12/08/2021
بہن کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں
میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا عید شب رات کبھی بھی ابو یا امی جاتے ہیں
میری بیوی ایک دن مجھے کہنے لگی
آپ کی بہن جب بھی آتی ہے
اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں
خرچ ڈبل ہو جاتا ہے
اور تمہاری ماں
ہم سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے کبھی کپڑے کبھی صرف کے ڈبے
اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے
اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں
مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے
بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا
میں ماں سے غصے میں کہہ رہا تھا
ماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس
اور یہ جو آپ صابن صرف اور چاول کا تھیلا بھر کر دیتی ہیں نا اس کو بند کریں سب
ماں چپ رہی
لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری
بہن کچھ نہ بولی
4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ او
میں نے جھوٹے منہ کہا رہ لیتی کچھ دن
لیکن وہ مسکرائی نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں
پھر جب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا ہو رہا تھا تو
میں نے صاف انکار کیا بھائی میں اپنی زمیں سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا
بہن سامنے بیٹھی تھی
وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا کچھ بھی ہو جائے میں بہن کو حصہ نہیں دوں گا
میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی
وہ بیچاری خاموش تھی
بڑا بھائی علیحدہ ہوگیا کچھ وقت کے بعد
میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہوگئی
میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں تھا
بہت پریشان تھا میں
قرض بھی لے لیا تھا لاکھ روپیہ
بھوک سر پہ تھی
میں بہت پریشان تھا کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا شاید رو رہا تھا حالات پہ
اس وقت وہی بہن گھر آگئی
میں نے غصے سے بولا اب یہ آگئی ہے منحوس
میں نے بیوی کو کہا کچھ تیار کرو بہن کےلیے
بیوی میرے پاس آئی
کوئی ضرورت نہیں گوشت یا بریانی پکانے کی اس کے لیئے
پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی
بھائی پریشان ہو
بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری
گود میں کھیلتے رہے ہو
اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو
پھر میرے قریب ہوئی
اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے
آہستہ سے بولی
پاگل توں اویں پریشان ہوتا ہے
بچے سکول تھے میں سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل آؤں۔
یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کر
بیٹے کا علاج کروا
شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم۔نے
میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا
وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم۔کو میری قسم ہے
میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے
شاید اس کی جمع پونجی تھی
میری جیب میں ڈال۔کر بولی بچوں کو گوشت لا دینا
پریشان نہ ہوا کر
جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا دیکھ اس نے بال سفید ہوگئے
وہ جلدی سے جانے لگی
اس کے پیروں کی طرف میں دیکھا ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی
پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی
بہن کی اس محبت میں مر گیا تھا
ہم بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں اور بہنیں
بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں کر سکتیں
وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھا
اس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھیں
اپنے گھر میں خدا جانے کتنے دکھ سہہ رہی ہوتی ہیں
کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں
شاید کے ان کے چہرے پہ کچھ لمحوں کے لیئے ایک سکون آ جائے، ،،،
بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں😢😢
14/08/2020
خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے ‛
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو .
یہاں جو پھول کھلے ، وہ کھلا رہے برسوں ‛
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو .
یہاں جو سبزہ اگے وہ ہمیشہ سبز رہے ‛
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو .
گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں ‛
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو .
خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن ‛
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو .
ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال ‛
کوئی ملول نہ ہو ، کوئی خستہ حال نہ ہو .
خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے ‛
حیات جرم نہ ہو ، زندگی وبال نہ ہو . . . ! !
07/03/2019
اکثر یونہی موبائل فون
ہاتھوں میں پکڑے سوچتا ھوں..
کہ تمہیں کوئی میسیج کروں ..
تم سے پوچھوں..
کیا تمہیں اب یاد بھی نہیں آتی .. ؟؟
اور پھر کہوں غلطی سے ھو گیا میسج سینڈ..
