19/08/2023
Entry No 10
Category: Article Writing Urdu
Name: Adeela Kokab
City: Gujrat
Show your support to participants by LIKES & COMMENTS.
Pakistan Zindabad 🇵🇰
موضوع: پاکستان کا شہری تھا میں پاکستان سے پہلے بھی
آج نومبر کی شام تھی مگر وہ بہت تنہائی اور تھکن محسوس کر رہا تھا۔ وہ تھکاوٹ سے چور چور تھا۔ یہ تھکاوٹ لگاتار محنت کی تھی نہ یہ ہی بڑھاپے کی نشانی تھی بلکہ یہ تھکاوٹ مایوسی کی تھی، یہ تھکاوٹ اپنے مقصد کو نہ پانے کی تھی یہی مقصد تو اس کے لیے آکسیجن تھے ۔
یہ ماہ اس کے لیے خاص تھا کہ اس کا محسن اسی ماہ پیدا ہوا تھا ۔اس لیے ہر سال نومبراس کے لیے خاص ہوتا وہ اپنے محسن کو بے پناہ یاد کرتا۔آج بھی اسے یاد تھا کہ جب پہلی بار اس کے محسن نے اسے وجود میں لانے کے لیے اس کا نام ایک خیال کی صورت لیا ۔جو کہ واقعی ایک فکر انگیز خیال تھا جس کے ساتھ ایک عظیم ہستی کا نام جڑا تھا کہ اس عظیم ہستی کی عبادت کے لیے اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے لیے اس کا وجود ناگزیر تھا تا کہ یہاں مسلمان اطمینان سے رہ سکیں اور معاشرے کو اللہ و اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے مطابق ایک پرامن اور اعلیٰ اخلاقیات والا معاشرہ قائم کر کے ایک مثال بنائیں جسے دیکھ کر سب اللہ و رسولﷺ کو اور ان کی تعلیمات کو جان لیں اور خود بخود ان سے محبت میں مبتلا ہو جائیں۔یہ چھوٹا سا فلسفہ تھا جو پاکستان کو حیات دینے کی وجہ بنا۔
یہی مقصدِ حیات اور حیات دینے والے کا لقب "مفکرِ پاکستان" جو خود اسی کے نام پہ رکھا گیا تھا پاکستان کو ہمیشہ فخر میں مبتلا کر دیتی اور اسے ایک خوشی کا احساس دلاتی ۔ہر بار یہ سب سوچتے وہ فخر محسوس کرتا کہ میں وجود میں لایا گیا مگر آج وہ اداس تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کیا میں وہی پاکستان ہوں جس کا خیال میرے محسن نے دیا۔ اللہ کا وہ عزیز بندہ جس نے اسلام کی محبت میں مجھے بنانے کا تصور دیا۔ وہ بندہ جو خیال دے کر پیچھے نہیں ہٹ گیا بلکہ اس نے اپنی شاعری سے میری بنیاد، میرا مقصدِ تخلیق کا تصور ہر ہر مسلمان کے دل میں اجاگر کر دیا۔ کیا میری تخلیق کا مقصد یہی تھا؟
اس نے اپنے اندر جھانکا ۔کہ شاید کوئی امید کی کرن نظر آئے جو اس کی اداسی بھری تھکاوٹ کو ختم کر دے۔ اس کی نظرتاجروں کے ایک گروپ پہ پڑی وہ لوگ بہت عمدہ سامان لیے بیچنے بیٹھے تھے۔ مگر وہ جانتا تھا یہ عمدہ سامان صرف اوپر رکھا ہے نیچے خراب سامان ہے جسے گاہک کو دیتے وقت عمدہ سامان سے بدل دیا جائے گا۔ حالانکہ جس کی اطاعت کی خاطر اسے وجود میں لایا گیا اس نے توسختی سے ایسی دھوکا دہی سے منع فرمایا ہے۔ ایک سرد آہ اس کے دل سے نکلی، اس نے دوسری طرف نگاہ دوڑائی وہاں لوگوں سے بھری ایک بس تھی جو اچانک بچہ سامنے آنے کی وجہ سے اسے بچاتے الٹ گئی۔ اسی منظر کے ساتھ دور سے دوڑتے ہوئے لوگ دکھائی دئیے جو بس والوں کی مدد کرنے بھاگے آ رہے تھے۔