25/02/2025
🚀 Unlock the Secrets of Binary Trading! 🚀
💡 Free Training Alert! 💡
Join my FREE Binary Trading Masterclass and learn the strategies to turn the market in your favor! 📈
👉 Limited Spots Available! 👈
Invite your friends and let’s grow together! 🌟
✅ Learn Risk Management
✅ Master Trading Strategies
✅ Start Your Journey to Financial Freedom!
📅 Don’t Miss Out!
Click the link below to join my Facebook group and secure your spot:
[https://www.facebook.com/groups/achieversacademylhr/]
💬 Tag a friend who needs this opportunity!
Let’s build a community of successful traders! 💪
16/02/2025
جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں گائے پر ایک تجربہ کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اسلامی طریقے سے ذبح کرنے پر گائے کو کتنا درد محسوس ہوتا ہے۔
یہ جانچ EEG نامی عمل کے ذریعے کی گئی، جس میں گائے کے دماغ کی برقی لہروں کی پیمائش کی گئی۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ گائے کو کسی قسم کا درد محسوس ہوا یا نہیں، اور اگر ہوا تو اس کی شدت کتنی تھی۔
انہوں نے گائے کو تجربے کے لیے تیار کیا، اسے مخصوص آلات سے جوڑا اور پھر ذبح کیا۔
ذبح کے پہلے تین سیکنڈ میں 👇
دماغ کی برقی لہروں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ گائے کو کوئی درد محسوس نہیں ہوا۔ اگلے تین سیکنڈز میں یہ دیکھا گیا کہ گائے غشی کی حالت میں چلی گئی اور بے ہوش ہو گئی۔ یہ خون کے تیزی سے بہنے اور دماغ کو خون کی سپلائی رکنے کی وجہ سے ہوا۔
چھ سیکنڈ بعد، EEG نے دماغی لہروں کے بند ہونے کو ریکارڈ کیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ گائے مر چکی تھی اور اسے کسی قسم کا درد محسوس نہیں ہوا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے:
ہم اکثر قربانی کے جانور کے ذبح کے وقت اس کے درد کے بارے میں سوچتے ہیں اور اس پر افسوس کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامی حلال ذبح کے طریقے میں شہ رگ، ورید، سانس کی نالی اور خوراک کی نالی کو کاٹا جاتا ہے، لیکن سر کو دھڑ سے الگ نہیں کیا جاتا۔
اس طریقے سے دماغ تک خون اور آکسیجن کی فراہمی رک جاتی ہے، اور قربانی کا جانور چند ہی لمحوں میں غشی کی حالت میں چلا جاتا ہے اور بے ہوش ہو جاتا ہے۔
سبحان اللہ!
قربانی کے جانور کو بے ہوشی کی حالت میں درد کا احساس نہیں ہوتا۔ اس دوران، جانور کے دماغ میں موجود پچوٹری گلینڈ (غدہ نخامیہ) ریڑھ کی ہڈی کے ذریعے گردوں میں موجود ایڈرینل گلینڈ (غدہ کظرہ) کو سگنل بھیجتا ہے، جو ایڈرینالین خارج کرتا ہے۔
یہ ہارمون خون کے بہاؤ کو تیز کرنے میں مدد دیتا ہے، اور تیزی سے خون بہنے کے نتیجے میں چند منٹوں کے اندر جانور کا جسم خون سے خالی ہو جاتا ہے۔
