Online Quran Kareem

Online Quran Kareem

Share

We are Providing online Quran Kareem Learning for international Student. We Specialize in Tajweed, basic Arabic Alphabets, and Quranic Translation and Tafseer.

Onlinequrankareem.com was established in 2013 with the passion of serving the Muslim community word wide. We just not only teach children who are unable to read quran but we also focus on adults who want to understand the Quran Online and because they do not who have proper guide or teacher available in their local community. We have a professional, dedicated and motivated team who is committed to deliver you the best of the best with authenticity.

15/05/2020
How can type Urdu in Ms Word,Excel and Power point 14/04/2020

How to type Urdu in MS Word, Excel and Power Point.

How can type Urdu in Ms Word,Excel and Power point How can you type Urdu in MS word, Excel and Power Point. Complete Tutorial with software installation. Step 1. You have to install small application for Urdu...

26/08/2019

*صبح ہی صبح میاں بیوی کا خوب جھگڑا ہو گیا، بیگم* *صاحبہ غضبناک ہو کر بولیں... "بس، بہت کر لیا برداشت، اب میں مزید ایک منٹ بھی تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی* "

*میاں جی بھی طیش میں تھے* ... *بولے* ...
*"میں بھی تمہاری شکل دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکا ہوں... دفتر سے واپس آوُں تو مجھے نظر نہ آنا گھر میں... اٹھاوُ اپنا ٹین ڈبا اور نکلو یہاں سے"... میاں جی غصے میں ہی دفتر چلے گئے* ...
*
*بیگم صاحبہ نے اپنی ماں کو* *فون کیا اور بتایا کہ وہ سب *کچھ چھوڑ چھاڑ کر بچوں سمیت میکے واپس آ رہی ہے... اب مزید نہیں رہ سکتی اس جہنم میں* ...

*ماں نے کہا "بندے کی پتر بن کے آرام سے وہیں بیٹھ، تیری بڑی* *بہن بھی اپنے میاں سے لڑ کر آئی تھی، اور اسی ضد میں طلاق لے کر بیٹھی ہوئی ہے، اب تو نے وہی ڈرامہ شروع کر دیا* *ہے.. خبردار جو ادھر قدم بھی رکھا تو.... صلح کر لے میاں سے... اب وہ اتنا بُرا بھی نہیں ہے* "...
*ماں نے لال جھنڈی دکھائی تو* *بیگم صاحبہ کے ہوش ٹھکانے آئے اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں... جب رو کر تھکیں تو دل ہلکا ہو چکا تھا* ...
*میاں کے ساتھ لڑائی کا سین سوچا تو اپنی بھی کافی غلطیاں نظر آئیں* ...
*منہ ہاتھ دھو کر فریش ہوئی اور میاں کی پسند کی ڈش بنانی شروع کر دی... اور ساتھ* *سپیشل کھیر بھی بنا لی... سوچا شام کو میاں جی سے* *معافی مانگ لوں گی، اپنا گھر پھر بھی اپنا ہی ہوتا ہے* ...
*شام کو میاں جی گھر آئے تو* *بیگم نے ان کا اچھے طریقے سے استقبال کیا... جیسے صبح کچھ بھی نہ ہوا ہو* ...
*میاں جی کو بھی خوشگوار* *حیرت ہوئی* ...
*کھانا کھانے کے بعد میاں جی جب کھیر کھا رہے تھے تو بولے*
*"بیگم، کبھی کبھار میں بھی زیادتی کر جاتا ہوں.. تم دل پر* *مت لیا کرو، بندہ بشر ہوں، غصہ آ ہی جاتا ہے* "....

*میاں جی بیگم کے شکر گزار ہو رہے تھے... اور بیگم صاحبہ دل ہی دل میں اپنی ماں کو دعائیں دے رہی تھی ...ورنہ تو جذباتی فیصلے نے گھر تباہ کر دینا تھا* ...!!

