Computer teacher avalable for online training of all computer courses Contact Us on WhatsApp for more Details +92-306-4915519
The Al-Aziz College Rana Town
The Al- Aziz College Rana Town
Online tutor avalable for all classes and computer courses
Contact Us on WhatsApp for more Details +92-306-4915519
We cannot offer any job. Just applicant can submit their application
12/07/2020
اگر اپ چاہتے ہیں کہ اپ کے بچے سیکھے اگے بڑھے اور پھر اگے جاکر لیڈ بھی کرے تو میرے اس ان لانن کلاس کا حصہ اب بن سکتے ہیں .اپ بھی اپنے بچوں کے لئے ایک گھنٹے کے دورانئے پر مشتمل کلاس میں اپنا نام درج کرکے تعلیم و تربیت کا سلسلہ اب گھر سے جاری رکھ سکتے ہیں,,,
All New Batch Starting From 25 july
Due to all transfer to .
join Now and get 80% flat off for all Classes and Courses
Details of
and others for more info and fee details open below link
Top Students awarded by Government Certificates and Internships
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=590311165164245&id=297720774423287
lecture supported by
for fee details visit below link
✅
✅ + and
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅ &
All courses available in U.S.B
32 Gb U.S.B in just rupees Rs/-2500
Contact Us for Details
M Mobeen Shahid
Whatsapp/Msg/Call
0306-4915519
easypesa account for registration
M MOBEEN SHAHID
0342-0293125
Faisal Bank Account
Pk07fAys0186009000006352
MUHAMMAD MOBEEN SHAHID
*گھاٹے کے سوداگر*
ہنری کا تعلق امریکہ کے شہر سیاٹل سے تھا وہ مائیکرو سافٹ میں ایگزیکٹو منیجر تھا۔اس نے 1980 ء میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا اور اس کے بعد مختلف کمپنیوں سے ہوتا ہوا مائیکرو سافٹ پہنچ گیا ٗ مائیکرو سافٹ اس کے کیرئیر میں ’’ہیلی پیڈ‘‘ ثابت ہوئی اور وہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتا گیا ٗوہ 1995ء میں کمپنی میں بھاری معاوضہ لینے والے لوگوں میں شمار ہوتا تھا اور اس کے بارے میں کہا جاتا تھا جب تک ہنری کسی سافٹ وئیر کو مسکرا کر نہ دیکھ لے مائیکرو سافٹ اس وقت تک اسے مارکیٹ نہیں کرتی ٗ ہنری نے کمپنی میں یہ پوزیشن بڑی محنت اور جدوجہد سے حاصل کی تھی
وہ دفتر میں روزانہ16 گھنٹے کام کرتا تھا ٗ وہ صبح 8 بجے دفتر آتا تھا اور رات بارہ بجے گھر جاتا تھا ٗہنری کا ایک ہی بیٹا تھا ٗ ہنری دفتری مصروفیات کے باعث اپنے بیٹے کو زیادہ وقت نہیں دے پاتا تھا ٗ وہ جب صبح اٹھتا تھا تو اس کا بیٹا سکول جا چکا ہوتا تھا اور وہ جب دفتر سے لوٹتا تھا تو بیٹا سو رہا ہوتا تھا ٗ چھٹی کے دن اس کا بیٹا کھیلنے کے لئے نکل جاتا تھا جبکہ ہنری سارا دن سوتا رہتا تھا۔ 