اسلامی ذبح: تیز اور سب سے رحم دل طریقہ
اسلامی ذبح کا طریقہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ جانور کے درد کو کم کرنے کا سب سے تیز اور مہربان طریقہ ہے۔
سبحان اللہ، اس عظیم شریعت کی حکمت پر غور کریں
28/01/2025
سور کیوں پیدا کیا گیا
ہر مسلمان کے لئے یہ پڑھنا بہت ضروری ہے
یورپ سمیت تقریبا تمام امریکی ممالک میں گوشت کے لئے بنیادی انتخاب سور ہے۔ اس جانور کو پالنے کے لئے ان ممالک میں بہت سے فارم ہیں۔ صرف فرانس میں ، پگ فارمز کا حصہ 42،000 سے زیادہ ہے۔
کسی بھی جانور کے مقابلے میں سور میں زیادہ مقدار میں FAT ہوتی ہے۔ لیکن یورپی و امریکی اس مہلک چربی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس چربی کو ٹھکانے لگانا ان ممالک کے محکمہ خوراک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس چربی کو ختم کرنا محکمہ خوراک کا بہت بڑا سردرد تھا۔
اسے ختم کرنے کے لیئے باضابطہ طور پر اسے جلایا گیا، لگ بھگ 60 سال بعد انہوں نے پھر اس کے استعمال کے بارے میں سوچا تاکہ پیسے بھی کمائے جا سکیں۔ صابن بنانے میں اس کا تجربہ کامیاب رہا۔
شروع میں سور کی چربی سے بنی مصنوعات پر contents کی تفصیل میں pig fat واضح طور پر لیبل پر درج کیا جاتا تھا۔
چونکہ ان کی مصنوعات کے بڑے خرہدار مسلمان ممالک ہیں اور ان ممالک کی طرف سے ان مصنوعات پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے ان کو تجارتی خسارہ ہوا۔ 1857 میں اس وقت رائفل کی یورپ میں بنی گولیوں کو برصغیر میں سمندر کے راستے پہنچایا گیا۔ سمندر کی نمی کی وجہ سے اس میں موجود گن پاؤڈر خراب ہوگیا اور گولیاں ضایع ہو گئیں۔
اس کے بعد وہ سور کی چربی کی پرت گولیاں پر لگانے لگے۔ گولیوں کو استعمال کرنے سے پہلے دانتوں سے اس چربی کی پرت کو نوچنا پڑتا تھا۔ جب یہ بات پھیل گئی کہ ان گولیوں میں سور کی چربی کا استعمال ہوا ہے تو فوجیوں نے جن میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ سبزی خور ہندو تھے نے لڑنے سے انکار کردیا ، جو آخر کار خانہ جنگی کا باعث بنا۔ یورپی باشندوں نے ان *حقائق کو پہچان لیا اور PIG FAT لکھنے کے بجائےانہوں نے FIM لکھنا شروع کر دیا
P
1970کے بعد سے یورپ میں رہنے والے تمام لوگ حقیقت کو جانتے ہیں کہ جب ان کمپنیوں سے مسلمان ممالک نے پوچھا کہ یہ کیا ان اشیا کی تیاری میں جانوروں کی چربی استعمال کی گئی ھے اور اگر ھے تو کون سی ہے...؟تو انہیں بتایا گیا کہ ان میں گائے اور بھیڑ کی چربی ہے۔ یہاں پھر ایک اور سوال اٹھایا گیا ، کہ اگر یہ گائے یا بھیڑ کی چربی ہے تو پھر بھی یہ مسلمانوں کے لئے حرام ہے، کیونکہ ان جانوروں کو اسلامی حلال طریقے سے ذبح نہیں کیا گیا تھا۔
اس طرح ان پر دوبارہ پابندی عائد کردی گئی۔ اب ان کثیر القومی کمپنیوں کو ایک بار پھر کا نقصان کاسامنا کرنا پڑا۔۔۔!
