dawat e jaffariah

dawat e jaffariah

Share

All about masoomeen as

31/03/2024

Dua Mashlool
شُروع اَللہ کے پاک نام سے جو بڑا مہر بان نہايت رحم والا ہے
اس دعا کا ایک اور نام بھی ہے یعنی دعا الشاب الماخوذ بذنبہیہ وہ دعا جو ایک نوجوان نے اپنے گنا ہوں کی سزا میں گرفتار ہونے کے بعد پڑھی۔مہج الد عو ات اور کتابِ کفعمی میں مذکو ر ہے یہ وہ دعا ہے جو امیر المو منین- نے اس نوجوان کو تعلیم فرمائی جو اپنے والدین کی نافرمانی کرنے کے با عث شل ہوگیا تھا جب اس نے یہ دعا پڑھی تو خواب میں دیکھا کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا د ست شفقت اسکے بدن پر پھیرا اور فرما یا کہ اس اسم اعظم کو حفظ کر لے کہ یقینا تیرا کا م بن جا ئے گا ۔اب جو اسکی آنکھ کھلی تو کیا د یکھتا ہے کہ اسکا نا کا رہ جسم درست ہو گیا ہے وہ دعا یہ ہے :
*****
اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے الله کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمن ورحیم ہے اے جز جلالت و بزرگی اے زندہ، اے نگہبان، اے زندہ سوائے تیرے کوئی معبود نہیں اے وہ کہ جسے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے اور کیسا ہے ،وہ کہاں ہے ،وہ کیوں کر ہے ہاں وہ خود ہی جانتا ہے۔اے صاحب ملک و ملکوت اے صاحب عزت و اقتدار، اے بادشاہ، اے پاک، اے سلا متی والے، اے امن دینے وا لے، اے پاسبان، اے عزت والے، اے زبردست ،اے بڑائی والے،اے پیدا کرنے والے، اے وجود دینے والے، اے صورت بنانے والے ، اے فائدہ دینے والے، اے تدبیر والے، اے محکم کار اے صاحب ایجاد، اے مرجع خلق،اے ظالم کوختم کرنے والے، اے محبت والے، اے نیک صفات، اے معبود اے بعید، اے قریب اے دعا قبول کرنے والے، اے نگہبان ،اے حساب کرنے والے،اے ایجاد کرنے والے،اے بلند مرتبہ اے عالی مقام، اےسننے والے، اے علم والے، اے حلم والے، اے مہربان، اے حکمت والے ،اے وجود قدیم، اے عالی شان اے بزرگی والے، اے محبت کرنے والے، اے احسان کرنے والے، اے جزا دینے والے، اے مدد کرنے والے، اے جلالت والے، اے صا حب جما ل، اے کارساز، اے سرپرست ،اے معاف کرنے والے ،اے پہنچانے والےاے باعظمت ،اے رہنما ،اے رہبر، اے ابتداء کرنے والے ،اے اول، اے آخر، اے ظاہر، اے باطن ،اے استوار ،اے ہمیشہ رہنے والے، اے علم والے، اے صاحب حکم، اے منصف ،اے عدل کرنے والے، اے سب سے جدا، اے سب سے ملے ہو ئے، اے پاک اے پاک کرنے والے، اے قدرت والے، اے اقتدار والے، اے بزرگ، اے بزرگی والے، اے یگانہ، اے یکتا اے بے نیاز، اے وہ جو کسی کا باپ نہیں اور نہ کسی کا بیٹا ہے اور جسکا کوئی ہمسر نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی زوجہ ہے نہ اس کیلئے کوئی وزیر ہےاور نہ اس نے اپنا کوئی مشیر بنایا ہے نہ وہ کسی مددگار کی حاجت رکھتا ہے اور نہ اسکے ساتھ کوئی اور معبود ہے سوائے تیرے کوئی معبود نہیں پس تو اس سے بہت زیادہ بلند ہے جو یہ ظالم کہا کرتے ہیں۔