Al Hidayah Islamic School - More Khunda Campus

Al Hidayah Islamic School -  More Khunda Campus

Share

Education according to Islamic Traditions

16/01/2026
14/01/2026

سوال:
جماعت ششم کے بچے بدتمیزی کرتے ہیں، باتیں کرتے رہتے ہیں اور خاموش نہیں ہوتے۔ ایسی صورت میں ایک استاد کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب:
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جماعت ششم کے بچے ذہنی اور جذباتی طور پر ایک انتقالی مرحلے میں ہوتے ہیں۔ وہ پرائمری سے نکل کر مڈل لیول میں آتے ہیں، خود کو بڑا سمجھنے لگتے ہیں، توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور حدود آزمانا ان کی فطرت کا حصہ ہوتا ہے۔ اس لیے بدتمیزی اور شور کو صرف ضد یا نافرمانی نہ سمجھیں بلکہ ایک تربیتی مسئلہ سمجھ کر حکمت کے ساتھ نمٹیں۔
سب سے مؤثر قدم یہ ہے کہ کلاس کے واضح، سادہ اور محدود رولز خود بچوں کی شمولیت سے بنوائیں۔ مثلاً “جب ٹیچر بولے تو ہم خاموش ہوں گے”، “ایک وقت میں ایک ہی بچہ بات کرے گا”، “بدتمیزی پر پہلے وارننگ ہوگی پھر نتیجہ”۔ یہ رولز بورڈ پر لکھ کر لگائیں اور ہر چند دن بعد دہرائیں۔ جب بچے رول بنانے میں شامل ہوتے ہیں تو وہ ان پر عمل بھی زیادہ کرتے ہیں۔
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ کلاس میں آواز نہیں، رویہ مضبوط ہونا چاہیے۔ چیخنے یا بار بار ڈانٹنے سے وقتی خاموشی آتی ہے مگر احترام ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بجائے پرسکون مگر مضبوط لہجے میں بات کریں، آنکھوں سے رابطہ رکھیں، اور شور کرنے والے بچے کے قریب جا کر کھڑے ہو جائیں۔ اکثر بچے صرف اس عمل سے ہی خاموش ہو جاتے ہیں۔
تیسرا قابلِ عمل حل یہ ہے کہ بدتمیزی کرنے والے بچوں کو پوری کلاس کے سامنے ذلیل نہ کریں۔ ایسا کرنے سے وہ مزید ضدی اور باغی ہو جاتے ہیں۔ بہتر ہے کہ کلاس کے بعد یا پیریڈ کے آخر میں علیحدگی میں بات کریں، ان کا مؤقف سنیں، اور واضح کریں کہ رویہ قابلِ قبول نہیں مگر بچہ قابلِ احترام ہے۔ اس طریقے سے آہستہ آہستہ رویے میں بہتری آتی ہے۔
چوتھا اہم پہلو تدریسی طریقہ ہے۔ جماعت ششم کے بچے یک طرفہ لیکچر جلدی برداشت نہیں کرتے۔ اگر کلاس میں مسلسل شور ہے تو اس کا مطلب اکثر یہ ہوتا ہے کہ بچے بور ہو رہے ہیں۔ سوال جواب، مختصر سرگرمیاں، بورڈ ورک میں بچوں کی شمولیت، اور مثالوں کو بچوں کی زندگی سے جوڑنا کلاس کو کنٹرول میں رکھنے میں بہت مدد دیتا ہے۔
پانچواں نکتہ یہ ہے کہ مثبت رویے کو فوراً سراہیں۔ جو بچے خاموش بیٹھے ہوں، کام مکمل کریں یا بدتمیزی نہ کریں، ان کی تعریف کریں۔ مثال کے طور پر “مجھے اچھا لگا کہ آج پچھلی بینچ خاموش ہے”۔ اس سے دوسرے بچے بھی وہی رویہ اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سزا سے زیادہ مثبت تقویت (positive reinforcement) دیرپا اثر رکھتی ہے۔
آخر میں، مستقل مزاجی سب سے اہم ہے۔ اگر آج بدتمیزی پر نظر انداز کیا اور کل سختی کی تو بچے کنفیوز ہوں گے۔ جو اصول طے کریں، ان پر نرمی کے بغیر مگر عزت کے ساتھ عمل کروائیں۔ یاد رکھیں، جماعت ششم کے بچوں کو کنٹرول نہیں بلکہ رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، اور جب استاد مضبوط مگر مہربان ہو تو یہی بچے سب سے زیادہ تعاون کرنے والے بن جاتے ہیں۔
(منصور اختر غوری)