آخر کار انہوں نے کوڈڈ زبان استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ، تاکہ صرف ان کے اپنےمحکمہ فوڈ کی ایڈمنسٹریشن کو ہی پتہ چل سکے کہ وہ کیااستعمال کر رہے ہیں اور عام آدمی اندھیرے میں ہی رہے۔ اس طرح انہوں نے ای کوڈز کا آغاز کیا۔ یوں اجکل یہ E-INGREDIENTS کی شکل میں کثیر القومی کمپنیوں کی مصنوعات پر لیبل کے اوپر لکھی جاتی ہیں،
ان مصنوعات میں
دانتوں کی پیسٹ، ببل گم، چاکلیٹ، ہر قسم کی سوئٹس ، بسکٹ،کارن فلاکس،ٹافیاں
کینڈیڈ فوڈز ملٹی وٹامنز اور بہت سی ادویات شامل ہیں چونکہ یہ سارا سامان تمام مسلمان ممالک میں اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے۔
سور کے اجزاء کے استعمال سے ہمارے معاشرے میں بے شرمی، بے رحمی اور جنسی استحصال کے رحجان میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ھے۔
لہذا تمام مسلمانوں اور سور کے گوشت سے اجتناب کرنے والوں سے درخواست ھے کہ وہ روزانہ استعمال ہونے والے ITEMS کی خریداری کرتے وقت ان کے content کی فہرست کو لازمی چیک کرلیا کریں اور ای کوڈز کی مندرجہ ذیل فہرست کے ساتھ ملائیں۔ اگر نیچے دیئے گئے اجزاء میں سے کوئی بھی پایا جاتا ہو تو پھر اس سے یقینی طور پر بچیں،کیونکہ اس میں سور کی چربی کسی نہ کسی حالت میں شامل ہے۔
E100 ، E110 ، E120 ، E140 ، E141 ، E153 ، E210 ، E213 ، E214 ، E216 ، E234 ، E252 ، E270 ، E280 ، E325 ، E326 ، E 327 ، E334 ، E335 ، E336 ، E337 ، E422 ، E41 ، E431 ، E432 ، E433 ، E434 ، E435 ، E436 ، E440 ، E470 ، E471 ، E472 ، E473 ، E474 ، E475 ، E476 ، E477 ، E478 ، E481 ، E482 ، E483 ، E491 ، E492 ، E493 ، E494 ، E549 ، E542 E572 ، E621 ، E631 ، E635 ، E905
ڈاکٹر ایم امجد خان
میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ
👈براہ کرم اس وقت تک شیئر کرتے رہیں جب تک کہ وہ بلائنس آف مسملز ورلڈ وائڈ پر نہ آجائیں
یاد رھے کہ شیئرنگ صدقة جاريه میں گردانی جا سکتی ھے
20/10/2024
پچھلے مہینے، میرے پڑوسی نے مجھ سے انٹرنیٹ کا پاس ورڈ مانگا۔
میں نے اسے دے دیا کیونکہ اس سے مجھے کوئی نقصان نہیں تھا اور میں اس کے ساتھ اچھے تعلقات میں تھا۔
کل میں گھر واپس آ رہا تھا تو وہ دروازے پر موجود تھا۔ میں نے اس سے معمول کے مطابق کچھ دیر بات کی اور اس نے خوشی سے بتایا کہ اب اس کے پاس نیٹ فلکس ہے۔
میں نے مذاق کرتے ہوئے کہا، "میں سخت محنت کرتا ہوں، اور بمشکل ٹیلی ویژن دیکھنے کا وقت ملتا ہے، لیکن یہ زبردست ہے، کیا آپ مجھے بھی پاس ورڈ دے سکتے ہیں تاکہ میں کچھ سیریز دیکھ سکوں؟ میں اس کا شکر گزار ہوں گا۔"
اس دوران دور سے اس کی بیوی کی آواز آئی: "ہم اسے نہیں دے سکتے کیونکہ میں ہی ادایگی کرتی ہوں اور میں اسے شریک نہیں کر سکتی۔"
سکونت چھا گیا!
آدمی نے آہستہ آواز میں معذرت کی اور میں نے کہا کہ کوئی بات نہیں۔ ہم نے دوسری چیزوں پر بات جاری رکھی، اور آخرکار میں گھر واپس آیا جبکہ وہ اپنے کاموں کی نگرانی کے لیے باہر ہی رہا۔
کچھ دیر بعد، اس کی بیوی باہر آئی، بہت زیادہ پریشان دکھائی دی، اور کہا کہ ٹیلی ویژن نہیں چل رہا!
چند منٹ بعد، وہ اور اس کی بیوی میرے ساتھ بات کرنے کے لیے آئے اور مجھے بتایا کہ نیٹ ورک کام نہیں کر رہا، اور پاس ورڈ اب کام نہیں کرتا!