اے عالی شان اے بلند مرتبہ والے اے عالی مرتبہ اے کھولنے والے اے بخشنے والے اے ہوا کو چلانے والےاے راحت دینے والے اے مدد کرنے والے اے مدد دینے والے اے پہنچنے والے اے ہلاک کرنے والے اے بدلہ لینے والے اے اٹھانے والے اے وارث اے طالب اے غالب اے وہ جس سے بھاگنے والا بھاگ نہیں سکتا اے توبہ قبول کرنے والے اے پلٹنے والے اے بہت دینے والے اے اسباب مہیاکرنے والے اے دروازوں کے کھولنے والےاے وہ کہ جسے پکارا جا ئے تو وہ دعا قبول کرتا ہے اے بہت پاکیزہ اے بہت شکر کرنے والے اے معاف کرنے والے اے بخشنے والے اے نورکے پیدا کرنے والےاے امورکی تدبیرکرنے والے اے مہربان اے خبردار اے پناہ دینے والے اے روشن کرنے والے اے بینا اے مددگار اے سب سے بڑے اے بزرگ اے یکتا اے تنہا اے ہمیشگی والےاے نگہبا ن اے بے نیاز اے کافی اے شفا د ینے ،اے وفا کرنے ،اے معا ف کرنے ،اوراے احسا ن کرنے والے اے نیکوکار اے نعمت دینے والے اے بزرگواراے بڑے مرتبے والےاے یگانگی والے وہ جو بلندی کیساتھ غالب ہے اے وہ جو مالک ہے پھر قادر ہے اے وہ جو نہاں ہے اور باخبر ہے اے وہ جو معبود ہے تو بدلہ دیتا ہے اے جو نافرمانی پر بخشتا ہےاے وہ جو فکر میں سما نہیں سکتا اور نگاہ اسے دیکھ نہیں پاتی اور کوئی نشان اس سے پوشیدہ نہیں ہے اے انسانوں کو رزق دینے والے اے ہر اندازہ کے مقرر کرنے والے اے بلند مرتبہ اے محکم وسائل والے اے زمانے کو بدلنے والے اے قربانی قبول کرنے والے اے صاحب نعمت و احسان اے صاحب عزت اور ابدی حکومت والےاے رحیم اے رحمن اے وہ کہ ہر روز جسکی نئی شان ہے اے وہ جسے ایک کام دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا اے بڑے مقام والے اے وہ جو ہر جگہ موجود ہےاے آوازوں کے سننے والے اے دعا ئیں قبول کرنے والے اے مرادیں برلانے والے اے حاجات پوری کرنے والے اے برکتیں نازل کرنے والے اے آنسوؤں پر رحم کھانے والےاے گناہوں کے معاف کرنے والے اے سختیاں دور کرنے والے اے نیکیوں کو پسند کرنے والے اے مرتبے بلند کرنے والے اے مرادیں پوری کرنے والے اے مردوں کو زندہ کرنے والےاے بکھروں کو اکٹھا کرنے والے اے نیتوں کی خبر رکھنے والے اے کھوئی ہوئی چیزیں لوٹانے والے اے وہ جس پر آوازیں مشتبہ نہیں ہوتیں اے وہ جسے کثرت سوال سے تنگی نہیں ہوتی اور تاریکیاں اسے گھیرتی نہیں ہیں اے آسمانوں اور زمین کی روشنی اے نعمتوں کے پورا کرنے والے اے بلائیں ٹالنے والےاے جانداروں کو پیدا کرنے والے اے امتوں کو جمع کرنے والے اے بیماروں کو شفا دینے والے اے روشنی اور تاریکی کے پیدا کرنے والے اے صاحب جودو کرم اے وہ جس کے عرش پر کسی کا قدم نہیں آیا اے سخیوں میں سے سب سے بڑے سخی اے بزرگی والوں سے زیادہ بزرگ اے سننے والوں میں سے زیادہ سننے والےاے دیکھنے والوں میں سے زیادہ دیکھنے والے اے پناہ گزینوں کی پناہ گاہ اے ڈرے ہوؤں کی جائے امن اے پناہ چاہنے والوں کی جائے پناہ اے مومنوں کے