وہ خوش ہوا ذرا دیر پہلے والی اداسی ایک د م خوشگواریت میں بدلنے لگی ۔ مگر اگلے ہی لمحے اس جھٹکا لگا کہ ان آنے والوں نے بس سے لوگوں کو نکالا اور ساتھ ہی ان کا سامان اپنے قبضے میں کر لیا۔ عجیب لوٹ مار تھی جو پہلے سے لٹے مسافروں سے کی جا رہی تھی۔ اس کا دل کراہا ۔ کاش وہ ایسے لوگوں کو جھنجھوڑ کر انہیں اپنے وجود کا مقصد یاد دلائے۔ ابھی وہ اپنی بے بسی کو سوچ رہا تھا کہ اسے ایک شخص کی آواز آئی جو نرم لہجہ لیے لوگوں کو ان کا مقصدِ حیات یاد دلا رہا تھا، انہیں اخلاقیات سکھا رہا تھا۔ یہ سن کر پاکستان نے لمبی سانس اندر کو کھینچی جیسے اسے آکسیجن ملی ہو اور وہ اسے اندر اتار لینا چاہتا ہو۔واقعی یہ ا س کی آکسیجن ہی تھی وہ سوچ رہا تھا اگر یہ سب اخلاقیات سیکھ جائیں تو کتنا ہی عمدہ ہو میرے جینےکا ذریعہ بن جائے اور مجھے عمرِ طویل مل جائے ۔ وہ سوچتے ہوئے اس جماعت کو دیکھ رہا تھا جو سب ہمہ تن گوش تھے ۔ بیان کرنے والے کی ہر بات کو سن رہے تھے سراہ رہے تھے اور پاکستان کے لیے سانس لینا آسان سے آسان تر بنا رہے تھے۔ یہاں تک کہ یہ محفل آئندہ عمل کرنے کے وعدوں پہ ختم ہو گئی۔ مگر پاکستان کی نظر مقرر کے پیچھے تھی ، اس کا انداز اور اس کی باتیں پاکستان کے دل میں پیوست ہو گئیں تھیں۔ اب وہ کچھ لمحے اس شخص کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا اس لیے اسی کو فالو کرنے لگا۔ مقرر محفل سے گھر کی طرف گیا مگر یہ کیا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی وہ شگفتہ چہرہ ایک پتھر میں بدل گیا۔ماں جو کب سے اس کا رستہ دیکھ رہی تھی اسےدیکھتے ہی پکاری بھی مگر مقرر نے اس کا حال تک نہ پوچھا اور سیدھا کمرے میں گھس گیا ۔ اسے اپنے کل کے لیکچر کے لیے اخلاقیات پہ نوٹس تیار کرنے تھے ابھی اس نے پہلی کتاب "سیرتِ سرورِ عالم " اٹھائی ہی تھی کہ اس کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ شاید کچھ پوچھنا چاہتی تھی اس نے ابھی زبان کھولی کہ مقرر کی زبان سے گالیوں، طعنوں اور لعنتوں کا ایک سیلاب جاری ہو گیا۔ وہ جو لوگوں کو بیوی سے حسنِ سلوک کا درس دے کر آرہاتھا اب بیوی کو بے وجہ سنا رہا تھا ، اسے اللہ کی طرف سے عذاب قراردے رہا تھا۔اس کے ماں باپ کو گالیاں دے رہا تھا۔ پاکستان کی آنکھوں سے خون کے آنسو نکلنے لگے اس سے یہ منظر دیکھا نہ گیا وہ جو مقرر کا احسان مند ہو چلا تھا اب اسی کی وجہ چور چور ہوئے دل کے ساتھ اپنی بے بسی کو رو رہا تھا اس مقرر نے تو باقی سب کو بھی مات دے دی ۔اس کے ذہن میں اپنے محسن کا شعر گونجا
فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے
شام گہری رات میں ڈل چکی تھی شاید یہ رات واقع رات تھی کہ پاکستان کو اس میں اپنے لیے کوئی روشنی، کوئی کرن نظر نہیں آ رہی تھی۔ وہ انہی لوگوں کو یاد کر رہا تھا جنہوں نے خود اپنے تزکیہ کی طرف سب سے پہلے توجہ کی۔ وہ جنہوں نے خود سے بڑھ کر دوسروں کے لیے سوچا ۔ وہ جو دوسرے مذاہب کے ساتھ رہ کر مشکل حالات میں بھی ایمانداری سے کام کرتے رہے۔ آج پھر نومبر میں کرب میں مبتلا پھر کسی اقبال کی پیدائش کا منتظر اسی کی تلاش میں تھا جو لوگوں کا خون گرمائے ۔ اسی خواہش کو دل میں لیے وہ اللہ کے آگے گڑگڑانے لگا، فریاد کرنے لگا، آنسوؤں سے (جو آکسیجن کی کمی کے باعث رک نہیں رہے تھے) اپنے لیے آکسیجن مانگنے لگا۔
اے اللہ! اقبال کو پھر سے پیدا کر جو اس چھوٹی سی جماعت کو خوابِ غفلت سے جگائے جو میرا مقصدِ حیات سب کو سمجھائے، تا کہ اخلاقیات عام ہو جائیں اور منافقانہ روش ختم ہو جائے۔ تا کہ اقبال پھر سے کہے
سلا م ان پہ تہہ تیغ جنہوں نے کہا
جو تیرا حکم جو تیری رضا جو تو چاہے
اے اللہ ! پھر سے مفکر ِ پاکستان پیدا کر۔ جو لوگوں کے دلوں میں اعشقِ الہی جگائے جو آتشِ عشق رسول جگائے۔ اور ہر نفس کو کہے
خودی میں گم ہے خدائی تلاش کر غافل
یہی ہے تیرے لئے اب صلاح کار کی راہ
اے اللہ! مجھے پھر سے وہ اقبال دے جو ان لوگوں کو خواہشِ نفس سے آزاد ہو کر اللہ کی قربت کا درس دے۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اے اللہ! پھر سے اس قوم کو انہیں میں سے اقبال دے جو نفس میں ڈوبے لوگوں کو ان کا اصل ، ان کی خصوصیات یاد دلائے کہ وہ ان خصوصیات کو اپنے اندر پیدا کر لیں جو گفتار میں عظیم ہو ں تو کردار میں عظیم تر، جنہیں دیکھ کر میرے ساتھ سارا جہاں فخر سے کہے
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
اے اللہ!پھر سے اقبال دےجو عوام کی طرح خواص (امیرِ آشیانہ،امیرِ جماعت، امیرِ سلطنت ) کو بھی ذمہ داریاں اور خصوصیات ان الفاظ میں بتائے
نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
پاکستان سجدے میں گرا تھا، گڑگڑا رہا تھا، ضرورتِ اقبال کےپیشِ نظر اللہ سے مسلسل دعا گو تھا ۔
آئیے ہم بھی پاکستان کا ساتھ دیں۔اسے آکسیجن مہیا کریں۔ دوسروں کے تزکیہ سے پہلے خود اپنا تزکیہ کریں۔ آئیے رشوت ، سود، بے ایمانی و بداخلاقی سے خود کو دور کر لیں ۔ تا کہ ہمارے پاکستان کو ہم پہ فخر ہو۔آئیے مظلوموں، بے کسوں، یتیموں اور مسکینوں کا حق ضبط کرنا چھوڑ دیں تا کہ پاکستان خون کے آنسو نہ روئے۔ آئیے ایک دوسرے کی بحیثیت انسان عزت کریں، ہر رشتہ کو اس کے حقوق دیں تا کہ پاکستان کا دم نہ گھٹے۔آئیے دوسروں کی مدد کریں، دوسروں کو معاف کریں ، دوسروں کی غلطیوں اور خرابیوں کو نظر انداز کریں تا کہ پاکستان کے آنسو رک جائیں۔آئیے مفکرِ پاکستان کی سوچ کو سمجھیں اور اخلاقیات کو اپنے فعل و عمل سے عام کر دیں ۔تا کہ پاکستان کبھی خود سے شرمندہ ہو کر یہ نہ پوچھے کیا میں ہوں مفکرِ پاکستان کا پاکستان؟
13/08/2023
Entry No 52
Category: Poster Making
Name: Noor Fatima
Age: 14 Years
City: Gujrat
Show your support to participants by LIKES & COMMENTS.
