ASHAR Public School

ASHAR Public School Enter to learn leave to serve

06/08/2026

قومــــوں کے زوال کی اصل وجہ حکمران ہوتے ہیں... یا عــــوام۔۔۔؟👇

تاریــــخ کے ہزاروں صفحات پلٹ کر دیکھ لیجیے... ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے۔ قومیں صرف اپنے حکمرانوں سے نہیں پہچانی جاتیں، بلکہ اُن کے کردار، اُن کے اعمال اور اُن کی اجتماعی سوچ سے پہچانی جاتی ہیں۔ جب کسی معاشرے میں سچ بولنے والا کم، دھوکہ دینے والا زیادہ ہو جائے... جب امانت داری کمزوری اور بے ایمانی ہوشیاری سمجھی جانے لگے... جب ہر شخص اپنے حق کا مطالبہ کرے مگر دوسروں کا حق دینے سے گریز کرے... تو پھر صرف حکمرانوں پر انگلی اٹھانا شاید پوری تصویر نہیں دکھاتا۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ فلاں حکمران نے قوم کو تباہ کر دیا، مگر شاید ہمیں کبھی رک کر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ حکمران آیا کہاں سے تھا؟ وہ بھی اسی معاشرے میں پیدا ہوا، اسی ماحول میں پروان چڑھا، انہی اقدار کو دیکھ کر بڑا ہوا جنہیں ہم روز اپنی زندگی میں اختیار کرتے ہیں۔ اگر بازار میں جھوٹ عام ہو، اداروں میں سفارش عام ہو، وعدے کی کوئی قیمت نہ رہے، انصاف صرف اپنے لیے مانگا جائے اور قانون دوسروں کے لیے... تو پھر ایک مثالی حکمران کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

تاریــــخ میں حضرت عمر بن خطابؓ جیسے عادل حکمران بھی گزرے، نورالدین زنگی جیسے امانت دار حکمران بھی آئے، صلاح الدین ایوبیؒ جیسے کردار کے پہاڑ بھی پیدا ہوئے، اور سلطان عبدالحمید ثانیؒ جیسے رہنما بھی جنہوں نے شدید دباؤ کے باوجود اپنے بعض اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ لیکن یہ سب ایسے معاشروں میں بھی تھے جہاں دین، علم، ذمہ داری اور اجتماعی شعور کی ایک بنیاد موجود تھی۔ تاریــــخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب قومیں اندر سے کمزور ہوئیں، تفرقے، ناانصافی اور خود غرضی میں مبتلا ہوئیں، تو اُن کی سلطنتیں بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکیں۔

شاید اسی لیے تاریــــخ ہر نسل سے ایک ہی سوال کرتی ہے... کیا ہم واقعی اچھے حکمرانوں کے مستحــــق بن چکے ہیں، یا ہم صرف اچھے حکمران چاہتے ہیں؟ کیونکہ قوموں کی تقدیر صرف ایوانوں میں نہیں لکھی جاتی، وہ گھروں، بازاروں، اسکولوں، مسجدوں اور ہر اُس جگہ بنتی ہے جہاں کردار تشکیل پاتا ہے۔
اگر آج ہم اپنے مستقــــبل کو بدلنا چاہتے ہیں، تو شاید آغاز دوسروں کو بدلنے سے نہیں، بلکہ خود کو بدلنے سے کرنا ہوگا۔ جب قوم کا کردار بلند ہوتا ہے تو اُس کے رہنما بھی بلند ہوتے ہیں، اور جب کردار گر جاتا ہے... تو صرف تخت نہیں، پوری تہذیب لرزنے لگتی ہے۔ تاریــــخ کا یہی سبق ہے... اور شاید آج ہماری سب سے بڑی ضرورت بھی۔