سرپرست اے فریادیوں کے فریاد رس اے طلبگاروں کی امید اے ہر سفر کرنے والے کے ساتھی اے ہر اکیلے کے ہم نشیں اے ہر نکالے گئے کی جائے پناہ اے بے ٹھکانوں کی قرارگاہ اے گمشدہ کے نگہبان اے بڑے بوڑھے پر رحم کرنے والے اے ننھے بچے کو روزی دینے والے اے ٹوٹی ہڈی کو جوڑنے والے اے ہر قیدی کو رہائی دینے والےاے بے چارے مفلس کو غنی بنانے والے اے خائف پناہ گزین کی جائے قرار اے تدبیر اور تقدیر کے مالک اے وہ جس کے لیے ہر مشکل کام آسان اور ہلکا ہےاے وہ جو تفسیر کا محتاج نہیں اے وہ جو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے وہ جو ہر چیز سے واقف ہے اے وہ جو ہر چیز کو دیکھتا ہے اے ہواؤں کو چلانے والے اے صبح کی پو کھولنے والے روحوں کو بھیجنے والے اے عطا و سخاوت والے اے وہ جس کے ہاتھ میں ساری کنجیاں ہیں اے ہر آواز کے سننے وا لے اے ہر گزرے ہوئے سے پہلےاے ہر نفس کو اس کی موت کے بعد زندہ کرنے والے اے سختیوں میں میری پناہ اے سفر میں میرے محافظ اے میری تنہائی کے ہمدم اے میری نعمتوں کے مالک اے میری پناہ جب مجھ پر راہیں بند ہوجائیں اور رشتہ دار مجھے دور کر دیں اور احباب مجھے چھوڑ جائیں اے اسکے سہارے جسکا کوئی سہارا نہیں اے اسکی سند جسکی کوئی سند نہیں اے اسکے ذخیرے جسکا کوئی ذخیرہ نہیں اے اسکی پناہ جسکی کوئی پناہ نہیں اے اسکی اما ن جسکی کوئی امان نہیں اے اسکے خزانے جسکا کوئی خز انہ نہیں اے اسکے پشت پناہ جسکا کوئی پشت پناہ نہیں اے اسکے فریاد رس جسکا کوئی فریاد رس نہیں اے اسکے ہمسائے جسکا کوئی ہمسایہ نہیں جو نزدیک تر ہے اے میرا مضبوط ترین سہارہ اے میرے حقیقی معبود اے خانہ کعبہ کے پروردگار اے مہربان اے دوست مجھے تنگ گھیرے سے آزاد کر مجھ سے ہر غم و اندیشہ اورتنگی دور کر مجھے اس شر سے بچا جو میری طاقت سے زیادہ ہے اور اس میں مدد دے جو میں سہہ سکتا ہوں اے وہ جس نے یعقوب (ع)کو یوسف(ع) واپس دلایا اے ایو ب (ع)کا دکھ دور کرنے والے اے داؤد(ع) کی خطا معاف کرنے والے اے عیسی (ع)بن مریم کو آسمان پر اٹھانے والے۔اور انہیں یہودیوں کے چنگل سے چھڑانے والے اے تاریکیوں میں یونس(ع) کی فریاد کو پہنچنے والے اے موسیٰ(ع) کو اپنے کلام کیلئے منتخب کرنے والےاے آدم(ع) کے ترک اولی کو معاف کرنے والے اور ادریس (ع)کو اپنی رحمت سے بلند مقام پر لے جانے والے اے نوح (ع) کو ڈوبنے سے بچانے والے اے وہ جس نے عاد اولی اور ثمود کوہلا ک کیا پس کسی کو باقی نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح (ع)کو ہلاک کیا جو بڑے ظالم سرکش اور دین میں افترا کرنے والے تھےاے وہ جس نے قوم لوط کی بستیوں کو الٹ دیا اور قوم شعیب پر عذاب بھیجا تھا اے وہ جس نے ابراہیم(ع) کو اپنا خلیل بنایا اے وہ جس نے موسی(ع) کو اپنا کلیم بنایا اور محمد کو اپنا حبیب قرار دیا کہ خدا کی رحمت ہو ان پر انکی آل (ع) پر اور ان سب ہستیوں پر جنکا ذکر ہو ا ہے اے لقما ن (ع)کو حکمت عطاکرنے