Asad Academy اسد اکیڈمی

Asad Academy  اسد اکیڈمی

Share

Online Islamic Education

14/06/2024

Asslam Alikum۔
Dear brothers and sisters, do any of you want to learn the translation, interpretation and tajweed of the Holy Quran?
Pls contact on WhatsApp number

wa.me

10/06/2024

السلام علیکم ورحمۃ اللّہ وبرکاتہ
اسد اکیڈمی ۔ ان لائن ٹیوٹر سروس کی جانب سے گھر بیٹھے "تجوید کورس" کا آغاز کیا جا رہا ہے ۔ بچیوں کیلیے فیمیل ٹیوٹر اور مرد حضرات کیلیے میل ٹیوٹر کا انتظام کیا جائے گا ۔
وہ خواتین جن کو لگتا ہے کہ ان کی تجوید بہتر نہیں ان کے مخارج بہتر نہیں وہ قرآن کو بہترین طریقے سے نہیں پڑھ پا رہیں وہ فوری رابطہ کریں ۔

تجوید کورس انشاءاللہ عید کے بعد شروع کیا جائے گا۔
اس کورس میں
💫 مکمل مخارج
💫مکمل قواعد
💫مکمل صفات
💫بنیادی عربی گرامر
شامل کی گئی ہے۔
کورس کے اوقات کار شرکا کے مشورہ سے دن کے کسی بھی وقت طے کیے جائیں گے۔
کلاسز ہفتہ میں چار دن ۔ پیر تا جمعرات ۔
کلاسز وٹس ایپ اور زوم پر ہوں گی۔
ایڈمیشن محدود ہوں گے۔

وٹس ایپ پر رابطہ کیجیے
+923344377955

http://wa.me/923344377955





wa.me

29/05/2024

+92334437755

Our trustworthy teachers teach
Quranic Arabic
Quranic Translation
with easy and professional way.
Our classes are online all over the world.
Contact whatsapp
+923344377955


23/05/2024

Assalamu Alaikum.
Our trustworthy teachers teach

Quranic Arabic
Quranic Translation

with easy and professional way.

Our classes are online all over the world.

Contact whatsapp

+923344377955



23/05/2024

Assalamu Alaikum
We are Islamic Educationists.
Quran, Hadith, Fiqh and all islamic topics can be discussed for learning purpose .
Our classes are online all over the world.
Contact whatsapp