قوموں کا زوال کبھی ایک دن میں نہیں آتا، اور نہ ہی صرف ایک حکمران کی وجہ سے آتا ہے۔ زوال اُس وقت شروع ہوتا ہے جب حق بولنے والے خاموش ہو جائیں، باطل کو دیکھ کر لوگ نظریں جھکا لیں، دیانت کو حماقت اور بے ایمانی کو ذہانت سمجھا جانے لگے۔ جب ہر شخص صرف اپنے فائدے کی فکر کرے اور قوم کے اجتماعی مفاد کو بھلا دے... تو پھر تاریــــخ اپنا فیصلہ سنانے میں دیر نہیں لگاتی۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب قومیں باہر کے دشمن سے پہلے اندر سے شکست کھا جاتی ہیں، اور پھر اُن کی طاقت، اُن کا وقار اور اُن کی آزادی بھی آہستہ آہستہ ہاتھ سے نکلنے لگتی ہے۔

شاید اسی لیے آج بھی ہر قوم کو دوسروں سے پہلے اپنے کردار، اپنے اعمال اور اپنی ذمہ داریوں کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ جب قوم کا کردار بلند ہوتا ہے۔ تو اُس کے رہنما بھی بلند ہوتے ہیں، اور جب کردار گر جاتا ہے... تو صرف تخت نہیں، پوری تہذیب لرزنے لگتی ہے۔ تاریــــخ کا یہی سبق ہے... اور شاید آج ہماری سب سے بڑی ضرورت بھی۔

❓️ آپ کے خیال میں کسی قوم کی اصلاح پہلے کہاں سے شروع ہونی چاہیے؟ عــــوام سے... یا حکمرانوں سے؟ اپنی رائے ضرور لکھیے۔
Post By: Umair Ali Shah

21/07/2026

پاکستان ہمیشہ ذندہ باد ♥️🇵🇰

06/07/2026

Success means nothing if you forget those hands that lifted you when nobody else believed in you

06/10/2025

Muslim minds that changed the world

“دی ٹرمنئیٹر” (1984) کے ڈائریکٹر جیمز کیمرون نے ایک بار پھر مصنوعی ذہانت (AI) پر عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے ک...
23/09/2025

“دی ٹرمنئیٹر” (1984) کے ڈائریکٹر جیمز کیمرون نے ایک بار پھر مصنوعی ذہانت (AI) پر عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا: “میں نے 1984 میں خبردار کیا تھا مگر کسی نے بات نہیں مانی۔” ان کی فلم نے ایسے خودمختار مشینوں کا تصور پیش کیا تھا جو انسانیت پر قابض ہو جائیں — ایک وقت میں محض کہانی سمجھا جانے والا یہ خیال آج کی تیز رفتار AI ترقیات کے ساتھ حقیقت کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔

آج کے جدید AI ماڈلز کوڈ لکھ سکتے ہیں، تصویریں بنا سکتے ہیں، بیماریوں کی تشخیص کر سکتے ہیں اور تقریباً کمال درجے کی انسانی مکالمہ نگاری کر سکتے ہیں۔ کیمرون کا کہنا ہے کہ اگرچہ AI کے حیرت انگیز فوائد ہیں، لیکن غلط ہاتھوں میں یہ ایک ہتھیار بھی بن سکتا ہے — چاہے وہ خودکار فوجی ڈرونز ہوں یا جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے والی جھوٹی معلوماتی مشینیں۔

ایلون مسک اور “گاڈ فادر آف AI” جیوفری ہنٹن جیسے ماہرین بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کر چکے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ قوانین بنائے جائیں تاکہ AI انسانی کنٹرول میں رہے۔ عسکری ماہرین کو یہ اندیشہ ہے کہ AI پر مبنی جنگی نظام ایسے فیصلے کر سکتے ہیں جن کا تعلق زندگی اور موت سے ہو، مگر ان میں اخلاقیات شامل نہ ہوں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس فکشن فلمیں ہمیں طویل عرصے سے اس قسم کی بحث کے لیے ذہنی طور پر تیار کر رہی ہیں — چاہے وہ “دی میٹرکس” ہو یا “ہر”۔ کیمرون کے یہ الفاظ یاد دہانی ہیں کہ حقیقت اور تخیل کی لکیر تیزی سے دھندلا رہی ہے، اور معاشرے کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم مصنوعی ذہانت کو کہاں تک آگے جانے دیں گے، اس سے پہلے کہ اس پر سے ہمارا کنٹرول ختم ہو جائے