*سبق: اگر والدین اپنی شادی شدہ اولاد کی ہر جائز ناجائز بات کو سپورٹ کرنا بند کر دیں تو رشتے بچ جاتے ہیں* ۔

17/04/2019

نماز جمعہ میں مولوی صاحب بتارہے تھے کہ اگر *حج* مہنگا ہوگیا ہے تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ *نماز* ابھی بھی مفت ہے اور *زکوٰۃ* کی شرح بھی ڈھائی فیصد سے نہیں بڑھی،
اور اسکے علاوہ *قرآن کی تلاوت، رمضان کے روزے* پر بھی کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔
مولوی صاحب یہ بھی بتارہے تھے کہ *حج اسی پر فرض ہے* جو استطاعت رکھتا ہو۔ البتہ اگر فرض نہیں اور *شوق ہے* تو پھر شوق کا تو کوئی مول ہی نہیں۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ!
*صلہ رحمی اور حسن سلوک* کرنا بھی GST کے زمرے سے باہر ہے، اور *لوگوں سے مسکرا کر ملنے* پر بھی کوئی بھی پابندی نہیں ہے.....copied

30/01/2019

صبح ہی صبح میاں بیوی کا خوب جھگڑا ہو گیا، بیگم صاحبہ غضبناک ہو کر بولیں... "بس، بہت کر لیا برداشت، اب میں مزید ایک منٹ بھی تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی"

میاں جی بھی طیش میں تھے... بولے...
"میں بھی تمہاری شکل دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکا ہوں... دفتر سے واپس آوُں تو مجھے نظر نہ آنا گھر میں... اٹھاوُ اپنا ٹین ڈبا اور نکلو یہاں سے"... میاں جی غصے میں ہی دفتر چلے گئے...

بیگم صاحبہ نے اپنی ماں کو فون کیا اور بتایا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بچوں سمیت میکے واپس آ رہی ہے... اب مزید نہیں رہ سکتی اس جہنم میں...

ماں نے کہا "بندے کی پتر بن کے آرام سے وہیں بیٹھ، تیری بڑی بہن بھی اپنے میاں سے لڑ کر آئی تھی، اور اسی ضد میں طلاق لے کر بیٹھی ہوئی ہے، اب تو نے وہی ڈرامہ شروع کر دیا ہے.. خبردار جو ادھر قدم بھی رکھا تو.... صلح کر لے میاں سے... اب وہ اتنا بُرا بھی نہیں ہے"...

ماں نے لال جھنڈی دکھائی تو بیگم صاحبہ کے ہوش ٹھکانے آئے اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں... جب رو کر تھکیں تو دل ہلکا ہو چکا تھا...
میاں کے ساتھ لڑائی کا سین سوچا تو اپنی بھی کافی غلطیاں نظر آئیں...
منہ ہاتھ دھو کر فریش ہوئی اور میاں کی پسند کی ڈش بنانی شروع کر دی... اور ساتھ سپیشل کھیر بھی بنا لی... سوچا شام کو میاں جی سے معافی مانگ لوں گی، اپنا گھر پھر بھی اپنا ہی ہوتا ہے...
شام کو میاں جی گھر آئے تو بیگم نے ان کا اچھے طریقے سے استقبال کیا... جیسے صبح کچھ بھی نہ ہوا ہو...
میاں جی کو بھی خوشگوار حیرت ہوئی...
کھانا کھانے کے بعد میاں جی جب کھیر کھا رہے تھے تو بولے
"بیگم، کبھی کبھار میں بھی زیادتی کر جاتا ہوں.. تم دل پر مت لیا کرو، بندہ بشر ہوں، غصہ آ ہی جاتا ہے"....

میاں جی بیگم کے شکر گزار ہو رہے تھے... اور بیگم صاحبہ دل ہی دل میں اپنی ماں کو دعائیں دے رہی تھیں... جس کی سختی نے اس کو یوٹرن لینے پر مجبور کیا تھا...ورنہ تو جذباتی فیصلے نے گھر تباہ کر دینا تھا...!!
۔
سبق: اگر والدین اپنی شادی شدہ اولاد کی ہر جائز ناجائز بات کو سپورٹ کرنا بند کر دیں تو رشتے بچ جاتے ہیں۔ آزما لیجئے..!!