+923344377955



23/04/2024

داڑھی ایک مشت رکھنا واجب

داڑھی کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو احادیث مروی ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کے متعلق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جو تفصیلات منقول ہیں، نیز داڑھی بڑھانے اور کاٹنے کے متعلق صحابہٴ کرام کا جو عمل روایات میں آیا ہے، ان سب کی روشنی میں چاروں ائمہ (امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) بلکہ پوری امت نے یہ بات متعین کی ہے کہ داڑھی کی شرعی اور وجوبی مقدار ایک مشت ہے، جو داڑھی ایک مشت سے کم کردی جائے وہ ہرگز شرعی داڑھی نہیں ہے۔ اگرچہ وہ دور سے داڑھی نظر آئے۔ (۴) دارھی منڈانے والا اور ایک مشت سے کم پر کتروانے والا دونوں ناجائز وحرام کے مرتکب اور فاسق ہونے میں برابر ہیں، البتہ داڑھی منڈانا اشد ہے ایک مشت سے کم پر کتروانے سے کیونکہ منڈانے میں عورتوں کے ساتھ مشابہت اور پورے طور پر تغییر لخلق اللہ پائی جاتی ہے۔ (۵) داڑھی منڈانے یا ایک مشت سے کم پر کتروانے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت اور شیطان کی پیروی پائی جاتی ہے، اس لیے قرآن وحدیث میں ان دونوں پر جتنی وعیدیں آئی ہیں وہ سب داڑھی منڈانے اور ایک مشت سے کم پر کتروانے پر منطبق ہوں گی، وعید کی چند آیات ملاحظہ ہوں: ”وَلَآَمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ وَمَنْ یَتَّخِذِ الشَّیْطَانَ وَلِیًّا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِیْنًا“ (سورہٴ نسا: آیت: ۱۱۹)، ”وَمَنْ یُشَاقِقِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ“ (سورہٴ انفال، آیت: ۱۳) ”فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہِ اَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ“ (سورہٴ نور، آیت: ۶۳)، ”وَمَا اٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا وَاتَّقُوْا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ“ (سورہٴ حشر، آیت: ۷) وغیرہ۔ (۶) ہونٹ کے نیچے بیچ میں جو بال ہوتے ہیں (جنھیں عربی میں عَنْفَقَةٌ اوراردو میں بچہ داڑھی کہتے ہیں) وہ داڑھی ہی کا جزو ہیں، داڑھی کی طرح ان کا مونڈنا یا ایک مشت سے کم پر کتروانا ناجائز وحرام ہے قال في المنہل العذب المورود (۱:۱۸۷): وأما شعر العنفقة فیحرم إزالتہ کحرمة إزالة شعر اللحیة اھ اور بچہ داڑھی کے دائیں بائیں جو بال ہوتے ہیں شامی (۹/۵۸۳) اور احیاء العلوم وغیرہ میں ان کے مونڈنے کو بدعت لکھا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ انھیں مونڈنے کی گنجائش ہے، حضرت تھانوی رحمہ اللہ الطرائف والظرائف میں فرماتے ہیں: گرفتن موئے فنیکین بروزن ملیکین کہ عبارت است از طرفین عنفقہ باک ندارد، محدث دہلوی رحمہ اللہ در شرح صراط مستقیم می آرد: حلق طرفین عنفقہ لا باس بہ است (داڑھی اور انبیاء کی سنتیں: ص۵۵)۔ (۷) ٹھوڑھی کی ہڈی کے بعد سے مونڈ سکتے ہیں کیونکہ ٹھوڑی کی ہڈی کا آخر ہی ڈاڑھی کی حد ہے۔ (۸) جبڑے کی ہڈی پر اگنے والے بال کے علاوہ رخسار پر جتنے بال ہوں وہ سب مونڈسکتے ہیں جائز ہے اگرچہ بہتر یہ ہے کہ رخسار کے بال نہ مونڈے جائیں۔ (۹) صرف حنفیہ کے نزدیک نہیں بلکہ چاروں ائمہ کے نزدیک ایک مشت داڑھی واجب ہے اور کسی امام سے اس کے خلاف مروی نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خالفوا المشرکین وفروا اللحی واحفوا لاشوارب (بخاری: ۲/۸۷۵) جزوا الشوارب ارخوا اللحی وخالفوا المجوس (مسلم:۱/۳۳۴) یہ صحیح حدیثیں بتلارہی ہیں کہ بارگاہ خداوندی کے خاص مقربین اور ندیموں اور انبیاء اور مرسلین علیہم السلام کے یونیفارم میں سے مونچھوں کا کتروانا ڈاڑھی کا نہ منڈانا ہے، نیز ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے، اس زمانہ میں مشرکین مجوسی ڈاڑھی منڈاتے ہیں اور موچھیں بڑھاتے ہیں اور یہ امر ان کے مخصوص یونیفارم میں تھا۔ نیز حدیثوں میں امر کا صیغہ استعمال کیا ہے، جس کی دلالت وجوب پر ہوتی ہے، اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ سنت کا اطلاق کبھی واجب پر بھی ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں اس کی مراد ہوتی ہے، اثبات السنة نہ کہ اصطلاحی معنی مراد ہوتی ہے۔ اسی لیے فقہائے کرام ڈاڑھی کٹوانے والے کو فاسق گردانتے ہیں اور اس کے پیچھے نماز کی اقتداء مکروہ تحریمی قرار دیتے ہیں۔

(۲) قرآن مکمل کتاب میں جو باتیں ہیں ان کو سمجھنا ہرآدمی کا کام نہیں ہے، ورنہ پھر خود عرب کے اندر نبی اس قرآن کی وضاحت کے واسطے کیوں بھیجا گیا، چناں چہ ارشاد باری ہے: وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ (الآیة)

داڑھی تمام انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی سنت، مسلمانوں کا قومی شعار اور مرد کی فطری اور طبعی چیزوں میں سے ہے، ا سی لیے رسول اللہ ﷺ نے اس شعار کو اپنانے کے لیے اپنی امت کو ہدایات دی ہیں اور اس کے رکھنے کا حکم دیا ہے، اس لیے جمہور علمائے امت کے نزدیک داڑھی رکھنا واجب اور اس کو کترواکریا منڈوا کر ایک مشت سےکم کرنا حرام ہے اور کبیرہ گناہ ہے۔اور اس کا مرتکب فاسق اور گناہ گار ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے "امام مسلم" اور اصحابِ سنن نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دس چیزیں فطرت میں سے ہیں ( پیدائشی سنت ہیں) : ایک تو مونچھ خوب کتروانا، دوسری داڑھی چھوڑنا، تیسری مسواک کرنا، چوتھی پانی سے ناک صاف کرنا، پانچویں ناخن کا ٹنا، چھٹی انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، ساتویں بغل کے بال اُکھاڑنا، آٹھویں زیرِ ناف کے بال مونڈنا، نویں پانی سے استنجا کرنا۔ زکریاؒ روای کہتے ہیں کہ مصعبؒ نے کہا: میں دسویں چیز بھول گیا، مگر یہ کہ یہ کلی ہوگی۔

"عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " عشر من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية، والسواك، واستنشاق الماء، وقص الأظفار، وغسل البراجم، ونتف الإبط، وحلق العانة، وانتقاص الماء " قال زكريا: قال مصعب: ونسيت العاشرة إلا أن تكون المضمضة". (صحيح مسلم ۔1/ 223)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے "بزار" نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجوسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔

"عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: خالفوا على المجوس جزوا الشوارب وأوفوا اللحى". (مسند البزار = البحر الزخار ۔13/ 90)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ، مجوسیوں کی مخالفت کرو۔

" عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: جُزُّوا الشوارب، وأرخوا اللحی، خالِفوا المجوس". (صحیح مسلم، کتاب الطهارة / باب خصال الفطرة ۱؍۱۲۹رقم:۲۶۰بیت الأفکار الدولیة)

مذکورہ بالا احادیث میں صراحت سے داڑھی کے بڑھانے کا حکم ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے صریح حکم کی خلاف ورزی ناجائز اور حرام ہے۔

اسی معنی کی مزید احادیث درج ذیل ہیں۔

" عن ابن عمر رضي اﷲ عنهما قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم: أحفوا الشوارب وأعفوا اللحی". ( جامع الترمذي، أبواب الأدب، باب ماجاء في إعفاء اللحیة، النسخة الهندیة ۲/ ۱۰۵، دارالسلام رقم:۲۷۶۳)
سنن أبی داؤد شریف، کتاب الطهارة، باب السواک من الفطرة، النسخة الهندیة ۱/ ۸، دارالسلام رقم:۵۳.

"وعن ابن عمر رضي اللّٰه عنهما قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: انهکوا الشوارب وأعفوا اللحی". (صحیح البخاري، کتاب اللباس / باب إعفاء اللحی۲؍۸۷۵رقم:۵۸۹۳دار الفکر بیروت)

نیز داڑھی منڈوانا ایسا جرم ہے کہ اس کی حرمت پر ساری امت کا اجماع ہے، امت کا ایک فرد بھی اس قبیح فعل کے جواز کاقائل نہیں ہے۔

سنن ابو داوٴد کے شارح صاحب "المنہل العذب المورود“ علامہ سبکی رحمہ اللہ نے لکھا ہے: داڑھی کا منڈانا سب ائمہ مجتہدین امام ابو حنیفہ ،امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل وغیرہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک حرام ہے۔

”کان حلق اللحیة محرّماً عند ائمة المسلمین المجتهدین أبي حنیفة، ومالک، والشافعي، وأحمد وغیرهم -رحمهم الله تعالیٰ-“. (المنہل العذب المورود، کتاب الطہارۃ، أقوال العلماء فی حلق اللحیۃ واتفاقہم علی حرمتہ: 1/186، موٴسسۃالتاریخ العربی، بیروت، لبنان)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ ”بوادر النوادر “ میں لکھتے ہیں:

”قال العلائي في کتاب الصوم قبیل فصل العوارض: ”إن الأخذ من اللحیة، وهي دون القبضة، کما یفعله بعضُ المغارِبة ومُخَنَّثة الرجالِ، لَم یُبِحْه أحدٌ، وأَخْذُ کلِّها فعلُ الیهود والهنودِ ومَجوس الأعاجِم․ اهـ“ فحیثُ أَدْمَن علی فعلِ هذا المحرَّمِ یفسُقُ، وإن لم یکن ممن یستخفونه ولا یعُدُّونَه قادحاً للعدالة والمروة، إلخ“․ (تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ، کتاب الشھادۃ: 4/238، مکتبۃ رشیدیۃ، کوئٹۃ)

قلت(الأحقر): قوله:”لم یبحه أحد“ نصٌّ في الإجماع، فقط“․ (بوادر النوادر، پچپنواں نادرہ در اجماع بر حرمت اخذ لحیہ دون القبضہ،ص: 443،ادارہ اسلامیات لاہور)