1998ء میں سیاٹل کے ایک ٹیلی ویژن چینل نے ہنری کا انٹرویو نشر کیا ٗ اس انٹرویو میں ٹیلی ویژن کے میزبان نے اعلان کیا آج ’’ہمارے ساتھ سیاٹل میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی شخصیت بیٹھی ہے‘‘ کیمرہ میزبان سے ہنری پر گیا اور ہنری نے فخر سے مسکرا کر دیکھا ٗ اس کے بعد انٹرویو شروع ہو گیا ٗ اس انٹرویو میں ہنری نے انکشاف کیا وہ مائیکرو سافٹ سے 500 ڈالر فی گھنٹہ لیتا ہے۔ یہ انٹرویو ہنری کا بیٹا اور بیوی بھی دیکھ رہی تھی ٗ انٹرویو ختم ہوا تو ہنری کا بیٹا اٹھا ٗ اس نے اپنا ’’منی باکس‘‘ کھولا ٗ اس میں سے تمام نوٹ اور سکے نکالے اور گننا شروع کر دئیے ٗ یہ ساڑھے چار سو ڈالر تھے ٗ ہنری کے بیٹے نے یہ رقم جیب میں ڈال لی‘ اس رات جب ہنری گھر واپس آیا تو اس کا بیٹا جاگ رہا تھا ٗ بیٹے نے آگے بڑھ کر باپ کا بیگ اٹھایا ٗ ہنری نے جھک کر بیٹے کو پیار کیا ٗبیٹے نے باپ کو صوفے پر بٹھایا اور بڑی عاجزی کے ساتھ عرض کیا ’’ڈیڈی کیا آپ مجھے پچاس ڈالر ادھار دے سکتے ہیں‘‘ باپ مسکرایا اور جیب سے پچاس ڈالر نکال کر بولا ’’کیوں نہیں ٗ میں اپنے بیٹے کو ساری دولت دے سکتا ہوں‘‘ بیٹے نے پچاس ڈالر کا نوٹ پکڑا ٗ جیب سے ریزگاری اور نوٹ نکالے ٗ پچاس کا نوٹ ان کے اوپر رکھا اور یہ ساری رقم باپ کے ہاتھ پر رکھ دی ٗ ہنری حیرت سے بیٹے کو دیکھنے لگا ٗ بیٹے نے باپ کی آنکھ میں آنکھ ڈالی اور مسکرا کر بولا ’’یہ پانچ سو ڈالر ہیں ٗ میں ان پانچ سو ڈالروں سے سیاٹل کے سب سے امیر ورکر سے ایک گھنٹہ خریدنا چاہتا ہوں‘‘ ہنری خاموشی سے بیٹے کی طرف دیکھتا رہا ٗ بیٹا بولا ’’میں اپنے باپ سے صرف ایک گھنٹہ چاہتا ہوں ٗ میں اسے جی بھر کر دیکھنا چاہتا ہوں ٗ میں اسے چھونا چاہتا ہوں ٗ میں اسے پیار کرنا چاہتا ہوں ٗ میں اس کی آواز سننا چاہتا ہوں ٗ میں اس کے ساتھ ہنسنا ٗ کھیلنا اوربولنا چاہتا ہوں ٗ
ڈیڈی کیا آپ مجھے ایک گھنٹے دے دیں گے ٗ میں آپ کو اس کا پورا معاوضہ دے رہا ہوں ‘‘ ہنری کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ٗ اس نے بیٹے کو گلے سے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ہنری نے 1999ء میں ’’فیملی لائف‘‘ کے نام سے ایک آرٹیکل لکھا ٗ مجھے یہ مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا ٗ اس مضمون میں اس نے انکشاف کیا دنیا میں سب سے قیمتی چیز خاندان ہوتا ہے ٗ دنیا میں سب سے بڑی خوشی اور سب سے بڑا اطمینان ہماری بیوی اور بچے ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ انہیں سب سے کم وقت دیتے ہیں ٗ ہنری کا کہنا تھا دنیا میں سب سے بڑی بے وفا چیز ہماری نوکری ٗہماراپیشہ اور ہمارا کاروبار ہوتا ہے ٗہم آج بیمار ہو جائیں ٗ آج ہمارا ایکسیڈنٹ ہو جائے توہمارا ادارہ شام سے پہلے ہماری کرسی کسی دوسرے کے حوالے کر دے گا ٗہم آج اپنی دکان بند کردیں ‘ہمارے گاہک کل کسی دوسرے سٹور سے خریداری کر لیں گے ٗ آج ہمارا انتقال ہو جائے تو کل ہمارا شعبہ ‘ہمارا پیشہ ہمیں فراموش کر دے گا لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ دنیا کی سب سے بڑی بے وفا چیز کو زندگی کا سب سے قیمتی وقت دے دیتے ہیں ٗ ہم اپنی بہترین توانائیاں اس بے وفا دنیا میں صرف کر دیتے ہیں اور وہ لوگ جو ہمارے دکھ درد کے ساتھی ہیں جن سے ہماری ساری خوشیاں اور ہماری ساری مسرتیں وابستہ ہیں اور جو ہمارے ساتھ انتہائی وفادار ہوتے ہیں ہم انہیں فراموش کر دیتے ہیں ٗ ہم انہیں اپنی زندگی کا انتہائی کم وقت دیتے ہیں۔‘‘