پھر تم پوچھو کیسے ھو ؟؟
میں غصے سے کہوں ٹھیک ھوں ..
تم بے چین ھو جاؤ ..
اور ہمیشہ کی طرح کسی
معصوم سے بچے کی طرح
پوچھو ابھی تک ناراض ھو ؟؟؟
اور میں ہمیشہ کی طرح کہوں
میں نے کیوں ناراض ھونا .. ؟؟
اور پھر تم کہو
سنو..!!
تم ناراض نا ھوا کرو ,
تم جب ناراض ھوتے ھو نا
تو بلاوجہ ہی زہر لگتے ھو..
اور میں ہمیشہ کی طرح مسکرا دوں
لیکن جیسے ہی میری نظر
تمہارے میسج پر پڑتی ھے
میری ساری ہمت کہیں دم توڑ دیتی ھے ..
محبت چپکے سے کہیں چھپ جاتی ھے ..
لفظ سرد پڑ جاتے ہیں..
بس آنکھیں پتھر کی بنی
اک ہی لفظ میں اُلجھی رہتی ہیں..
ہمارا اب کوئی رشتہ نہیں رہا ؛
07/03/2019
ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ______!!
جس ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ، ﭼﺎﮨﺘﯿﮟ ، ﻋﻨﺎﯾﺘﯿﮟ؛
باﺭﺵ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﺮﺳﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ؛
وﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ______!!
جو ﻣﯿﺮﯼ ﺭﻭﺡ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﮐﺮ
مجھ ﻣﯿﮟ ﺟﺰﺏ ﮨﻮﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺘﺎﻉ ﺟﺎﻥ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ؛
وﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ____!!
اﮐﺜﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ؛
کہ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮨﻮﮞ ﺍُﺱ ﮐﯽ ؛
وﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ____!!
جس ﮐﯽ ﺍﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ؛
بےﭘﻨﺎﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﺰﺕ ﺩﮐﮭﺎئی ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ؛
وﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ____!!
جس ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮔﮩﺮﺍ ﻋﺸﻖ ﺗﮭﺎ؛
وﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ____!!
جس ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ؛
تو ﺑﮯﭼﯿﻦ ﻭﮦ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ؛
وﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ___!!
جو ﺭﺍﺯ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ؛
حاﺻﻞِ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ؛
وﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ___!!
جو ﻟﻤﺤﮧ ﻟﻤﺤﮧ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺎﺧﺒﺮ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ؛
جس ﮐﻮ ﻓﮑﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﻟﻤﺤﮧ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ؛
ہاﮞ ﻭﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ____!!
اﺏ بالکل ﺑﮯﺧﺒﺮ ﮨﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ...
03/03/2019
اِک دفعہ وہ یاد ھے تم کو ؟؟
بِن بتی جب سائیکل کا چالان ھُوا تھا
ھم نے کیسے بھوکے، پیاسے
بے چاروں سی ایکٹنگ کی تھی ؟؟
حوالدار نے اُلٹا ایک اٹھنی دے کر ، چھوڑ دیا تھا
ایک چوّنی میری تھی ، وہ بِجھوا دو۔
اور بھی کچھ ساماں تمہارے پاس پڑا ھے
وہ بجھوا دو.
پت جھڑ ھے ، پت جھڑ میں
کچھ پتوں کے گرنے کی آھٹ
کانوں میں اِک بار پہن کر ، لوٹ آئی تھی
پت جھڑ کی وہ شاخ ابھی تک ، کانپ رھی ھے
وہ شاخ گرا دو
اور بھی کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ھے
ایک سو سولہ چاند کی راتیں
ایک تمہارے کاندھے کا تِل
گیلی مہندی کی خوشبُو
جُھوٹ مُوٹ کے شکوے کچھ
جُھوٹ مُوٹ کے وعدے بھی سب ،یاد کرا دوں
سب بھجوا دو
اور بھی کچھ ساماں ،تمہارے پاس پڑا ھے
ایک اکیلی چھتری میں جب
آدھے آدھے بھیگ رھے تھے
آدھے سوکھے ، آدھے گیلے
سُوکھا تو میں لے آئی تھی
گیلا من شاید بستر کے پاس پڑا ھو ، وہ بھجوا دو
اور بھی کچھ ساماں تمہارے پاس پڑا ھے.
