23/05/2026
ادارہ زبان و ادبیات اردو کا اعزاز
ادارے کے ایک فل سکالر محمد نعیم نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں ہونے والےآل پاکستان مقابلہ جات میں”جدید مطالعہ پاکستان “ (اردو مزاح) کے عنوان سے مضمون لکھ کر دوسری پوزیشن حاصل کی ۔ڈائریکٹر ادارہ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین اور اساتذہ کی طرف سے مبارک باد پیش کی گئی۔
22/05/2026
ادارۂ زبان و ادبیات اردو میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی تکمیل
ڈاکٹرمحمد عاصم نے پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کی نگرانی میں اپنی پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی ہے۔ ڈاکٹر محمد عاصم پنجاب ادارہ برائے زبان، فن و ثقافت (پلاک)، محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں۔ ان کے تحقیقی منصوبے کا عنوان "ترجمہ نگاری کے جدید رجحانات -تحقیقی مطالعہ" Modern Trends in Translation-A Research Study تھا۔
ڈاکٹر محمد عاصم کی مذکورہ تحقیق میں اردو ترجمہ نگاری کے جدید نظریات، لسانی و فکری جہات، اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کا جامع تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ مزید برآں، انسانی اور AI پر مبنی تراجم کے تقابلی مطالعہ کے ذریعے ترجمے کے معیار، لسانی خصوصیات، ثقافتی تناظر اور عصری تقاضوں کا تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ تحقیقی کاوش اردو ترجمہ نگاری کے فروغ، جدید تحقیق کے نئے امکانات اور ٹیکنالوجی و زبان کے باہمی تعلق کے حوالے سے ایک قابلِ قدر علمی اضافہ ہے۔ ادارہ اس علمی کامیابی پر ڈاکٹر محمد عاصم کو مبارکباد پیش کرتا ہے اور ان کی مزید کامیابیوں کے لئے دعاگو ہے۔
21/05/2026
پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران ڈین کلیہ علوم شرقیہ، پنجاب یونیورسٹی لاہور نے معروف شاعر نذیر قیصر کے شعری مجموعہ "حرف سے کونپلیں نکل آئیں" کی تقریب رونمائی کی صدارت کی
تقریب میں ادبی و ثقافتی حلقوں کی نامور شخصیات نے شرکت کی۔ مہمانانِ خصوصی جناب عطا الحق قاسمی، پروفیسر ڈاکٹر نجیب جمال، صائمہ کامران اور محترمہ عابدہ نذیر قیصر نے نذیر قیصر کی شاعری کی جمالیاتی گہرائی، جذباتی تاثیر اور ثقافتی اہمیت کو سراہا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ نذیر قیصر کا کلام عصری حساسیت کے متنوع پہلوؤں کو بیان کرتا ہے جبکہ کلاسیکی ادبی روایات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے نذیر قیصر کے اشعار میں منعکس محبت، انسانیت اور فلسفہ حیات کے مرکزی موضوعات پر تفصیل سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ نذیر قیصر معاصر اردو شاعری کی حقیقی اور نمائندہ آواز ہیں، جن کے الفاظ عصر حاضر کے اجتماعی ضمیر کا اظہار کرتے ہیں۔
21/05/2026
ادارۂ زبان و ادبیات اردو میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی تکمیل
ڈاکٹر شگفتہ فردوس نے ڈائریکٹر ادارہ زبان و ادبیات اردو ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کی نگرانی میں "اکیسویں صدی کی اردو نظم میں تمثال کاری )شاعرات کے تناظر میں )"کے عنوان سے اپنی پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ کامیابی کے ساتھ مکمل کی ہے۔ وہ جی سی ویمن یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اردو اور ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئرز کے فرائض انجام دے رہی ہیں ۔ان کی تحقیق عصر حاضر کی خواتین شعرا کی نظموں میں جدید تمثالی رجحانات اس کے پس منظر میں کارفرما سماجی و نفسیاتی تناظرات تہذیبی شعور اور عصری حسیت کے تجزیے پر مشتمل ہے۔ اس تحقیقی کام کی تکمیل پر
ادارے کی ڈائریکٹر اور اساتذہ کی جانب سے مبارک باد پیش کی گئی۔
20/05/2026
ادارۂ زبان و ادبیاتِ اردو کے ایم فل سیشن 2024-26 کے اعزاز میں ایم فل سیشن 2025-27 کی طرف سے الوداعی تقریب مع ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈائریکٹر ادارۂ زبان و ادبیاتِ اردو ڈاکٹر بصیرہ عنبرین، ڈاکٹر محمد نعیم ورک ، ڈاکٹر انیلا سلیم ، ڈاکٹر ظہیر عباس ، ڈاکٹر ساجد صدیق نظامی، جناب مشتاق احمد خان اور محترمہ سونیا سلیم نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت محمد زبیر نے حاصل کی۔ بدر ہاشمی نے نعت رسول مقبول پڑھی اور غلام علی نے نظامت کے فرائض سر انجام دیے۔ حمیرا فاروق، ماہ نور جاوید، ہاجرہ مریم اور حلیمہ سعدیہ نے مختلف شعرا کا کلام ترنم کے ساتھ پیش کیا۔ سانول رمضان اور امجد حسین نے طبع زاد غزلیں جبکہ عمر فاروق نے منتخب غزل سنائی۔ امتیاز انجم نے ایم فل سیشن 2025-27 اور نواز خان نے ایم فل سیشن 2024-26 کی جانب سے اظہارِ خیال کیا۔ تقریب کا اختتام ڈاکٹر بصیرہ عنبرین صاحبہ کی کلیدی گفتگو پر ہوا جس میں انھوں نے طلبا کی محنت ، جستجو اور لگن کو سراہتے ہوئے ان کےلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد فوٹو سیشن اور ظہرانے سے طلباء و اساتذہ محظوظ ہوئے۔