Pakistan Zindabad 🇵🇰
07/08/2023
Impressive article...
Nice piece of writing
Entry No 10
Category: Article Writing Urdu
Name: Adeela Kokab
City: Gujrat
Show your support to participants by LIKES & COMMENTS.
Pakistan Zindabad 🇵🇰
موضوع: پاکستان کا شہری تھا میں پاکستان سے پہلے بھی
آج نومبر کی شام تھی مگر وہ بہت تنہائی اور تھکن محسوس کر رہا تھا۔ وہ تھکاوٹ سے چور چور تھا۔ یہ تھکاوٹ لگاتار محنت کی تھی نہ یہ ہی بڑھاپے کی نشانی تھی بلکہ یہ تھکاوٹ مایوسی کی تھی، یہ تھکاوٹ اپنے مقصد کو نہ پانے کی تھی یہی مقصد تو اس کے لیے آکسیجن تھے ۔
یہ ماہ اس کے لیے خاص تھا کہ اس کا محسن اسی ماہ پیدا ہوا تھا ۔اس لیے ہر سال نومبراس کے لیے خاص ہوتا وہ اپنے محسن کو بے پناہ یاد کرتا۔آج بھی اسے یاد تھا کہ جب پہلی بار اس کے محسن نے اسے وجود میں لانے کے لیے اس کا نام ایک خیال کی صورت لیا ۔جو کہ واقعی ایک فکر انگیز خیال تھا جس کے ساتھ ایک عظیم ہستی کا نام جڑا تھا کہ اس عظیم ہستی کی عبادت کے لیے اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے لیے اس کا وجود ناگزیر تھا تا کہ یہاں مسلمان اطمینان سے رہ سکیں اور معاشرے کو اللہ و اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے مطابق ایک پرامن اور اعلیٰ اخلاقیات والا معاشرہ قائم کر کے ایک مثال بنائیں جسے دیکھ کر سب اللہ و رسولﷺ کو اور ان کی تعلیمات کو جان لیں اور خود بخود ان سے محبت میں مبتلا ہو جائیں۔یہ چھوٹا سا فلسفہ تھا جو پاکستان کو حیات دینے کی وجہ بنا۔
یہی مقصدِ حیات اور حیات دینے والے کا لقب "مفکرِ پاکستان" جو خود اسی کے نام پہ رکھا گیا تھا پاکستان کو ہمیشہ فخر میں مبتلا کر دیتی اور اسے ایک خوشی کا احساس دلاتی ۔ہر بار یہ سب سوچتے وہ فخر محسوس کرتا کہ میں وجود میں لایا گیا مگر آج وہ اداس تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کیا میں وہی پاکستان ہوں جس کا خیال میرے محسن نے دیا۔ اللہ کا وہ عزیز بندہ جس نے اسلام کی محبت میں مجھے بنانے کا تصور دیا۔ وہ بندہ جو خیال دے کر پیچھے نہیں ہٹ گیا بلکہ اس نے اپنی شاعری سے میری بنیاد، میرا مقصدِ تخلیق کا تصور ہر ہر مسلمان کے دل میں اجاگر کر دیا۔ کیا میری تخلیق کا مقصد یہی تھا؟
اس نے اپنے اندر جھانکا ۔کہ شاید کوئی امید کی کرن نظر آئے جو اس کی اداسی بھری تھکاوٹ کو ختم کر دے۔ اس کی نظرتاجروں کے ایک گروپ پہ پڑی وہ لوگ بہت عمدہ سامان لیے بیچنے بیٹھے تھے۔ مگر وہ جانتا تھا یہ عمدہ سامان صرف اوپر رکھا ہے نیچے خراب سامان ہے جسے گاہک کو دیتے وقت عمدہ سامان سے بدل دیا جائے گا۔ حالانکہ جس کی اطاعت کی خاطر اسے وجود میں لایا گیا اس نے توسختی سے ایسی دھوکا دہی سے منع فرمایا ہے۔ ایک سرد آہ اس کے دل سے نکلی، اس نے دوسری طرف نگاہ دوڑائی وہاں لوگوں سے بھری ایک بس تھی جو اچانک بچہ سامنے آنے کی وجہ سے اسے بچاتے الٹ گئی۔ اسی منظر کے ساتھ دور سے دوڑتے ہوئے لوگ دکھائی دئیے جو بس والوں کی مدد کرنے بھاگے آ رہے تھے۔