ایک اجازت دے دو بس
میں جب اِس کو دفناؤں گی
میں بھی وھیں سو جاؤں گی.
میں بھی وھیں........ سو جاوں گی.
06/02/2019
ﺍﭼﮭﯽ ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﮓ ﺑﮭﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﺗﯿﮟ _
20/01/2019
ﺍُﭨﮭﺌﯿﮯ ! ﻏﺮﯾﺐ ﺷﮩﺮ ﮐﺎ .......... ﻻﺷﮧ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯿﮯ
ﺍُﭨﮭﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺎﮎ ..! ۔۔۔ ..... ﺧﺪﺍﺭﺍ ! ﺍُﭨﮭﺎﺋﯿﮯ
ﺩَﻓﻨﺎ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻻﺵ .۔۔ ... ﺑﮩﺖ ﻣُﻄﻤﺌﻦ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ
ﺍِﮎ ﺍﻭﺭ ﺁﮔﺌﯽ ﮨﮯ ! ............... ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯿﮯ
ﭼَﮭﻠﻨﯽ ﮨﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﺟﺴﻢ ! ﭘﺮﺧﭽﮯ ﺍُﮌﮮ ﮨﻮﺋﮯ
ﺍﻋﻀﺎﺀ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯿﮯ ﺑﮭﯽ .... ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯿﮯ !
ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ِ ﺑﮯ ﺍَﻣﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺑَﭽﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ
ﺭﮐﮭﺌﮯ ﺍﺏ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ۔۔ ... ﯾﮧ ﭘُﺮﺳﮧ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯿﮯ
ﺷﻮﺭ ﻭ ﻓُﻐﺎﮞ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮯ ......... ﻣﻈﻠﻮﻡ ﻧﻌﺶ ﮐﺎ
ﺟﯿﺴﮯ ﻏﺰﻝ ﻣﯿﮟ ... ﺷﻌﺮ ﮐﺎ ﻣﺼﺮﻉ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯿﮯ
ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﻮ .......ﺑَﺲ ﻧﻤﺎﺯ ﺟَﻨﺎﺯﮦ ﮨﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ
ﭼَﻠﺌﯿﮯ ......... ﻟَﭙﯿﭩﯿﺌﮯ ... ﯾﮧ ﻣُﺼﻠّﺎ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯿﮯ
04/01/2019
❤اگر آپ استاد ہیں❤
پڑھائے گا وہی جسے پڑھانا آتا ہے..........
ہر قابل شخص قابل استاد نہیں بن سکتا.........
اگر آپ " زبان (لینگویج) " پڑھاتے ہیں اس کے باوجود آپ کا شاگرد بد زبان اور بدگو ہے تو آپ کو زبان پڑھانے کے بجائے زبان " سکھانے " کی فکر کرنی چاہیے...........
آپ نے بچے کو ریاضی کا ہر سوال حل کرنے میں ماہر بنا دیا لیکن اگر وہ اپنی زندگی کے معمولی مسائل تک حل نہیں کرسکتا تو پھر آپ کو سوچنا چاہیے کہ آپ نے ریاضی تو اس کے لیے آسان کردی ہے لیکن زندگی مشکل کرگئے ہیں..........
میرا ٹیچنگ میں جتنا بھی تجربہ ہے میں نے یہ سیکھا ہے کہ بچہ کتاب سے کچھ بھی نہیں سیکھتا.........
کتاب تو ایک بے جان چیز ہے وہ بھی نصاب کی کتاب.............سکھاتا تو استاد ہے.......
آپ قرآن کی مثال لے لیں بھلا اس سے زیادہ اور کوئی کتاب کیا پُر اثرکتاب ہوگی؟؟؟؟؟
لیکن ہمارے لیے.........
" رول ماڈل "
اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت مبارکہ ہے.
