Soldier of Islam

Soldier of Islam

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Soldier of Islam, School, Lahore.

Welcome to Soldier of Islam, a community dedicated to spreading knowledge, inspiration, and unity among believers. 🌟

🕌 About Us:
At Soldier of Islam, we stand as guardians of faith, embracing the teachings of Islam with courage, resilience, and unwaver

29/11/2025

ورقِ توت سے کلُّہا تک: علم کا سفر، تواضع کا مقام اور معرفتِ حق کی حکمت

علم کا مسئلہ محض چند معلومات کے حصول کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک تدریجی سلوکِ ادراکی ہے جو انسان کو غرور سے نکال کر تواضع تک اور پھر عجزِ مطلق تک پہنچاتا ہے۔ انسان بظاہر جوں جوں زیادہ جانتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ اتنا ہی زیادہ اپنے نہ جاننے کا شعور پاتا ہے۔ یہی وہ منہج ہے جس کی طرف سلفُ الامۃ نے اشارہ فرمایا، اور یہی وہ حکمت ہے جو ربّ العالمین نے آدمِ صفیؑ کے شرفِ خلافت کے ساتھ جوڑ دی: «وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا»۔

میری نظر سوشل میڈیا کے انتشار پذیر علمی ماحول میں دو ایسی پوسٹوں پر پڑی جو بظاہر جدا تھیں، مگر غور و فکر کے بعد ان دونوں میں ایک ایسا گہرا ربط آشکار ہوا جو علم کی حقیقت، عقل کی منزل اور معرفت کی معراج پر بے مثال روشنی ڈالتا ہے۔ پہلی پوسٹ ایک مشہور قول سے متعلق تھی جو عوام الناس امام الشافعیؒ سے منسوب کرتے ہیں، مگر تحقیق نے واضح کیا کہ وہ دراصل امام الشعبیؒ کا قول ہے:

«العِلْمُ ثَلاثَةُ أَشْبارٍ:
فَمَنْ نالَ الشِّبْرَ الأَوَّلَ تَكَبَّرَ،
وَمَنْ نالَ الشِّبْرَ الثَّاني تَواضَعَ،
وَمَنْ نالَ الشِّبْرَ الثَّالِثَ عَلِمَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ.»

یعنی علم کے تین مدارج ہیں:
پہلے درجہ میں انسان کو گھمنڈ آتا ہے؛
دوسرے میں تواضع پیدا ہوتی ہے؛
اور تیسرے میں وہ جان لیتا ہے کہ وہ اصل میں کچھ بھی نہیں جانتا۔

یہ کلمات محض اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ انسانی شعور کے وجودی ارتقاء کا فطری قانون ہیں۔ علم کا پہلا لمحہ انسان کو قوت کا وہم دیتا ہے، دوسرا اسے حقیقت کے ادراک تک لاتا ہے، اور تیسرے میں وہ اشیاء کی وحدتِ حقیقت اور اپنے قصورِ ادراک کو پہچان کر عجزِ مطلق کی منزل تک پہنچتا ہے۔ یہی مقام ہے جہاں عقلِ مجرد بندگی کی طرف جھکتی ہے، اور بندگی معرفت میں بدلتی ہے۔

دوسری روایت جس سے میرا سابقہ پڑا وہ امام الشافعیؒ کا وہ جلیل القدر استدلال ہے جسے ابنِ کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے۔ فرمایا کہ جب آپ سے خالقِ حقیقی کے وجود پر دلیل پوچھی گئی تو آپ نے ورقِ توت کی مثال دے کر فرمایا کہ اس ایک ہی پتے کو مختلف مخلوقات کھاتی ہیں:
ریشم کے کیڑے سے ریشم بنتا ہے،
شہد کی مکھی سے شہد نکلتا ہے،
مویشی اسے کھا کر گوبر خارج کرتے ہیں،
اور ہرن اسے کھا کر مشک پیدا کرتا ہے،
حالانکہ ماخذ ایک ہی ہے۔

یہ ایک ورقِ توت سے صادر فلسفیانہ معجزہ ہے؛ کائنات کی وحدت کے اندر تنوعِ آثار کی دلیل؛ فطرت کے اختلاف میں وحدتِ خالق کا اعلان؛ اور یہ بتانے کا نہایت بلیغ اسلوب کہ ایک ہی مادہ مختلف نتائج کیوں اور کیسے پیدا کرتا ہے۔ یہ اختلافِ اثرات کسی اندھی قوت کا کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسی صنعِ ربانی کا نشان ہے جس کے ہر نقش میں حکمت مضمر ہے۔