وہ خوش ہوا ذرا دیر پہلے والی اداسی ایک د م خوشگواریت میں بدلنے لگی ۔ مگر اگلے ہی لمحے اس جھٹکا لگا کہ ان آنے والوں نے بس سے لوگوں کو نکالا اور ساتھ ہی ان کا سامان اپنے قبضے میں کر لیا۔ عجیب لوٹ مار تھی جو پہلے سے لٹے مسافروں سے کی جا رہی تھی۔ اس کا دل کراہا ۔ کاش وہ ایسے لوگوں کو جھنجھوڑ کر انہیں اپنے وجود کا مقصد یاد دلائے۔ ابھی وہ اپنی بے بسی کو سوچ رہا تھا کہ اسے ایک شخص کی آواز آئی جو نرم لہجہ لیے لوگوں کو ان کا مقصدِ حیات یاد دلا رہا تھا، انہیں اخلاقیات سکھا رہا تھا۔ یہ سن کر پاکستان نے لمبی سانس اندر کو کھینچی جیسے اسے آکسیجن ملی ہو اور وہ اسے اندر اتار لینا چاہتا ہو۔واقعی یہ ا س کی آکسیجن ہی تھی وہ سوچ رہا تھا اگر یہ سب اخلاقیات سیکھ جائیں تو کتنا ہی عمدہ ہو میرے جینےکا ذریعہ بن جائے اور مجھے عمرِ طویل مل جائے ۔ وہ سوچتے ہوئے اس جماعت کو دیکھ رہا تھا جو سب ہمہ تن گوش تھے ۔ بیان کرنے والے کی ہر بات کو سن رہے تھے سراہ رہے تھے اور پاکستان کے لیے سانس لینا آسان سے آسان تر بنا رہے تھے۔ یہاں تک کہ یہ محفل آئندہ عمل کرنے کے وعدوں پہ ختم ہو گئی۔ مگر پاکستان کی نظر مقرر کے پیچھے تھی ، اس کا انداز اور اس کی باتیں پاکستان کے دل میں پیوست ہو گئیں تھیں۔ اب وہ کچھ لمحے اس شخص کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا اس لیے اسی کو فالو کرنے لگا۔ مقرر محفل سے گھر کی طرف گیا مگر یہ کیا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی وہ شگفتہ چہرہ ایک پتھر میں بدل گیا۔ماں جو کب سے اس کا رستہ دیکھ رہی تھی اسےدیکھتے ہی پکاری بھی مگر مقرر نے اس کا حال تک نہ پوچھا اور سیدھا کمرے میں گھس گیا ۔ اسے اپنے کل کے لیکچر کے لیے اخلاقیات پہ نوٹس تیار کرنے تھے ابھی اس نے پہلی کتاب "سیرتِ سرورِ عالم " اٹھائی ہی تھی کہ اس کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ شاید کچھ پوچھنا چاہتی تھی اس نے ابھی زبان کھولی کہ مقرر کی زبان سے گالیوں، طعنوں اور لعنتوں کا ایک سیلاب جاری ہو گیا۔ وہ جو لوگوں کو بیوی سے حسنِ سلوک کا درس دے کر آرہاتھا اب بیوی کو بے وجہ سنا رہا تھا ، اسے اللہ کی طرف سے عذاب قراردے رہا تھا۔اس کے ماں باپ کو گالیاں دے رہا تھا۔ پاکستان کی آنکھوں سے خون کے آنسو نکلنے لگے اس سے یہ منظر دیکھا نہ گیا وہ جو مقرر کا احسان مند ہو چلا تھا اب اسی کی وجہ چور چور ہوئے دل کے ساتھ اپنی بے بسی کو رو رہا تھا اس مقرر نے تو باقی سب کو بھی مات دے دی ۔اس کے ذہن میں اپنے محسن کا شعر گونجا
فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے
شام گہری رات میں ڈل چکی تھی شاید یہ رات واقع رات تھی کہ پاکستان کو اس میں اپنے لیے کوئی روشنی، کوئی کرن نظر نہیں آ رہی تھی۔ وہ انہی لوگوں کو یاد کر رہا تھا جنہوں نے خود اپنے تزکیہ کی طرف سب سے پہلے توجہ کی۔ وہ جنہوں نے خود سے بڑھ کر دوسروں کے لیے سوچا ۔ وہ جو دوسرے مذاہب کے ساتھ رہ کر مشکل حالات میں بھی ایمانداری سے کام کرتے رہے۔ آج پھر نومبر میں کرب میں مبتلا پھر کسی اقبال کی پیدائش کا منتظر اسی کی تلاش میں تھا جو لوگوں کا خون گرمائے ۔ اسی خواہش کو دل میں لیے وہ اللہ کے آگے گڑگڑانے لگا، فریاد کرنے لگا، آنسوؤں سے (جو آکسیجن کی کمی کے باعث رک نہیں رہے تھے) اپنے لیے آکسیجن مانگنے لگا۔