‘میں نے سوچابدقسمتی سے ہم لوگ پہلی قسم کے لوگوں کو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ دے دیتے ہیں ٗ ہم لوگ زندگی بھر دوسری قسم کے لوگوں کو فراموش کرکے پہلی قسم کے لوگوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں ٗ ہم بے وفا لوگوں سے وفاداری نبھاتے رہتے ہیں اور وفاداروں سے بے وفائی کرتے رہتے ہیں‘میں نے کسی جگہ امریکہ کے ایک ریٹائر سرکاری افسر کے بارے میں ایک واقعہ پڑھا تھا
اس افسر کو وائٹ ہاؤس سے فون آیا کہ فلاں دن صدر آپ سے ملنا چاہتے ہیں‘ اس افسر نے فوراً معذرت کر لی ٗ فون کرنے والے نے وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا ’’میں اس دن اپنی پوتی کے ساتھ چڑیا گھر جا رہا ہوں‘‘ یہ جواب سن کر فون کرنے والے نے ترش لہجے میں کہا ’’آپ چڑیا گھر کو صدر پر فوقیت دے رہے ہیں‘‘ریٹائر افسر نے نرمی سے جواب دیا ’’نہیں میں اپنی پوتی کی خوشی کو صدر پر فوقیت دے رہا ہوں‘‘ فون کرنے والے نے وضاحت چاہی تو ریٹائر افسر نے کہا ’’مجھے یقین ہے میں جوں ہی وہائٹ ہاؤس سے باہر نکلوں گا تو صدر میرا نام اور میری شکل تک بھول جائے گاجبکہ میری پوتی اس سیر کو پوری زندگی یاد رکھے گی‘ میں گھاٹے کا سودا کیوں کروں‘میں یہ وقت اس پوتی کو کیوں نہ دوں جو اس دن‘ اس وقت میری شکل اور میرے نام کو پوری زندگی یاد رکھے گی‘ جو مجھ سے محبت کرتی ہے‘ جو اس دن کیلئے گھڑیاں گن رہی ہے‘‘ میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی اور آنکھیں بند کرکے دیر تک سوچتا رہا ٗ ہم میں سے 99 فیصد لوگ زندگی بھر گھاٹے کا سودا کرتے ہیں ٗ ہم لوگ ہمیشہ ان لوگوں کو اپنی زندگی کے قیمتی ترین لمحات دے دیتے ہیں جن کی نظر میں ہماری کوئی اوقات ٗ ہماری کوئی اہمیت نہیں ہوتی‘ جن کیلئے ہم ہوں یا نہ ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا ‘جو ہماری غیر موجودگی میں ہمارے جیسے کسی دوسرے شخص سے کام چلا لیتے ہیں‘ میں نے سوچا ہم اپنے سنگدل باس کو ہمیشہ اپنی اس بیوی پر فوقیت دیتے ہیں جو ہمارے لئے دروازہ کھولنے ٗہمیں گرم کھانا کھلانے کے لئے دو ٗ دو بجے تک جاگتی رہتی ہے ٗ ہم اپنے بے وفا پیشے کو اپنے ان بچوں پر فوقیت دیتے ہیں جو مہینہ مہینہ ہمارے لمس ٗ ہماری شفقت اور ہماری آواز کو ترستے ہیں ٗ جو ہمیں صرف البموں اور تصویروں میں دیکھتے ہیں ٗ جو ہمیں یاد کرتے کرتے بڑے ہوجاتے ہیں اور جو ہمارا انتظار کر تے کرتے جوان ہو جاتے ہیں لیکن انہیں ہمارا قرب نصیب نہیں ہوتا‘ ہم انہیں ان کا جائز وقت نہیں دیتے‘ میں نے سوچا‘ ہم سب گھاٹے کے سوداگر ہیں۔
علاقے کا یہ شخص اپنی جگتوں کی بدولت مشہور تھا۔۔ایک بار مرشد کے پاس بیٹھا کہنے لگا ۔۔
مُڑ سائیں ،تُساں مینوں حج تے گَھل دیو ،تےکیا ہی بات ہو۔۔
مرشد نے جواب دیا کہ
