14/02/2025
اسلام کا تیسرا رکن – روزہ (صوم) قرآن و حدیث کی روشنی میں
اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے تیسرا رکن روزہ (صوم) ہے، جو ہر بالغ، عاقل، اور صحت مند مسلمان پر فرض ہے۔
قرآن میں روزے کا ذکر
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
(اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ)
(سورۃ البقرہ: 183)
اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ
(رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور حق و باطل کو الگ کرنے والی دلیلیں رکھتا ہے۔ تو جو شخص اس مہینے کو پائے، وہ اس میں روزہ رکھے)
(سورۃ البقرہ: 185)
حدیث میں روزے کی فضیلت
روزہ اللہ کے لیے ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔"
(صحیح بخاری: 1904، صحیح مسلم: 1151)
روزے سے گناہ معاف ہوتے ہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"
(صحیح بخاری: 38، صحیح مسلم: 759)
جنت میں خاص دروازہ "الریان"
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جنت میں ایک دروازہ ہے جسے الریان کہتے ہیں، اس دروازے سے قیامت کے دن صرف روزے دار داخل ہوں گے، اور جب وہ داخل ہو جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا۔"
(صحیح بخاری: 1896، صحیح مسلم: 1152)
روزے دار کی دعا قبول ہوتی ہے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"تین آدمیوں کی دعا رد نہیں کی جاتی: (1) روزہ دار کی افطار کے وقت، (2) عادل حکمران، (3) مظلوم کی دعا۔"
(ترمذی: 2525)
نتیجہ
روزہ صرف بھوکا اور پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اللہ کی قربت، صبر، تقویٰ اور برائیوں سے بچنے کا ایک ذریعہ ہے۔ روزہ رکھنے والا شخص اللہ کے قریب ہو جاتا ہے، اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور جنت میں "الریان" دروازے سے داخلے کی سعادت حاصل کرتا ہے۔