#تعلیم #منصوراخترغوری

13/01/2026

Offer se faida othaien

Photos from Al Hidayah Islamic School -  More Khunda Campus's post 01/01/2026

نیا سال نئی کامیابیاں نئی امیدیں نیا جذبہ
#2026

30/12/2025

بچوں کی نفسیات: بچوں کی بہترین تربہت کے اصول
عبدالحکیم عبدالصمد صارم الازہری

اگر ہم بچوں کی نفسیات کو اچھی طرح سمجھ لیں تو ان کی صحیح طور پر پرورش کر سکتے ہیں، ان کی جسمانی اور دماغی طاقتوں کو بڑھا سکتے ہیں، ان کی مشکلات کو کم کر سکتے ہیں، اور ایک اچھی نسل پیدا کر سکتے ہیں جو ملک و قوم اور خاندان کے لیے باعثِ فخر ہو۔ ہر بچہ خواہ وہ کیسا ہی سیدھا سادا بے وقوف ہو، صحیح تربیت سے ایک بڑا آدمی بن سکتا ہے کیونکہ ہر بچے میں پیدائشی طور پر پوری صلاحیت ہوتی ہے، مگر بعض بچے ان سے کام نہیں لے سکتے لہٰذا ان پر زنگ چڑھ جاتا ہے، اگر صحیح تربیت کی جائے تو اس کے چھپے ہوئے جواہر چمکنے لگتے ہیں۔ بچے پر ماحول کا بڑا اثر پڑتا ہے، وہ جو کچھ اپنے ماحول میں دیکھتا ہے اس کی نقل کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ نقل ہی کر سکتا ہے۔ جن بچوں کو اچھا ماحول میسر آجاتا ہے وہ ہونہار بن کر اٹھتے ہیں اور جنہیں اچھا ماحول نہیں ملتا وہ خراب ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ بعض خراب بچے اچھا ماحول ملنے سے بڑے ہونہار بن کر اٹھتے ہیں۔

مارنا برا ہے
اگر ہم اپنے بچوں کی صحیح تربیت کریں تو معمولی ذہن کے بچے بھی بڑے ہو کر ملک و قوم کے اچھے خادم بن سکتے ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم بچوں کی صحیح تربیت کرنا نہیں جانتے۔ اب بزرگوں کا وہ قول بالکل غلط ثابت ہو چکا ہے کہ اچھی تربیت کے لیے بچوں کو مارنا بہت ضروری ہے۔ مارنے سے بچے کبھی درست نہیں ہوتے، ضدی بن جاتے ہیں اور صرف ڈر اور خوف کے وقت تو مجبوراً‌ اچھے کام کرتے ہیں مگر جب کسی کا ڈر نہیں ہوتا تو ہمیشہ برے کاموں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

نرمی
بچوں کی تربیت نرمی سے کرنی چاہیے۔ ہر وقت کی روک ٹوک سے بچے ضدی ہو جاتے ہیں اور انہیں اچھے ماحول سے نفرت ہو جاتی ہے۔ بچوں کو نیکی کی طرف اس طرح مائل کرنا چاہیے کہ انہیں یہ احساس نہ ہو کہ ہم پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ پھر اگر وہ کوئی اچھا کام کرتے ہیں تو اس کی تعریف کرنی چاہیے، اس طرح وہ اچھائی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اگر کوئی برا کام کرتے دیکھو تو مارو نہیں، سختی نہ کرو، پیار و محبت سے سمجھا دو۔ ورنہ وہ تم سے چھپ کر ضرور اسی طرح کرے گا اور اس طرح اس کا دل بدی کی طرف مائل ہو جائے گا۔ بچہ اگر چھپ کر کوئی غلط کام کر رہا ہو تو تھوڑی چشم پوشی بھی کرنی ضروری ہوتی ہے۔

