11/08/2024
I'm here to give you accurate and valuable information and guidelines about your studies as well as psychological issues.
i m a tutor and i can teach Math science English as well as computer sciences Of all clases include fundamental subject of Bachelor class
11/08/2024
I'm here to give you accurate and valuable information and guidelines about your studies as well as psychological issues.
بعد مرنے کے جو پوچھے گا خدا ہم سے........
کہیں گے دنیا کا ہر شخص ظالم تھا قسم سے........
کہنے کو سب کہتے تھے حق سچ کی باتیں.....
اندر سے بڑا جھوٹا تھا ہر شخص قسم سے......
ہر موڑ پر دکان سجی تھی مکرو فریب کی......
دولت کو عورت کو نوچتارہا ہر شخص قسم سے......
بعد مرنے کے جو پوچھے گا خدا ہم سے........
کہہ دیں گے ہر شخص ظالم تھا قسم سے......
😭 😭 😭.......................... ...........
کوئی شوہر اپنی بیوی سے پاگل پن کی حد تک پیار کیسے کر سکتا ہے؟
ایک بوڑھی خاتون کا انٹرویو
جنہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ پچاس سال کا عرصہ پرسکون طریقے سے ہنسی خوشی گزارا
🍀 خاتون سے پوچھا گیا کہ اس پچاس سالہ پرسکون زندگی کا راز کیا ہے؟
کیا وہ کھانا بنانے میں بہت ماہر تھیں؟
یا پھر ان کی خوبصورتی اس کا سبب ہے؟
🍀 بوڑھی خاتون نے جواب دیا : پرسکون شادی شدہ زندگی کا دار و مدار اللہ کی توفیق کے بعد عورت کے ہاتھ میں ہے، عورت چاہے تو اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے اور وہ چاہے تو اس کے برعکس یعنی جہنم بھی بنا سکتی ہے.
🍀 انٹرویو لینے والی خاتون صحافی نے پوچھا کہ
پھر آخر اس خوشحال زندگی کا راز کیا ہے ؟
🍀بوڑھی خاتون نے جواب دیا : جب میرا شوہر انتہائی غصے میں ہوتا ہے تو میں خاموشی کا سہارا لے لیتی ہوں لیکن اس خاموشی میں بھی احترام شامل ہوتا ہے، میں افسوس کے ساتھ سر جھکا لیتی ہوں.
ایسے موقع پر بعض خواتین خاموش تو ہوجاتی ہیں لیکن اس میں تمسخر کا عنصر شامل ہوتا ہے اس سے بچنا چاہیے، سمجھدار آدمی اسے فوراً بھانپ لیتا ہے
🍀 نامہ نگار خاتون نے پوچھا : ایسے موقعے پر آپ کمرے سے نکل کیوں نہیں جاتیں؟
🍀 بوڑھی خاتون نے جواب دیا : نہیں، ایسا کرنے سے شوہر کو یہ لگے گا کہ آپ اس سے بھاگ رہی ہیں، یا اسے سننا بھی نہیں چاہتی ہیں.
ایسے موقعے پر خاموش رہنا چاہیے اور جب تک وہ پرسکون نہ ہوجائے اس کی کسی بات کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے.
🍀 جب شوہر کسی حد تک پرسکون ہوجاتا ہے تو میں کہتی ہوں :
پوری ہو گئی آپ کی بات ؟
پھر میں کمرے سے چلی جاتی ہوں
کیونکہ شوہر بول بول کر تھک چکا ہوتا ہے اور چیخنے چلانے کے بعد اب اسے تھوڑے آرام کی ضرورت ہوتی ہے.
🍀 خاتون صحافی نے پوچھا : اس کے بعد آپ کیا کرتی ہیں؟ کیا آپ بول چال بند کرنے کا اسلوب اپناتی ہیں؟ ایک آدھ ہفتہ بات چیت نہیں کرتی ہیں؟
🍀 بوڑھی خاتون نے جواب دیا : نہیں !
اس بری عادت سے ہمیشہ بچنا چاہیے،
یہ دودھاری ہتھیار ہے،
جب آپ ایک ہفتے تک شوہر سے بات چیت نہیں کریں گی ایسے وقت میں جب کہ اسے آپ کے ساتھ مصالحت کی ضرورت ہے تو وہ اس کیفیت کا عادی ہو جائے گا اور پھر یہ چیز بڑھتے بڑھتے خطرناک قسم کی نفرت کی شکل اختیار کر لے گی.
🍀 صحافی نے پوچھا : پھر آپ کیا کرتی ہیں؟
🍀 بوڑھی خاتون بولیں :
میں دو گھنٹے بعد شوہر کے پاس ایک گلاس جوس یا ایک کپ کافی یا چاٸے لے کر جاتی ہوں اور محبت بھرے انداز میں کہتی ہوں: پی لیجیے.۔۔۔۔۔
حقیقت میں شوہر کو اسی کی ضرورت ہوتی ہے.
پھر میں اس سے نارمل انداز میں بات کرنے لگتی ہوں.
وہ پوچھتا ہے کیا میں اس سے ناراض ہوں؟
میں کہتی ہوں : نہیں.
اس کے بعد وہ اپنی سخت کلامی پر معذرت ظاہر کرتا ہے اور خوبصورت قسم کی باتیں کرنے لگتا ہے.
انٹرویو لینے والی خاتون نے پوچھا : اور آپ اس کی یہ باتیں مان لیتی ہیں؟
🍀 بوڑھی خاتون بولیں : بالکل، برداشت اصل طاقت اور حوصلہ
ہوتا ہے جو کہ گھر کو جنت بنادیتا ہے
کیا آپ چاہتی ہیں کہ میرا شوہر جب غصے میں ہو تو میں اس کی ہر بات کا یقین کرلوں اور جب وہ پرسکون ہو تو تو اس کی کوئی بات نہ مانوں؟
خاتون صحافی نے پوچھا : اور آپ کی عزت نفس (self respect) ؟
🍀 بوڑھی خاتون بولیں :
پہلی بات تو یہ کہ میری عزت نفس اسی وقت ہے
جب میرا شوہر مجھ سے راضی ہو غصہ بھی کرے تو معزرت بھی کرے اور محبت بھی۔۔۔۔
تب ہی ہماری شادی شدہ زندگی پرسکون ہوتی ہے
دوسری بات یہ کہ شوہر بیوی کے درمیان عزت نفس نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی
کیونکہ مرد و عورت ایک دوسرے کے لباس ہیں تو پھر کیسی عزت نفس ؟؟
ایک جاپانی کہاوت ھے؛
جب ہمیں کوئی درخت گرانا ہوتا ہے تو ہم اسکو کاٹتے نہیں ہیں بلکہ اسکو نظر انداز کر دیتے ہیں اس کے سامنے دوسرے درختوں کو پانی دیتے ہیں ، توجہ دیتے ہیں ، اسکی دیکھ بھال کرتے ہیں اور اس درخت کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں پھر وہ درخت اپنے آپ مرجھا جاتا ھے
اور اسے گھن لگتا ھے وہ دیکھتے دیکھتے ختم ہوجاتا ھے
غور کیجئے
یہی رویہ ہمارا ، ہمارے ان رشتوں کے ساتھ بھی ہے
جنکو پہلے ہم توجہ دیتے ہیں وقت دیتے ہیں انکی افزائش کرتے ہیں اور جب ان سے جان چھڑانی ہو
تو انکو نظر انداز کردیتے ہیں اسطرح وہ رشتے بھی دھیرے دھیرے موت کے اس منہ میں پہنچ جاتے ہیں
جہاں زندہ یا مردہ برابر ہوتے ہیں۔