تُؤ اوتھاں جا کے وی ایہو کُجھ کریساں ۔(یعنی جُگتاں ہی مارے گا،کچھ عبادت وغیرہ نہیں کرے گا)۔
اس نے التجا کی ۔۔
مُرشد ،میں اوس تھاں ایسا کُجھ نہ کرساں ۔۔
مرشد نے کہا ۔۔۔ فیر لکھ کے دے۔۔
اس وقت اس شخص سے ایک کاغذ پر حلف نامہ پر سائن کروائے گئے ،کہ وہ وہاں صرف عبادت کرے گا،کوئی فالتو بات نہیں کرے گا،کسی کو جگت نہیں مارے گا،اپنے کام سے کام رکھے گا،اور حج کرکے واپس آجائے گا۔
اس نے باقی مریدوں کی موجودگی میں حلف نامے پر خوشی خوشی سائن کردیے۔
مرشد نے ایک مرید سے کہا کہ اسے اپنےساتھ حج پہ لے جاؤ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب حج ہوگیا۔۔۔سر منڈوانے کی باری آئی۔سر بھی منڈوا لیا۔۔
واپسی کی راہ لی۔۔۔
یہ اس زمانے کی بات ہے جب حج کا سفر خچروں پر طے کیا جاتا تھا۔۔
واپسی کے سفر پر اب اس کا سر مُنڈا ہوا،اور گدھے پر بیٹھا۔۔اللہ کریم سے راز و نیاز میں مصروف ہوگیا۔۔۔کہنے لگا۔۔۔
"۔ ساڈے علاقے وچ چور جے پھڑیا جاوے ،تے اوہدی ٹِنڈ کراکے،کھوتے تے بٹھاندے نہیں ۔۔۔۔۔۔مولا۔۔۔۔ ہُن ٹِنڈ وی ،کرا لئی اے، کھوتے تے وی بیٹھ گئے آں، جے ہُن وی جاں بخشی نہ ہوئی تے فیر گَل تے نہ بنی نا "۔۔۔۔۔۔
۔۔۔وہ گدھے پر بیٹھا اپنی دھن میں مست ،اللہ سے باتیں کرتا چلا جا رہا۔۔۔
دور بیٹھے ایک بزرگ ،نے پاس موجود شخص سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟۔۔
بتایا۔۔یہ فلاں فلاں ۔۔۔جگتوں میں مشہور،۔۔۔ابھی اس کی بات مکمل نہ ہوئی تھی کہ اُن بزرگ نے اسے خاموش کروا دیا۔۔۔
کہنے لگے۔۔۔خاموش۔۔اسے بلانا مت۔۔وہ تو اس وقت وہاں ہے جہاں ہم بھی نہیں ۔۔میں دیکھ رہا ہوں ،وہ اللہ سے قریب ہے،وہ مانگ رہا ہے،اور اللہ اسے دے رہا ہے۔وہ ایسے انداز سے مانگ رہا ہےکہ اسی وقت پا رہا ہے۔۔۔!
اللہ کو آپ کی کب کون سی ادا بھا جائے،یہ آپ بھی نہیں جانتے،اس لیے اس سے مانگیں ،اپنی زبان،اپنے انداز میں۔۔وہ سب زبانیں سمجھتا ہے،سب انداز ،ادائیں جانتا ہے۔۔۔۔، ۔۔،ایک دوسرے کو مسلمان کافر کے سرٹیفکیٹ دینا بند کیجئے۔وہاں سکے نہیں، نیتیں چلتی ہیں،وہ بخشنے پر آئے تو ایک شکوے پر بھی بخش دے...!
Assalam O Alaikum & Greetings from Team
"TAC trainings"
Thank you for your precious response..
WANT TO BREAK THE BOREDOM OF CORONIC SITUATION
YES👇
Here is the most demanded activity renowned internationally to improve your Computer skills by sitting at home.
A great chance to improve your computer skills in all aspects.
OUR Mentor will not only enhance your computer skills but will come up with all basic skills you need to be an
*Effective Computer Trainer
OBJECTIVES:
"To instill participants with the tools, modules and skills needed for making computer learning effective"
You will learn:
* Microsoft Word
* Microsoft excel
* Microsoft PowerPoint
* Inpage
* internet
You will get:
* E-learning
* Training Materials
* Assignments
* E-Certificate
Trainer:
Sir Mobeen Shahid (I.T Engineer)
Why us?