19/06/2018

مولوی کی بیٹیاں
5 ذی الحج کو بڑی بیٹی نے کہا بابا عید میں پانچ دن رہ گئے ہیں ہم نے کچھ بھی خریداری نہیں کی
مولوی صاحب نے کہا اچھا میرا پتر !!!
ابھی بہت دن ہیں خرید لیں گے چاند رات سے ایک دن قبل سب کچھ لے لیں گے
مولوی صاحب یہ بات کررہے تھے کہ آذان سنائی دی مولوی صاحب جو آنکھیں بیٹی کو جھوٹی تسلی دینے پر شرمندگی سے جھکائے ہوئے تھے انکو موقع مل گیا اور مسجد کی طرف چل دئے
عید سے ایک دن قبل جب مولوی صاحب ہر طرف سے ناامید ہوگئے کیونکہ مانگنے سے عزت نفس جاتی ہے اور قرض لینا نہیں کیونکہ واپسی کی کوئی صورت ممکن ہی نہیں اور خود سے کسی کو توفیق نہیں ہوئی کیونکہ مولوی صاحب کے بچوں کے کونسے دل ہوتے ہیں جو مچلتے ہوں انکے کونسے احساسات ہوتے ہیں وہ کونسا فیلنگ رکھتے ہیں انہوں نے کونسا باہر نکلنا ہے
تو مولوی صاحب جو کہ تاویلوں کے بے تاج بادشاہ تھے دلیل تو انکے گھر کی لونڈی تھی سمجھانے میں تو ماہر تھے جب کوئی انتظام نہ ہوا تو سوچا آج جتنی منطق اور استقراء قیاس پڑھا ہے سب کو بروئے کار لاکر بیٹی کو قائل کروں گا کہ بیٹا بڑی عید پر کوئی کپڑے نہیں پہنتا یہ تو قربانی کی عید ہے لیکن دھڑکا تھا کہ بیٹی بھی تو مولوی کی ہے یہ کہہ دیا کہ قربانی بھی تو آپ نہیں کررہے
خیر سارا علم مستحضر کرکے گھر گیا تو بیٹیاں ہاتھوں میں پرچیاں لیکر منتظر تھیں کہ باباجان نے آج کا وعدہ کیا ہے تو ہمیں مطلوبہ چیزیں لادیں گے
جیسے مولوی صاحب کھنگورا مارتے داخل ہوئے تو مولون سمجھ چکی تھی کہ بیٹوں کے دل ٹوٹنے والے ہیں تو وہ جلدی سے گئی پیاز لے آئی کہ پیاز کاٹنے کے بہانے آنسو بہا لے گی
کیونکہ ماں تو ماں ہوتی ہے اسکے آنسو اولاد کے لئے تو پلکوں کی منڈیر پر ہی بسیرا کرتے ہیں لیکن وہ بیٹیوں کے سامنے شوہر کو اور باپ بیٹیوں کو ٹوٹتا نہ دیکھ سکے
مولوی صاحب بیٹھے تو چھوٹی آنے لگی کہ پرچی تھماووں
مولوی صاحب نظریں جھکائے جرابیں اتارنے لگے اور ٹوپی لپیٹ کے رکھی جو کہ علامت ہوتی ہے کہ ااسکے بعد باہر نہیں جانا کہ اچانک چھوٹی کو بڑی بیٹی بازو سے پکڑتی ہے اور اسے اشارے سے روکتی ہے اسکے ہاتھ سے پرچی لیکر اپنی پرچی میں رکھ کر چپکے سے چٹائی کے نیچے چھپاتی ہے
یہ سب مولوی صاحب کن اکھیوں سے دیکھ رہے تھے لیکن نہ دیکھنے کی کمال فنکاری کررہے تھے مولون کے آنسو پیاز کے بہانے سیل رواں بنے ہوئے تھے مولوی صاحب کا سارا علم زیرو ہوگیا اسے لگا جیسے وہ سب سے زیادہ جاہل اجڈ اور گنوار ہے