ناسا کے ایک ماہر ماحولیات نے حال ہی میں ایک ایسی لرزہ خیز رپورٹ جاری کی ہے جس نے دنیا بھر کے سائنسی حلقوں کو خاموش کر دی...
29/08/2025

ناسا کے ایک ماہر ماحولیات نے حال ہی میں ایک ایسی لرزہ خیز رپورٹ جاری کی ہے جس نے دنیا بھر کے سائنسی حلقوں کو خاموش کر دیا ہے۔ اس رپورٹ میں ایسا ہولناک انکشاف کیا گیا ہے جو انسانیت کے مستقبل پر ایک سیاہ سایہ ڈال رہا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں، تقریباً 200 کلومیٹر نیچے، ایک پراسرار اور ناقابلِ وضاحت تبدیلی وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ دس سال پہلے زمین کے نیچے موجود لاوے کا اوسط حجم صرف 130 کلومیٹر تک محدود تھا۔ لیکن آج، محض ایک دہائی بعد، یہ لاوا خطرناک حد تک اوپر کی جانب سرک چکا ہے اور اب یہ 160 کلومیٹر کی سطح تک آ پہنچا ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں، بلکہ ایک ایسا الارم ہے جو زمین کے اندرونی نظام میں کسی بڑی تبدیلی کی خبر دے رہا ہے۔

اس کی وجہ سے زمین کی پرتیں (plate tectonics) غیر متوقع حد تک حرکت کر رہی ہیں، جس کے اثرات زلزلوں اور سمندری طوفانوں کی صورت میں ہمارے سامنے آ رہے ہیں اور یہ صرف آغاز ہے۔

مگر اصل خوفناک بات ابھی باقی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، زمین کے مرکز میں موجود لاوا اب اپنی گردش کی سمت (rotation direction) بدل رہا ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جس نے سائنس دانوں کو بھی خاموش کر دیا ہے، کیونکہ اس کے اثرات زمین کے نارتھ اور ساؤتھ پولز کو آہستہ آہستہ اُلٹ رہے ہیں۔ قطبین کی یہ تبدیلی معمولی بات نہیں، یہ وہ علامت ہے جو زمین کے مقناطیسی نظام کے مکمل طور پر اُلٹنے کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

اور اگر یہ سب کچھ اسی رفتار سے جاری رہا… تو 2030 تک وہ لمحہ آ سکتا ہے جب لاوا زمین کی سطح سے صرف 10 کلومیٹر نیچے رہ جائے گا یعنی 190 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لے گا۔ اُس کے بعد زمین کی درجہ حرارت 65 ڈگری سیلسیس تک بڑھ سکتا ہے۔ سوچیں… انسان، جانور، پودے سب کچھ آگ کی لپیٹ میں جا سکتا ہے۔

سائنس خاموش ہے، ماہرین بے بس، اور انسانیت ایک ایسے خطرے کے دہانے پر کھڑی ہے جس کا نہ کوئی حل ہے، نہ کوئی یقین۔

کیا ہم نے زمین کے ساتھ کچھ ایسا کر دیا ہے جو اب پلٹ کر ہمارا انجام لکھنے آ رہا ہے؟