صحیح تربیت
یورپ کے مختلف ماہرینِ تعلیم و نفسیات نے اس مقولے کو بالکل غلط ثابت کر دیا ہے کہ بچے کے لیے قمچی اٹھانا ضروری ہے۔ ہمارا عمل ہمیشہ سے اس مقولے کے مطابق رہا ہے اور برسوں کی عادت نے ہماری طبیعت میں اس اصول کو راسخ کر دیا ہے۔ ہم نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ بچہ فطرتاً‌ معصوم ہوتا ہے اور اشرف المخلوقات کا ایک فرد ہے۔ جب تک بچے کے نفسیات اور جسمانی بناوٹ پر غور کر کے اس کی تربیت نہیں کی جائے گی قوم و نسل کی بہبود کی توقع فضول ہے۔ اگر ہم اصول کی پابندی کریں تو ہماری آنے والی نسل پچھلی نسل سے بہتر ہو گی اور تیسری نسل یقیناً‌ تمام خوبیوں سے آراستہ ہو گی۔ ہر دماغ کے اندر سوئی ہوئی ذہانت موجود ہوتی ہے۔ ہر بچہ ایک قوت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اگر اسے ترقی دی جائے تو وہ غیر معمولی ذہانت والا بن سکتا ہے۔ یہ خیال کرنا کہ بچے کی تربیت کا بیڑا چھ یا آٹھ سال کی عمر کے بعد اٹھانا چاہیے۔

دلچسپی
دماغ پر بار اس وقت پڑتا ہے جب غیر دلچسپ چیزیں زبردستی دماغ میں بھر دی جاتی ہیں۔ انسانی دماغ دلچسپ چیزوں کے قبول کرنے، قائم رکھنے، اور انہیں اور زیادہ دلچسپ چیزوں میں تبدیل کرنے کی غیر معمولی قابلیت رکھتا ہے۔ اس لیے مسلسل اور مستقل دلچسپی پیدا کر کے دماغ کو بہت وسیع کیا جا سکتا ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ پیمانے پر اس کی تربیت کی جا سکتی ہے، اور اس پر مطلق بار پڑنے یا اکتا جانے کا اندیشہ نہیں ہو گا۔

طریقۂ گفتگو
بچوں سے گفتگو کے دوران میں صرف ان باتوں پر زور دینا چاہیے جن کی فضیلت مسلّم ہو۔ جہاں تک ہو سکے کمزور پہلو کو اڑا دینا چاہیے، اگر ممکن نہ ہو تو یہ ضرور کہہ دیا جائے کہ یہ اہم نہیں ہے۔

بد اثرات
بچے کا احساس ہر ایسے اثر کے لیے بہت حساس ہوتا ہے جو اس کے شعور پر اثر کرتا ہے۔ اور جو بھی اثر اس کے دماغ پر پڑ جاتا ہے ساری عمر قائم رہتا ہے اور بغیر خاص کوشش کے دور نہیں ہوتا۔ ہر اثر ایک میلان پیدا کرتا ہے اور ہر میلان بچپن میں راسخ ہو جاتا ہے اور دماغ پر برسوں یا عمر بھر اثر انداز رہتا ہے۔ اگر یہ میلان برا ہوتا ہے تو بچے کی ترقی میں رکاوٹ بن جاتا ہے اور اس کے ہر کام میں خلل ڈالتا ہے۔ گو بڑے ہو کر بعض بچے اس پر قابو پا لیتے ہیں پھر بھی انہیں بڑی دشواری ہوتی ہے، اس لیے ایسے میلان کو شروع ہی میں روک دینا چاہیے۔ ابتدا میں ایسے اثر کا دور کرنا آسان ہوتا ہے، بعد میں بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

بچوں کو برا نہ کہو
گھر والے اکثر بچوں سے کہا کرتے ہیں، تم شریر ہو، تم برے آدمی ہو۔ ایسا ہرگز کبھی بھولے سے بھی نہیں کہنا چاہیے۔ اکثر ماں باپ اپنے آوارہ بچوں کے ہاتھوں صرف اس لیے پریشان ہیں کہ انہوں نے بار بار اور زور کے ساتھ برائی کا خیال ان کے ذہن نشین کیا تھا۔ ہنسی ہنسی میں بھی اگر بچے سے بار بار کہا جائے کہ تم شریر ہو، تم برے آدمی ہو، تو وہ اس کا یقین کر لے گا۔ جب کسی کو یقین آجائے کہ وہ برا آدمی ہے تو برائی کا خیال ہر وقت اس کے دل میں رہتا ہے اور اس کے اندر برے خیالات اور بری خواہشات پیدا ہو جاتی ہیں، جن کا نتیجہ برے اعمال و افعال ہوتے ہیں، ہمیشہ انسان کے دل میں برے خیالات پیدا ہوتے ہیں اور پھر برے اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ برے خیالات اسی دماغ میں پیدا ہوتے ہیں جسے برا ہونے کا یقین دلایا گیا ہو۔

