28/07/2022
قدیم ہندؤوں میں کوئی بیوپاری اگر کنگال ہو جاتا اور اپنے قرض ادا نہ کرسکتا تو وہ اپنے دکان کے آگے ایک دن صبح سویرے دو دیے جلا کر رکھ دیتا جس سے دوسرے بیوپاری اور لوگ سمجھ جاتے کہ یہ شخص کنگال ہو چکا ہے ہمدردی کے تحت دوسرے بیوپاری چند دن اپنے دکانیں بند کر لیتے تاکہ گاہک ان کی طرف متوجہ ہوں اور ان کی نقد امداد بھی کرد یتے تھے ۔۔
لفظ دیوالیہ دو دیے سے ہی نکلا ہے (دو دیوں والا) چنیوٹ صرافہ بازار میں دیے رکھنے کے نشانات آج بھی پرانے دکانوں میں موجود ہیں۔۔۔