تب ہی قرآن کی آیات ہم پر اثر انداز ہوتی ہیں..........
آپ بچے کو جو کچھ سکھانا چاہتے ہیں وہ بن کر دکھا دیں بچہ خود سب کچھ سیکھ لے گا..........
یاد رکھیں اگر استاد کی زندگی میں کوئی مقصد نہیں ہے تو وہ طلبہ کو کوئی مقصدیت نہیں دے سکتا_________
اگر استاد کی اپنی زندگی ہی بے معنی و بے مقصد ہو تو بھلا وہ اپنے طلبہ کی نیا پار لگانے میں کب کامیاب ہو سکے گا؟؟؟؟؟
سب سے اہم مسئلہ سننے اور سنانے کا ہے..........
اساتذہ کے اندر سنانے کی لگن ہوتی ہے.........
وہ کھری کھری بھی سناتے ہیں اور بعض دفعہ اتنا سناتے ہیں کہ بھری کلاس میں بچے کی"عزت نفس" تک مجروح ہوجائے............
لیکن سننے کی تڑپ اور جستجو ان میں نہیں ہوتی ہے_______
بلکہ وہ بچوں کی سنتے بھی سنانے کے ہی لیے ہیں..........
جو اساتذہ بچوں کو سمجھنے کے لیے سنتے ہیں کانوں سے نہیں بلکہ دل کے کانوں سے سنتے ہیں...........
......... اور وہ بچوں کے دل میں اتر جاتے ہیں.........
اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے آپ کا احترام کریں " تکلف" کے لیے نہیں دل سے اٹھ کر آپ کا استقبال کریں تو پھر آپ کو انھیں دل سے سننا پڑے گا...........
بچوں کے لیے عام طور پر وہ مضمون خود بخود دلچسپ بن جاتا ہے جس مضمون کا استاد ان کے لیے دلچسپ بن جاتا ہے...........
آپ کی ٹیچنگ کی انتہا اور معراج یہ ہے کہ بچے " فری پیریڈ " میں آپ کو خود بلانے آجائیں اور جب آپ کلاس سے جانے لگیں تو ان کو تشنگی محسوس ہو...........
آپ جیسے ہوتے ہیں ویسی ہی "شعاعیں" آپ میں سے نکلنے لگتی ہیں سورج کو بتانا نہیں پڑتا ہے کہ میں نکل گیا ہوں صبح ہوگئی ہے..........
پھول اعلان نہیں کرتا ہے کہ میں کھل گیا ہوں اس کی خوشبو پورے باغ کو بتا دیتی ہے کہ کوئی پھول آج کھل گیا ہے.........
--------بالکل اسی طرح اگر آپ واقعی قابل استاد ہیں تو پھر طلبہ کو آپ میں سے وہ شعاعیں ہر لمحہ پھوٹتی محسوس ہونے لگیں گی--------
_______اگر آپ استاد نہیں ہیں اور حادثاتی طور پر ٹیچنگ میں
آ گئے ہیں تو کوشش کریں کہ اس کو اپنا شوق بھی بنالیں_________
■غالب فرماتے ہیں کہ■
" بندہ کام سے تھک جاتا ہے محبت سے نہیں تھکتا۔"
اس لیے کام سے محبت کرلیں..........
اس کے بے شمار فوائد ہیں........
سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو " اطمینان قلب " نصیب ہوجائے گا..........
یہ خدا کی وہ نعمت ہے جو دنیا میں کسی کسی کو ہی ملتی ہے________
دوسرا آپ کی سیکھنے کی لگن بڑھ جائے گی........
سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ آپ کو اتنی عزت دے گا کہ شاید آپ نے سوچا بھی نہ ہو.........
استاد کو سب سے بڑا فائدہ جو اللہ دیتا ہے وہ یہ کہ اس کے رزق میں برکت ہوجاتی ہے........
........آپ استاد ہیں تو پھر لوگوں کے دل اور خدا کی رضا دونوں آپ کے منتظر ہیں.........