یہ صرف وقت ہی بتائے گا… یا شاید، وقت بہت کم رہ گیا ہے۔
copied

24/08/2025

اس
صدی کی کمزور ترین نسل
ایک سخت مگر سچائی سے بھرپور آئینہ۔۔۔
وہ نسل جو سن 2000 کے بعد پیدا ہوئی۔۔۔
آج 23، 24 سال کی عمر میں ہے۔۔۔
مگر یہ انسانی تاریخ کی سب سے کمزور، ناتواں اور نفسیاتی دباؤ کا شکار نسل ہوچکی ہے۔
جسمانی طور پر لاغر۔۔۔
ذہنی طور پر منتشر۔۔۔
اور تربیت سوشل میڈیا سے حاصل کی گئی ہے، نہ کہ بزرگوں سے۔
📱 ہر وقت موبائل فون، اسکرین، ٹک ٹاک، انسٹاگرام۔۔۔
📉 نتیجہ؟
گردن میں خم
آنکھوں میں کمزوری
جسم میں طاقت کی کمی
رشتوں میں برداشت کی عدم موجودگی
اور صفر جذباتی ذہانت (EQ)
💥 یہ وہ نسل ہے جو پانچ کلومیٹر پیدل نہیں چل سکتی،
دھوپ میں آدھا گھنٹہ کھڑے ہو کر گزار نہیں سکتی،
چھوٹا سا اختلاف ہو تو بلاک، ان فالو، اور رشتہ ختم۔
🧠 سب کچھ فوری چاہئے ۔۔۔
صبر صفر، غصہ 100%
👈 مغرب میں انہیں Boomerang Generation کہا جا رہا ہے۔
کیونکہ یہ باہر رہ کر زندہ نہیں رہ سکتے، اور واپس ماں باپ کے گھروں میں آرہے ہیں۔
پاک و ہند میں یہ نسل TikTok Generation کہلاتی ہے۔۔۔
جنہیں نہ تہذیب، نہ زبان، نہ مقصد، نہ غیرت، نہ ایمان کی فکر ہے۔
اور ذرا سوچیں۔۔۔
اگر اللّٰہ نہ کرے، قوم پر کبھی غزہ، شام، عراق، یا یمن جیسی آزمائش آگئی۔۔۔
تو کیا یہ نسل زندہ رہ سکے گی؟
🔥 لکڑی سے آگ جلانا تو دور،
انہیں مشرق اور مغرب کا فرق بھی نہیں پتہ،
یہ سروائیول تو چھوڑیں، سوشل میڈیا ڈاؤن ہوجائے تو پاگل ہوجاتے ہیں!
ابھی وقت ہے بیداری کا،
💪 اپنی نسل کو بچائیں
📚 انہیں قرآن، سیرت، غیرت، حیا، قربانی اور جدوجہد سکھائیں. مقصد دیں، ورنہ یہ دنیا انہیں گمراہی کردے گی۔ (

یہ 1971 کے بعد  پاکستان کی تاریخ میں پہلا 14 اگست ہے جہاں بنگلہ دیش نے اپنے پرچم کیساتھ پاکستانی پرچموں سے ڈھاکہ کے سڑکو...
14/08/2025

یہ 1971 کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پہلا 14 اگست ہے جہاں بنگلہ دیش نے اپنے پرچم کیساتھ پاکستانی پرچموں سے ڈھاکہ کے سڑکوں کو اور بڑی عمارتوں کو سجادیا ہے

🚀 چین کا خلائی انقلاب: سورج سے بجلی، سیدھا خلا سے! 🚀کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک شمسی توانائی کا پلانٹ جو ایک کلومیٹر ...
02/08/2025