اس سے پہلے کہ مولوی صاحب کچھ کہتے تو بیٹی بولی بابا جان کل ہم نے نئے کپڑے نہیں لینے کیونکہ بڑی عید تو قربانی کی عید ہے اور کل آپ نے چاچو کے دو بیڑے ( بچھڑے ) بھی تو کرنے ہیں اور ہم نے وہاں آپکو بیڑے کرتے دیکھنا ہے تو سارا دن تو قربانی میں لگ جائیں گے ہم کپڑے کس وقت پہنیں گے ؟؟؟
چھوٹی عید کے پڑے ہوئے ہیں وہی پہن لیں گے وہ سارے دلائل جیسے کاپی پیسٹ کئے ہوں اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ عالم فاضل اور سمجھدار بیٹی ہی لگی
بیٹی کی یہ بات سن کر مولوی صاحب نے نظریں اٹھائی ایک نظر بیٹی کے چہرے پر ڈالی کچھ دیر کو گردن فخر سے تن گئی اپنی پگ کا شملہ اونچا بہت اونچا محسوس ہوا لیکن اگلے لمحے ہی بچیوں کی معصومانہ خواہشات کا یوں خود کشی کرنا اسکو توڑ گئی اسے اپنا آپ بے تحاشہ ناکام باپ جو عید پر بھی ضرورت کی خواہش نہ پوری کرسکا اس سے یہ برداشت نہ ہوا جلدی سے کمرے میں جاکر سونے کا کہہ کر بستر میں گھس گئے اور وہاں ہونٹ سی لیئے منہ کو بھینچا اور آنکھوں سے کہا تم آزاد ہو برس لو ورنہ غم کے اندر کے سونامی سے مر ہی جاو گئے ۔
صبح اٹھ کر مولوی صاحب نماز کے لئے چلے گئے واپس آئے تو چھوٹی بیٹی نے دس بیس پچاس کے چند نوٹ پکڑے ہوئے تھے بولی بابا یہ پیسے ہیں آپ ایسے کریں کہ بھائی کو کپڑے لے دیں اس نے کل آپکے ساتھ مسجد جانا ہے اور وہ چھوٹا ہے گلی میں کھیلے گا تو سب کیا کہیں گے یہ ایک اور دھماکہ تھا
لیکن بہن کا بھائی کے لئے پیار کیا ہوتا ہے سب سمجھا گیا ۔
ہمارے معاشرے میں اکثر مولوی حضرات کی زندگی اسی طرح کی کشمکش کی شکار ہے وہ شخص جو پورے محلے کو عید کی نماز پڑھاتا ہے خد اپنے اور اپنے بچوں کے لئے کپڑے بھی نہیں خرید سکتا ..نہ ان لوگوں کی تنخواہ ہوری ہے نہ ہی آمدن کا زریعہ ایسے میں ہم لوگوں کو ہی ان کی مدد کرنی چاہیئے ہم 1500 روپے کا سوٹ 5000 روپے میں تو خرید لیتے ہیں مگر کسی غریب کی مدد نہ کرنے کے ہزاروں بہانے ڈھونڈتے ہیں ...بڑے پلازہ میں جا کر دو کوڑی کی چیز ہزاروں روپوں میں چپ چاپ خرید لیتے ہیں لیکن اگر کوئی غریب 100،،،50 مانگ لے تو فلا سفر بن کر اسے لیکچر دیتے ہیں ..ایک دوسرے کی مدد سے ہی زندگی کا اصل مقصد حاصل کیا جا سکتا.