منقول
31/12/2018
دسمبر کا آخری دن ہے
ابھی چند گھڑیاں باقی ہیں
کیلنڈر پر تاریخ تبدیل ہونے میں
چلو مڑ کے دیکھیں ہم
کہیں کچھ کھو دیا ہم نے
کہیں کچھ پا لیا ہم نے
کہیں دل نے بغاوت کی
کہیں ہم نے وضاحت دی
یہ سارا کھیل ہے وقت کا
یہ جو پانا اور کھونا ہے
یہ سب برابر ہے
حسابِ زندگی دیکھیں تو آخر میں
خسارہ ہی خسارہ ہے
کہ وقت کے ہاتھ میں ہی سب لگامیں ہیں
ہم فقط دیکھتے اور سنتے تو ہیں لیکن
ہمارے اختیار میں کوئی فیصلہ نہیں ہوتا
مگر اک امید پر ہم کوشش کا دامن تھام لیتے ہیں
کہ ربِ کائنات ہم گرتوں کو یوں گرنے نہیں دیتا
ابھی ہم میں
امیدوں کے چراغ جلتے ہیں
ابھی ہم زندہ ہیں اور زندگی کے ساتھ چلتے ہیں
22/12/2018
دو موسم ، دو قومیں
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺳﺘﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﮐﺎﻏﺰ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﺟﻦ ﮐﻮ ﮨﻢ ﺭﻭﭘﯿﮧ، ﭘﺎﺅﻧﮉ، ﯾﻦ، ﺭﯾﺎﻝ، ﺩﺭﮬﻢ، ﭨﮑﮧ، ﻟﯿﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﮈﺍﻟﺮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺁﺩﻣﯽ ﮐﻮ ﻣﻮﺳﻢ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﻮﺳﻢ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺻﺮﻑ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﻮﺟﮫ، ﭘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﺎﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺍﻧﺘﯽ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﯾﺎ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺯﯾﻮﺭ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﮈﮔﺮﯼ ﻧﺎﻡ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﺯﮦ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﺩﻓﺘﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺧﺎﮎ ﭼﮭﺎﻧﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺳِﺘﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﭘَﺮﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﮨﻮ ﺗُﻢ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ
ﯾﮩﯿﮟ ﭘﺮ ﺩُﻭﺳﺮﯼ ﺩُﻧﯿﺎ ﮨﮯ ﮨﺮ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ
ﯾﮧ ﻣﻮﺳﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﮐﮍ ﺻﺤﺮﺍﺋﮯ ﺗﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﺑﻠﮑﺘﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺩﮐﮭﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﮯ ﺷﯿﺶ ﻧﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﯾﮧ ﻣﻮﺳﻢ چترال ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺩﯾﮩﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﭨﻮﭨﯽ ﭼﮭﺖ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﮐﯽ ﺑﺠﮭﺘﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﺗﻮ ﻟُﻮﭦ ﺳﮑﺘﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﻻﮨﻮﺭ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﯽ ﮐﺴﯽ ﺷﺪّﺍﺩ ﮐﯽ ﺟﻨﺖ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ۔
ﺍﮔﺮ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﻟﻘﻤﮯ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﻮﺳﻢ ﺑﮭﯽ ﻣﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﻑ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ، ﺩﺳﻤﺒﺮ ﮔﺮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔!!!
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺎﻟﻢِ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻨﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﭩﮯ ﭘﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﺎ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻠﻮﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﮨﮯ،
ﺁﭖ ﺍﺱ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔؟
ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮔﻮﯾﺎ ﮨﻮﺍ۔۔۔۔!!!
ﻣِﺮﮮ ﺑﭽﭙﻦ ﮐﮯ ﺑِﻦ ﮨﺮ ﺳُﻮ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮨﯽ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﺗﮭﯽ
ﮐﮭﻠﻮﻧﮯ ﺭﮐﮫ ﺩیئے ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮧ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﮭﯿﻞ ﻟﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﻞ۔۔۔!!!