یہاں وہ گہرا ربط سامنے آیا جس نے میرے ذہن میں ان دونوں روایات کو ایک ہی حکمت کا دو پہلو بنا دیا۔ امام الشعبیؒ کا "علم کے تین اشبار" کا فلسفہ اور امام الشافعیؒ کا "ورقِ توت سے وجودِ صانع پر استدلال" دراصل ایک ہی علمی منہج کی تکمیل ہیں۔ جو شخص ایک پتے سے خالق کا اثبات کر سکتا ہے، وہ اس حقیقت تک ضرور پہنچتا ہے کہ علم کا بحر کس قدر بے کنار ہے۔
اور جو شخص اس ایک پتے کی معرفت پا لیتا ہے، وہ جبلّتاً جان لیتا ہے کہ «كُلَّهَا» کا دائرہ کس قدر وسیع ہے۔

قرآن نے آدم علیہ السلام کے شرفِ خلافت کے لیے فرمایا: «وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا»، یعنی تمام نام، تمام ماہیات، تمام حقائق۔ اب غور کیجیے، وہ کون سا علم ہے جس میں کائنات کی ہر حقیقت، ہر علت، ہر اثر، اور ہر نظام شامل ہے؟ وہ کیسا الہامی علم ہے جسے اللہ نے جمع فرمایا، اور جس میں ورقِ توت بھی شامل ہے اور اس کے نتائج بھی؟

پس جب ایک عالم کو توت کے ایک پتے سے معرفتِ حق نصیب ہوتی ہے تو وہ اپنے نفس پر یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ علم کا پہلا شبر انسان کو خود بینی دیتا ہے؛ دوسرا شبر حقیقت بینی دیتا ہے؛ اور تیسرا شبر خدا بینی کی راہ کھول دیتا ہے، اور یوں وہ صادقانہ کہتا ہے: «أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ»۔

یہ اعتراف جہالت نہیں، بلکہ علمِ وحیانی کی رفعت و وسعت کا اقرارِ صادق ہے۔ جسے اپنی حد کا ادراک ہو جائے، وہی علمِ وحیانی کی وسعت کا شعور پا سکتا ہے۔ اور یہی شعور انسان کو رب کے سامنے جھکا دیتا ہے، اور اسی جھکنے میں علم کی اصل حرارت اور معرفت کی اصل رفعت پوشیدہ ہے۔

چنانچہ ورقِ توت سے کلُّہا تک کا یہ سفر محض ایک علمی حکایت نہیں، بلکہ اپستمولوجی کے تمام اصولوں، فلسفۂ وجود کے تمام مباحث اور توحیدِ ربانی کے تمام دلائل کا خلاصہ ہے۔ جو اس سفر کو پا لیتا ہے وہ جان لیتا ہے کہ علم بڑھنے سے غرور نہیں بڑھنا چاہیے، بلکہ انسان کو اس حقیقت تک لانا چاہیے جسے سلف نے سچ کہا: "علم کا کمال یہ ہے کہ انسان 'الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا' کی رفعت و وسعت کے سامنے اپنی جہالت سے آگاہ ہو جائے"۔
Knowledge Channel IlmFeed
#علم #عجز #تکبر #انکساری #حکمت #فقاہت

20/04/2024

Welcome to Soldier of Islam, a community dedicated to spreading knowledge, inspiration, and unity among believers. 🌟

🕌 About Us:
At Soldier of Islam, we stand as guardians of faith, embracing the teachings of Islam with courage, resilience, and unwavering devotion. Our mission is to cultivate a space where Muslims from all walks of life can come together to learn, share, and uplift one another in the pursuit of spiritual growth and enlightenment.

📚 What We Share:
Here, you'll find a treasure trove of Islamic wisdom, including Quranic verses, Hadiths, motivational quotes, and insightful reflections from scholars and spiritual leaders. Join us on a journey of self-discovery and empowerment as we explore the beauty and depth of Islam's timeless teachings.

🤝 Our Community:
As members of the Soldier of Islam community, we believe in the power of unity and collective strength. Together, we strive to promote peace, justice, and compassion in the world, embodying the true essence of Islam through our words, actions, and deeds.

🔔 Stay Connected:
Don't miss out on the latest updates, events, and discussions! Hit the "Follow" button to stay connected with our community and be part of the movement towards a more enlightened and harmonious world.

Join us as we walk the path of faith, knowledge, and righteousness. Together, we are the Soldiers of Islam! 💫

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Lahore