اے اللہ! اقبال کو پھر سے پیدا کر جو اس چھوٹی سی جماعت کو خوابِ غفلت سے جگائے جو میرا مقصدِ حیات سب کو سمجھائے، تا کہ اخلاقیات عام ہو جائیں اور منافقانہ روش ختم ہو جائے۔ تا کہ اقبال پھر سے کہے
سلا م ان پہ تہہ تیغ جنہوں نے کہا
جو تیرا حکم جو تیری رضا جو تو چاہے
اے اللہ ! پھر سے مفکر ِ پاکستان پیدا کر۔ جو لوگوں کے دلوں میں اعشقِ الہی جگائے جو آتشِ عشق رسول جگائے۔ اور ہر نفس کو کہے
خودی میں گم ہے خدائی تلاش کر غافل
یہی ہے تیرے لئے اب صلاح کار کی راہ
اے اللہ! مجھے پھر سے وہ اقبال دے جو ان لوگوں کو خواہشِ نفس سے آزاد ہو کر اللہ کی قربت کا درس دے۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اے اللہ! پھر سے اس قوم کو انہیں میں سے اقبال دے جو نفس میں ڈوبے لوگوں کو ان کا اصل ، ان کی خصوصیات یاد دلائے کہ وہ ان خصوصیات کو اپنے اندر پیدا کر لیں جو گفتار میں عظیم ہو ں تو کردار میں عظیم تر، جنہیں دیکھ کر میرے ساتھ سارا جہاں فخر سے کہے
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
اے اللہ!پھر سے اقبال دےجو عوام کی طرح خواص (امیرِ آشیانہ،امیرِ جماعت، امیرِ سلطنت ) کو بھی ذمہ داریاں اور خصوصیات ان الفاظ میں بتائے
نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
پاکستان سجدے میں گرا تھا، گڑگڑا رہا تھا، ضرورتِ اقبال کےپیشِ نظر اللہ سے مسلسل دعا گو تھا ۔
آئیے ہم بھی پاکستان کا ساتھ دیں۔اسے آکسیجن مہیا کریں۔ دوسروں کے تزکیہ سے پہلے خود اپنا تزکیہ کریں۔ آئیے رشوت ، سود، بے ایمانی و بداخلاقی سے خود کو دور کر لیں ۔ تا کہ ہمارے پاکستان کو ہم پہ فخر ہو۔آئیے مظلوموں، بے کسوں، یتیموں اور مسکینوں کا حق ضبط کرنا چھوڑ دیں تا کہ پاکستان خون کے آنسو نہ روئے۔ آئیے ایک دوسرے کی بحیثیت انسان عزت کریں، ہر رشتہ کو اس کے حقوق دیں تا کہ پاکستان کا دم نہ گھٹے۔آئیے دوسروں کی مدد کریں، دوسروں کو معاف کریں ، دوسروں کی غلطیوں اور خرابیوں کو نظر انداز کریں تا کہ پاکستان کے آنسو رک جائیں۔آئیے مفکرِ پاکستان کی سوچ کو سمجھیں اور اخلاقیات کو اپنے فعل و عمل سے عام کر دیں ۔تا کہ پاکستان کبھی خود سے شرمندہ ہو کر یہ نہ پوچھے کیا میں ہوں مفکرِ پاکستان کا پاکستان؟
22/04/2021
For delicious & easy recipies subcribe our channel
https://youtube.com/channel/UChNSNoldnP8aZp1OTH0_8ew
Kindly subcribe it and send me screenshot after subscription... i m very grateful to you
food miracles - YouTube
Welcome to our channels food miracles. This channel offers a variety of healthy and delicious food recipes including continental, oriental, Turkish, European...