سیرت کی تعمیر
بچے کی سیرت کی درستی کے لیے اس کے دماغ کو ہمیشہ نیک کاموں، خوش خلقی، سچائی، خوبصورتی، اور بلند خیالات سے معمور رکھنا چاہیے اور ہمیشہ مخالف اثرات سے محفوظ رکھنا چاہیے۔ بچے کو اس برائی کا یقین دلانا اس کے دماغ میں زہریلا بیج بونا ہے۔ دنیا میں بچہ فطرتاً‌ نیک پیدا گیا ہے۔ وہ باوجود بری تربیت کے بدی سے زیادہ نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بچہ برا نہیں ہوتا۔ اگر اس کے افعال برے نہیں ہوتے تو اس کا سبب عموماً‌ خراب تربیت ہوتا ہے، جسمانی قوت کو بے جا صَرف کرنا ہوتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ بعض بچے پیدائشی طور پر برے رجحانات رکھتے ہوں مگر انہیں غلط تربیت سے قوی ہونے کا موقع نہ دیا جائے۔ ایسے بچوں کو شریر یا برا کہنا گویا جلتی پر تیل ڈالنا ہے۔ اگر تم بچے کو اس بات کا یقین دلاؤ گے کہ عمدہ اخلاق کا اس کے اندر وجود ہے اور وہ اچھا انسان بننے کی قوت رکھتا ہے، بلکہ وہ حقیقت میں اچھا ہے، تو چند سال کے عرصہ میں اپنی اصلاح کر لے گا۔

بچے کو کوئی کام بتاؤ تو پہلے اسے اس کے فائدے بتا دو اور زبردستی نہ کرو۔ بچے کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ اس کی دماغی قوتیں بھی بڑھتی رہتی ہیں۔ اگر ان طاقتوں کی تربیت کی طرف توجہ (نہ) کی جائے تو مردہ ہونے لگتی ہیں۔ جو بچہ ادنیٰ معیار پر رہ جاتا ہے، صرف اس وجہ سے رہ جاتا ہے کہ اس کی طرف سے غفلت برتی گئی، ورنہ وہ بھی بڑا آدمی بن سکتا تھا۔

بچے کی بہترین فطری قوتوں کو ترقی دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دیکھیں کہ اس کی طبیعت کن باتوں کی طرف مائل ہے، انہی چیزوں کی ترقی کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ماں باپ ایسا نہیں کرتے تو انہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کے ساتھ سختی برتیں، یا اسے اس طرح کے کاموں پر سزا دیں۔ سزا بدی کو دبا سکتی ہے، نیکی کی طرف مائل نہیں کر سکتی۔ نیکی تو بچے کو صحیح راستے پر ڈالنے ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر بچے کے طبعی رجحان کو دیکھ کر اس کے رجحان کے مطابق اسے اسی قسم کے کھیلوں اور کاموں میں لگایا جائے تو اس کے چھپے ہوئے جوہر نکھرتے ہیں اور وہ شرارت سے باز رہتا ہے۔ بچے شرارت اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں ان کی طبیعت کے مطابق چیزیں نہیں ملتیں۔

کام لینا
یہ خیال کہ بچے سے کوئی کام نہ لیا جائے بس کھیلنے ہی دیا جائے، بالکل غلط ہے۔ بچوں سے ان کی ذہنیت کے مطابق کام لینا چاہیے۔ اگر وہ اچھائی سے اسے انجام دیتے ہیں تو ان کی تعریف کرنی چاہیے۔ اور اگر خراب کرتے ہیں تو نرمی سے بتانا چاہیے اور حوصلہ بڑھانا چاہیے۔ ایسا کام جو بچے کی طبیعت کے مطابق نہ ہو، زیادہ نہیں لینا چاہیے، اس لیے کہ وہ اکتا جائے گا۔ کام کا انتخاب اور وقت کا تعین بچے کی مرضی پر چھوڑ دینا چاہیے۔ امید رکھنی چاہیے کہ بچہ آپ کی ہدایت کے مطابق کام کرے گا۔ اگر ایسا نہیں کرتا تو اس سے بدظن نہ ہونا چاہیے کیونکہ ہر بچہ بڑوں کی ہدایات پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے، کبھی کبھی غلطی بھی کر جاتا ہے۔