ﯾﮧ ﺟﻮ ﺑﭽﭙﻦ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ، ﺳﺎﺭﮮ ﺑﭽﻮﮞ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ۔۔۔؟
ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺑﻦ ﭘﮍﺍ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﺎ۔۔۔!!!
"ﻣﺤﻨﺘﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭨﮯ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ لئے ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺎﺅﮞ ﺗﻮ ﮨﻼﻧﮯ ﭘﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ"۔
ﻋﺠﯿﺐ ﻗﺎﺗﻼﻧﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﭼﺎﭼﻮ۔۔۔!!!
"ﭼﺎﺭ ﻟﻘﻤﮯ ﮨﯽ ﺗﻮﮌﮮ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﭽﭙﻦ ﮨﯽ ﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺁﭨﺎ"۔
ﺍُﺱ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮔﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﭘﯿﮍﺍ ﺍﯾﻨﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﻧﭽﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮﭖ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮔُﮭﻮﺭﺍ۔
ﺍُﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﺗﮏ ﺍُﺗﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺳﺮﺩﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﺝ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﯾﮏ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺭﺝ ﮨﮯ
ﺩِﻥ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻟﯿﮑﻦ
ﺗُﻢ ﺍُﺟﺎﻟﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮ
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺗﯿﺰ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻠﺦ ﻧﻮﺍﺋﯽ ﮐﮯ لئے ﺫﺭّﮦ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺎﺵ ﺯﺭ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ لئے ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻔﺮﯾﻖ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎ ﮨﻮﺗﮯ۔
ﮐﺎﺵ۔۔۔!!!
ﺍﻃﻠﺲ ﻭ ﮐﻢ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺑﯽ ﺑﯿﮕﻤﺎﺕ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻌﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﺗﯿﮟ۔
ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﭼﻤﭻ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﺳﯿﺴﮧ ﺍُﺗﺮﺗﺎ۔
ﺗﻮ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺎﺵ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﮨﻀﻢ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮﺩﮦ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﺍُﺟﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﻤﯿﺖ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻤﺸﮑﻞ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺗُﻢ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﭼﻮﺳﺘﮯ ﮨﻮ۔۔۔!!!
ﺗُﻢ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﺩﺍﺭ، ﺯﻣﯿﻨﺪﺍﺭ، ﺑﯿﻮﺭﻭﮐﺮﯾﭧ ﮐﮯ ﺭُﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﭼﭙﮑﯽ ﺧﻮﻥ ﺁﺷﺎﻡ ﺟﻮﻧﮑﯿﮟ ﮨﻮ،
ﺟﻦ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﯽ ﺑﺪ ﮨﻀﻤﯽ ﮨﮯ۔
(ﻏﺮﯾﺐ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﮐﮯ لئے ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗُﻢ ﻣﺮﻏﻦ ﻏﺬﺍﺋﯿﮟ ﮨﻀﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ لئے ﺟﺎﮔﻨﮓ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ)
ﺗُﻢ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺭﯾﻤﻮﭦ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﺳﮯ ﭼﻼﺗﮯ ﮨﻮ۔۔!!!
ﺗُﻤﮭﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﻣﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﻑ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺳﻤﺒﺮ ﮔﺮﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﻮﻡِ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﭘﺮ ﻣﻨﻌﻘﺪﮦ ﮐﺴﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﮐﺎ ﻣﻨﻈﺮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭ۔
ﭘﯽ ﺳﯽ، ﺷﯿﺮﭨﻦ، ﻣﯿﺮﯾﭧ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﺐ ﺗُﻢ ﯾﮑﻢ ﻣﺌﯽ ﮐﻮ ﺍﮐﮭﭩﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﺑﮭﯽ ﮐُﭽﮫ ﯾُﻮﮞ ﮐﺮتے ﮨﻮ۔۔۔
ﮐﮧ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﭘﮍ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔
ﺗُﻢ ﺩﺳﻤﺒﺮ ﮐﮯ ﺟﺎﮌﮮ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﺑﮭﯽ ﺻﺮﻑ ﺧﺒﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺳُﻨﺘﮯ ﮨﻮ۔
ﺗُﻤﮭﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﭘﺴﯿﻨﮧ ﭘﻮﻧﭽﮭﻨﮯ ﮐﮯ لئے ﺑﮭﯽ ﭨﺸﻮ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮈﺍﻟﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﻋﺠﯿﺐ ﺗﻤﺎﺷﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗُﻢ ﻣﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺅ ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺟﯿﺘﮯ ﺟﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻮﺟﮫ ﺗﻠﮯ ﻣﺪﻓﻮﻥ۔
ﺗﯿﺮﮮ ﺩِﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﺗﻮ ﺗﺎﻟﯽ ﮨﮯ
ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻦ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﮐﮩﻮﮞ ﺗﻮ ﮔﺎﻟﯽ ﮨﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﺷﺐ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺷﻦ ﭼﺎﻧﺪ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﮨﯿﮟ
ﻣﯿﺮﮮ ﺩِﻥ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﯿﺴﯽ ﮐﺎﻟﯽ ﮨﮯ
ﺗﯿﺮﮮ ﺩﺭ ﭘﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﭘﮩﺮﮦ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮔﻨﺪﯼ ﻧﺎﻟﯽ ﮨﮯ
ﺳﺎﺭﮮ ﭘﮭﻮﻝ ﺗﻮ ﭼُﻦ ﮐﺮ ﺗُﻮ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﺩ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﺎﻟﯽ ﮨﮯ
ﺷﮧ ﺭﮒ ﭘﮧ ﺗُﻮ ﺩﺍﻧﺖ ﺟﻤﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﮯ
ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺍِﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻻﻟﯽ ﮨﮯ
ﺑﺎﺕ ﻣﺤﺾ ﺩﻭ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﯾﮧ ﻏﺮﺑﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺍﻧﺘﮩﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ہے۔
ﺩﺳﻤﺒﺮ ﮐﺎﺟﺎﮌﺍ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺟﻮﻥ ﮐﯽ ﺩﻭﺯﺥ۔۔!!!
ﺯﺭﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﭘﺮ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺛﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ۔
ﺩﺳﻤﺒﺮ ﺻﺮﻑ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﻮﺩﺍ ﺟﻤﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﮔﺰﺭ ﺑﺴﺮ ﺻﺮﻑ ﺩﯾﮩﺎﮌﯼ ﭘﺮ ﮨﻮ۔
ﺟﻮﻥ ﮐﺎ ﺩﮨﮑﺘﺎ ﺍﻻﺅ ﺻﺮﻑ ﺍُﺳﮯ ﺟﮭﻠﺴﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﭘﺴﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﻼ ﺳﮍﺍ ﭘﯿﺮﮨﻦ ﮨﻮ۔
ﺷﯿﺶ ﻣﺤﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺳﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺩﮬﻮﭖ ﻣﺤﺾ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﮈﯼ ﮐﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﺩﯼ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﮔﺮﻡ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺋﺶ ﮐﺎ ﻭﺳﯿﻠﮧ۔
ﺟﺲ ﻃﺒﻘﮯ ﮐﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﻘﺖ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﺳﻮ ﺭﻧﮓ ﻭ ﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭨﮑﺮﯾﮟ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻡ ﺳﺎ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻮﮞ۔
ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﭼﻨﺪ ﭨُﻮﺗﮯ ﭘُﻮﭨﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﮐﻮﺋﯽ ﺯﺭﺩﺍﺭ ﻧﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻣُﺠﮭﮯ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﮨﮯ۔
ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣُﺮﺷﺪ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﺎ ﭘﺴﯿﻨﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﮐﯽ ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺩﻭﮌ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﮨﺎﮞ ﻭﮨﯽ۔۔۔!!!!!