🚀 چین کا خلائی انقلاب: سورج سے بجلی، سیدھا خلا سے! 🚀
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک شمسی توانائی کا پلانٹ جو ایک کلومیٹر چوڑا ہو، زمین سے 36,000 کلومیٹر اوپر مدار میں گردش کر رہا ہو؟ یہ کوئی سائنس فکشن نہیں، چین اسے حقیقت بنا رہا ہے – انسانی تاریخ کے سب سے بڑے صاف توانائی کے منصوبوں میں سے ایک!
⚡️ کیوں یہ گیم چینجر ہے؟
* 100 ارب kWh سالانہ صاف توانائی: یہ دنیا کے تمام باقی تیل کے ذخائر میں موجود توانائی سے بھی زیادہ ہے۔
* 24/7 سورج کی توانائی: بادلوں، موسم یا رات کے بغیر، یہ زمینی سولر پینلز سے 10 گنا زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے۔
* وائرلیس بجلی کی ترسیل: مائیکروویو ٹیکنالوجی کے ذریعے زمین پر مسلسل، وائرلیس بجلی کی فراہمی۔
اس میگا پروجیکٹ کو "تھری گورجز ڈیم ان اسپیس" کہا جا رہا ہے، جسے طاقتور لانگ مارچ-9 راکٹ پر لانچ کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ انسانیت کے توانائی کے مستقبل کو یکسر بدل سکتا ہے۔
یہ صرف جدت نہیں، یہ تاریخ بن رہی ہے!

19/07/2025

بل گیٹس نے ایک ہولناک پیش گوئی کی ہے جو ٹیکنالوجی اور کاروباری دنیا میں سنسنی پھیلا رہی ہے۔ حالیہ بیان میں، مائیکروسافٹ کے بانی نے خبردار کیا ہے کہ صرف تین قسم کی نوکریاں ایسی ہیں جو مصنوعی ذہانت (AI) کے انقلاب میں باقی رہ سکیں گی — باقی تمام کام یا تو ختم ہو جائیں گے یا مشینوں کے حوالے کر دیے جائیں گے۔

جیسے جیسے AI تیز تر اور ذہین بنتی جا رہی ہے، گیٹس کا ماننا ہے کہ ہم اس مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں زیادہ تر روایتی پیشے یا تو مٹ جائیں گے یا مکمل طور پر بدل جائیں گے۔ تو آخر کیا بچے گا؟ بل گیٹس کے مطابق صرف یہ شعبے نسبتاً محفوظ ہیں:

صحت کا شعبہ، جہاں انسانوں کی ہمدردی اور مریض سے براہِ راست رابطہ اب بھی اہمیت رکھتا ہے

انجینئرنگ اور AI ڈیولپمنٹ کے شعبے، جہاں انہی نظاموں کی تعمیر اور نگرانی کی ضرورت ہے

تخلیقی شعبے، جیسے فنکار، مصنفین، اور ڈیزائنرز، جہاں انسانی تخیل اور جذباتی اظہار کی اہمیت برقرار ہے

لیکن گیٹس کہتے ہیں کہ یہ شعبے بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ AI معاونت تو کر سکتی ہے، مگر صرف وہی نوکریاں دیرپا ہوں گی جو انسانی جذبے، تخلیقی سوچ یا گہرے تکنیکی علم پر مبنی ہوں۔

اس انتباہ نے روزگار، تعلیم اور معیشت کے مستقبل پر ایک سنجیدہ مکالمہ چھیڑ دیا ہے۔ جیسے جیسے ChatGPT، Grok اور Gemini جیسے AI ٹولز تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، لوگوں میں بڑے پیمانے پر بیروزگاری اور نوکریوں کے ختم ہونے کا خوف بڑھ رہا ہے۔

گیٹس حکومتوں اور صنعتوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ابھی سے تیاری کریں: افراد کو نئے ہنر سکھائیں، تعلیمی نظام کو ازسرِ نو سوچیں، اور انسان کو مرکز میں رکھتے ہوئے پیشہ ورانہ شعبے تشکیل دیں۔

پیغام واضح ہے: AI صرف آنے والا نہیں، پہنچ چکا ہے۔ اگر ہم نے فوری طور پر خود کو نہ بدلا، تو لاکھوں لوگ اس دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ Hj

Address

5/Qutub Colony Rehmanpura Ferozpur Road
Lahore

Telephone

+924237560189

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ASHAR Public School posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category