الگ کانسیپٹ ہے۔ خیر ایک ناول کے طور پر یہ بھی منظم طریقے سے لکھا گیا ہے ۔
09/05/2024
20/02/2024
03/02/2024