05/05/2018

ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ : ﺟﺎﺅ ﺳﻮﺩﺍ ﻟﮯ ﺁﺅ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮔﯿﺎ، ﻟﮍﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ
ﮐﯽ ﻧﻈﺮﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ، ﻭﮦ ﻭﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ .
ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺗﺎ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﺎ ﮐﮩﺎﮞ
ﺭﮦ ﮔﯿﺎ، ﺁﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ، ﺳﻮﺭﺝ ﻏﺮﻭﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ، ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﺍﺭﮮ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﻛﻲ ؟ ﺑﺎﭖ ﺑﮩﺖ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮍﺍ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻠﺪﯼ ﺁﻧﺎ ﺗﻢ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻮﺩﺍ ﻟﯿﻨﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻢ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ
ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮔﺌﮯ ﮨﻮ، ﺳﻮﺩﺍ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﺎ ﺑﻮﻻ : ﺳﻮﺩﺍ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ .
ﺑﺎﭖ : ﮐﯿﺎ ﭘﺎﮔﻞ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﻮﺩﺍ ﻟﯿﻨﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﮭﺎ، ﺳﻮﺩﺍ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺧﺮﯾﺪ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ .
ﺑﯿﭩﺎ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﺑﺎﺑﺎ ! ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ، ﺳﻮﺩﺍ ﺧﺮﯾﺪ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ .
ﺑﺎﭖ ﺑﻮﻻ : ﺗﻮ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﺎﺵ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮫ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ! ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﺑﺎ ! ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺑﺘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﺧﺮﯾﺪ ﻻﯾﺎ ﮨﻮﮞ؟
ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺑﻮﻻ : ﭼﻞ ﭼﮭﻮﮌ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﮮ،
ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﺭﻭﺯ ﻧﺒﯽ ﺍﮮ ﺭﺣﻤﺖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮧ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ .
ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﺎ ﺍﮐﻠﻮﺗﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﮩﺎ ، ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻟﮍﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻥ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺭﮨﺎ، ﺍﺗﻨﺎ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮐﺮﻭﭦ ﻟﯿﻨﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻗﺮﯾﺐ ﺍﻟﻤﺮﮒ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ، ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﺎ، ﭘﮭﺮ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﮔﯿﺎ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﮟ
ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ، ﺁﭖ ﺗﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺗﺘﻔﺎﻕ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﮍﮐﺎ ﺁﭖ ﺩﻝ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﺍﻟﻤﺮﮒ ﮨﮯ ، ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﺍﺕ ﺩﻥ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ، ﮐﯿﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺁﺭﺯﻭ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ
ﻣﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮ ﻟﮯ ؟ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺁﺭﺯﻭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮬﺎ
ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ ،
ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ! ﺍﭨﮭﻮ ، ﻋﻤﺮ ! ﺍﭨﮭﻮ، ﻋﻠﯽ ! ﭼﻠﻮ، ﭼﻠﯿﮟ ، ﻋﺜﻤﺎﻥ ! ﺁﺅ، ﺑﺎﻗﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻮ ﺳﺐ ﮨﯿﮟ ﭼﻠﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮟ ، ﺍﭘﻨﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ . ﺁﺧﺮﯼ ﻟﻤﺤﮧ ﮨﮯ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻢ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ
ﮨﯿﮟ، ﭼﻠﻮ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﺗﮭﯿﮟ،
ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﺎ ﺳﺮﺍﭘﺎ ﮐﺮﻡ ﮨﯽ ﮐﺮﻡ ﮨﮯ، ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺳﺖ ﺍﻗﺪﺱ ﺭﮐﮭﺎ، ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯿﮟ، ﺟﯿﺴﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻟﻮﭦ ﺁﺋﯽ ﮨﻮ، ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﻃﺎﻗﺖ ﺁ ﮔﺌﯽ، ﻧﺎﺗﻮﺍﻧﻲ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺁﺋﯽ ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ، ﺭﺥ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﷺ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﯼ، ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺁﺋﯽ، ﻟﺐ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﮯ،
ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ، ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺑﺲ ! ﺍﺏ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﻮ .
ﻟﮍﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﺗﮑﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺑﻮﻻ : ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻨﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﻜﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﺑﻮﺍﻟﻘﺎﺳﻢ ( ﻣﺤﻤﺪ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﷺ ) ﺟﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﺮﻟﻮ .
ﻟﮍﮐﺎ ﺑﻮﻻ : ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ! ﷺ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ !
ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺑﺲ ﺗﻢ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﻮ ! ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻮ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺖ ﺟﺎﻧﮯ، ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮ، ﺟﺎﺅ ﺟﻨﺖ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﮯ، ﺟﻨﺖ ﻣﮯ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ .
ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ، ﺟﺐ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ " ﻣﺤﻤﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ " ﺭﻭﺡ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ، ﻛﻠﻤﮯ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺋﯿﮟ، ﻟﺐ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﺋﮯ،
ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺑﻮﻻ :
ﻣﺤﻤﺪ ! ( ﷺ ) ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﮨﯿﮟ،
ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﻟﮍﮐﺎ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ، ﺍﺏ ﯾﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺱ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﮨﮯ، ﻛﺎﺷﺎﻧﮧ ﺍﮮ ﻧﺒﻮﺕ ﷺ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﭨﮭﮯ ، ﺗﺐ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﮨﮯ، ﻟﮯ ﺟﺎﺅ ﺍﺱ ﮐﻮ .
ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺻﺪﯾﻖ ! ﺍﭨﮭﺎﻭ، ﻋﻤﺮ ! ﺍﭨﮭﺎﻭ، ﻋﺜﻤﺎﻥ ! ﺁﮔﮯ
ﺑﮍﮬﻮ ، ﺑﻼﻝ ! ﺁﺅ ﺗﻮ ﺳﮩﯽ، ﻋﻠﯽ ! ﭼﻠﻮ ﺩﻭ ﮐﻨﺪﮬﺎ ، ﺳﺐ ﺍﭨﮭﺎﻭ ﺍﺳﮯ ،
ﺁﻗﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺟﺐ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ :
ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺻﺪﻗﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ،
ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺻﺪﻗﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ،
( ﺍﻟﻠﮧ ﻫﻮ ﺍﮐﺒﺮ ! ﮐﯿﺎ ﻣﻘﺎﻡ
ﮨﻮﮔﺎ ﺍﺱ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﯽ ﻣﻴﺖ ﮐﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﻋﻠﯽ، ﻋﺜﻤﺎﻥ ، ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ، ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ، ﺑﻼﻝ ﺣﺒﺸﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮭﮩﻤﺎ ﺟﯿﺴﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﮐﻨﺪﮬﺎ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ، ﺍﻭﺭ ﺁﮔﮯ ﺁﮔﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﷺ ﮨﻮﮞ )
ﻗﺒﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺋﯽ، ﮐﻔﻦ ﭘﮩﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ، ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﻫﻮﮮ ، ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﮯ ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺱ
ﻋﺎﺷﻖ ﮐﯽ ﻣﻴﺖ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺗﺎﺭﺍ . ﺁﭖ ﷺ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭘﻨﺠﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻞ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ، ﻣﮑﻤﻞ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﷺ ﻗﺒﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﭼﮩﺮﮦ
ﭘﺮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺯﺭﺩﯼ ﭼﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺗﮭﻜﻦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ ، ( ﺍﻟﻠﮧ ﮬﻮ ﻏﻨﯽ )
ﺻﺤﺎﺑﮧ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﺣﻀﻮﺭ ! ﷺ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﮨﮯ؟ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ؟
ﺁﭖ ﷺ ﭘﻨﺠﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻞ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﻠﺘﮯ ﺭﮨﮯ؟
ﺗﻮ ﮐﺮﯾﻢ ﺁﻗﺎ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﮕﮧ ﻣﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ ، ﻣﯿﮟ
ﭘﻨﺠﮧ ﮨﯽ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﭘﺎﺅﮞ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ، ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﺎﺅﮞ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ .
ﭘﮭﺮ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﺁﭖ ﷺ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﮔﺌﮯ؟ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ، ﮨﻢ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ! ( ﺗﻮ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ )
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺑﻮﻻ
ﺗﮭﺎ ﻧﺎ ! ﺗﯿﺮﯼ ﻗﺒﺮ ﮐﻮ ﺟﻨﺖ ﺑﻨﺎﻭﮞ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺍﺳﯽ ﻗﺒﺮ ﮐﻮ ﺟﻨﺖ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ .
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺍﺗﻨﮯ ﺗﮭﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﯿﮟ؟
ﺗﮭﮑﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﯿﮯ ﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻮﺭﯾﮟ ﺍﺱ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﮯﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺟﻮﺩ ﺳﮯ ﻟﮓ ﻟﮓ ﮐﺮ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﮭﮏ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ .
:1 ﺳﻨﻦ ﺍﺑﻮ ﺩﺍﺅﺩ : ﺟﻠﺪ : 3 ، / ﺻﻔﺤﮧ : 185 ، / ﺣﺪﯾﺚ : 3095 ،
:2 ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ : ﺟﻠﺪ : 3 ، / ﺻﻔﺤﻪ : 175 ، / ﺣﺪﯾﺚ : 12815 ،
ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ : ﻓﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Lahore
54000