والےاور سلیما ن (ع)کو ایسی سلطنت د ینے و الے کہ جیسی سلطنت انکے بعد کسی کو نہیں ملی اے وہ جس نے جا بر بادشا ہوں کے خلاف ذوالقرنین (ع)کی مدد فرمائی اے وہ جس نے خضر (ع)کو دا ئمی زندگی دی اور یوشع (ع)بن نون کی خاطر آفتاب کو پلٹایاجب کہ وہ غروب ہو چکا تھا اے وہ جس نے مادر موسی(ع) کے دل کو سکون دیااور مریم بنت عمران(ع) کو پاکدامنی سے سرفراز فرمایا اے وہ جس نےیحییٰ(ع) بن زکریا(ع)کو گناہ سے محفوظ رکھا اور موسی (ع)سے غضب کو دور فرمایا اے وہ جس نے زکریا(ع) کو یحیی(ع) کی بشارت دی اے وہ جس نے اسما عیل(ع) کے ذبح ہونے کو ذبح عظیم میں بدلااے وہ جس نے ہا بیل(ع) کی قربانی قبول فرمائی اور قابیل پر لعنت مسلط کر دی اے حضرت محمد کی خاطر کفار کے جتھو ں کو شکست دینے والے محمد و آل محمد پر رحمت نازل کر اپنے تمام رسولوں پراور اپنے مقرب فرشتوں پر اور فرمانبردار بندوں پر رحمت فرما اور میں سوال کرتا ہوں تجھ سےہر اس سوال سے جو تیرے ہر اس بندے نے کیا جس سے تو راضی و خوش ہےپھر تو نے اسکی دعا یقینا قبول فرمائی یااللہ یااللہ یاالله یارحمن یارحمن یارحمن یارحیم یارحیم یارحیم اے جلالت و بزرگی والےاے جلالت وبزرگی والے اے جلالت و بزرگی والے اسی کا واسطہ اسی کا اسی کا اسی کا اسی کا اسی کا اسی کا میں سوال کرتا ہوں تیرے ہر اس نام کے واسطہ سے جس سے تو نے اپنی ذات کو پکارا یا اپنے صحیفوں میں سے کسی میں اتارا یا اسےعلم غیب میں اپنے لئے مقرر و خاص کیاان مقامات بلند کا واسطہ جو تیرے عرش میں ہیں اس انتہائی رحمت کا واسطہ جو تیری کتاب میں ہے اور اس آیت کا واسطہ کہ اگر زمین کے تمام درخت قلم اور سمندر روشنائی بن جائیں اسکے بعد سات سمندر اور ہوں تو بھی خدا کے کلمات تمام نہیں ہوں گے بے شک اللہ غا لب ہے حکمت والااور میں سوال کرتا ہوں تیرے پیارے ناموں کیساتھ جنکی تو نے قرآن میں توصیف کی پس تو نے کہا اور اللہ کیلئے ہیں پیارے پیارے نام تو تم اسے انہی سے پکارواور تو نے کہا مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا اور کہا کہ جب میرے بندے مجھے پکاریں تو میں ان کے قریب ہی ہوتا ہوں میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ دعا کرے اور تو نے کہا اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے کہ تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جانا کہ بے شک اللہ تمام گناہ بخش دے گایقینا وہ بہت بخشنے والا مہربان ہے اور میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اے معبود تجھے پکارتا ہوں اے پروردگار اور تجھ سے امید رکھتا ہوں اے میرے آقامیں دعا کے قبول ہونے کی طمع رکھتا ہوں اے میرے مولا جیسے تو نے وعدہ کیا اور میں نے تجھے پکارا جیسا کہ تو نے مجھے حکم دیاپس اےکریم تو بھی مجھ سے وہ سلوک کر جسکا تو اہل ہےاور تعریف بس خدا کیلئے ہے جو عالمین کا رب ہے اور محمد اوراسکی تمام آل محمد پر الله رحمت فرمائے۔