قوتِ خیال کی تربیت
ہماری دماغی قوتوں میں سب سے اہم قوتِ خیال ہے اور ہر بچہ عظیم قوتِ خیال کا مالک ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس کی قوتِ خیال کی اس طرح تربیت کریں کہ وہ آگے چل کر ایک بڑا آدمی بن سکے۔ کسی بھی قوت کو غیر صحیح مقصد کے لیے استعمال کرنا اس قوت کو کمزور کر دیتا ہے۔ جن بچوں کو خوفناک چیزوں سے ڈرایا جاتا ہے ان کی یہ قوت کمزور پڑ جاتی ہے۔ بچوں کی قوتِ خیال کو تربیت دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انہیں نیک، اچھے اور بڑے لوگوں کے قصے سنائے جائیں، اس طرح بچے کی قوتِ خیال صحیح طور پر پرورش پاتی ہے۔

بچے کے احساسات
ہر بچہ ایسے احساسات رکھتا ہے جو معمولی ذہانت سے بلند ہوتے ہیں۔ مگر ہم لوگ احساس نہیں کرتے اور ان کی قوتِ احساس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اکثر (بچوں) میں یہ احساسات ترقی کے محتاج ہوتے ہیں، تربیت نہیں کی جاتی تو ضائع ہو جاتے ہیں۔

بچے نقال ہوتے ہیں
بچہ فطرتاً‌ نقال واقع ہوا ہے۔ اس کے اندر دوسروں کے کہنے پر عمل کرنے سے زیادہ دوسروں کو کرتا دیکھ کر خود بھی ویسا ہی کرنے کا میلان پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے جو لوگ بچوں کے ساتھ اکثر رہتے ہوں انہیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے اخلاق و عادات، اپنا مزاج اور اپنے اشغال ویسے ہی بنائیں جیسے بچے کے اندر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہر وہ چیز جو بچے کے پیش نظر رہے، اعلیٰ قسم کی ہونی چاہیے۔ دیکھو، جو چیز ہر وقت ہمارے سامنے رہتی ہے اس کا ایک خاص اثر ہمارے اوپر ہوتا ہے، لہٰذا بہترین ماحول پیدا کرنا عین مصلحت ہے۔

ماحول کا اثر
ماحول کی ہر شکل و صورت ہمارے دماغ پر اثر کرتی ہے اور ہر اثر جو بچے کے دماغ پر ہوتا ہے ایک اہمیت رکھتا ہے، اگر فوراً‌ اثر نہیں ہو گا تو انجام کار ہو کر رہے گا۔
(ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور ۔ ۸ اکتوبر ۱۹۸۸ء)

انتخاب: محمد کامران خالد

#2025シ #تعلیم

25/12/2025

Qaid Day

22/12/2025

سوال:
میری 13 سالہ بچی جماعت ہفتم میں پڑھتی ہے، اس کی ریڈنگ اور سمجھ بہت کمزور ہے، پڑھائی میں بالکل دلچسپی نہیں لیتی، بہت زیادہ ہائپر ہے، زبردستی بٹھانے پر بھاگنے کی کوشش کرتی ہے یا پنچ کرتی ہے، اس کے کانسیپٹ کلئیر نہیں ہوتے، MCQs اور ریزننگ والے سوالات حل نہیں کر پاتی اور رائٹنگ بھی خراب ہے۔ ایسی صورت میں میں کیا کروں اور کہاں سے آغاز کروں؟