▶️ we have trained
2.5 lac teachers/ Professionals nationwide
▶️750 plus schools in five-years, moreover we are recognized by
🟠The skill enhancement academy,
Classes will start:
➡️ 16 April, 2020
Training Methodology:
We will arrange this training over whatsapp/zoom for daily interaction+learning.
Intrested 🤗
🔜 Choose your domain
🟢2500 (For professionals)
4 weeks programme
(25% Discounts before 14 April, 2020)
How to Pay Fee?
▶️Online bank transfer
▶️Easypesa
What to do after payment?
👉Please send us picture of payment slip and confirm your SEAT
Best Regards,
TAC trainings, Pakistan
P.S: You will be recieve an E-Certificate by the end of the training from
TAC Trainings
Looking forward
We want you to be the best
& lectures
Male/Female Staff Available for all Classes , /A level
fee structure
*) Special Classes (Urdu , English, Arabic) fee 1000pm
*) 4th to 8th fee 500pm
*) 9th & 10th ( Sci,Arts) fee 800pm
*) F.a, F.Sc, I.Com
fee 1000pm
*) B.A, B.Sc, B.Com fee 500 per subject
*) M.A, M.Sc, M.Com 1000 per subject
Lecture Delivered by
Details of
*)
fee Rs/-500pm
*)
fee Rs/-1000pm
*)
fee Rs/-1000pm
*)
fee Rs/-1000pm
*)
fee Rs/-1000pm
*)
fee Rs/-500pm
*)
fee Rs/-1000pm
*)
fee Rs/-500pm
*)
fee Rs/-1000pm
*)
fee Rs/-500pm
*)
fee Rs/-500pm
*)
fee Rs/-1000pm
*)
fee Rs/-500pm
*)
fee Rs/-500pm
*)
fee Rs/-1000pm
*)
fee Rs/-1000pm
*)
fee Rs/-1000pm
*)
fee Rs/-1000pm
and others
04/04/2020
اگر اپ چاہتے ہیں کہ اپ کے بچے سیکھے اگے بڑھے اور پھر اگے جاکر لیڈ بھی کرے تو میرے اس ان لانن کلاس کا حصہ اب بن سکتے ہیں .اپ بھی اپنے بچوں کے لئے ایک گھنٹے کے دورانئے پر مشتمل کلاس میں اپنا نام درج کرکے تعلیم و تربیت کا سلسلہ اب گھر سے جاری رکھ سکتے ہیں,,,
Due to all transfer to .
join Now and get 60% flat off for all Classes and Courses
Details of
and others for more info and fee details open below link
Top Students awarded by Government Certificates and Internships or jobs
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=590311165164245&id=297720774423287
Details for E-Education
Qualified Staff Available for all Classes
to level Education
with affordable fee
lecture supported by
for fee details visit below link
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=590340651827963&id=297720774423287
✅
✅ + and
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅ &
Contact Us for Details
M Mobeen Shahid
Whatsapp Only
0306-4915519
Call/Msg
0342-0293125
پرائیویٹ سکولز اونرز اور اساتذہ کون ہیں ؟؟؟؟
معزز والدین !