19/05/2026
ادارۂ زبان و ادبیات اردو میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی تکمیل
ڈاکٹر فضیلت بانو نے ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کی نگرانی میں میں اپنی پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی ہے۔ ڈاکٹر فضیلت بانو منہاج یونیورسٹی ،لاہور میں شعبۂ اردو کی سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ ان کے
تحقیقی منصوبے کا عنوان ہے:
“ادبی متن میں تعبیریت کا کردار”
ڈاکٹر فضیلت بانو کی جانب سے مکمل کی گئی یہ پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق علمی اور فکری اعتبار سے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس مطالعے میں ادبی متون کی تفہیم میں تعبیر یت کے کردار اور اہمیت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ تحقیق اس امر کو واضح کرتی ہے کہ تعبیری رویے ادبی بیانیے میں پوشیدہ معانی کی مختلف تہوں کو آشکار کرنے میں کس طرح معاون ثابت ہوتے ہیں۔
ادارے کی ڈائریکٹر اور اساتذہ کی طرف سے مبارک باد پیش کی گئی۔
19/05/2026
ادارۂ زبان و ادبیات اردو میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی تکمیل
ڈاکٹر غلام اصغر نے ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کی نگرانی میں اپنی پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ کامیابی کے ساتھ مکمل کی ہے۔ وہ اس وقت اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بغداد الجدید کیمپس میں شعبۂ اردو و اقبالیات میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ان کی تحقیق کا عنوان ہے:
“علامہ اقبال کے خطباتِ اردو میں تصورِ زمان و مکاں: ایک تحقیقی مطالعہ”
(The Concept of Time and Space in light of Allama Iqbal’s Lectures: A Research Study)
یہ تحقیقی مطالعہ فلسفۂ علامہ محمد اقبال میں زمان و مکاں کے تصور کا جائزہ لیتا ہے، جیسا کہ ان کی معروف تصنیف “تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ” میں بیان ہوا ہے۔
ادارے کی ڈائریکٹر اور اساتذہ کی طرف سے مبارک باد پیش کی گئی۔
30/04/2026
ڈائریکٹر ادارہ زبان و ادبیات اردو ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کی یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں بطور کلیدی مقرر شرکت
علامہ اقبالؒ کے 88 ویں یوم وفات کے موقع پر یونیورسٹی آف ایجوکیشن بینک روڈ کیمپس میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ادارۂ زبان و ادبیاتِ اردو، پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ڈائریکٹر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور کلیدی خطبہ پیش کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے فکرِ اقبالؒ کو بالخصوص نوجوان نسل کی کردار سازی کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے اخلاقی اقدار، خود آگاہی اور مقصدِ حیات کی اہمیت پر زور دیا۔
تقریب میں تقریری مقابلہ، کلامِ اقبالؒ کی خوبصورت پیشکش اور بیت بازی کے دلچسپ مقابلے بھی منعقد ہوئے، جن میں طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ آخر میں مہمانِ خصوصی کا شکریہ ادا کیا گیا اور نمایاں کارکردگی پر طالبات میں اسناد تقسیم کی گئیں۔
30/04/2026
ادارۂ زبان و ادبیات اردو میں ایک اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کی تکمیل
ڈاکٹر احتشام علی، ایسوسی ایٹ پروفیسر، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور نے ادارہ زبان و ادبیات اُردو کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کے زیرِنگرانی اپنی پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو شپ مکمل کر لی۔
اُن کا تحقیقی مقالہ، بعنوان "جذبات کی تاریخ: نوآبادیاتی عہد کے اردو ادب کی نئی تعبیر و تشکیل (1857ء تا 1900ء)"، معاصر اردو تنقید میں اس ثقافتی تھیوری کے عملی اطلاق کا اولین نمونہ یے۔ ڈاکٹر احتشام علی نے اپنے مقالے میں 'خوف کے جذبے' کو محض ایک نفسیاتی کیفیت کے طور پر دیکھنے کے بجائے، اسے 1857ء کی جنگِ آزادی کے تناظر میں تخلیق ہونے والے شعری متون کی داخلی سطح پر دریافت کیا ہے۔ یہ مقالہ اردو زبان و ادب میں 'جذبات کی تاریخ' (History of Emotions) کے تعارف اور اس کے عملی اطلاق کا اولین نمونہ ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ مقالہ اِس ضمن میں مزید مطالعات کا باعث بنے گا۔
ادارے کی ڈائریکٹر اور اساتذہ نے مبارک باد دی۔