میں نے ان کی طرف دیکھا اور کہا، "میں نے اپنا پاس ورڈ تبدیل کر لیا ہے، کیونکہ میں ہی ادائیگی کرتا ہوں اور میں اسے شریک نہیں کر سکتا۔"
اس کی بیوی غصے میں آ گئی اور کچھ کہنے کی کوشش کی، لیکن میں نے کہا، "میڈم، میرے پاس میرا نیٹ ورک ہے اور آپ کے پاس نیٹ فلکس ہے، سب کچھ ٹھیک ہے اور سب خوش ہیں۔"
وہ مڑے اور چلے گئے، اور دروازہ بند کر دیا، پھر انہوں نے مجھ سے دوبارہ بات نہیں کی...
سبق:
دوستی باہمی ہونی چاہیے۔
محبت باہمی ہونی چاہیے۔
مودت باہمی ہونی چاہیے۔
کام برابر ہونا چاہیے۔
احترام موجود ہونا چاہیے۔
خدمات دو طرفہ ہونی چاہیے۔
ایک طرف سے احساسات ختم ہو گئے ہیں!
ہم استحصال کرنے والوں اور چالاک لوگوں سے گھیرے ہوئے ہیں، یہ تبدیلی ضروری ہے، یہ انصاف نہیں ہے کہ آپ اپنی توانائی کسی ایسے شخص کے لیے خرچ کریں جو بدلے میں کچھ نہیں کرتا۔
29/02/2024
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
06/11/2022
بستر پر جاتے وقت 81 سالہ بڑی بی نے 83 سالہ میاں سے کہا:
"سنو.. ابھی میری نظر کھڑکی سے باہر گئی تو مجھے لگا کہ گیریج کی بتی جل رہی ہے۔ کیا تم اٹھ کے اسے بند کر آؤگے؟"
بڑے میاں بڑی مشکل سے بستر سے نکلے، دروازہ کھول کر باہر نکلے تو دیکھا کہ پانچ چھ نقب زن گیریج کے دروازے سے چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں۔ بڑے میاں نے وہیں سے پولیس اسٹیشن فون کیا۔
"دیکھو۔۔۔میرا پتہ لکھو۔ ہم صرف دو بوڑھے میاں بیوی گھر پر ہیں اور پانچ چھ چور میرے گیریج پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ جلدی کسی پولیس ٹیم کو بھیجو۔۔۔"
دوسری طرف سے ڈسپیچر کی آواز آئی:
"ہم نے آپ کا پتہ لکھ لیا ہے ۔ بے فکر رہیں۔ ابھی کوئی ٹیم فارغ نہیں۔ جیسے ہی کسی ٹیم سے رابطہ ہوتا ہے میں فوراً بھیجتا ہوں"
بڑے میاں خون کے گھونٹ پی کے رہ گئے۔ نقب زن ابھی تک گیریج کے تالوں سے الجھے ہوئے تھے۔ دو منٹ بعد انہوں نے پھر پولیس اسٹیشن فون کیا:
"سنو۔۔۔اب کسی کو بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ میں نے ان پانچوں کو گولی مار دی ہے۔۔۔"
پولیس اسٹیشن میں کھلبلی مچ گئی۔ پانچ منٹ کے اندر اندر پولیس ٹیم ایک ہیلی کاپٹر، ایک پیرا مڈیکس، تین ڈاکٹرز اور دو ایمبولنس کے ساتھ گلی میں نمودار ہوئی۔ جلد ہی ان مجرموں پر قابو پا لیا گیا۔ بعد ازاں ٹیم کا انچارج ٹہلتا ہوا بڑے میاں کے پاس آیا:
"آپ نے تو کہا تھا کہ آپ نے انہیں گولی مار دی ہے؟"
"اور آپ لوگوں نے بھی تو کہا تھا کہ کوئی ٹیم فارغ نہیں ہے"🚶
06/10/2022
جان ڈی راک فیلر کبھی دنیا کے امیر ترین آدمی تھے۔ دنیا کا پہلا ارب پتی۔ 25 سال کی عمر میں، اس نے امریکہ کی سب سے بڑی آئل ریفائنریوں میں سے ایک کو کنٹرول کیا۔ 31 سال کی عمر میں، وہ دنیا کا سب سے بڑا تیل صاف کرنے والا بن گیا تھا۔ 38 سال کی عمر میں، اس نے امریکہ میں 90 فیصد تیل کو صاف کیا۔
50 تک، وہ ملک کا سب سے امیر آدمی تھا۔ ایک نوجوان کے طور پر، ہر فیصلہ، رویہ، اور رشتہ اس کی ذاتی طاقت اور دولت پیدا کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا.