علامہ علائی رحمہ اللہ کی مذکورہ عبارت کے آخر میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ: علامہ حصکفی رحمہ اللہ کا قول: ”لَمْ یُبِحْہ أحدٌ“داڑھی منڈانے کی حرمت پر اجماع کی صریح دلیل ہے۔

علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وأما تقصیرُ اللحیة بحیثُ تصیرُ قصیرة من القبضة، فغیرُ جائزٍ فی المذاهب الأربعة“․ (العرف الشذی، کتاب الآداب، باب ما جاء فی تقلیم الأظفار، 4/162، دار الکتب العلمیۃ)

نیز اس کے صاف کرنے/ مشت سے کم کاٹنے کی حرمت اشارۃً قرآن مجید میں بھی موجود ہے، قرآن پاک میں اللہ تعالی نے تغییر خلقِ اللہ یعنی انسانی اعضاء میں اللہ تعالی کی بنائی ہوئی تخلیق میں تبدیلیاں کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:

﴿ وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطٰنَ وَلِيًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا﴾ [النساء:119]

ترجمہ:اور میں ان کو گم راہ کروں گا اور میں ان کو ہوسیں دلاؤں گا اور میں ان کو تعلیم دوں گا جس میں وہ چوپایوں کے کانوں کو تراشا کریں گے اور میں ان کو تعلیم دوں گا جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑا کریں گے اور جو شخص خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بناوے گا وہ صریح نقصان میں واقع ہوگا

واضح رہے کہ کسی فعل کے حرام ہونے کے لیے قرآنِ مجید یا احادیثِ نبویہ میں لفظِ حرام کہہ کر اس کا حکم ''حرام'' بیان کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ بعض مرتبہ اشارۃً ایک حکم مذکور ہوتاہے اور اس کا حکم حرام یا فرض کا درجہ رکھتاہے، قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں بیان کردہ احکام کے مراتب ودرجات جاننے کا ذریعہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے شاگردوں (تابعین رحمہم اللہ) کی تشریحات ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آثار سے احکامِ اسلام کا مرتبہ متعین ہوجاتاہے، کیوں کہ وہ آپ ﷺ کے براہِ راست شاگرد، وحی کے نزول کے شاہد اور کمال درجہ شوق کے ساتھ آپ ﷺ سے دین کو سیکھنے سمجھنے والے ہیں، انہیں کسی فعل میں آپ ﷺ سے رخصت ملی تو بلا کم وکاست پوری امانت داری کے ساتھ امت تک رخصت والا وہ عمل بھی پہنچایاہے، آپ ﷺ نے خود بھی داڑھی رکھی ، تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی داڑھی رکھی، اور آپﷺ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو داڑھی بڑھانے کاحکم دیا،اور کسی نبی علیہ السلام یا صحابی رضی اللہ عنہ سے داڑھی صاف کرنا ثابت نہیں، ہاں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتنا آتاہے کہ وہ ایک مشت تک داڑھی کو درست کرتے تھے، اس سے کم داڑھی رکھنا کسی سے منقول نہیں ہے، اور درج بالا احادیث میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ آپﷺ نے صاف اور دو ٹوک حکم دیا ہے کہ داڑھی بڑھاؤ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس سے وجوب ہی سمجھا، تب ہی خود بھی شدت سے عمل کیا اور آنے والی امت کو یہی امانت حوالہ کرکے گئے، ان کے شاگرد اور شاگردوں کے شاگردوں نے وہی امانت امت تک پہنچائی ہے، انہوں نے دین کے مسائل خود سے نہ بنائے ہیں اور نہ ہی خود سے احکام کے مراتب متعین کیے ہیں، فقہاءِ کرام رحمہم اللہ تب تک کسی چیز کا حکم اور اس حکم کا درجہ متعین نہیں کرتے جب تک کہ ان کے پاس قرآن وحدیث سے دلیل موجود نہ ہو، خواہ صراحتاً ہو یا اشارۃً۔