28/03/2024

In Praise of God
شُروع اَللہ کے پاک نام سے جو بڑا مہر بان نہايت رحم والا ہے
سب تعریف اس اللہ کے لۓ ہے جو ایسا اوّل ہے جس کے پہلے کوئی اوّل نہ تھا اور ایسا آخر ہے جس کے بعد کوئی آخر نہ ہو گا۔ وہ خدا جس کے دیکھنے سے دیکھنے والوں کی آنکھیں عاجز اور جس کی توصیف و ثنا سے وصف بیان کرنے والوں کی عقلیں قاصر ہیں۔ اس نے کائنات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اور اپنے منشا‎ۓ ازلی سے جیسا چاہا اسے ایجاد کیا ۔ پھر انہیں اپنے ارادہ کے راستے پر چلایا اور اپنی محبت کی راہ پر ابھارا۔ جن حدود کی طرف انہیں آگے بڑھایا ہے ان سے پیچھے رہنا اور جن سے پیچھے رکھا ہے ان سےآگے بڑھنا ان کے قبضہ و اختیار سے باہر ہے ۔ اسی نے ہر ( ذی) روح کے لیۓ اپنے ( پیدا کردہ ) رزق سے معیّن و معلوم روزی مقرر کر دی ہے جسے زیادہ دیا ہے اسےکوئی گھٹانے والا گھٹا نہیں سکتا اور جسے کم دیا ہے اسے کوئی بڑھانے والا بڑھا نہیں سکتا ۔ پھر یہ کہ اسی نے اس کی زندگی کا ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک معینہ مدت اس کے لۓ ٹھہرا دی ۔ جس مدت کی طرف وہ اپنی زندگی کے دنوں سے بڑھتا اور اپنے زمانہ زیست کے سالوں سے اس کے نزدیک ہوتا ہے یہاں تک کہ جب زندگی کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور اپنی عمر کا حساب پورا کر لیتا ہے تو اللہ اسے اپنے ثواب بے پایاں تک جس کی طرف اسے بلایا تھا یا خوفناک عذاب کی جانب جسے بیان کر دیا تھا قبض روح کے بعد پہنچا دیتا ہے تاکہ اپنے عدل کی بناء پر بروں کی اس کی بد اعمالیوں کی سزا اور نیکو کاروں کو اچھا بدلا دے ۔ اس کے نام پاکیزہ اور اس کی نعمتوں کا سلسلہ لگاتار ہے ۔ وہ جو کرتا ہے اس کی پوچھہ گھچہ اس سے نہیں ہو سکتی اور لوگوں سے بہرحال باز پرس ہو گی ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لۓ ہے کہ اگر وہ اپنے بندوں کو حمد و شکر کی معرفت سے محروم رکھتا ان پیہم عطیوں پر جو اسں نے دیۓ ہیں اور ان پے درپے نعمتوں پر جو اس نے فراوانی سے بخشی ہیں تو وہ اس کی نعمتوں میں تصّرف تو کرتے مگر اس کی حمد نہ کرتے ۔ اور اس کے رزق میں فارغ البالی سے بسر تو کرتے مگر اس کا شکر بجا نہ لاتے اور ایسے ہوتے تو انسانیت بی حدوں سے نکل کر چوپالوں کی حد میں آ جاتے ، اور اس توصیف کے مصداق ہوتے جو اس نے اپنی محکم کتاب میں کی ہے کہ وہ تو بس چوپائیوں کے مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ راہ راست سے بھٹکتے ہو‎ۓ ۔ تمام تعریف اللہ کے لۓ ہے کہ اس نے اپنی ذات کو ہمیں پہچنوایا اور حمد و شکر کا طریقہ سمجھایا اور اپنی پروردگاری پر علم و اطلاع کے دروازے ہمارے لۓ کھول دیۓ اور توحید میں تنزیہ و اخلاص کی طرف رہنمائی کی اور اپنے معاملہ شرک و کجروی سے ہمیں بچایا ۔ ایسی حمد جس کے ذریعے ہم اس کی مخلوقات میں سے حمد گزاروں میں زندگی بسر کریں اور اس کی خوشنودی و بخشش کی طرف بڑھنے والوں سے سبقت لے جائیں ۔ ایسی حمد جس کی بدولت ہمارے لۓ برزخ کی تاریکیاں چھٹ جائیں اور جو ہمارے لۓ قیامت کی راہوں کو آسان کر دے اور حشر کے مجمع عام میں ہماری قدرومنزلت کو بلند کر دے جس دن ہر ایک کو اس کے کۓ کا بدلہ دیا جاۓ گا اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہ ہو گا ۔ جس دن کوئی دوست کسی دوست کےکچھ کام نہ آۓ گا اور نہ ان کی مدد کی جاۓ گی ۔ ایسی حمد جو ایک لکھی ہوئی کتاب میں ہے جس کی مقرب فرشتے نگہداشت کرتے ہیں ہماری طرف سے بہشت بریں کے بلند ترین درجات تک بلند ہو ، ایسی حمد جس سے ہماری آنکھوں میں ٹھنڈک آ‎ۓ جبکہ تمام آنکھیں حیرت و دہشت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ اور ہمارے چہرے روشن و درخشان ہوں جبکہ تمام چہرے سیاہ ہوں گے ۔ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اللہ کی بھڑکاتی ہوئی اذیت دہ آگ سے آزادی پا کر اس کے جوار رحمت میں آ جائیں ۔ ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اس کے مقرب فرشتوں کے ساتھہ شانہ بشانہ بڑھتے ہو‎ۓ ٹکرائیں اور اس منزل جاوید و مقام عزت و رفعت میں جسے تغیر و زوال نہیں اس کے فرستادہ پیغمبروں کے ساتھ یکجا ہوں ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لۓ ہے جس نے خلقت و آفرینش کی تمام ہمارے لۓ منتخب کیں اور پاک وپاکیزہ رزق کا سلسلہ ہمارے لۓ جاری کیا اور ہمیں غلبہ اور تسلط دے کر تمام مخلوقات پر برتری عطا کی ۔ چنانچہ تمام کائنات اس کی قدرت سے ہمارے زیر فرمان اور اس کی قوت اور سربلندی کی بدولت ہماری اطاعت پر امادہ ہے ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لۓ ہے جس نے اپنے سواء طلب و حاجت کا ہر دروازہ ہمارے لۓ بند کر دیا تو ہم ( اس حاجت و احتیاج کے ہوتے ہو‌ۓ ) کیسے اس کی حمد سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں اور کب اس کا شکر ادا کر سکتے ہیں ۔ نہیں! کسی وقت بھی اس کا شکر ادا نہیں ہو سکتا ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لۓ ہے جس نے ہمارے (جسموں میں) پھیلنے والے اعصاب اور سمٹنے والے عضلات ترتیب دیۓ اور زندگی کی آسائشوں سے بہرہ مند کیا اور کار و کسب کے اعضاء ہمارے اندر ودیعت فرماۓ اور پاک و پاکیزہ روزی سے ہماری پرورش کی اور اپنے فضل وکرم کے ذریعہ ہمیں بےنیاز کر دیا اور اپنے لطف و احسان سے ہمیں (نعمتوں کا ) سرمایہ بخشا۔ پھر اس نے اپنے اوامر کی پیروی کا حکم دیا تاکہ فرمانبرداری میں ہم کو آزما‎ۓ اور نواہی کے ارتکاب سے منع کیا تاکہ ہمارے شکر کو جانچے مگر ہم نے اس کے حکم کی راہ سے انحراف کیا اور نواحی کے مرکب پر سوار ہو لۓ ۔ پھر بھی اس نے عذاب میں جلدی نہیں کی ، اور سزا دینے میں تعجیل سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے کرم و رحمت سے ہمارے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا اور حلم و رافت سے ہمارے باز آ جانے کا منتظر رہا ۔ تمام تعریف اس اللہ کے لۓ ہے جس نے ہمیں توبہ کی راہ بتائی کہ جسے ہم نے صرف اس کے فضل و کرم کی بدولت حاصل کیا ہے ۔ تو اگر ہم اس کی بخششوں میں سے اس توبہ کے سواء اور کوئی نعمت شمار میں نہ لائیں تو یہی توبہ ہمارے حق میں اس کا عمدہ انعام ، بڑا احسان اور عظیم فضل ہے اس لۓ کہ ہم سے پہلے لوگوں کے لۓ توبہ کے بارے میں اس کا یہ رویّہ نہ تھا ۔ اس نے تو جس چیز کے برداشت کرنے کی ہمیں طاقت نہیں ہے وہ ہم سے ہٹا لی اور ہماری طاقت سے بڑھ کر ہم پر ذمہ داری عائد نہیں کی اور صرف سہل و آسان چیزوں کی ہمیں تکلیف دی ہے اور ہم میں سے کسی ایک کے لۓ حیل و حجت کی گنجائش نہیں رہنے دی ۔ لہذا وہی تباہ ہونے والا ہے جو اس کی منشا کے خلاف اپنی تباہی کا سامان کرے ، اور وہی خوش نصیب ہے جو اس کی طرف توجہ و رغبت کرے۔ اللہ کے لۓ حمد و ستائش ہے ہر وہ حمد جو اس کے مقرب فرشتے بزرگ ترین مخلوقات اور پسندیدہ حمد کرنے والے بجالاتے ہیں ۔ ایسی ستائش جو دوسری ستائشوں سے بڑھی چڑھی ہوئی ہو جس طرح ہمارا پروردگار تمام مخلوقات سے بڑھا ہوا ہے ۔ پھر اسی کے لۓ حمد و ثناہ ہے ۔ اس کی ہر ہر نعمت کے بدلے میں جو اس نے ہمیں اور تمام گزشتہ وباقی ماندہ بندوں کو بخشی ہے ان تمام چیزوں کے شمار کے برابر جن پر اس کا علم حاوی ہے اور ہر نعمت کے مقابلہ میں دوگنی چوگنی جو قیامت کے دن تک دائمی و ابدی ہو ۔ ایسی حمد جس کا کوئی آخری کنار اور جس کی گنتی کا کوئی شمار نہ ہو ۔ جس کی حد ونہایت دسترس سے باہر اور جس کی مدّت غیر مختتم ہو ۔ ایسی حمد جو اس کی اطاعت و بخشش کا وسیلہ ، اس کی رضامندی کا سبب ، اس کی مغفرت کا ذریعہ ، جنّت کا راستہ ، اس کے عذاب سے پناہ ،اس کے غضب سے امان ، اس کی اطاعت میں معیّن ، اس کی معصیت سے مانع اور اس کے حقوق و واجبات کی ادائیگی میں مددگار ہو ۔ ایسی حمد جس کے ذریعے اس کے خوش نصیب دوستوں میں شامل ہو کر خوش نصیب قرار پائیں اور شہیدوں کے زمرہ میں شمار ہوں جو اس کے دشمنوں کی تلواروں سے شہید ہو‎ۓ ۔ بے شک وہی مالک مختار اور قابل ستائش ہے ۔

28/03/2024

اسماعیل بن جعفر نے ابوسہیل ( نافع بن مالک بن ابی عامر ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب رمضان آتا ہے ، جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین بیڑیوں میں جکڑ دیے جاتے ہیں ۔‘‘

28/03/2024

توبہ و استغفار

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
رب تعالیٰ بندے کے سب سے نزدیک رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے۔ اگر تم ان لوگوں میں شامل ہوسکتے ہو جو اس وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں تو ہوجاؤ۔

جامع الترمذی، الدعوات، باب فی دعاء الضیف، حدیث: 3579

28/03/2024
Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Lahore