جواب:
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ مسئلہ صرف پڑھائی کا نہیں بلکہ سیکھنے کے انداز اور ذہنی کیفیت کا ہے۔ 13 سال کی عمر میں اگر بچی حد سے زیادہ ہائپر ہو، پڑھائی سے بھاگے اور زبردستی پر منفی ردِعمل دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے موجودہ طریقہ بالکل غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ اس مرحلے پر دباؤ، ڈانٹ یا زبردستی اس مسئلے کو مزید بگاڑ دیتی ہے۔ پہلا قابلِ عمل قدم یہ ہے کہ پڑھائی کو وقتی طور پر “جنگ” نہ بنایا جائے بلکہ اعتماد بحال کیا جائے۔
ریڈنگ اور سمجھ بوجھ بہتر کرنے کے لیے لمبے اسباق یا پورے چیپٹر سے ہرگز آغاز نہ کریں۔ روزانہ صرف 5 سے 10 منٹ کا ہدف رکھیں اور وہ بھی بہت آسان مواد کے ساتھ۔ ایک چھوٹا پیراگراف، ایک مختصر کہانی یا دو سے تین جملے پڑھوائیں، پھر اس سے سوال نہ کریں بلکہ اس سے کہیں کہ “جو سمجھ آیا وہ اپنے الفاظ میں بتاؤ”۔ اگر وہ ایک آدھ جملہ بھی بول دے تو اسے کامیابی سمجھیں۔ سمجھ آہستہ آہستہ بڑھے گی، مگر شرط یہ ہے کہ خوف ختم ہو۔
چونکہ بچی ہائپر ہے، اس لیے اسے زیادہ دیر بٹھانا نقصان دہ ہوگا۔ پڑھائی کو حرکت کے ساتھ جوڑیں۔ مثال کے طور پر MCQs یا سوالات کاغذ پر لکھنے کے بجائے زبانی کروائیں، جواب بتانے پر بورڈ پر نشان لگانے دیں، یا صحیح جواب پر کھڑے ہونے، غلط پر بیٹھنے جیسی سرگرمیاں شامل کریں۔ اس سے اس کی توانائی ضائع نہیں ہوگی بلکہ سیکھنے میں استعمال ہوگی۔
کانسیپٹ کلئیر کرنے کے لیے رٹّا بالکل بند کریں۔ ہر موضوع کو روزمرہ مثال سے جوڑیں۔ اگر سائنس ہے تو گھر کی چیزوں سے، اگر سوشل اسٹڈیز ہے تو اپنے علاقے، گھر یا اسکول سے۔ ایک کانسیپٹ کو تین سوالوں میں سمجھائیں: یہ کیا ہے، یہ کیوں ہے، اور یہ کہاں استعمال ہوتا ہے۔ یہی بنیاد آگے جا کر ریزننگ والے سوالات میں مدد دے گی۔
MCQs اور آبجیکٹو حل نہ ہونے کی بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بچہ سوال پڑھنا ہی ٹھیک سے نہیں جانتا۔ اس کے لیے ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ پہلے سوال اونچی آواز میں پڑھوائیں، پھر اس سے کہیں کہ سوال کو اپنے لفظوں میں دوبارہ بولے۔ اس کے بعد آپ آپشنز پڑھیں اور ایک ایک کر کے یہ پوچھیں کہ یہ کیوں صحیح یا غلط ہو سکتا ہے۔ شروع میں وقت زیادہ لگے گا، مگر یہی عمل ذہنی سوچ کو تربیت دیتا ہے۔
رائٹنگ کی خرابی کو ابھی خوبصورتی یا رفتار سے نہ جوڑیں۔ پہلے سوچ کو لکھنا سکھائیں۔ روزانہ صرف 3 سے 4 سادہ جملے لکھوائیں، چاہے وہ غلط ہوں۔ بعد میں ایک ایک غلطی درست کریں، سب ایک ساتھ نہیں۔ بہتر ہوگا کہ پہلے لائنوں پر ٹریسنگ، پھر کاپی کرنے اور آخر میں خود لکھنے کا مرحلہ اپنایا جائے۔ تعریف ہر حال میں ضروری ہے، ورنہ بچی لکھنے سے مزید نفرت کرے گی۔
آخر میں ایک بہت اہم بات، اگر یہ رویّے بہت شدید ہیں جیسے بار بار بھاگنا، خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانا، تو کسی چائلڈ سائیکالوجسٹ یا تعلیمی کونسلر سے ایک نشست ضرور کروائیں۔ یہ ناکامی نہیں بلکہ سمجھ داری ہے۔ صحیح رہنمائی کے بعد اکثر بچے حیرت انگیز بہتری دکھاتے ہیں۔ یاد رکھیں، مسئلہ بچی میں نہیں، طریقے میں ہے، اور طریقہ بدلا جائے تو نتیجہ بھی بدل جاتا ہے۔
(منصور اختر غوری)

#منصوراخترغوری #تعلیم

16/12/2025

کَہوٹ (Kahoot!)

