21/03/2026
عید کی خوشی
اردگرد کی ہلچل نے رات گئے اسے نیند سے بیدار کر دیا تھا ۔ آخری سفر کی تیاریاں جاری تھیں بناوٹی آہ و زار لئے ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے آس پاس کے لوگوں کے دل خوشی سے لبریز تھے کہ قوم کے نوجوانوں کو گمراہی بے حیائی اور بد تمیزی پر اکسانے والا غیر ملکی ڈگریوں سے تصدیق شدہ پڑھا لکھا جاہل جیل کی آب و ہوا کو 957 دن آلودہ کرنے کے بعد آج صبح ٹوائلٹ میں منہ کے بل گر کر سانس بند ہونے سے اپنی جاہل قومِ یوتھ کو اکیلا ذلیل ہونے کے لئے چھوڑ کر دنیا سے چلا گیا ۔ اپنی ماؤں بہنوں سے سر عام مجرے کروانے والوں نے تو ابھی انکو اس کی میت پہ بین ڈالنے کی لئے تربیت بھی نہیں دلوائی تھی ۔ خیر آپ سب کو اصلی حقیقی آذادی اور تبدیلی والی عید مبارک
خالد کی کتاب “قومِ ثمود اور قومِ یوتھ کا تقابلی جائزہ “ سے اقتباس