ﺧﺎﻟﯽ ﺟﯿﺒﯿﮟ ﭨﭩﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﻧﻨﮕﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﯾﮧ ﺩﻭﮌﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﭼﮭﺎﻟﮯ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﮭﻮﮌﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﺑُﮭﻮﺳﯽ ﭨﮑﮍﮮ ﺍُﺑﺎﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﺗﻦ ﭘﮧ ﭘﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﭨﺎﻧﮑﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﮐﻞ ﮐﻮ ﮐﻞ ﭘﺮ ﮨﯽ ﭨﺎﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﺟﻦ ﮐﯽ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﺁﮒ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ
ﺟﻦ ﮐﻮ ﻣﭩﯽ ﺳﻼﻡ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﺟﻦ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍُﭨﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﻮ
ﺟﻦ ﮐﯽ ﻣُﭩﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺩُﻧﯿﺎ ﺁﺟﺎئے
ﺟﻦ ﮐﮯ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﮧ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﮨﻮ ﻓِﺪﺍ
ﺩُﻧﯿﺎ ﺟِﻦ ﮐﻮ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ۔
09/12/2018
ایک بڑھیا کے گھر میں پانی کیلئے دو مٹکے تھے، جنہیں وہ روزانہ ایک لکڑی پر باندھ کر اپنے کندھے پر رکھتی اور نہر سے پانی بھر کر گھر لاتی۔
ان دو مٹکوں میں سے ایک تو ٹھیک تھا مگر دوسرا کچھ ٹوٹا ہوا۔ ہر بار ایسا ہوتا کہ جب یہ بڑھیا نہر سے پانی لے کر گھر پہنچتی تو ٹوٹے ہوئے مٹکی کا آدھا پانی راستے میں ہی بہہ چکا ہوتا۔
جبکہ دوسرا مٹکا پورا بھرا ہوا گھر پہنچتا۔
ثابت مٹکا اپنی کارکردگی سے بالکل مطمئن تھا تو ٹوٹا ہوا بالکل ہی مایوس۔
حتیٰ کہ وہ تو اپنی ذات سے بھی نفرت کرنے لگا تھا کہ آخر کیونکر وہ اپنے فرائض کو
اس انداز میں پورا نہیں کر پاتا جس کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔
اور پھر مسلسل دو سالوں تک ناکامی کی تلخی اور کڑواہٹ لئے ٹوٹے ہوئے گھڑے نے ایک دن اس عورت سے کہا: میں اپنی اس معذوری کی وجہ سے شرمندہ ہوں کہ جو پانی تم اتنی مشقت سے بھر کر اتنی دور سے لاتی ہو اس میں سے کافی سارا صرف میرے ٹوٹا ہوا ہونے کی وجہ سے
گھر پہنچتے پہنچتے راستے میں ہی گر جاتا ہے۔
گھڑے کی یہ بات سن کر بڑھیا ہنس دی اور کہا: کیا تم نے ان سالوں میں یہ نہیں دیکھا
کہ میں جسطرف سے تم کو اٹھا کر لاتی ہوں
ادھر تو پھولوں کے پودے ہی پودے لگے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف کچھ بھی نہیں اگا ہوا۔
مجھے اس پانی کا پورا پتہ ہے جو تمہارے ٹوٹا ہوا ہونے کی وجہ سے گرتا ہے،
اور اسی لئے تو میں نے نہر سے لیکر اپنے گھر تک کے راستے میں پھولوں کے بیج بو دیئے تھے تاکہ میرے گھر آنے تک وہ روزانہ اس پانی سے سیراب ہوتے رہا کریں۔
ان دو سالوں میں ، میں نے کئی بار ان پھولوں سے خوبصورت گلدستے بنا کر اپنے گھر کو سجایا اور مہکایا۔
اگر تم میرے پاس نا ہوتے تو میں اس بہار کو دیکھ ہی نا پاتی جو تمہارے دم سے مجھے نظر آتی ہے۔۔۔۔!!!