پرائیویٹ سکولز اونرز اور استاذہ جنہیں ہمیشہ میڈیا اور کچھ ارباب اختیار نے ایک مافیا بنا کر پیش کیا کون ہیں ؟؟ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں
پرائیویٹ سکولز کے اونرز وہ لوگ ہیں ۔۔۔۔
جنہوں نے آپ کے بچوں کو ہمیشہ مقدم رکھا ۔۔۔۔۔۔ بہترین فرنیچر، کلاس رومز، سہولیات، فیکلٹی، سکیورٹی اور سب سے بڑھ کر تعلیمی ماحول دیا ۔۔۔۔۔۔
آپ کو ضرورت پڑی تو آپ کا ساتھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 4،4 ماہ کی فیسیں ادھار کیں ۔۔۔۔۔۔ بیسیوں دفعہ والدین نے اس ادھار کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور سکول معہ ادھار چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔ پھر بھی انہوں نے ایسے والدین پر کیس کیا نہ راستہ روکا ۔۔۔۔۔۔۔
نئے سال کا کورس کمزور مالی پوزیشن رکھنے والے والدین کو ادھار دیا ۔۔۔۔۔۔ تاکہ ان کے بچوں کا حرج نہ ہوسکے ۔۔۔۔۔
ہمیشہ بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔
پرائیویٹ سکولز اساتذہ بلاشبہ بہت کم مراعات کے باوجود دن رات آپ کے بچوں کے لیے کام کرنے کے لئے تیار ۔۔۔۔۔
ڈیلی پراگریس رپورٹس، ویکلی رپورٹس، منتھلی رپورٹس، سالانہ رپورٹس، ٹیسٹ میکنگ اور چیکنگ، پلانرز، کاپیز اور بہت کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس کے باوجود انتھک اور بے لوث لگن ۔۔۔۔۔
سب سے بڑھکر یہ گروپ یعنی اونرز اور ٹیچرز ہمہ وقت آپ کے بچوں کے روشن مسقبل کے لئے مصروف عمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کے بچوں کو لکھنا، پڑھنا، کھانا، پینا، بولنا اور آگے بڑھنا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ سر اٹھا کے جینا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آج یہ سب سر جھکا کے کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ انہیں ستائش ملنی چاہیئے تھی، تنقید کی گئی، حوصلہ ملنا چاہیئے تھا، حوصلہ شکنی کی گئی، تعاون ملنا چاہیئے تھا ، رکاوٹیں ڈالی گئیں مگر پھر بھی انہوں نے آپ کو بچوں کو پڑھایا ۔۔۔۔۔۔۔ سر اٹھا کے جینا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔
معزز والدین ۔۔۔۔۔
اب موجودہ حالات میں آپ کا فرض ہے کہ آپ ان کا سر نہ جھکنے دیں ۔۔۔۔۔ بہت سے لوگوں کی بلڈنگز کرائے کی ہیں، ہر ماہ کی دس تاریخ کو مالک بلڈنگ کرایہ لینے آجاتا یے ۔۔۔۔۔۔ یہ اساتذہ انہیں مجبوری سنائیں تو وہ بھی انہیں مافیا سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔۔ بلڈنگز سے بے دخل کرنے کا کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ہر ماہ کے آغاز پر سکول اساتذہ انہی لوگوں کے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ بجلی، گیس، پٹرول، سکیورٹی گاردز اور نجانے کون کون سی پیمنٹس ان کی منتظر ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔ ایسے میں یہ فرمان آتا ہے ۔۔۔۔ آپ فیسیں نہ لیں ۔۔۔۔ والدین سمجھتے ہیں کہ بچے سکول نہیں گئے تو ان کا کون سا خرچہ ہوا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ خرچے میں ایک روپے کی کمی نہیں ہوئی ۔۔۔۔ الٹا جن والدین ادھار بکس لیں تھیں، 4،4 ماہ کی فیس دینی تھی وہ فون سننے کے روادار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد رکھئے انہی لوگوں نے آپ کے بچوں کو سر اٹھا کے چلنا اور جینا سکھایا ہے اور سکھانا ہے ۔۔۔۔۔۔ آگے بڑھیں اور آج ان کا سر جھکنے سے بچائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت پر اپنی فیسیں ادا کرکے اپنے بچوں کے اداروں کو بند ہونے بچائیے ۔۔۔
20/03/2020
کورونا وائرس نے اسکول اور کالج بند کر دیے ہیں. کیا آپ چاہتے ہیں کے نئی ٹیکنالوجیز اور فری لانسنگ سیکھیں؟ دنیا کا واحد پلیٹ فارم جہاں آپ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کے کورسز کر سکتے ہیں وہ بھی اردو میں صرف 4000 روپے سالانہ میں یا 500 روپے ماہانہ پر . آج ہی اس پیج کو لائیک کریں اور گھر بیٹھے پیسے کمانے کا ہنر سیکھیں
Fee Charges
500 per subject for and student
And 300 for
We also offer Computer courses
✅
✅ &
✅ + and
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅ &
Discount Price of these courses: Rs:2499/=
with Free 32 GB USB & Free Delivery
Contact Us for Details
0306-4915519
Easypesa Account
M Mobeen Shahid
0342-0293125
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Shahdara Rana Town
Lahore
54000