05/06/2026
جب دنیا کے عارضی کاموں کے لیے ہر مسافر کا ایک مقصد متعین ہے، تو اے مٹی کے پردے میں چھپے انسان! ذرا ٹھہر... اور خود سے پوچھ کہ تیرے اس متناہی سفرِ حیات کا اصل مقصد اور آخری منزل کیا ہے؟ کیا تو محض راستے کے مناظر میں کھو گیا یا تجھے اس منزلِ مقصود کی بھی فکر ہے جہاں تجھے اپنے خالقِ حقیقی کے روبرو کھڑے ہونا ہے؟
05/06/2026
عام انسان جس موت کے نام سے کانپ اٹھتا ہے، وہ ایک سچے عاشق اور صوفی کے لیے اس پل کی مانند خوش آئند ہے۔ جہاں دنیا دار کے لیے یہ ایک انتہا ہے، وہاں اہلِ دل کے لیے یہ اس ابدی سچائی کا آغاز ہے جسے یوں بیان کیا گیا ہے:
"اَلْمَوْتُ جِسْرٌ يُوصِلُ الْحَبِيبَ إِلَى الْحَبِيبِ"
(موت تو بس ایک پل ہے، جو ایک دوست کو اس کے سچے دوست سے ملا دیتا ہے)
19/04/2026
ایک سالہ عربی بول چال کا کورس
05/03/2026
مدینے کی رات ہے… چاند آسمان پر ٹھہرا ہوا ہے اور صحنِ مسجدِ نبوی نور میں ڈوبا ہوا ہے۔
اسی سکون بھری فضا میں قاری صاحب خاموشی سے بیٹھے ہیں، جیسے دل کے سارے سوال اسی در پر لا کر رکھ دیے ہوں۔
ان کی نگاہیں اس سمت میں ہیں جہاں دل بار بار کھنچتا ہے۔
ہونٹ خاموش ہیں مگر دل میں درود کی ایک مسلسل لہر چل رہی ہے۔
مدینے کی اس رات میں بیٹھ کر انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے
کہ محبتِ رسول ﷺ صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک درد ہے—
ایسا درد جو آنکھوں کو نم بھی کر دیتا ہے اور دل کو سکون بھی دے دیتا ہے۔
قاری صاحب یوں بیٹھے ہیں
جیسے ایک مسافر اپنے محبوب کے در پر آ کر ٹھہر گیا ہو…
اور دل کہہ رہا ہو:
*یا رسولَ الله ﷺ، یہاں سے اٹھنے کو جی نہیں چاہتا
05/03/2026
اُحد کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی
دل میں ایک عجیب سی ہیبت اور محبت اکٹھی اُترتی ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں
شجاعت کی انتہاء ہوئی
اور وفا نے لہو سے تاریخ لکھی تھی۔
حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ —
جنہیں سیدالشہداء کہا گیا،
یہاں آرام فرما ہیں۔
مزار کے قریب کھڑے ہو کر
انسان اپنے قد کو بہت چھوٹا محسوس کرتا ہے۔
سوچتا ہے—
کیسی ہوگی وہ گھڑی
جب حق کی خاطر جان پیش کر دی گئی؟
اُحد کی ہوائیں آج بھی گواہی دیتی ہیں
کہ محبتِ رسول ﷺ صرف لفظ نہیں،
قربانی کا نام ہے۔
وہاں حاضری میں
کوئی شور نہیں ہوتا،
بس دل میں ایک عہد تازہ ہوتا ہے—
کہ ہم بھی اپنے ایمان کو
صرف دعویٰ نہیں، عمل بنائیں گے