کہوٹ ایک آن لائن اے آئی سپورٹڈ لرننگ اور اسیسمنٹ ٹول ہے، جسے 2013 میں ناروے میں متعارف کروایا گیا۔ اسے یونیورسٹی آف ناروے آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین اور ایک تعلیمی ٹیکنالوجی ٹیم نے مل کر بنایا۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ کلاس روم میں سوال جواب کے عمل کو بوریت سے نکال کر دلچسپی، مقابلے اور فوری ردِعمل سے جوڑا جائے۔
روایتی کلاس میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سوال استاد پوچھتا ہے اور جواب چند بچے ہی دیتے ہیں۔ باقی خاموش رہتے ہیں، یا ڈرتے ہیں کہ غلط جواب نہ ہو جائے۔ کہوٹ اس ماحول کو بدل دیتا ہے۔ اس ٹول میں ہر بچہ بیک وقت جواب دیتا ہے، کسی کا مذاق نہیں بنتا، اور سیکھنا ایک خوشگوار تجربہ بن جاتا ہے۔
عملی تدریس کی مثال دیکھیں۔ فرض کریں جماعت ششم میں “افعال” پڑھائے گئے ہیں۔ استاد کہوٹ میں پانچ سے سات سوالات پر مشتمل ایک مختصر کوئز بنا لیتا ہے۔ کلاس میں استاد اسکرین پر سوال دکھاتا ہے اور بچے اپنے موبائل یا استاد کے ایک ہی ڈیوائس پر باری باری جواب دیتے ہیں۔ ہر سوال کے بعد فوراً اسکرین پر دکھائی دیتا ہے کہ کتنے بچوں نے درست جواب دیا۔ یہی فوری فیڈبیک بچوں کو مزید متوجہ کرتا ہے۔
جہاں ہر بچے کے پاس موبائل دستیاب نہیں، وہاں بھی کہوٹ استعمال ہو سکتا ہے۔ استاد بچوں کو گروپس میں تقسیم کر سکتا ہے اور ہر گروپ ایک جواب منتخب کرتا ہے۔ اس طرح مقابلہ بھی رہتا ہے اور وسائل کی کمی بھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ نان فارمل اسکولوں میں یہ طریقہ خاص طور پر مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
کہوٹ صرف امتحان لینے کا ٹول نہیں بلکہ سبق کی تکرار اور ذہن سازی کے لیے بھی بہترین ہے۔ سبق کے آغاز میں پچھلے سبق کا ریویژن، یا سبق کے اختتام پر فوری جانچ، دونوں کام اس ٹول سے ہو جاتے ہیں۔ بچے اسے ٹیسٹ نہیں سمجھتے بلکہ ایک کھیل کے طور پر لیتے ہیں، جس سے خوف ختم ہوتا ہے۔
اساتذہ کہوٹ کو چیٹ جی پی ٹی اور کینوا کے ساتھ ملا کر بہت مؤثر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی سے سوالات تیار کروائیں، کینوا میں اگر چاہیں تو سوالات کی وضاحت کے لیے سلائیڈز بنائیں، اور کہوٹ میں انہی سوالات کو کھیل کی شکل دے دیں۔ یوں ایک مکمل تدریسی سائیکل بن جاتا ہے۔
کہوٹ کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بچوں کی توجہ اور رفتار کو سمجھتا ہے۔ سوال کے لیے وقت مقرر ہوتا ہے، اس لیے بچے سوچتے بھی ہیں اور سست بھی نہیں پڑتے۔ آخر میں استاد کو رپورٹ بھی مل جاتی ہے کہ کون سا سوال زیادہ مشکل تھا اور کون سے بچے پیچھے رہ گئے۔
کہوٹ استعمال کرنا بھی آسان ہے۔ گوگل میں جا کر Kahoot لکھیں یا ویب سائٹ kahoot.com کھولیں۔ اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں کے لیے اس کی ایپ دستیاب ہے۔ استاد بطور ٹیچر اکاؤنٹ بناتا ہے، کوئز تیار کرتا ہے یا پہلے سے موجود تعلیمی کوئزز استعمال کر سکتا ہے۔ کلاس میں کھیل شروع کرنے کے لیے ایک کوڈ ملتا ہے، جسے بچے ڈال کر شامل ہو جاتے ہیں۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ کہوٹ کوئی جادوئی حل نہیں بلکہ ایک معاون ٹول ہے۔ اگر استاد صرف مقابلے پر زور دے اور سیکھنے پر نہیں، تو مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ بہترین نتائج تب آتے ہیں جب استاد ہر سوال کے بعد تھوڑی وضاحت کرے، غلطی کو سیکھنے کا موقع بنائے، اور بچوں کی حوصلہ افزائی کرے۔
یہ ٹول اساتذہ کو یہ سکھاتا ہے کہ سیکھنا سنجیدہ ضرور ہو سکتا ہے، مگر بور ہونا ضروری نہیں۔
(منصور اختر غوری)