18/02/2019
ایک زمانہ تھا مسلم گالی دینے والے کو غلط سمجھتے تھے کیوں کہ یہ اللہ کو پسند نہیں تھا۔
اب زمانہ آیا کہ میڈیا پہ ہر طرف سے ایک یلغار سی ہے کہ گالی نہ دی تو دوستی نہیں۔
(کیا یہ اخلاقیات پہ حملہ نہیں کہ اب مسلمان کی زبان پر گالی زدعام کروائی جا رہی۔ اور اسے frankness اور دوستی سے تعبیر کیا جا رہا تاکہ چند ایسے لوگ جن کی زبانیں گالی گلوچ سے بچی ہوئیں تھیں ان کو اس راہ پہ ڈالا جا رہا۔
اللہ معاف کرے ایسی دوستی اور frankness جہاں رشتے کی گہرائی کا اظہار گالی سے کرنا پڑے )
از: عدیلہ کوکب
30/03/2018
دل تھا پہلو میں تو کہتے تھے تمنا کیا ہے
اب وہ آنکھوں میں تلاطم ہے کہ دریا کیا ہے
30/03/2018
دل کے زخموں کو بھی ممکن ہو تو دیکھو ورنہ
چاند سے چہرے بہت پھول سے رخسار بہت
قیس رامپوری
17/04/2017
جناب وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف صاحب
السلامُ علیکم
آپ کے تمام ترقیاتی کاموں کو سراہنے والا میں محمد عاطف آپ سے التماس کرتا ہون، کہ برائے کرم میٹرو سٹیشنز پر ہونے والی غیر اخلاقی سرگرمیوں اور چوریوں کا نوٹس لیا جائے۔
شاہدرہ میٹرو اسٹیشن پر ہر سوموار والے دن انتہائی رش ہونے کی وجہ سے عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، ہاتھ چلاکی اور جان بوجھ کر دھکم پیل دیکھی جاتی ہے۔ شاید آپ کے نوٹس میں یہ بات نہ ہو، اس کے لیے کوئی اہتمام کر دیا جائے۔ کہ جس کی وجہ سے مرد حضرات الگ اور عورتیں الگ ہو سکیں۔
دوسرے نمبر پر پچھلے تین دن سے پرس نکلنے ، پیسے نکلنے کے واقعات بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔ 14 اپریل کو بروز جمعۃ المبارک ایک لڑکی کا پرس نکل گیا جس کے لیے وہ بار بار کہہ رہی تھیں کہ اُس میں میرے ATM کارڈ اور شناختی کارڈ ہی ضروری ہیں وہ مجھے دے دو بھلےپیسے نہ واپس کرو۔ 15 اپریل بروز ہفتہ کو ایک لڑکی کا چار ہزار روپیہ پرس سمیت نکل گیا، اور آج ایک جوڑے کا دس ہزار روپیہ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بےچارے گلاب دیوی یا چلڈرن ہسپتال جانے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں۔ اس کا کچھ سدِ باب کیا جائے۔ میٹرو کی سیکیوڑی یہاں ناکارہ سمجھی جا رہی ہے۔
ہم نہیں چاہتے کہ لاہور کے ترقیاتی کاموں پر پھر سے انگلیاں اُٹھائی جائیںَ شکریہ
سپورٹر ن لیگ
محمد عاطف
PLEASE SHARE