یہ بات بھی قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ میں صراحتاً اور اشارۃً موجود ہے کہ مسلمان اہلِ علم کا اجماع/ اتفاق مستقل حجتِ شرعیہ ہے، یعنی اگر قرآن وحدیث میں کوئی حکم صراحتاً موجود نہ ہو ،لیکن صحابہ کرام یا قرونِ اولیٰ کے اہلِ علم کسی آیت یا حدیث کی مراد پر متفق ہوجائیں تو یہ اجماع خود حجتِ شرعیہ ہے، اس اجماع سے ہی حکم کا درجہ متعین ہوجاتاہے، جب تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین وتبع تابعین اورفقہاء مجتہدین رحمہم اللہ قرآن وحدیث سے ایک مسئلے (داڑھی صاف کرنے یا ایک مشت سے کم کرنے ) کا حکم سمجھ کر اس کے درجے پر متفق ہیں تو ان حضرات کا اجماع ہی اس کی حرمت کی دلیل ہے، خواہ قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ میں صراحتاً حرمت نہ بھی موجود ہو۔ چہ جائے کہ داڑھی بڑھانے کے وجوب پر صراحتاً دلالت کرنے والی احادیث موجود ہیں جن کی جانبِ مخالف (واجب کو ترک کرنا) حرام ہے۔
نیز ڈاڑھی منڈوانا درج ذیل گناہوں کا مجموعہ ہے:

(1) نبی کریم ﷺ کے حکم کی مخالفت۔ (2) انبیاء کرام کی سنت اور فطرت کی مخالفت۔ (3)اس گناہ کا اعلانیہ ہونا کہ ڈاڑھی ایسا گناہ ہے جو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا، اور گناہ کی تشہیر خود ایک گناہ ہے۔ (4) اللہ کی فطری بنائی ہوئی خلقت میں تبدیلی اور مثلہ (چہرہ بگاڑنے) کا گناہ ۔ (5) کافروں سے مشابہت ۔(6) خواتین کے ساتھ تشبہ، اور مردوں کے لیے ایسا عمل جس سے خواتین کے ساتھ مشابہت حدیث کی رو سے موجبِ لعنت ہے ۔ (7) مخنثین اور ہیجڑوں سے مشابہت ۔(8) گناہ کا تسلسل اور استمرار۔یعنی جب تک انسان اس عمل کا مرتکب رہتا ہے اس وقت تک اس کا گناہ برابر جاری رہتا ہے۔ (9) اسلامی اور دینی شعائر کی خلاف ورزی۔

ڈاڑھی کے شرعی حکم سے متعلق حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ کے افادات میں ہے:

" داڑھی قبضہ (ایک مشت) سے کم کرانا حرام ہے، بلکہ یہ دوسرے کبیرہ گناہوں سے بھی بدتر ہے؛ اس لیے اس کے اعلانیہ ہونے کی وجہ سے اس میں دینِ اسلام کی کھلی توہین ہے اور اعلانیہ گناہ کرنے والے معافی کے لائق نہیں، اور ڈاڑھی کٹانے کا گناہ ہر وقت ساتھ لگا ہوا ہے حتی کے نماز وغیرہ عبادات میں مشغول ہونے کی حالت میں بھی اس گناہ میں مبتلا ہے"۔( "ڈاڑھی منڈانا کبیرہ گناہ اور اس کا اس کا مذاق اڑانا کفر ہے"ص 10،مکتبہ حکیم الامت)

مذکورہ بالا تمام تفصیلات سے یقیناً آپ کے سامنے شرعی حکم واضح ہوگیا ہوگا، اور آپ کی تسلی بھی ہوگئی ہوگی، اور اگر مزید تفصیل چاہتے ہیں تو اس پر مستقل رسالے اور کتابیں لکھی گئی ہیں ، مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ کا ڈاڑھی کے احکام سے متعلق رسالہ "جواہر الفقہ" 7 جلد میں موجود ہے، اسی طرح حکیم الامت تھانوی صاحب کے افادات "ڈاڑھی منڈانا کبیرہ گناہ اور اس کا اس کا مذاق اڑانا کفر ہے" ، اور حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ اور مولانا قاری طیب صاحب رحمہ اللہ کے رسالوں کا مطالعہ کیجیے۔
قرآن میں حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کے قصے میں۔۔

جب موسیٰ علیہ السلام اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی داڑھی کو پکڑتے ہیں اور وہ کہتے ہے۔۔
لا تاخذ بلحیتی ولا برأسی

اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت ہارون علیہ السلام کی اتنی داڑھی تھی کہ ایک مشت تک کہ وہ ہاتھ میں آجاتی۔۔۔

22/04/2024

ہفتہ
20 اپریل 2024
11 شوال 1445
08 بیساکھ 2081

15/04/2024

Asad Academy
Online Islamic Education

Quran Kareem

Recitation, Tajweed, Translation, Explanation

Three Classes Free

Time Flexibility

WhatsApp
+923344377955

15/04/2024
Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Gulzar Colony, Mureed-wal, Thokar Niaz Beg
Lahore
53700