لیکن 53 سال کی عمر میں وہ بیمار ہو گئے۔ اس کا پورا جسم درد سے لرز گیا اور اس کے سارے بال جھڑ گئے۔ مکمل اذیت میں، دنیا کا واحد ارب پتی اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی خرید سکتا تھا، لیکن وہ صرف سوپ اور کریکر ہضم کر سکتا تھا۔ ایک ساتھی نے لکھا، وہ سو نہیں سکتا تھا، مسکرا نہیں سکتا تھا اور زندگی میں کوئی بھی چیز اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ اس کے ذاتی، انتہائی ماہر ڈاکٹروں نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ ایک سال کے اندر مر جائے گا۔ وہ سال اذیت سے آہستہ آہستہ گزر گیا۔
جب وہ موت کے قریب پہنچا تو وہ ایک صبح اس مبہم احساس کے ساتھ بیدار ہوا کہ وہ اپنی دولت میں سے کچھ بھی اپنے ساتھ اگلے جہان میں لے جانے کے قابل نہیں ہے۔ وہ آدمی جو کاروباری دنیا کو کنٹرول کر سکتا تھا، اچانک احساس ہوا کہ وہ اپنی زندگی کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ اس کے پاس ایک انتخاب رہ گیا تھا۔
🌹اس نے اپنے اٹارنی، اکاؤنٹنٹ، اور مینیجرز کو بلایا اور اعلان کیا کہ وہ اپنے اثاثوں کو ہسپتالوں، تحقیق اور خیراتی کاموں میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔
جان ڈی راک فیلر نے اپنی فاؤنڈیشن قائم کی۔ یہ نئی سمت بالآخر پینسلین کی دریافت کا باعث بنی، ملیریا، تپ دق اور خناق کا علاج۔
🌹لیکن شاید راکفیلر کی کہانی کا سب سے حیرت انگیز حصہ یہ ہے کہ جس لمحے اس نے اپنی کمائی ہوئی تمام چیزوں کا ایک حصہ واپس دینا شروع کیا، اس کےجسم کی کیمسٹری میں اس قدر نمایاں تبدیلی آتی چلی گئی کہ وہ بہتر سے بہتر ہوتا چلا گیا۔ ایک وقت تھا کہ ایسا لگتا تھا وہ 53 سال کی عمر میں ہی مر جائے گا۔ لیکن وہ 98 سال کی عمر تک زندہ رہا۔ مال خیرات کرنے سے وہ تندرست ہو گیا۔ گویا یہ خیرات نام کی چیز بھی ایک طریق علاج ہے۔ اسے بھی آزما کر دیکھ لیجئے .
اپنی موت سے پہلے، اس نے اپنی ڈائری میں لکھا،
*"سپریم انرجی نے مجھے سکھایا، کہ سب کچھ اس کا ہے، اور میں اس کی خواہشات کی تعمیل کرنے کے لیے صرف ایک چینل ہوں۔* _
میری زندگی ایک طویل، خوشگوار چھٹی رہی؛ کام اور کھیل سے بھرپور۔
میں نے پریشانی کو راستے میں چھوڑ دیا اب میں تھا اور میرا خدا تھا_
_میرے لیے ہر دن اچھا تھا۔"