21/11/2025
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کی پریس کانفرنس — سنٹرل انڈکشن پالیسی مسترد، ہیلتھ سسٹم کی بدحالی پر سخت تشویش:
لاہور: میو ہسپتال لاہور میں وائی ڈی اے پنجاب کی مرکزی و جنرل کونسل کابینہ پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی, چیئرمین ڈاکٹر مدثر اشرفی مرکزی کابینہ اور مختلف ہسپتالوں کے صدور نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
پریس کانفرنس میں جنوری 2026 کی سنٹرل انڈکشن پالیسی کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ ہر چھ ماہ بعد پالیسی بدل دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ نظام چند مخصوص لوگوں کو فائدہ دینے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ ایک میرٹ بیسڈ پالیسی جاری کی جاتی ہے، مگر انڈکشن قریب آتے ہی اچانک نئی پالیسی نافذ کر دی جاتی ہے۔ اس کا نقصان ہر گروپ کو ہوتا ہے—لوکل، گورنمنٹ، پرائیویٹ اور فارن گریجوئیٹس سب متاثر ہوتے ہیں۔
پریس کانفرنس میں ینگ ڈاکٹرز نے واضح مطالبہ رکھا کہ پوسٹ گریجوئیٹ ٹریننگ کی سیٹیں بڑھائی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹریننگ سیٹیں بڑھ جائیں تو میرٹ کے جھگڑے کم ہو جائیں گے۔ اتنے ڈاکٹرز بے روزگار بیٹھے ہیں جبکہ دوسری طرف اتائی کھلے عام پریکٹس کر رہے ہیں۔ انہی ینگ ڈاکٹرز کو ٹریننگ دے کر ملک کا حقیقی سرمایہ بنایا جا سکتا ہے اور یوں پنجاب میں اتائیت کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر شعیب نیازی نے یہ بھی کہا کہ سی پی ایس پی اپنے سپروائزرز کی تعداد بڑھائے، اور پنجاب حکوم اور ہیلتھ ڈپارٹمنٹ پی ایم ڈی سی کی یارڈ اسٹک کے مطابق زیادہ سے زیادہ ٹریننگ سینٹرز کو ایکریڈیٹ کرے تاکہ زیادہ ڈاکٹرز کو پوسٹ گریجوئیٹ ٹریننگ مل سکے۔
پریس کانفرنس میں میو ہسپتال کے اندر ہونے والی کرپشن اور انتظامی بے ضابطگیوں کو بھی سامنے لایا گیا۔ ڈاکٹروں نے واضح کہا کہ جب تک ہسپتالوں کے اندر ہی شفافیت نہیں آتی، کوئی بھی پالیسی فائدہ نہیں دے سکتی۔
مرکزی کابینہ کا کہنا تھا کہ سیکرٹری ہیلتھ اور وزیراعلیٰ پنجاب اسپتالوں کے اصل مسائل پر توجہ دیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی مستقل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والے جونیئر ڈاکٹرز کو ان کی تنخواہیں باقاعدگی سے دی جائیں تاکہ مہینوں کی مالی مشکلات ختم ہوں۔ موجودہ بدحالی کے لیے پوسٹ گریجوئیٹ ٹرینیوں کی تنخواہوں میں اضافہ کرکے واضح ریلیف پیکج دیا جائے۔
ینگ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ بار بار بدلتی پالیسیاں، کرپشن اور ٹریننگ سیٹوں کی کمی نے پورے ہیلتھ سسٹم کو کمزور کر دیا ہے۔ حل صرف ایک ہےشفاف، مستقل اور برابر موقع دینے والا نظام۔
مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
وائی ڈی اے پنجاب