اگر آپ عملی طور اے آئی ٹولز سیکھنا چاہتے ہیں تو کمنٹس میں دئیے گئے لنک کے ذریعے گروپ جوائن کریں

#منصوراخترغوری #تعلیم
Rana Sikandar Hayat

15/12/2025

آپ بچوں کو مارتی ہیں؟
تحریر: ڈاکٹر جے ایس

یہ مسئلہ میری تقریر سے حل نہیں ہوگا۔
آہستہ آہستہ بار بار اپنے آپ کو چند باتیں بتائیں ۔
۱- کمزور پر ہاتھ اٹھا کر آپ اس کو یہ سکھا رہی ہیں کہ جس پر بس چلتا ہو اس کے ساتھ ایسا کرنا چاہئے۔اس کو اذیت دینی چاہئے۔ اپنا غصہ، الجھنیں، محرومیاں، کمزوریاں اور نالائقیاں کمزور یوں کا انتقام کمزور سے لینا چاہئے۔

۲- میری یہ بات اپنے آپ کو یاد کروادیں۔ اس دنیا میں آپ ہی اس کی پناہ گاہ ہیں۔ وہ خدا سے واقف نہیں۔ انسان کا تصور خدا آپ کی شکل میں اس کے سامنے مجسم ہے۔اس کے لئے
آپ سے اس کی زندگی چل رہی ہے۔
آپ کھلاتی پلاتی، پہناتی، توجہ دیتی، پیار کرتی، مسئلے حل کرتی، حفاظت کرتی ہیں۔
اگر انسان کو خدا چھوڑ دے تو وہ خود کشی کا سوچتا ہے۔
آپ نے اس کے اس تصور کو تباہ کردیا تو زندگی میں اس کے ٹرسٹ اشوز رہیں گے۔
وہ نہ خود پر اعتبار کرسکیں گے نہ دوسروں پر۔
یا تو اعتماد کی کمی ہوگی یا خود جارحانہ رویہ رکھیں گے۔

۳۔
بچہ ہے ہی رونے، شور مچانے، غلطیاں کرنے، بات نہ سمجھنے، دنیا کو نہ سمجھنے، چیزیں خراب کرنے، گھر پھیلانے، گندگی پھیلانے کی مشین۔
آپ نہیں ہیں۔
اس کو سکھانا ہے اس سے توقع کیسے کی کہ اس کو یہ سب آتا ہوگا؟
جب آپ نفرت سے چیختی چلاتی مارتی ہیں تو آپ سمجھ رہی ہوتی ہیں کہ اس کو یہ سب آنا چاہئے تھا۔

۴۔
بچوں کو غلط بات پر سزا دینا، ڈانٹنا، ٹوکنا یہ سب تربیت کے لئے ضروری ہے۔
مگر بچوں پر چیخنا، طعنے دینا، برے القاب سے پکارنا، مارنا، جھنجھوڑنا ،
ان کی بات نہین سننا۔۔۔
آپ آئینے میں دیکھئے۔۔۔۔
آپ کسی ہارر مووی کا مانسٹر بن جاتی ہیں۔
ماڈرن ہارر میں سب سے خوفناک کہانی یہ ہوتی ہے کہ چھوٹے بچے کی ماں ہی اصل میں عفریت ہوتی ہے۔

آپ اس کی ماں ہیں، اس کے لئے خدا جیسی ہیں، اس کی پناہ گاہ ہیں۔۔
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے۔ ان بچوں سے زیادہ آپ سے آج تک کسی نے اتنا پیار کیا ہے؟
جو آپ سے پیار کرتا ہے ۔۔ آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں گی؟؟

اب آپ مجھ سے ٹپ پوچھیں گی۔۔۔
صرف ایک ٹپ۔
اپنے آپ سے یہ وعدہ کریں کہ بچوں کو ماریں گی نہیں۔
اور اس وعدے پر عمل کریں۔
یہ نشے اور بری عادت کی طرح ہے۔
بس کہیں کہ “میں نے نہیں کرنا” اور ایڑی چوٹی کا زور لگادیں کہ نہیں کرنا۔
میری اس تحریر کو کہیں لکھ کر لگا لیں۔ اور بار بار پڑھیں ۔

جویریہ سعید
#تعلیم

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Main Jaranwala Road
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 08:15 - 14:00
Tuesday 08:15 - 14:00
Wednesday 08:15 - 14:00
Thursday 08:15 - 14:00
Friday 08:15 - 11:00
Saturday 08:15 - 14:00